2008 میلگاؤں بم دھماکہ: متاثرین نے پراگیا ٹھاکر اور 6 دیگر کو بری کرنے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی
ممبئی: 2008 کے میلگاؤں بم دھماکے میں جان بحق ہونے والوں کے چھ خاندانوں نے بمبے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے، جس میں خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں اس کیس کے سات ملزمان بشمول سابقہ بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ پراگیا سنگھ ٹھاکر (Pragya Singh Thakur) اور لیفٹنٹ کرنل پرساد پوروہت (Lt Col Prasad Purohit) کو بری قرار دیا گیا تھا۔ اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تفتیش میں خامی یا کچھ نقائص کو ملزمان کو بری کرنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سازش خفیہ طور پر رچی جاتی ہے، اس لیے اس کے براہِ راست شواہد نہیں مل سکتے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کو محض “پوسٹ آفس” یا خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔ جب استغاثہ حقائق واضح طور پر بیان نہ کر سکے تو عدالت خود سوالات کرے یا شاہدین کو طلب کر سکتی تھی، اپیل میں کہا گیاکہ “بدقسمتی سے trial عدالت نے محض پوسٹ آفس کا کردار ادا کیا اور کمزور استغاثہ کو ملزمان کا فائدہ دینے کی اجازت دی”۔۔
اپیل میں سابق خصوصی استغاثہ روہنی سالین (Rohini Salian) کے بیان کا حوالہ بھی دیا گیا کہ این آئی اے کی جانب سے مقدمے کو آہستہ چلانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا، جس کے بعد نیا پراسیکیوٹر مقرر کیا گیا تھا۔ اپیل نے این آئی اے کی تفتیش اور مقدمہ چلانے کے انداز پر سوالات اٹھائے اور ملزمان کے خلاف مجرمانہ سزائیں مانگیں۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ جب ریاستی اینٹی ٹیرر ازم اسکواڈ (ATS) نے سات افراد کو گرفتار کر کے ایک بڑی سازش کا انکشاف کیا تو اس کے بعد ایسے علاقوں میں مزید کوئی دھماکہ نہیں ہوا جہاں اقلیتی برادری کی آبادی تھی، اور پھر این آئی اے، کے ہاتھوں کیس لینے کے بعد الزامات میں نرمی کی گئی۔
خصوصی عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ جس موٹر سائیکل کا اس دھماکے میں استعمال بتایا گیا وہ ٹھاکر کی ملکیت ثابت نہیں ہوئی اور جو آر ڈی ایکس (RDX) بتایا گیا وہ پوروہت نے حاصل نہیں کیا ۔ البتہ اپیل میں کہا گیا کہ ملزمان نے سازش کی تھی اور عدالت نے صرف “مضبوط شبہ” کو جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں سمجھا۔ خصوصی جج اے کے لہوتی (A K Lahoti) نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ استغاثہ نے معاملہ “معقول شک” سے بالاتر ثابت کرنے کے لیے قابلِ اعتماد اور شواہد فراہم نہ کیے۔
ملزمان میں پراگیا سنگھ ٹھاکر (Pragya Singh Thakur)، لیفٹنٹ کرنل پرساد پوروہت (Lt Col Prasad Purohit)، میجر رمنیش اُپادھائے (Major Ramesh Upadhyay — retired)، اجے راہیرکر (Ajay Rahirkar)، سدھاکر دویدی (Sudhakar Dwivedi)، سدھاکر چترویدی (Sudhakar Chaturvedi) اور سمیر کولکرنی (Sameer Kulkarni) شامل تھے۔
نیپال میں ہوگا تختہ پلٹ! ملک چھوڑ کر بھاگ سکتے ہیں کے پی شرمااولی، جانیےکہاں جائیں گے؟
نیپال میں جنریشن زیڈ کی تحریک اب بغاوت کی صورت اختیار کرتی معلوم ہورہی ہے۔ نیپال میں کے پی شرما اولی کی کرسی ہل گئی ہے۔ حکومت کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔ کئی وزراء نے یکے بعد دیگرے استعفیٰ دے دیا ہے۔ نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی خود ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ دبئی جا سکتے ہیں۔ وہ علاج کے نام پر ملک سے فرار ہو سکتے ہیں ۔ اس کے لیے ان کی رہائش گاہ پر پرائیویٹ جیٹ تیار ہے۔ تاہم اس دوران ایک خبر یہ بھی ہے کہ وہ آج شام 6 بجے آل پارٹی میٹنگ کریں گے۔
دراصل نیپال کے پرائم منسٹرکے پی شرما اولی پر مستعفی ہونے کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ مظاہرین ماننے کو تیار نہیں۔ آج، بھی نیپال کے کئی حصوں میں طلباء کی قیادت میں حکومت مخالف تازہ مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے کرفیو کی خلاف ورزی کی اور وزیر اعظم کے پی شرما اولی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اتنا ہی نہیں آج کے پی شرما اولی کے گھر پر بھی گولیاں چلائی گئیں۔ دوسری جانب نیپال کے صدر کی رہائش گاہ پر حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔
نیپال میں جاری پرتشدد مظاہروں نے پرائم منسٹرکے پی شرما اولی کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پابندی اور کرپشن کے خلاف شروع ہونے والی جنریشن زیڈکا احتجاج اب بغاوت کی شکل اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اولی علاج کے بہانے پرائیویٹ جیٹ کے ذریعے دبئی فرار ہونے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ہمالیہ ایئر لائنز کے ایک پرائیویٹ جیٹ کو اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے۔ کے پی شرما اولی کسی بھی وقت ملک چھوڑ سکتے ہیں۔ اپنے ایک وزیر کو قائم مقام وزیر اعظم بنانے کی بات ہو رہی ہے۔
4 ستمبر کو نیپال کی حکومت نے فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر پابندی لگا دی۔ اس کو لے کر پیر کو ہنگامہ ہوا۔ پرتشدد احتجاج میں 20 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔ مظاہروں کے پیش نظر سوشل میڈیا پر عائد پابندی ہٹا لی گئی۔ پھر بھی مظاہرین راضی نہیں ہوئے اور انہوں نے اولی کے استعفیٰ کے مطالبے کو تیز کر دیا۔
کھٹمنڈو میں، مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، وزیر مواصلات پرتھوی سبا گرونگ کے گھر کو آگ لگا دی، اور دمک میں اولی کے آبائی گھر پر پتھراؤ کیا۔ نیپالی کانگریس لیڈر شیر بہادر دیوبا اور ماؤنواز لیڈر پشپا کمل دہال ’پرچنڈ‘ کے گھروں پر بھی حملہ کیا گیا۔ صدر رام چندر پوڈیل کی نجی رہائش گاہ پر مظاہرین نے قبضہ کر کے توڑ پھوڑ کی۔قابل غوربات ہے کہ جنجی مظاہرے کے پیش نظر کھٹمنڈو، پوکھرا اور بٹوال میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ تمام جگہوں پر فوج تعینات کر دی گئی ہے۔
منچریال میں آوارہ کتوں کے حملے سے 6 سالہ بچی زخمیمنچریال : اسکول کیمپس میں آوارہ کتوں کا حملہ، 6 سالہ بچی شدید زخمی
تلنگانہ کے ضلع منچریال میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک چھ سالہ بچی کو آوارہ کتوں نے ماڈل اسکول کے ہاسٹل کے احاطے میں حملہ کر کے شدید زخمی کردیا۔ یہ واقعہ 5 ستمبر کو کاسی پیٹ منڈل سینٹر میں پیش آیا اور اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیر کے روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔
متاثرہ بچی کی شناخت چوپاری اکشیتا (6 سال) کے نام سے ہوئی، جو ہاسٹل میں کام کرنے والی ایک صفائی ملازمہ کی بیٹی ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ اکیلی چل رہی تھی کہ اچانک تین آوارہ کتوں نے اس پر حملہ کردیا۔ کتوں نے اس کے ہاتھ اور ٹانگوں پر کاٹ کر شدید چوٹیں پہنچائیں۔
اکشیتا کی چیخ و پکار سن کر اس کی ماں موقع پر پہنچیں اور بچی کو کتوں سے چھڑا لیا۔ فوری طور پر اسے سرکاری جنرل اسپتال منچریال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد داخل کیا گیا۔ تین دن زیر علاج رہنے کے بعد وہ ہفتے کے دن اسپتال سے ڈسچارج ہوگئی۔ تاہم والدین کے مطابق یہ معصوم بچی اب بھی شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہے۔
والدین اور عوامی ردعمل
اس واقعے نے والدین اور مقامی عوام میں شدید خوف اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ والدین نے اسکول انتظامیہ اور ضلعی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہاسٹل اور اسکول کیمپس میں سیکورٹی کے انتظامات سخت کیے جائیں اور آوارہ کتوں کے مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے، تاکہ آئندہ کسی اور معصوم پر ایسا حملہ نہ ہو۔
تلنگانہ سمیت ملک کے کئی حصوں میں آوارہ کتوں کے حملے ایک سنجیدہ مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں بچوں اور بزرگوں پر کتوں کے حملوں کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی حیدرآباد اور دوسرے اضلاع میں ایسے دل دہلا دینے والے کیسز سامنے آچکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق شہروں اور قصبوں میں آوارہ کتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس پر مؤثر حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔
یہ واقعہ حکومت اور مقامی انتظامیہ کے لئے ایک انتباہ ہے کہ اسکولوں، ہاسٹلز اور عوامی مقامات پر بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔