Friday, 5 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

*وینس فلم فیسٹیول میں ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کیلئے ۲۳؍ منٹ تک کھڑے ہوکر تالیاں بجائی گئیں۔*

 یہ اب تک کی واحد فلم ہے جس کیلئے اتنی دیر تک کھڑے ہوکر تالیاں بجائی گئی ہیں۔ ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘میں ۶؍ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی موت سے پہلے کے چند آخری گھنٹے بیان کئے گئے ہیں۔
’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کے پریمیر کے دوران فنکاروں کو ہند رجب کی تصویر لئے دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: ایکس
فلمساز کوثر بن ہانیہ کی فلم ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کیلئے وینس فلم فیسٹیول میں ۲۳؍ منٹ تک کھڑے ہوکر تالیاں بجائی گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ واحد فلم ہے جس کیلئے اتنی دیر تک کھڑے ہوکر تالیاں بجائی گئی ہیں۔ وینس فلم فیسٹیول میں فلم کا پریمیر دیکھنے کے بعدفنکاروں کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں جبکہ گالا میں ’’آزاد فلسطین‘‘کا نعرہ گونج رہا تھا۔
یاد رہے کہ یہ فلم ۶؍ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کے آخری چند گھنٹوں پر مبنی ہے جسے اسرائیلی فوجیوں نے جنوری ۲۰۲۴ء کے درمیان بے دردی سے قتل کیا تھا۔ ہند رجب نے فلسطینی ریڈ کریسینٹ کو مدد کیلئے کال کیا تھا جس کے بعدوہاں کے دو طبی رضاکاروں نے ہند رجب تک پہنچنے کی کوشش کی تھی لیکن اسرائیلی فوج نے انہیں بھی موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ ہدایتکار کوثر بن ہانیہ نے فلم میں ہند رجب کی آخری ریکارڈنگ بھی شامل کی ہے۔ 
الجزیرہ فولٹ لائنس ، فارینسک آرکیٹیکچر اور ایئرشوٹ کی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی ٹینک، جو ہند رجب کی کار سے تھوڑی ہی دوری پر تھا، نے براہ راست گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔
جولائی ۲۰۲۴ء میں اقوام متحدہ (یو این) کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے براہ راست ہند رجب پر فائرنگ کی تھی۔ اسرائیلی فوج نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حادثے پر نظر ثانی کی جارہی ہے۔
وینس فلم فیسٹیول میں فلم کا پریمیر دیکھنے کے بعد ناظرین جذباتی ہوگئے تھے۔ اداکار معتز ملحیث نے فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے فلسطینی پرچم بھی لہرایا۔ جیکلین فنکس اور رونی مارا، جو اس فلم کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر ہیں،ہند رجب کی تصویرکے ساتھ کاسٹ اورعملے کے ساتھ کھڑے تھے۔ قبل ازیں کاسٹ کےممبران میں سے ایک سجا کیلانی نے فلمسازوں کی جگہ اپنے بیان میں کہا کہ ’’ہند کی کہانی ان ۱۹؍ ہزار بچوں میں سے ایک ہے جنہوں نے گزشتہ دو برسوں میں اپنی جانیں گنوائی ہیں۔‘‘ دو مرتبہ آسکر کیلئے نامزد ہونے والی بین ہانیہ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ فلم عالمی سطح پرجاری غیر انسانی صورتحال کے خلاف کام کرے گی۔ سنیما اور فن ایسے لوگوں کی آواز اور ان کا چہرہ بننے کیلئے ضروری ہے۔‘‘ ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کو گولڈن لائن ایوارڈ کا دعویدار سمجھا جارہا ہے۔
___________
ترویج شاندار افسانہ

تعارف۔۔۔۔۔۔ اصل نام فارحہ ارشد (لاہور ۔ پاکستان )۔ آپکی پیدائش دریائے چناب کے کنارے آباد ایک گاؤں ساندل بار (چنیوٹ) میں ہوئی۔۔۔
کوئین میری سکول سے میٹرک کے بعد کینئیر ڈ کالج سے گریجویشن اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز ان پولیٹیکل سائنس کیا ۔۔۔
فارحہ ارشد ۔۔ سائیکولوجی ، فلاسفی ، مختلف ریسرچز ،سائنسز ،سوشل سائنسز اور اینتھروپولوجی کے کئی موضوعات اور حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتی ہیں ۔۔ جسکا ثبوت آپکی تحریریں ہیں ۔۔
اردو ادب سے بیحد محبت کرتی ہیں ۔۔۔ فنون ۔۔ دبستان ادب ۔ بہار اردو اکیڈمی ۔ لالٹین ۔۔۔ اور دیگر جرائد میں آپکے افسانے پبلش ہو کر مقبول عام ہو چکے ۔۔۔ نوجوان طبقے میں چند گنے چنے ناموں میں سے ایک نام فارحہ ارشد کا ہے ۔۔ جسے سنجیدہ ادب میں ناقدین نے بہت سراہا ۔۔۔ اس سے قبل آپ شعاع اور خواتین ڈائجسٹ کیطرف سے پاپولر ناولز و فکشن لکھ چکیں ہیں ۔۔۔

تحریر۔۔ فارحہ ارشد
افسانہ ۔۔۔ گرہن گاتھا
سونے کے جھمکوں کی لاٹ جب اس کے رخساروں پہ پڑتی تو اس کے سامنے چاند بھی گہنا جاتا۔ شربتی انکھوں پہ کمان سی بھنویں اور لب ِ لعلیں کی ایسی خمدار بناوٹ جیسے ہر وقت مسکراتے ہوں۔ گالوں کے گڑھے اس مسکان کو اور بھی سندرتا بخشتے۔ جوانی کی آخری سیڑھی پہ بھی بدن ایسا کہ میں بھی دیکھ کر شرما جاتی۔ 
یہ میری پھپھو تھیں دادا کی لاڈلی۔ اور میرے باپ سمیت چار بھائیوں کی اکلوتی بہن، عجیب بھولی بھالی سی، ہر حکم پہ آمنا و صدقنا کہنے والی۔ ایسی غیر منطقی بات کرتیں کہ میرا ہنس ہنس کر برا حال ہو جاتا۔ ایک دن بولیں؛
"کرتوت کالے اس لیے ہوتے ہیں کہ یہ بھی کالے شہتوتوں کی طرح لذیذ ہہت ہوتے ہیں۔ " 
دادی جو ہر وقت دادا جی کے پاؤں دھلواتی رہتیں، میرے قہقہہ لگانے پہ سختی سے جھڑکتیں ، دادا کا سفید صافہ اٹھا کر ان کے اس اونچے چبوترے کی طرف بمشکل ہانپتے ہوئے لپکیں جہاں دادا نے جانے کتنے گھنٹے خود پر ڈونگے بھر بھر پانی ڈال کر خود کو پاک کیا تھا ۔ 
" پھپھو ۔ آپ مانو یا نہ۔ مگر دادا نے ضرور کوئی بڑا جرم کیا ہے علم نفسیات کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ " 
"چپ کر ۔ ساری باتیں کرنے والی نہیں ہوتیں۔ سن ۔ برتنوں کی آوازیں سن۔۔۔۔" اور ان کی ہمیشہ کی طرح کی ایسی غیر منطقی بات سن کر ضبط کے باوجود میرا قہقہہ امڈ پڑا ۔ دادی جانے کب سر پہ پہنچیں اور میرا منہ پکڑ کر جھنجھوڑ کر بولیں۔
 
"کڑیاں ایسے نہیں ہنستیں۔۔۔۔۔۔ " 
یہ روایتی جملہ سن سن کر میرے کان پک جاتے تھے۔
 " لیں ۔۔۔۔۔۔کڑیاں ایسے نہیں کرتیں، ویسے نہیں کرتیں۔۔۔۔۔ کڑیاں نہ ہوئیں بھیڑ بکریاں ہو گئیں جس سمت ہانکو ، بس سر نیہوڑائے چلتی جائیں۔۔۔۔ دادی آپ بس مجھے نہ ٹوکا کریں۔ مجھے پھپھو نہیں بننا۔ اتنی سوہنی بیٹی بوڑھی کر دی مگر۔۔۔۔۔۔" 
" جا، نی ۔۔۔۔ آ جاتی ہے سال بعد شہر سے چھٹیاں گذارنے اور اپنی عمر سے وڈی باتیں کرتی ہے۔ ہمارے فیصلوں پہ اعتراض ایسے کرتی ہے جیسے ہم سارے تو عقل کے کورے ہیں۔ خبردار جو اس کے بارے میں بات کی۔ " 
" کیوں نہ کروں؟ کوئی بات ہے بھلا۔ اتنے رشتےآ ئے ادھر ایک ہی رٹ ۔ اپنی برادری۔۔۔۔۔ اپنی ذات پات!" 
" تو زبان کو لگام دیتی ہے کہ نہیں۔ ہماری بیٹی ہے۔۔۔۔۔ ہم اس کے ویاہ کا جو بھی فیصلہ کریں۔ اور۔۔۔ کبھی تو نے اس کو بھی سنا بات کرتے؟۔۔۔ یا ناک بھوں چڑھاتے؟۔۔۔۔" 
"نہیں کہتیں نا اسی لیے اب ابروؤں کے بال بھی سفید ہونے لگے ہیں۔۔۔۔ حد ہے۔۔۔۔ اس زمانے میں اپنی برادری۔۔۔۔ ذات پات۔۔۔۔۔ ہونہہ! بس آپ ہی اعلیٰ نسل باقی سارے شوہدے اور کمی کمین۔۔۔۔ یہ آپ قدرت سے لڑ رہے ہیں اور قدرت بڑی سزا دیتی ہے ، یاد رکھیں۔" 
" ارے بند کر یہ نو گزی زبان ۔۔۔۔۔۔ " 
اس سے پہلے کہ میری بات پوری ہوتی دادی کی چپل میرے سر پہ آ لگی۔ میری زبان چاہے نو گزی کہلاتی یا سو گزی۔۔۔۔ اس بات پہ چٹکی کاٹنے سے میں بھی باز نہ آتی۔ 
"چل آ میرے ساتھ۔ " پھپھو میرا ہاتھ پکڑ کے اپنے کمرے میں لے آئیں۔
 مجھے پھپھو پہ ڈھیر سارا پیار آ گیا۔ کتنی گہری لگتی ہیں پھپھو۔۔۔۔۔ میں نے ان کی ڈھلتی عمر والے چاند سے چہرے کو تکتے ہوئے سوچا ۔
اس رات چاند گرہن کا لگنا اس حویلی کے باشندوں میں بھونچال لے آیا تھا ۔ ' دان پُن دا ویلا اے ' دادی کہتی جاتی تھیں اور بوریاں بھر بھر اناج غریبوں کے گھروں میں بھجواتی جا رہی تھیں۔ دادا دریا کا رُخ کر چکے تھے تاکہ چلتے پانی میں کھڑے ہو کر پکڑ میں آئے چاند کا عکس دیکھ کر اس کی مکتی کروا سکیں، ذکر اذکار کرکے اپنے گنا ہ بھی بخشوا سکیں۔ 
جوں جوں رات بڑھ رہی تھی ایک عجیب سے خوف کا ہالہ گاؤ ں سے دور اس تنہا حویلی پر چھاتا جا رہا تھا۔ 
" دادی یہ 'دان پُن دا ویلا' کیا ہوتا ہے؟"۔ 
" دان یعنی دان کرنا، دینا اور پُن یعنی نیکی۔ دان کرنے کا وقت۔۔۔۔ تُو سوچ اگر چاند جیسی ٓوڈی شے کی پکڑ ہو سکتی ہے تو بھلا بتاؤ انسان کیا چیز ہے۔۔۔۔ آزمائش ہے۔۔۔۔" دادی توبہ استغفار کرتی جاتی تھیں۔ 
جانے رات کا کون سا پہر تھا جب میری آنکھ کھلی ، پیاس سے حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ میں اٹھ کے باہر آئی تو چاند کے ارد گرد 'ڈائمنڈ رنگ' بن چکا تھا اور چاند کی مکتی شروع ہو چکی تھی۔ 
گھڑونجی پہ پڑا پیتل کا گلاس گھڑے کے ٹھنڈے پانی سے بھر کر ابھی میں نے ایک گھونٹ ہی بھرا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی نے خوفزدہ کردیا۔ ایک دم مڑ کر دیکھا۔ کتا زبان نکالے کھڑا ہانپ رہا تھا۔ خوف کے مارے میں نے گلاس اس کو دے مارا ۔ وہ بھونکا اور لنگڑاتا ہوا حویلی کی پچھلی جانب چلا گیا۔ 
'' نہ مارو ۔ کتا بھی انسان ہوتا ہے۔ '' نزدیک آتی پھپھو کی غیر منطقی بات پہ، اس سے پہلے کہ میرا قہقہہ نکلتا، میری نظر ان کے الٹے پائنچوں پہ پڑی۔
چاند جیسی۔۔۔۔۔۔ چاند گرہن۔۔۔۔۔۔ دان پن دا ویلا۔۔۔۔۔۔ دان۔۔۔۔۔۔ سب کے گناہوں کا دان ۔۔۔۔۔۔۔ لفظ میرے اردگرد ناچنے لگے
میں جو دوبارہ پانی ڈالنے کے لیے گھڑا الٹائے کھڑی تھی ۔ جانے کب وہ میرے ہاتھ سے چھوٹا اور زور سے میرے پاؤں پہ آ گرا ۔ تکلیف کی شدت سے میں بلک بلک کے رونے لگی۔۔۔۔ ختم شد
__________⭕⭕

نعتِ رسولؐ

مری زباں کو یہی ایک کام ہو جائے
یہ عمر ذکرِ نبیؐ میں تمام ہو جائے 

اگر ملے درِ اقدس پہ حاضری کا شرف
تو میرے آنسوؤں کی روک تھام ہو جائے 

مرے دنوں کو اجالے گی روشنی اُس کی
بسر جو ایک مدینے میں شام ہو جائے

کریں گے آپؐ شفاعت نصیب والوں کی
نصیب والوں میں میرا بھی نام ہو جائے

جسے سناتے ہوئے میں بہشت میں جاؤں
حضوؐر ایسا عطا اک کلام ہو جائے

ملے قضا تجھے ناموسِ مصطفیٰ پہ اگر
تو زندگی تری اکمل دوام ہو جائے

وہ پھر کسی بھی سکندر سے کم نہیں اکمل
جو شخص میرے نبی کا غلام ہو جائے

اکمل حنیف، لاہور پاکستان
_________
منور بدایونی
نعتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہیں اُس کو نواز دیں یہ درِحبیبﷺ کی بات ہے

جسے چاہا دَر پہ بُلالیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے

وہ خدا نہیں ، بخدا نہیں، مگر وہ خدا سے جُدا نہیں
وہ ہیں کیا مگر وہ کیا نہیں یہ محب حبیبﷺ کی بات ہے

وہ مَچل کے راہ میں رہ گئی ، یہ تڑپ کے دَ ر سے لپٹ گئی
وہ کِسی امیر کی آہ تھی، یہ کِسی غریب کی بات ہے

تُجھے اے منوّرِ بے نوا درِ شاہ سے چاہئیے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے.

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ، مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ فڑنویس نے دیا تحقیقات کا حکم* ...