Thursday, 4 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

منصوره انجینئرنگ کالج کے طلبه کانوری سیس کمپنی میں انڈسٹریل وزٹ

مالیگاؤس ( پریس ریلیز) جامعہ محمد یہ ایجو کیشن سوسائٹی (منصورہ) کے زیر اہتمام جاری مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس کے شعبہ الیکٹرانکس اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن کی جانب سے 3 ستمبر 2025 کو شہر کی معروف آئی ٹی کمپنی نوری سس ٹیکنالوجیز میں طلبہ کے لیے ایک انڈسٹریل وزٹ کا اہتمام کیا گیا۔ اس دورے کا مقصد طلبہ کو آئی ٹی کمپنی میں عملی کام کے طریقہ کار سے روشناس کرانا اور انہیں کارپوریٹ ماحول کا تجربہ فراہم کرنا تھا۔

اس انڈسٹریل وزٹ میں الیکٹر انکس اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن انجینئرنگ کے سال دوم، سوم اور آخری سال کے طلبہ نے شرکت کی۔ طلبہ کو نوری بس ں کمپنی کے مختلف شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کرایا گیا، جن میں فرنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ بیک اینڈ ڈویلپمنٹ ، سافٹ ویئر ٹیسٹنگ، ایپ ڈویلپمنٹ گرافکس ڈیزائنگ، ایچ آر ڈپارٹمنٹ اور ایڈمن ڈپارٹمنٹ شامل تھے۔

اس موقع پر نوری بس ٹیکنالوجیز کے سی ای او جناب عمران تابانی نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے کیربیئر کے سفر کی روداد بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ کسی طرح ایک ملازمت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور بعد ازاں اپنی کمپنی قائم کر کے اسٹارٹ اپ کی کامیاب مثال قائم کی۔ اسی طرح کمپنی کے سی ٹی او جناب شاہد احمد اور ایچ آر نمائندہ جناب سلمان تقلینی نے کمپنی کے ورک کلچر پر روشنی ڈالی اور آئی ٹی شعبے میں کیریئر کے مواقع سے آگاہ کیا۔ بعد ازاں جناب محمد صائم (ہیڈ ، موبائل ایپ ڈویلپمنٹ)، جناب جنید دوسانی ( بیڈ ، بیک اینڈ ڈویلپمنٹ) اور جناب عماد جاوید سینئر فرنٹ اینڈ ڈویلپر ) نے بھی طلبہ کی رہنمائی کی۔

اس کامیاب انڈسٹریل وزٹ میں کالج کے معزز اساتذ و پر و فیسر شہزاد مبین ، ڈاکٹر شیمیم احمد، پروفیسر اشفاق احمد، پر وفیسر فہد بلال اور پروفیسر فہیم انصاری بھی طلبہ کے ہمر او موجود تھے، جنہوں نے اس تعلیمی سرگرمی کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ طلبہ نے اس دورے کو نہایت معلوماتی اور متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تجربے نے ان کے علمی و عملی علم میں اضافہ کیا اور انہیں صنعت کے تقاضوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملا۔
اس چور کو پہنچاننے میں ھماری مدد کیجیے ۔
آج بروز جمعرات 4 ستمبر صبح گیارہ بجے ۔مسجد فاطمہ بشیر میں ، آسام کی جماعت کے ساتھی سے، میں سامنے گھر میں رھتا ھوں ایک ضروری فون کرنا ہے بول کر موبائل لیا اور بات کرتے ہوئے موبائل لے کر بھاگ گیا 
اسے پہنچانئے ۔کہیں نظر ائے تو ھمیں بتائیں ۔ مطلع کریں ۔ بہت نوازش ہوگی 

شاھد احمد (مؤذن) 91814910181

نفیس ملی 9226383973

ساجد بھائی 9371572107

مفتی ابو ہاشم 9271848313
پریس نوٹ

کل کے جلوس کی تیاریاں مکمل، قائدین کے ناموں کا اعلان!

راستوں کی تفصیل اور نماز جمعہ کے وقتوں کو بھی ظاہر کیا گیا. 

 پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے 1500 سو سال مکمل ہونے پراس سال کافی جوش سے عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام کیا جا رہا ہے، مالیگاؤں میں ایک صدی سے زائد عرصے سے نکالے جانے والے جلوس مبارکہ کے لئے بھی کافی اہتمام کیا جا رہا ہے. آل انڈیا سنی جمیعت العلماء کے زیرِ اہتمام نکلنے والے جلوس کے تعلق سے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں تنظیم کے صدر مولانا مفتی واجد علی یار علوی صاحب کی جانب سے معلومات دیتے ہوئے جاوید انور نے بتایا کہ اس سال جلوس کی قیادت کے لئے ممبئی سے بزرگ آل رسول حضرت مولانا سید محفوظ رضا حسینی صاحب قبلہ، اورنگ آباد سے آل رسول حضرت مولانا سید بابر علی قادری صاحب قبلہ اور مالیگاؤں سے حضرت مولانا مفتی واجد علی قادری یار علوی صاحب قبلہ کے نام کا اعلان کیا گیا ہے. دیگر قائدین میں مفتی مدثر حسین ازہری صاحب، مفتی نعیم رضا مصباحی صاحب، مفتی عبیداللہ مصباحی صاحب، مفتی افتخار اشرفی جامعی صاحب، مفتی نورالحسن مصباحی صاحب، مفتی عارف حسین اشرفی جامعی صاحب، مفتی عابد حسین امجدی صاحب اور دیگر تمام مقامی علماء کرام ہونگے. 
اس سال گنپتی کے تہوار کی وجہ سے جلوس کے آخر کے راستے میں صرف اس سال کے لئے معمولی سی تبدیلی کی گئی ہے۔ جلوس اسلام پورہ مدرسہ داالعلوم حنفیہ سنیہ سے نکل کر للے چوک، نوری ٹاور، مچھلی بازار، آگرہ روڈ، مرزا غالب روڈ، بہادر شاہ ظفر روڈ، مومن پورہ، مولانا شوکت علی( ورلی) روڈ، ایک تارا بلڈنگ، رمضانی مسجد، نوری ٹاور، اسلام پورہ قادریہ چوک، انصار روڈ، قدوائی روڈ، نشاط روڈ، مُحمد علی روڈ، مشاورت چوک، مولانا آزاد روڈ، چھوٹی مالیگاؤں ہائی اسکول، نیا پورہ مدنی روڈ، نورانی مسجد، فتح میدان، سلیمانی چوک، جامعۃ الصالحات، آزاد نگر، گاندھی مارکیٹ والا روڈ، توکل مسجد کی گلی، آزاد نگر مین روڈ، جیلانی چوک، امن چوک، اشرفیہ چوک، خوشامد پورہ، رضا چوک، خانقاہ اشرفیہ، باب اشرف، چندن پوری گیٹ، آزاد نگر پولیس اسٹیشن کے بازو کی گلی سے بیلباغ نئی مسجد، جونی حج کمیٹی کے سامنے شبّیر سیٹھ کے گھر کے پیچھے والی گلی، منّو مسجد کے پیچھے سے صراط چوک، چونا بھٹّی، تین قندیل، یادگار پان اسٹال سے انجمن چوک سے مُحمد علی روڈ، قدوائی روڈ، محمدیہ چوک، مدّو سیٹھ مسجد، وقار چوک، حافظ تجمل روڈ، للے چوک، امام احمد رضا روڈ سے اے ٹی ٹی ہائی اسکول میں کا کر جلوس اختتام پزیر ہوگا، یہاں علماء کرام کے بیانات اور دعا کے بعد نماز جمعہ کے لئے اسلامُ پوره کی خانقاہ برکتیہ مسجد، دوست محمد مسجد، مدو سیٹھ مسجد، مومن پورہ کی فیضان مدینہ مسجد اور حسین سیٹھ کمپاؤنڈ میں معینیہ مسجد میں دوپہر ڈھائی بجے( 2:30) جبکہ نیا اسلام پورہ اقبال ڈابی کے پاس شکاری چوک میں خانقاہ قادریہ برکاتیہ مسجد میں تین بھی نماز جمعہ ادا کی جائے گی. تمام حضرات وقت کا خیال رکھتے ہوئے پر امن طریقے سے جلوس میں شرکت کریں، ایسی اپیل جاوید انور نے کی ہے.

قدوائی روڈ نشہ مکت نکڑ ناٹک 

قدوائی روڈ ہاکرس یونین کے چئیرمن سلمان شیخ سلیم کی جانب سے لکی گروپ عابد لالا سرکل کے ذریعے بارہ ربیع الاول قدوائی روڈ محمدیہ رکشہ اسٹینڈ پر نشہ مکت نکڑ ناٹک کا اہتمام کیا گیا ہے سبھی شہریوں سے شرکت کی اپیل ہے

*No Gift Culture*
Gratitude Without Gifting 
یومِ اساتذہ پر تحفے نہ دینے کی روایت (نیو ارا انگلش میڈیم اسکول اینڈ جونئیر کالج و نیو ارا سیمی انگلش نیٹ ورک)

یومِ اساتذہ ایک ایسا دن ہے جو ہمارے ان عظیم رہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جنہوں نے ہمیں علم کی روشنی سے منور کیا۔ اس دن طلباء اپنے اساتذہ کے لیے محبت، عقیدت اور احترام کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں یہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ طلباء مہنگے تحائف دے کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، جو کہ ایک غلط روایت بنتی جا رہی ہے۔

اعلیٰ اخلاقی اقدار اور احترام کے لئے پہچانے جانے والے ادارے نیو ارا انگلش میڈیم اسکول اینڈ جونئیر کا خاصہ رہا ہے کہ ان تمام روایات کہ بڑھاوا نہ دیتے ہوئے طلباء کی صحیح سمت میں رہنمائی کرے۔ اسی نسبت سے آج بروز جمعرات، بتاریخ 4 ستمبر کو منعقد ہونے والے یوم اساتذہ کے پروگرام میں سختی سے تحائف لینے کی مخالفت کی گئی۔ بجاۓ تحائف لے کر یوم اساتذہ منانے کہ طلباء و اساتذہ کے لئے دیگر تشویقی و توصیفی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔
 چونکہ اساتذہ وہ عظیم شخصیت ہوتے ہیں جن کا مقصد طلباء کی تربیت اور کردار سازی ہوتا ہے۔ وہ کسی دنیاوی صلے یا تحفے کے محتاج نہیں ہوتے۔ ان کے لیے سب سے بڑا تحفہ طالب علم کی کامیابی، ادب، اخلاق اور محنت ہے۔

تحفے دینے کا رجحان بعض اوقات طلباء میں مقابلے بازی، مالی دباؤ، یا امتیاز پیدا کر سکتا ہے۔ ہر طالب علم کی مالی حالت ایک جیسی نہیں ہوتی، اس لیے یومِ اساتذہ کو سادگی سے منانا زیادہ مناسب ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں "تحفہ نہ دو، عزت دو" (Gratitude Without Gifting) کا پیغام عام ہونا چاہیے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن اساتذہ کو عزت، دعا اور محبت سے یاد کریں۔ ایک خوبصورت کارڈ، نیک الفاظ، یا دل سے نکلی ہوئی دعائیں اساتذہ کے دل کو زیادہ خوشی دے سکتی ہیں۔

لہٰذا، یومِ اساتذہ پر مہنگے تحفے دینے کے بجائے، ان کی تعلیمات پر عمل کریں، ان کا احترام کریں، اور ان کی محنت کو سراہیں۔ یہی ایک سچے طالب علم کی پہچان ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ، مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ فڑنویس نے دیا تحقیقات کا حکم* ...