پاکستان میں اصل طاقت فوج کے پاس ہی ہے ۔یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ وہاں ہمیشہ سے فوجی آمریت کا بول بالا رہا ہے۔پاکستان کا آرمی چیف ہی طاقتور کا محور ہے اور وہاں کے وزیراعظم کی حیثیت ایک سیاسی مہرہ کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان کا موجودہ سیاسی نظام تو مانو Stablishment کے نام سے جانی جانے والی آرمی کٹھ پتلی ہے اور آرمی چیف اس نظام کو جب چاہیں ،جدھر چاہیں موڑ دیں ۔ان کے فیصلوں پر سیاسی قوتوں کے پاس ہاں میں ہاں ملانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
پاکستان کے موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اپنے آپ کو اقتدار پر قابض رکھنے کے لئے نیا پلان تیار کیا ہے۔ وہ طویل مدت تک یعنی 2035 تک پاکستان کے آرمی چیف کی کرسی پر براجمان رہنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے انہوں نے قواعد شروع کردی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت نے 10 سالہ ا سٹریٹجک پاور پلان کو حتمی شکل دے دی ہے۔اس کی رو سے جنرل عاصم منیر حقیقی طور پر ملک کی باگ وڈور سنبھالتے رہیں گے اور موجودہ پی ایم شہباز شریف ہوں یا کوئی اور کل کے دن اس کرسی پر براجمان ہوجائے وہ آرمی چیف کی ہاں میں ہاں ملانے کو مجبور ہوں گے۔
ایسے بھی یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ شہباز شریف ،وہاں کی آرمی کی وجہ سے ہی اقتدار پر ہیں ورنہ 2024 میں ہوئے انتخابات میں مسلم لیگ ن سمیت لگ بھگ تمام پارٹیوں کو جیل میں بند عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی سے شرمناک شکست جھیلنی پڑی تھی۔
ایسے میں وہاں کی آرمی نے مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق،پیپلز پارٹی اور دیگر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو الیکشن میں دھاندلی کے ذریعہ سیٹیں جیتوائیں اور عمران خان کی پارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اور اب جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسی نظام کو طویل مدتی بنانے پر غو ر وخوض ہورہا ہے۔
اسی کڑی میں مری میں مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے فارم ہاؤس پر ایک اعلی سطح کی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں پی ایم شہباز شریف،پنجاب کی وزیراعلی اور نواز شریف کی بیٹی مریم نواز، آرمی چیف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے شرکت کی۔اس ملاقات میں 10 سال کے پلان کو حتمی شکل دی گئی۔
ایسے بظاہر اس اجلاس کا مقصد نظام کو بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھانا اور ملک میں طویل مدتی سیاسی اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عاصم منیر اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے پورے سیاسی نظام کو کھلونے کی طرح استعمال کررہے ہیں۔ اسی لئے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ عاصم منیر کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 5 سال کی توسیع دی جائے گی۔
خیال رہے کہ عاصم منیر کی موجودہ مدت 28 نومبر 2025 کو ختم ہو رہی ہے۔ انہیں 2022 میں تین سال کے لیے تعینات کیا گیا تھا لیکن اب پاکستان آرمی ایکٹ میں تبدیلی کے ذریعے ان کی کرسی کو مستقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ آسان لفظوں میں سمجھیں تو وہ 2035 تک بغیر تختہ پلٹ کے اقتدار پر رہنے کا منصوبے کو زمین پر اتارنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اکتوبر میں ریٹائر ہونے والے ہیں تاہم ذرائع کے مطابق ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بات چیت جاری ہے تاکہ نظام میں تسلسل برقرار رہے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ حکومت اس توسیع کو قانونی چیلنج سے بچانے کے لیے آئینی تحفظ دینے پر غور کر رہی ہے
نظام میں بڑی تبدیلی
پاکستان کے اس پاور پلان کا ایک اور اہم حصہ ‘ہائبرڈ سول ملٹری سسٹم’ ہے، یعنی بڑے فیصلے خصوصاً اعلیٰ فوجی تعیناتیاں اب صرف سیاسی اور عسکری قیادت کی باہمی رضامندی سے کی جائیں گی۔ ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس اور ڈی جی سی (کاؤنٹر انٹیلی جنس) جیسی اہم پوسٹیں بھی اسی طرح پُر کی جائیں گی۔
عمران خان سے متعلق بھی فیصلہ کر لیا گیا
ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ اندر کی خبر یہ ہے کہ قیادت نے واضح طور پر کہا ہے کہ عمران خان کو کسی قسم کا ریلیف یا سیاسی جگہ نہیں ملے گی۔ موجودہ حکومت اور فوج اسے عدم استحکام کا شکار کرنے والی قوت سمجھتی ہے اور قانونی طریقوں سے اسے مکمل طور پر سائیڈ لائن کرنے کی حکمت عملی بنا رہی ہے
اب آپ ذرا سوچیں کہ پاکستان میں اقتدار پر برقرار رکھنے کے لئے کیسے کیسے کھیل کھیلے جارہے ہیں ۔ یہ سب کچھ اس وقت ہورہا ہے جب پاکستان کے عوام غریبی کی چکی میں اس طرح پس رہے ہیں وہ دانے دانے کو محتاج ہیں ۔ ان کی خبر لینے والا کوئی نہیں ہے۔ غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں اور مقتدرہ اپنی چال چلنے میں مصروف ہے۔اسے غریب عوام کے دکھ دردر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
RBI Repo Rate : آربی آئی نے ریپو ریٹ میں کی بڑی کٹوتی، اب کم ادا کرنا ہوگا ہوم اور کارلون کا انٹریسٹ
ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے تیسری بار ریپو ریٹ میں کمی کی ہے۔ مالیاتی پالیسی کمیٹی (MPC) کی تین دنوں تک چلی میٹنگ کے بعد آج RBI گورنر سنجے ملہوترا نے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کا اعلان کیا۔
ریپو ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس (bps) کی کٹوتی کی گئی ہے۔ اس کمی کے ساتھ اب ریپو ریٹ گھٹ کر 5.50 فیصد رہ گیا ہے۔ RBI نے فروری اور اپریل میں بھی ریپو ریٹ میں 25-25 بیسس پوائنٹس کی کمی کی تھی۔ فروری 2025 میں تقریباً پانچ سال کے عرصے کے بعد شرح سود میں کمی کی گئی تھی۔ اس وقت ریپو ریٹ کو 6.5 فیصد سے گھٹا کر 6.25 فیصد کیا گیا تھا۔
ریپو ریٹ وہ شرح ہوتی ہے جس پر RBI بینکوں کو قرض دیتا ہے۔ جب ریپو ریٹ کم ہوتا ہے تو بینکوں کے لیے قرض لینا سستا ہو جاتا ہے اور وہ صارفین کو کم سود پر قرض دے سکتے ہیں۔ ریپو ریٹ میں کمی سے ہوم اور کار لون سستے ہو جائیں گے اور گاہکوں کی EMI میں کمی آئے گی۔ خوردہ مہنگائی کی شرح لگاتار تیسرے مہینے RBI کے مقرر کردہ 4 فیصد کے ہدف سے نیچے رہنے کے باعث RBI کو ریپو ریٹ میں کمی کرنے کی تحریک ملی ہے۔
آر بی آئی کے رویے میں تبدیلی
ایم پی سی کی میٹنگ میں ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے ریپو ریٹ کو لے کر اپنا رویہ بھی تبدیل کیا ہے۔ اب اس نے ‘اکوموڈیٹو’ (Accommodative) کی جگہ ‘نیوٹرل’ (Neutral) رویہ اختیار کیا ہے۔ RBI کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا کہ مالیاتی پالیسی کمیٹی نے موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ محسوس کیا کہ اب اقتصادی ترقی کو مزید سہارا دینے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوڈ انفلیشن بھی قابو میں رہنے کی امید ہے، کیونکہ عالمی سطح پر اقتصادی سست روی کے خدشے کے سبب بین الاقوامی اشیاء کی قیمتوں میں نرمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ افراط زر کی شرح ہدف سے بھی نیچے رہ سکتی ہے۔
عالمی معیشت کی حالت نازک
آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا کہ اس وقت ملک میں قیمتوں کا استحکام، مالیاتی استحکام اور سیاسی استحکام کے محاذ پر توازن برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت نازک حالت میں ہے۔
عالمی خدشات کے درمیان ملک معیشت مضبوطی، استحکام اور مواقع پیش کرتی ہے۔ ملک کے زرعی شعبے اور صنعتی پیداوار میں مضبوطی برقرار ہے، جب کہ پرائیویٹ کنزمپشن میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ شہری علاقوں میں طلب میں بہتری کے اشارے ملے ہیں اور سرمایہ کاری کی رفتار میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
وعدہ پورا کیا... جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی پر وزیراعظم مودی کا ردعمل، کہا: مڈل کلاس، کسانوں کو ہوگا فائدہ
نئی دہلی : ایک طرف جہاں وزیر خزانہ پریس کانفرنس کے دوران جی ایس ٹی کی شرح میں کمی کے بارے میں ہر منٹ کی تفصیل دے رہی تھیں ، تبھی دوسری طرف نئے اعلان پر پی ایم نریندر مودی کا پہلا ردعمل بھی آگیا ہے۔ اس کو نئے زمانے کا جی ایس ٹی بتاتے ہوئے انہوں نے ایکس پر لکھا: ‘یوم آزادی کے اپنے خطاب میں، میں نے کہا ٹہم کہ ہم جی ایس ٹی میں اگلی نسل کے اصلاحات لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے ایک تفصیلی تجویز تیار کی ہے، جس میں جامع GST شرحوں کی منطقی تنظیم نو اور عمل میں بہتری شامل ہے۔ اس کا مقصد عام شہریوں کی زندگی کو آسان بنانا اور معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔
اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ‘جی ایس ٹی کونسل، جس میں مرکز اور ریاست دونوں شامل ہیں، مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے پیش کی گئی جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی اور اصلاحات کی تجاویز کو اجتماعی طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔
وزیراعظم مودی نے مزید کہا کہ اس سے عام آدمی، کسانوں، MSMEs، متوسط طبقے، خواتین اور نوجوانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ یہ جامع اصلاحات ہمارے شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنائیں گی اور سب کے لیے ، خاص طور پر چھوٹے تاجروں اور کاروباروں کے لیے ، کاروبار کرنے میں آسانی کو یقینی بنائیں گی۔
بتادیں کہ جی ایس ٹی کونسل نے عام آدمی کے زیرِ استعمال تقریباً تمام اشیاء پر جی ایس ٹی میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ بریڈ روٹی ، چھینا پنیر سمیت تمام اشیاء پر جی ایس ٹی صفر کر دیا گیا ہے۔ 33 ضروری ادویات کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔ لائف انشورنس کو جی ایس ٹی سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں چھوٹی کاروں اور موٹر سائیکلوں (350 سی سی یا اس سے کم) پر جی ایس ٹی 28 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ 22 ستمبر کو جب آپ کوئی چیز خریدنے دکان پر جائیں گے تو آپ کو کم پیسے ادا کرنے ہوں گے