Thursday, 4 September 2025

*🔴سیف نیوزبلاگر*

پنجاب کے سرحدی علاقوں میں راوی کی سطح آب میں اضافے سے سکیورٹی کے والے سے تشویش پائی جاتی ہے۔پانی کے تیز بہاؤ نے ہند۔پاک سرحد پر 30 کلومیٹر طویل لوہے کی باڑ کو بہا دیا ہے۔ کئی حفاظتی بند ٹوٹ چکے ہیں اور بارڈر سیکورٹی فورس (BSF) کو درجنوں پوسٹیں خالی کرنی پڑی ہیں۔ اس قدرتی آفت نے سرحد کو کھلا چھوڑ دیا ہے جس سے اسمگلروں نے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

30 سے 40 چوکیاں ڈوبیں
بی ایس ایف پنجاب فرنٹیئر ڈی آئی جی اے کے ودیارتھی کا کہنا ہے کہ گرداس پور میں تقریباً 30 سے 40 پوسٹیں زیرآب آگئی ہیں۔ تاہم تمام فوجیوں اور آلات کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ گرداس پور، امرتسر اور فیروز پور سیکٹرز میں تقریباً 30 کلومیٹر باڑ بہہ گئی ہے یا اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔

کرتار پور کوریڈور کے نزدیک پوسٹ کوبھی پہنچا نقصان
امرتسر کے شہزادہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو کمل پور چوکی میں پناہ ملی۔ کمل پور میں بی ایس ایف کی چوکی بھی پانی کی زد میں ہے۔ کرتارپور کوریڈور کے قریب واقع بی ایس ایف کی مشہور چوکی بھی مکمل طور پر ڈوب گئی ہے۔ جوانوں کو ڈیرہ بابا نانک کے گوردوارہ دربار صاحب میں پناہ لینی پڑی۔ دریائی پانی نے سرحد کے دونوں جانب تباہی مچا ئی ہے اور پاکستان کےرینجرز کو بھی اپنی اگلی پوسٹیں چھوڑنا پڑیں۔

بندوں میں دراڑیں
گورداسپور ڈرینج ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ضلع میں 28 بند ٹوٹ چکے ہیں۔ امرتسر میں 10-12 دراڑیں نمودار ہوئی ہیں اور پٹھان کوٹ میں 2 کلومیٹر طویل بند بہہ گیا ہے۔ کئی مقامات پر شگاف بڑھ گئے ہیں۔ محکمہ کے انجینئر دلپریت سنگھ نے بتایا کہ مکور پٹن اور ڈیرہ بابا نانک میں مرمت کا کام شروع ہو چکا ہے، لیکن صرف ان شگافوں کو بھرنے میں 4 سے 6 ہفتے لگیں گے۔

اسمگلروں کی کوششیں ناکام
سیلاب کے دوران اسمگلروں نے سرحد میں موجود گیپوں سے دراندازی کی کوشش کی جسےمستعد بی ایس ایف جوانوں نے ناکام بنادیا۔ حکام نے بتایا کہ ایک درنداز کوپکڑا لیا گیا ہے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے بی ایس ایف کے جوان کشتیوں کے ذریعے گشت کر رہے ہیں۔

ریلیف اور ریسکیو آپریشن
بی ایس ایف نے بھی امدادی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ فیروز پور میں 1500 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ ابوہر میں 1000 سے زائد دافراداور ان کے مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ متاثرہ علاقوں میں روزانہ میڈیکل اور ویٹرنری کیمپ لگائے جا رہے ہیں تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

حالات جلد معمول پر آنے کی اُ مید
ڈرینج محکمے کا کہنا ہے کہ آئندہ تین روز تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔ پانی کی سطح بتدریج کم ہو کر دریا میں واپس آ جائے گی۔ پانی صرف نشیبی علاقوں میں جمع رہے گا۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ تین دن میں صورتحال معمول پر آنا شروع ہو جائے گی۔
پنجاب میں راوی میں طغیانی، 30کلومیٹر تک ہند۔پاک سرحد کی لکیرمٹی، بی ایس ایف کی کئی چوکیاں ڈوبیں

پنجاب کے سرحدی علاقوں میں راوی کی سطح آب میں اضافے سے سکیورٹی کے والے سے تشویش پائی جاتی ہے۔پانی کے تیز بہاؤ نے ہند۔پاک سرحد پر 30 کلومیٹر طویل لوہے کی باڑ کو بہا دیا ہے۔ کئی حفاظتی بند ٹوٹ چکے ہیں اور بارڈر سیکورٹی فورس (BSF) کو درجنوں پوسٹیں خالی کرنی پڑی ہیں۔ اس قدرتی آفت نے سرحد کو کھلا چھوڑ دیا ہے جس سے اسمگلروں نے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

30 سے 40 چوکیاں ڈوبیں
بی ایس ایف پنجاب فرنٹیئر ڈی آئی جی اے کے ودیارتھی کا کہنا ہے کہ گرداس پور میں تقریباً 30 سے 40 پوسٹیں زیرآب آگئی ہیں۔ تاہم تمام فوجیوں اور آلات کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ گرداس پور، امرتسر اور فیروز پور سیکٹرز میں تقریباً 30 کلومیٹر باڑ بہہ گئی ہے یا اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔

کرتار پور کوریڈور کے نزدیک پوسٹ کوبھی پہنچا نقصان
امرتسر کے شہزادہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو کمل پور چوکی میں پناہ ملی۔ کمل پور میں بی ایس ایف کی چوکی بھی پانی کی زد میں ہے۔ کرتارپور کوریڈور کے قریب واقع بی ایس ایف کی مشہور چوکی بھی مکمل طور پر ڈوب گئی ہے۔ جوانوں کو ڈیرہ بابا نانک کے گوردوارہ دربار صاحب میں پناہ لینی پڑی۔ دریائی پانی نے سرحد کے دونوں جانب تباہی مچا ئی ہے اور پاکستان کےرینجرز کو بھی اپنی اگلی پوسٹیں چھوڑنا پڑیں۔

بندوں میں دراڑیں
گورداسپور ڈرینج ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ضلع میں 28 بند ٹوٹ چکے ہیں۔ امرتسر میں 10-12 دراڑیں نمودار ہوئی ہیں اور پٹھان کوٹ میں 2 کلومیٹر طویل بند بہہ گیا ہے۔ کئی مقامات پر شگاف بڑھ گئے ہیں۔ محکمہ کے انجینئر دلپریت سنگھ نے بتایا کہ مکور پٹن اور ڈیرہ بابا نانک میں مرمت کا کام شروع ہو چکا ہے، لیکن صرف ان شگافوں کو بھرنے میں 4 سے 6 ہفتے لگیں گے۔

اسمگلروں کی کوششیں ناکام
سیلاب کے دوران اسمگلروں نے سرحد میں موجود گیپوں سے دراندازی کی کوشش کی جسےمستعد بی ایس ایف جوانوں نے ناکام بنادیا۔ حکام نے بتایا کہ ایک درنداز کوپکڑا لیا گیا ہے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے بی ایس ایف کے جوان کشتیوں کے ذریعے گشت کر رہے ہیں۔

ریلیف اور ریسکیو آپریشن
بی ایس ایف نے بھی امدادی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ فیروز پور میں 1500 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ ابوہر میں 1000 سے زائد دافراداور ان کے مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ متاثرہ علاقوں میں روزانہ میڈیکل اور ویٹرنری کیمپ لگائے جا رہے ہیں تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

حالات جلد معمول پر آنے کی اُ مید
ڈرینج محکمے کا کہنا ہے کہ آئندہ تین روز تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔ پانی کی سطح بتدریج کم ہو کر دریا میں واپس آ جائے گی۔ پانی صرف نشیبی علاقوں میں جمع رہے گا۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ تین دن میں صورتحال معمول پر آنا شروع ہو جائے گی
انکم ٹیکس کے بعد جی ایس ٹی اصلاحات ...، مودی حکومت کی پالیسیوں کے مرکزمیں اب متوسط طبقہ


پی ایم مودی حکومت نے 2025 میں متوسط طبقے کو مرکز میں رکھ کر اپنی اصلاحاتی پالیسیوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔ پہلے فروری میں انکم ٹیکس میں تخفیف اور اب جی ایس ٹی کی شرحوں میں تبدیلی سے، متوسط طبقےکو راحت ملی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف متوسط طبقے کی جیبوں میں خرچ کے لیے پیسے بچیں گے بلکہ ان کی امنگوں کو نئے پر لگیں گے۔

جی ایس ٹی سلیب میں تبدیلی کے بعد، ی ایم مودی نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان کا محنتی متوسط طبقہ ہمارے ترقی کے سفر کا مرکز ہے۔ یہ بیان جی ایس ٹی میں کمی کے اعلان کے ایک دن بعد آیا ہے، جس سے متوسط طبقے کی دیرینہ شکایت دور ہو گئی ہے۔ متوسط طبقے کا ایک بڑا حصہ سوشل میڈیا پر شکایت کرتا رہا ہےکہ وہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتا ہے لیکن حکومت سے اسے اس کا حق نہیں ملتا۔

حکومت کی توجہ غریبوں کے لیے فلاحی اسکیموں پر مرکوز رہی ہے جیسے مفت رہائش، مفت راشن، بیت الخلاء، مفت طبی بیمہ اور کسانوں کے لیے مالی امداد۔ یہ جذبہ اس وقت مضبوط ہوا جب مودی حکومت کے دوسرے دور میں کارپوریٹ سیکٹرمتوسط طبقے کو بڑے پیمانے پر ٹیکس ریلیف دیا گیا۔ تاہم 2025 میں حکومت نے متوسط طبقے کی اس شکایت کو سنجیدگی سے لیا اور دو بڑے تحفے دیے۔ پہلا، انکم ٹیکس میں تخفیف نے متوسط طبقے کی جیبوں میں زیادہ پیسہ چھوڑا اور دوسرا، جی ایس ٹی اصلاحات نے روزمرہ کی اشیاء کو سستا کر دیا، جس سے کھپت میں اضافہ ہوا۔

متوسط طبقے کو راحت
پی ایم مودی نے کہا کہ کانگریس حکومتوں کے دوران ۔اونچی ٹیکس کی شرح کے سبب لوگوں کا ماہانہ بجٹ خراب ہو جاتا تھا۔ اس کے برعکس این ڈی اے حکومت نے عوام کو بروقت راحت دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی انکم ٹیکس چھوٹ اور اب جی ایس ٹی اصلاحات کے ذریعے ہم کروڑوں خاندانوں کی زندگیوں کو آسان بنانے اور ان کی امنگوں کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ جی ایس ٹی کی تازہ ترین اصلاحات کی وجہ سے موٹرسائیکل، کاریں، ٹی وی، اے سی اور دیگر روزمرہ کی ضروری اشیاء بہت سستی ہو جائیں گی۔
متوسط طبقہ ہندوستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب یہ طبقہ حکومتی پالیسیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ اصلاحات نہ صرف ان کے معاشی خدشات کو دور کرتی ہیں بلکہ ان کے اس یقین کو بھی مضبوط کرتی ہیں کہ حکومت ان کی ضروریات کو سمجھتی ہے۔ یہ متوسط طبقے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جہاں ان کی محنت اور شراکت کو نہ صرف تسلیم کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں پالیسی کی حمایت بھی مل رہی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ، مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ فڑنویس نے دیا تحقیقات کا حکم* ...