Tuesday, 9 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

*"دیوا بھاؤ" اشتہار: عوام کے پیسوں سے لیڈر کی امیج کا تماشہ؟*
*وسیم رضا خان (نائب مدیر روزنامہ نوبھارت)* 

8 ستمبر 2025 کو مہاراشٹر کے اخبارات اور ہورڈنگز پر ایک ہی چہرہ چھایا رہا وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کا۔ چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے پر پھول چڑھاتے ہوئے ان کی بڑی سی تصویر اور اس کے نیچے صرف دو الفاظ "دیوا بھاؤ"۔ بس۔ نہ کوئی سرکاری اسکیم کا ذکر، نہ کسی پالیسی کی اطلاع، نہ ہی عوامی فلاح کا پیغام۔ صرف لیڈر کی امیج چمکانے کی کوشش۔
سوال یہ ہے کہ اس تماشے کا خرچ آخر کس نے اٹھایا؟ حکومت کہتی ہے کہ اس میں ریاست کا پیسہ نہیں لگا۔ اچھا، تو پھر یہ کروڑوں روپے کہاں سے آئے؟ اگر یہ کسی کارپوریٹ گھرانے یا صنعتکار نے کیا ہے تو سیدھا سوال ہے کس سودے کے بدلے؟ کون سا احسان اتارنے کے لیے عوام کی نظر میں لیڈر کو "بھاؤ" بنانے کا ٹھیکہ اٹھایا گیا ہے؟
یہ شفافیت نہیں عوام کو اندھیر میں رکھنا ہے. جمہوریت میں عوام کا بھروسہ شفافیت پر قائم ہوتا ہے۔ لیکن یہاں تو الٹا کھیل ہو رہا ہے۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ سرکاری پیسہ نہیں لگا، اور دوسری طرف یہ نہیں بتایا جا رہا کہ پیسہ آخر آیا کہاں سے۔ کیا یہ عوام سے وصول کیا گیا ٹیکس کسی اور راستے سے اس پرچار میں بہایا گیا؟ کیا یہ کسی کارپوریٹ کی بلیک منی کا سفید چہرہ ہے؟
ای ڈی اور انکم ٹیکس محکمے کی خاموشی کیوں؟
اگر یہ کروڑوں کی رقم کسی نجی کمپنی یا صنعتکار نے دی ہے، تو اس کی مکمل تفتیش کیوں نہیں؟ ای ڈی، انکم ٹیکس محکمہ اور الیکشن کمیشن اس پر آنکھیں موند کر کیوں بیٹھے ہیں؟ جب عام شہری کے چھوٹے سے لین دین پر بھی نوٹس بھیج دیے جاتے ہیں، تو اتنے بھاری بھرکم خرچ کا حساب جاننے کا حق عوام کو ہے۔
"دیوا بھاؤ" — عوام کے لیے پیغام یا اقتدار کا نشہ؟
"دیوا بھاؤ" کہہ کر کیا یہ جتانے کی کوشش ہے کہ وزیر اعلیٰ اب صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ عوام کے "بھاؤ" بن گئے ہیں؟ کیا جمہوری نظام میں وزیر اعلیٰ کی پہچان منصوبوں، ترقی اور جوابدہی سے نہیں ہونی چاہیے، نہ کہ چاپلوس اشتہارات سے؟ شیواجی مہاراج کے مجسمے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی امیج جوڑنا کیا عظیم راجہ کی توہین نہیں ہے؟
عوام سوال پوچھ رہی ہے کہ یہ اشتہار کس نے اور کیوں دیا؟ کس مد سے کروڑوں روپے خرچ ہوئے؟
اگر یہ نجی پیسہ ہے تو اس نجی سرمایہ کار کو بدلے میں کیا فائدہ ملنے والا ہے؟ اور سب سے بڑا سوال — کیا جمہوریت میں عوام کی محنت کی کمائی لیڈروں کی امیج چمکانے میں لگنی چاہیے؟
"دیوا بھاؤ" اشتہار صرف ایک تصویر اور نعرے کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ اقتدار، پیسے اور پرچار کے گٹھ جوڑ کی بدترین مثال ہے۔ عوام بیوقوف نہیں ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ جب لیڈر اپنی امیج چمکانے کے لیے ایسے کروڑوں اڑاتے ہیں، تو آخرکار اس کا بوجھ عام آدمی کی جیب پر ہی پڑتا ہے۔ اگر واقعی شفافیت ہے تو فوراً بتائیے کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا۔ ورنہ عوام بھی کہے گی یہ سب دکھاوا ہے، اور "دیوا بھاؤ" دراصل "دھوکا بھاؤ" ثابت ہو رہے ہیں۔
____________🔴🔴

برف ہوتی رگیں
نعیم سلیم ، مالیگاوں، مہاراشٹر، انڈیا 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شاہراہ عام پر بھیڑ جمع ہے .پولس کے جوان مجمع کو قابو میں کررہے ہیں .ٹی وی چینل میڈیا کے نمائندے دوڑے چلے آرہے ہیں.........
انکاؤنٹر ہوا ہے.......
ہوگا سالا کوئی کریمنل....
ارے نہیں آتنکوادی ہوگا دیکھا نہیں کیا چہرہ.....
یہ سالے سب طرف بم پھوڑتے رہتے ہیں......
خود بھی چین سے نہیں جیتے اور نہ جینے دیتے ہیں.........
اور بھی پتہ نہیں کیا کیا کہا جاتارہا,میں تیزی سے بھیڑ چیرتا ہوا وہاں سے آگے بڑھا پیچھے 
مڑکر دیکھ رہا ہوں تو کوئی میرے تعاقب میں نہیں ہے. ..پولس کے جوان بھیڑ کو قابو کرنے کے چکر میں مجھ سے غافل ہوگئے ہیں..... ...کچھ دور چل کر ابھی روڈ کراس ہی کیا ہوں کہ ایک منظر دیکھ کر پاؤں جم سے گئے.ایک نوجوان کو چند لوگ بری طرح ماررہے ہیں .لوگ دیکھتے اور آگے بڑھتے جارہے ہیں..میں نے ایک نوجوان سے کہا 
ارے بھائی مرجائیگا.....
مگر میری بات پر کسی نے دھیان نہیں دیا.
ان میں سے ہی ایک چلایا اور مارو سالے کو بہت ہمت بڑھ گئ ہے ان کی...... 
ہمارا دیش ہے.ہم جیسے چاہیں ویسا چلائیں گے......
ارے بس کرو نہیں تو یہ مرجائے گا اتنا کافی ہے اس کی اوقات بتانے کیلئے............
چلو چلو.کئ آوازیں گونجیں اور وہ سب ایک طرف.چل دئے....
.میں نے دوڑ کر اسے اٹھانا چاہا مگربہت زیادہ زخمی ہوجانےکی وجہ سے وہ میری بات نہیں سن پارہا ہے..کافی خون بہہ چکا ہے بچنا مشکل ہے....... .
ارے بھائی کوئی تو مدد کرو......ارے بھائی لوگ اسے ہاسپٹل لے چلنے میں مدد کرو میری.......
ٹیکسی.........
میں چینخ رہا ہوں 
مگر سب ایک نظر دیکھ دیکھ کر آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں.
لو آرہی ہے ایمبولنس اتنا احسان تو کردیا کسی نے کہ انہیں خبر کردی.......
میں آگے بڑھتا ہوں..یہ شہر کا سبزیوں اور پھلوں کا بازار ہے .دوکاندار آوازیں لگا رہے ہیں.مول تول ہورہا ہے.
کیا ؟ سو روپے کلو..؟
سبزی بیچ رہے ہو یا سونا......
آگ ہی لگ گئ ہے.سب چیزوں میں.........
غریبوں کا تو جینا دوبھر کردیا ہے........
کیا کریں صاحب مال کی قلت ہے ہمیں کتنی مشکل سے مل رہا ہے.ہم جانتے ہیں...
ارے نہیں لینا تو مت لو....یہ فالتو کی بک بک مت کرو.....
کہیں نرمی سے تو کہیں غصے میں تکرار بہر حال جاری ہے......
سامنے سڑک کے کنارے قریب ستّر پچھتّر سال کی بوڑھی عورت ایک ٹوکرے میں آم لئے بڑی حسرت سے راہگیروں کو تک رہی ہے.لوگ ایک سرسری نظر ڈال کر آگے بڑھ جارہے ہیں...اس کے عین پیچھے آرام دہ آفس میں چند تاجر اور کمیشن ایجنٹ بیٹھے ہنسی مذاق میں مشغول ہیں......
چلو میں ہی خرید لوں کچھ تو ٹوکرے کا بوجھ کم ہوجائے... ضعیفہ کے قریب پہنچا اس کی آنکھوں میں چمک آگئ.............
آم کیسے دئے مائی ...؟
شاید اس کی قوت سماعت جواب دے چکی ہو.
پھر خیال آیا بھاؤ تاؤ کیوں کرنا ؟ براہ راست پیسے دیدوں جتنا اسے لینا ہو لے گی........
کتنا خرید سکتا ہوں جیب کا جائزہ لینے کیلئے ہاتھ ڈالا تو طوطے اڑگئے جیب خالی ہے..رنجیدہ ہوکر پھر اسی تیزی سے اٹھ کر آگے بڑھ جاتا ہوں.............
آخر میں بے مقصد سڑکوں پرکیوں بھٹک رہا ہوں.؟ارے ہاں میں تو بھاگ رہا ہوں.....
بلاوجہ کے الزام سے.....
قانون کے محافظوں کی گرفت سے بچنے کیلئے....... 
کیونکہ.. 
میرے پاس میری بے گناہی کا ثبوت بھی تو نہیں ہے..........
ہاں میرا نام اور حلیہ ہی مجھے میڈیا اور سماج کی نظروں میں مجرم ثابت کرنے کیلئے کافی ہے................
سڑکوں پر بھیک مانگتے معصوم بچے..دووقت کی روٹی اور سر چھپانے کیلئے چھت سے بھی محروم بے شمار معمّر افراد...........
ہوٹلوں میں کام کرتے گندے کپڑوں میں ملبوس دھول میں اٹے جیسے کنول کے پھول... 
بازارحسن میں ننھی ننھی کلیاں.........
فیکٹریوں میں کارخانوں میں..........
بڑی بڑی دوکانوں میں....
سڑکوں پر....
بوجھ لادے پسینے میں شرابور مزدور....
ہرصاحب ِاختیار شخص کا اپنے ماتحتوں کا استحصال.......... ...
قتل غارت گری...
لوٹ مار عصمت دری....
اور بھی بے شمار مناظر جو میں دیکھ رہا ہوں وہ کسی اور کو نظر بھی آرہے ہیں یا نہیں....؟
حکومت اپوزیشن میڈیا کہاں ہیں سب کے سب ؟؟؟؟؟؟
میری رفتار اب دھیمی ہوگئ ہے .........
ً تین دنوں سے بھاگتے بھاگتے بہت تھک گیا ہوں..............
حیرت ہے اب کی بار کوئی میرے تعاقب میں نظر نہیں آرہا .....؟ 
تھوڑا سُستانا چاہئے.
وہ رہاسامنے ایک شوروم جہاں خواتین خریداری کررہی ہیں اور مرد بچوں کوساتھ لئے موبائل پر نظریں گاڑے تو کچھ لوگ ہال کے وسط میں لگے ہوئے ایک بڑے اسکرین پر آنکھیں جمائے مست ہیں. .............
ابھی کچھ دیر پہلے شہر کے مرکزی علاقے میں ایک دہشت گرد انکاؤنٹر میں ماراگیا.......
پولس کو ملی بڑی کامیابی.........
دہشت گرد انجام دینے والا تھا کوئی بڑی واردات....
پولس کا دعویٰ.......
تازہ خبروں کیلئے بنے رہئے ھمارے ..............
اور جب وہاں کے لائیو مناظر بتائے گئے تو میں بے اختیار چینخ پڑا......نہیں........
میں دہشت گرد نہیں ہوں.......
میں دہشت گرد نہیں ہوں......
جائے حادثے پر پہنچنے کیلئے مڑا اور سرپٹ دوڑنے لگاجیسے ہی قریب پہنچاتو دیکھا کہ نورانی لباس میں مسکراتے کچھ چہرے میری جانب بڑھے آرہے ہیں .
ک.ک.ک.کون ہو تم لوگ.؟
بھیس بدل کر مجھے گرفتار کرنے آئے ہو...؟
کیا بگاڑا ہے میں نے کسی کا....؟
میں تو انسانیت اور انصاف کیلئے کوششیں کررہا تھا......لیکن ....
مجھے دہشت گرد بدنام کردیا گیا......
میں دہشت گرد نہیں ہوں.........
میں دہشت گرد نہیں ہوں..........
آخر وہ نورانی لباس میں ملبوس گروہ مجھ تک پہنچ ہی گیا...
_____________🔴🔴

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سرِ آئینہ مرا عکس ہے پس ِ آئینہ کوئی اور ہے

کسی کےدست طلب میں ہوں کسی کےحرف دعامیں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے، مجھے جانتا کوئی اور ہے

تجھےدشمنوں کی خبرنہ تھی،مجھےدوستوں کاپتہ نہ تھا
تری داستاں کوئی اور تھی، مرا واقعہ کوئی اور ہے

وہی منصفوں کی روایتیں، وہی فیصلوں کی عبارتیں
مرا جرم تو کوئی اور تھا، پہ مری سزا کوئی اور ہے

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں، دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

مری روشنی ترے خدّ و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تُو قریب آ تجھے دیکھ لوں تُو وہی ہے یا کوئی اور ہے

جو مری ریاضتِ نیم شب کو سلیم صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے

سلیم کوثر
_____________🔴🔴

افتخار عارف
دوست کیا خود کو بھی پرسش کی اجازت نہیں دی 
دل کو خوں ہونے دیا آنکھ کو زحمت نہیں دی 

ہم بھی اس سلسلۂ عشق میں بیعت ہیں جسے 
ہجر نے دکھ نہ دیا وصل نے راحت نہیں دی 

ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میں 
ایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دی 

عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ 
دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی 

بے وفا دوست کبھی لوٹ کے آئے تو انہیں 
ہم نے اظہار ندامت کی اذیت نہیں دی 

دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرف 
ایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دی 
۔۔۔۔۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ، مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ فڑنویس نے دیا تحقیقات کا حکم* ...