نوجوانوں کے لیے سنہری موقع
*سیوا پولیس بھرتی ٹریننگ فری*
*🚨 سیوا پولس بیچ نمبر 6 🚨*
نوجوانوں کے لیے سنہری موقع – خدمتِ خلق کے عزم کے ساتھ پولیس کی وردی پہنیے!
یوتمال سے مالیگاؤں تک سیوا آرگنائزیشن اپنی تعلیمی و سماجی خدمات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اب ایک اور انقلابی قدم اٹھا رہی ہے۔ پولیس بھرتی کوچنگ بیچ نمبر 6،
*6 اکتوبر 2025 سے شروع ہونے جا رہا ہے۔*
یہ بیچ ان نوجوانوں کے لیے ہے جو پولیس فورس میں شامل ہو کر قوم، ملک اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔
اسلام ہمیں عدل، انصاف اور انسانیت کی حفاظت کا درس دیتا ہے، اور پولیس کی وردی میں رہ کر ایک مسلمان نوجوان امن قائم کرنے والا، معاشرے کو جرائم سے پاک کرنے والا اور مظلوم کا سہارا بن سکتا ہے۔ یہی اصل خدمتِ خلق ہے جس کی طرف قرآن و سنت رہنمائی کرتے ہیں۔
*🌟 اس کوچنگ کی خصوصیات:*
✅ تحریری امتحان کی مکمل تیاری – بالکل مفت
✅ گراؤنڈ ٹریننگ – بالکل مفت
✅ لائبریری سہولت – بالکل مفت
✅ ہاسٹل سہولت – بالکل مفت
*📢 رجسٹریشن کی تفصیل*
📝 رجسٹریشن کی آخری تاریخ: 30 ستمبر 2025
📬 فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ (ڈاک کے ذریعے): 05 اکتوبر 2025
📍 پتہ: سیوا دفتر، طاہر نگر، آر ٹی او آفس کے قریب، ناگپور روڈ، یوتمل – 445001
📑 ضروری ڈاکومنٹس (پرنٹ آؤٹ کے ساتھ بھیجیں)
1️⃣ SEWA Coaching Classes Admission Form
2️⃣ ہامی پتر (Hamipatra)
*✨ پیغامِ تحریک:*
پولیس فورس میں جانا صرف ایک ملازمت نہیں، بلکہ ایک تحریک ہے۔ اس کے ذریعے آپ:
✅ مظلوم کو انصاف دلانے والے بن سکتے ہیں۔
✅ معاشرے کو امن اور سکون دینے والے بن سکتے ہیں۔
✅ اسلامی تعلیمات کے مطابق عدل و مساوات قائم کرنے والے بن سکتے ہیں۔
✅ یہ بیچ آپ کو صرف کامیابی کی تیاری نہیں کرائے گا بلکہ آپ کو خدمتِ انسانیت کا پیغامبردار بھی بنائے گا۔
📢 نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں، اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے مستقبل کو روشن کرتے ہوئے پولیس فورس میں شامل ہو کر قوم و ملت کی شان بنیں۔
*مزید معلومات کے رابط کریں:*
📞 عمران سر یوتمال ( سیوا پولیس بھرتی انچارج ) 7757819991
📞 نظام الدین شیخ صاحب(سیکریٹری سیوا آرگنائزیشن) 9422946333
📞 جاوید منصوری سر مالیگاؤں
(ناسک ضلع کوآرڈینیشن،
سیوا آرگنائزیشن )
9225761213
👉 रजिस्ट्रेशन लिंक: رجسٹریشن (Registration Link):
🔗 https://forms.gle/9XS4Mnpc66e7m5PC7
عاصم منیر 2035 تک آرمی چیف رہیں گے؟ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کا 10 سالہ پاور پلان: خصوصی رپورٹ
اسلام آباد : پاکستان کی اعلیٰ فوجی اور سیاسی قیادت نے مبینہ طور پر ایک 10 سالہ اسٹریٹجک پاور پلان کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کا بنیادی مقصد ’’نظام کے تسلسل‘‘کو برقرار رکھنا اور طویل المدتی سیاسی و معاشی استحکام فراہم کرنا ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول قائم ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ اعلیٰ سطحی خفیہ اجلاس مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے مری کے نجی فارم ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، آرمی چیف فیلڈ مارشل آصف منیر اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے شرکت کی۔
اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر اس 10 سالہ ’’نظام کے تسلسل‘‘ کے منصوبے کی منظوری دی تاکہ امریکہ، چین اور خلیجی ممالک کی سرمایہ کاری کے لیے سیاسی و سیکیورٹی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس منصوبے کا مرکزی نکتہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دوبارہ تعیناتی ہے تاکہ وہ 28 نومبر 2025 کو اپنے موجودہ عہدے کی معیاد مکمل ہونے کے بعد بھی پاکستان کی فوجی قیادت سنبھالتے رہیں۔ یاد رہے کہ عاصم منیر کو 2022 میں تین سالہ معیاری مدت کے لیے آرمی چیف مقرر کیا گیا تھا، تاہم اب توقع ہے کہ پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں کی گئی ترامیم کے تحت انہیں پانچ سال کی توسیع دی جائے گی
ذرائع کے مطابق جلد ان کی دوبارہ تعیناتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا اور اس توسیع کو قانونی چیلنجز سے محفوظ بنانے کے لیے آئینی تحفظات پر غور کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں پاکستان کے ’’ہائبرڈ سول-ملٹری گورننس ماڈل‘‘ کی بھی توثیق کی گئی، جس کے تحت کلیدی فیصلے بشمول فوجی تقرریاں، سیاسی اور عسکری قیادت کے اتفاقِ رائے سے کیے جائیں گے۔ آئی ایس آئی کے اہم عہدے، جیسے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی، ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس اور ڈی جی-سی (کاؤنٹر انٹیلی جنس)، مشترکہ مشاورت سے پُر کیے جائیں گے تاکہ ادارہ جاتی توازن قائم رکھا جا سکے۔
آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل آصف ملک، جو نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، اکتوبر میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں بھی تسلسل قائم رکھنے کے لیے توسیع دیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے سیاسی مستقبل پر بھی بات ہوئی۔ ذرائع کے مطابق قیادت نے سخت فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان کے لیے کسی قسم کی سیاسی رعایت یا قانونی ریلیف نہیں دیا جائے گا۔ شرکاء نے عمران خان اور تحریک انصاف کو ’’عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتیں‘‘ قرار دیا اور فیصلہ کیا کہ قانونی طریقے سے انہیں غیر مؤثر بنایا جائے گا، جبکہ ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ عاصم منیر کی توسیع کو عدالت میں چیلنج نہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب حزب اختلاف نے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ تحریک انصاف اور دیگر اتحادی اپوزیشن جماعتوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ عاصم منیر کی توسیع کو پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کریں گی، ان کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام فوجی بالادستی، قانونی بے ضابطگیوں اور جمہوری اصولوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ اس امکان کے پیش نظر حکومت آئینی اقدامات پر غور کر رہی ہے تاکہ نہ صرف عاصم منیر کے فیلڈ مارشل رینک بلکہ ان کی توسیع کو بھی عدالت سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
پاکستان میں فوجی سربراہ کی تعیناتی اور مدت ملازمت ہمیشہ ایک متنازع موضوع رہی ہے۔ ماضی میں بھی کئی آرمی چیفس کو توسیع ملتی رہی ہے، جیسے جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی عمران خان کی حکومت میں تین سال کی توسیع ملی تھی ۔ تاہم اس بار یہ منصوبہ غیر معمولی ہے کیونکہ عاصم منیر کو نہ صرف توسیع دی جا رہی ہے بلکہ انہیں ’’فیلڈ مارشل‘‘ کے رینک کے ساتھ طویل المدتی فوجی قیادت کا استحقاق دیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کی ’’ہائبرڈ نظام‘‘ کی پالیسی کو مزید مضبوط کرتی ہے، جہاں اصل طاقت سیاسی حکومت اور فوج کے درمیان مشترکہ معاہدوں پر استوار ہے۔
عام آدمی کے لیے راحت کی خبرہے۔حکومت نے اب جی ایس ٹی شرحوں میں کمی کی ہے۔ جی ایس ٹی سلیب میں تبدیلی سے روزمرہ کی بہت سی اشیاء سستی ہو جائیں گی۔نئی دہلی میں جی ایس ٹی کونسل کی 56ویں میٹنگ میں ہی کئی اہم تجاویز کو منظوری دی گئی۔ وزیرمالیات نرملا سیتارمن کے مطابق، اب صرف دو جی ایس ٹی سلیب ہوں گے، 5 فیصد اور 18 فیصد۔جبکہ 12 فیصد اور 28 فیصد کے جی ایس ٹی سلیب کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ان سلیبوں میں زیادہ تر ضروری اشیاء شامل ہیں۔ لگژری اور نقصان دہ اشیا کے لیے الگ سلیب ہوگا جو 40 فیصد ہے۔ جی ایس ٹی کی نئی شرحوں کا اطلاق 22 ستمبر سے ہوگا۔ آئیے جانتے ہیں جی ایس ٹی میں کمی کے بعد کیا سستا ہوگا اور کیا مہنگا ہوگا؟
0فیصد سلیب کے دائرے میں آنے والی اشیاء
حیات بخش دوائیں،کینسر کی دوائیں، نادر امراض کی دوائیں
ذاتی لائف انشورنس، صحت بیمہ
نقشے، چارٹ، گلوب، پینسل، شارپنر،کریان، نوٹ بُک،مشق کی کتابیں،ربر
دودھ،پنیر،چھینا، پہلے سے پیک اورلیبل والا،پِزا بریڈ، کھاکھرا،چپاتی یا روٹی
5فیصدسلیب میں آنے والی آشیاء
بالوں کا تیل، شیمپو، ٹوتھ پیسٹ، ٹوائلٹ صابن، ٹوتھ برش، شیونگ کریم
مکھن، گھی، پنیر اور ڈیری اسپریڈز، اسنیکس، برتن
دودھ کی بوتلیں، نیپکن اور بچوں کے لیے کلینیکل ڈائپرز
سلائی مشینیں اور ان کے پرزے
تھرمامیٹر، میڈیکل گریڈ ڈائی آکسیجن اور آکسیجن کے تمام ٹیسٹس اسٹرپس
چشمہ
ٹریکٹر کے ٹائر، کل پرزے، ٹریکٹر
مخصوص بائیو پیسٹی سائڈز، مائکرو نیوٹرینٹ
ڈرپ ایریگیشن سسٹم اور اسپرنکلر
مٹی تیارکرنےکے لیے زرعی، باغبانی کی مشینیں
18فیصدسلیب میں کے تحت اشیاء
پیٹرول، ایل پی جی، سی این جی کاریں (1200 سی سی اور 4000 ملی میٹر سے زیادہ نہیں)
ڈیزل اور ڈیزل ہائبرڈ کاریں (1500 سی سی اور 4000 ملی میٹر سے زیادہ نہیں)
تھری وہیلر
موٹرسائیکلیں (350 سی سی اور اس سے کم)
باربردارموٹر گاڑیاں
ایئرکنڈیشنر
ایل ای ڈی اورایس سی ڈی سمیت ٹیلی ویزن(32 انچ سے زیادہ)
مانیٹر اور پروجیکٹر
ڈش واشنگ مشینیں
1800 سی سی سے زیادہ صلاحیت والے انجن والے ٹریکٹر
40فیصد سلیب کے دائرے میں آنے والی اشیاء
پان مسالہ، سگریٹ، گٹکھا، تمباکو چبانے والی، بیڑیاں
اضافی چینی یا ذائقے والا پانی، کیفین والے مشروبات، غیر الکوحل مشروبات
تمباکو نوشی کے پائپس
350 سی سی سے زیادہ کی صلاحیت والی موٹر سائیکلیں
ذاتی استعمال کے لیے ہوائی جہاز
کشتیاں
ریوالور اور پستول
سٹہ ،کسینوں، لاٹری ،گھڑدوڑ اور آن لائن منی گیمنگ
کیا کیا سستا
روٹی، پراٹھا سے لے کر ہیئر آئل، آئس کریم اور ٹی وی تک، عام استعمال کی اشیاء سستی ہو جائیں گی۔اس کے ساتھ ہی ذاتی صحت اور لائف انشورنس پریمیم پر ٹیکس میں مکمل ریلیف ملے گا۔
جن اشیاء پر جی ایس ٹی کو کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ان میں ہئر آئیل ، ٹوائلٹ صابن، صابن بار، شیمپو، ٹوتھ برش، ٹوتھ پیسٹ، سائیکل، دسترخوان، کچن کا سامان اور دیگر گھریلو اشیاء شامل ہیں۔
جن اشیاء پر جی ایس ٹی 5 فیصد سے کم کر کے صفر کر دیا گیا ہے وہ دودھ، روٹی، چھینا اور پنیرہے۔ تمام ہندوستانی روٹیوں پر جی ایس ٹی صفر ہوگا۔ یعنی روٹی ہو یا پراٹھا یا کچھ بھی، ان سب پر جی ایس ٹی صفر ہوگا۔
جی ایس ٹی کو 12 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد یا 18 فیصد سے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔
نمکین، بھجیا، چٹنی، پاستا، انسٹنٹ نوڈلز، چاکلیٹ، کافی، محفوظ گوشت، کارن فلیکس، مکھن، گھی جیسی کھانے کی اشیاء 5فیصد جی ایس ٹی کے دائرے میں ہیں۔
جن اشیاء پرجی ایس ٹی کو 28 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کردیا گیا ہے۔ان میں ایئر کنڈیشننگ مشینیں، ٹی وی، ڈش واشنگ مشینیں، چھوٹی کاریں، موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔
حیات بخش 33 دواؤں پر جی ایس ٹی 12 فیصد سے کم کر کے صفر کر دیا گیا ہے۔
وزیرمالیات نے کیا کہا؟
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میں پی ایم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے جی ایس ٹی کو بہتر بنانے کی بات کی۔ تمام ریاستوں کے وزرائے خزانہ نے جی ایس ٹی میں اصلاحات کی حمایت کی۔ وقت کے تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے وزرائے خزانہ نے حمایت کی، اس کے لیے ان کا بھی شکریہ۔ جی ایس ٹی کونسل کی 56ویں میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتا رمن نے کہا کہ ہم نے سلیب کو کم کر دیا ہے۔ اب صرف دو سلیب ہوں گے
عام آدمی کو فائدہ ہوگا
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ جی ایس ٹی میں یہ اصلاحات عام آدمی کو ذہن میں رکھتے ہوئے کی گئی ہیں۔ عام آدمی کے روزمرہ استعمال کی اشیاء پر لگائے گئے ہر ٹیکس کا بغور جائزہ لیا گیا ہے اور بیشتر معاملات میں نرخوں میں کمی کی گئی ہے۔ صنعتوں کو اچھی مدد فراہم کی گئی ہے۔ کسانوں اور زراعت کے شعبے کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے کو بھی فائدہ ہوگا۔ معیشت کے کلیدی محرکوں کو فوقیت دی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ عام آدمی اور متوسط طبقے کی اشیاء پر مکمل کٹوتی کی گئی ہے۔