٢ ستمبر ٢٠٢٥ زندہ دلان مالیگاؤں کے زیراہتمام اسکس لائبریری اور مالیگاوں آرٹس اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن کے اشتراک سے محفل طنز ومزاح (سلسلہ نمبر13) کا انعقاد مورخه ۲ ستمبر ۲۵ء بروز منگل شب دس بجکر دس منٹ پر اسکس لائبریری ہال میں ہوا۔ اس پروگرام کی صدارت محترم خان انعام الرحمن سر ( سابق پرنسپل) نے فرمائی ۔ پروگرام کی ابتداء پروگرام کے ناظم رضوان زبانی سر کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی۔ منصور اکبر (سیف نیوز ) نے "اسٹارٹر" کے طور پر دلچسب ادبی لطائف اور سلیمان خطیب کے مزاحیہ کلام سے سامعین کی تواضع کی اور سماں باندھ دیا۔ نیز انہوں نے زندہ دلان مالیگاؤں کے سیکریٹری بزرگ مزاحیہ شاعر محترم مختار پوسفی صاحب کی صحت کے لئے دعا کی درخواست کی۔ "تبرک" میں مالیکاوں کے معروف افسانہ نگار مرحوم سلطان سبحانی صاحب کا مختصر تعارف اور ان کی مزاحیہ کتاب "شاعری کی دکان" کے دلچسپ اقتباسات طارق اسلم سر نے بڑے ہی اچھے انداز میں سامعین کے گوش گزار کرتے ہوئے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ہزل گوئی میں مرحوم مالیگانوی ( شکیل بھارتی) اور سندر مالیگانوی (تقی حیدر) نے اپنے معیاری مزاحیہ کلام سے سامعین کو قہقہ لگانے پر مجبور کیا۔ بعد ازاں عارف حسین سر (منصورہ) نے اپنے طنزیہ و مزاحیہ مضمون "چمچے" اور نعیم سلیم سر نے "میرے گھر کے راستے میں کوئی راستہ نہیں ہے" پیش کر کے سامعین کو محظوظ کیا ۔ صدارتی خطبے میں خان انعام الرحمن سر نے طنز و مزاح کے فرق اور اس کے منفی و مثبت پہلو کو بڑے ہی منفرد انداز میں بیش کرتے ہوئے تمام قلمکاروں اور منتظمین کی ستائش کی۔ آخر میں محترم ظھیر قدسی نے پروگرام کی کامیابی پر تمام قلمکاروں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صدر کی اجازت سے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا ۔
ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشست نمبر 227 کامیابی سے ہمکنار
(٣٠ اگست ٢٠٢٥) اپنی کہانیوں، افسانوں اور تخلیقات سے قلمکار قلمی جہاد کا فریضہ انجام دے رہے ہیں نئی نسل کو بے راہ روی سے بچانے، غلط کاموں سے روکنے، غفلت سے بیدار کرنے، ان میں سچائی، ایمانداری اور اخلاقی اقدار جیسی خوبیوں کی نشوونما کے لئے قلمکار قلمی جہاد کر رہے ہیں اور ادارہ نثری ادب کا پلیٹ فارم ان کوششوں میں بہترین معاون ثابت ہو رہا ہے ان خیالات کا اظہار ادارہ نثری ادب کی ماہانہ ادبی نشست نمبر 227 میں معلم و ناظم نژادنو رضوان ربانی سر نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا-
آپ نے کہا کہ آج کی تینوں تخلیقات سماج و معاشرے کو شجر کاری کرنے، سچائی و ایمانداری اپنانے، نقل نویسی و اخلاقی گراوٹ سے پاک معاشرے کی تشکیل جیسے اہم و ضروری پیغام دے رہی ہیں-
نشست کا آغاز محترم عتیق شعبان سر کی تلاوت قرآن سے ہوا- ڈاکٹر مختار احمد انصاری صاحب نے" آشیانہ" عنوان سے کہانی، عزیز اعجاز سر نے "طمانچہ" عنوان سے افسانہ اور صابر گوہر صاحب نے "راکھ میں دبی چنگاری" عنوان سے اپنا افسانہ پیش کیا- تینوں تخلیقات پر عمران جمیل، ڈاکٹر مبین نذیر، شفیق محسن، زید حیدر، زاہدسر و عتیق شعبان سر نے سیر حاصل گفتگو کی خوبیوں و خامیوں کی نشاندہی کی اور مفید مشوروں سے بھی نوازا- جبکہ نشست میں مسعود رمضان پینٹر، الطاف کاتب، محمد سالک، عارف حسین منصورہ و دیگر اخیر تک موجود رہے نظامت کے فرائض عتیق شعبان سر نے انجام دیے- مکمل نشست ربانی د سکالر یوٹیوب چینل پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے -
*بہوجن سماج پارٹی کے شہری و ضلعی ذمہ داران و عہدیداران نے حضرت مولانا آصف شعبان صاحب کا استقبال کیا*
*مورخہ 5 ستمبر 2025 بروز جمعہ بعدِ نماز عشاء دفتر جمعیتِ علماء سلیمانی چوک پر بہوجن سماج پارٹی کے شہری و ضلعی ذمہ داران و عہدیداران کی آمد ہوئی اوّلاً انھوں نے نو منتخب شہری صدر حضرت مولانا آصف شعبان صاحب کا گلدستہ پیش کرکے استقبال کیا پھر 2008 مالیگاؤں بم بلاسٹ کے تمام ملزمين کے بری ہونے پر اپنی گہری تشویش اور چنتا کو ظاہر کرتے ہوئے ایڈوکیٹ رمیش نکم صاحب نے کہا کہ اس سے لوگوں کا عدلیہ پر سے اعتماد اُٹھ جائے گا، گزشتہ دنوں جب یہ فیصلہ آیا تو بہوجن سماج پارٹی کے کارکنان نے ایک احتجاجی میمورنڈم نائب تحصیلدار کودیا تھا اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں اس فیصلہ کو چیلنج کریں، کیونکہ سترہ سالوں تک یہ کیس چلا اور جب فیصلہ آیا تو مظلوموں کے خلاف، حالانکہ ریلوے بم بلاسٹ کے معاملے میں، حکومت چستی و پھرتی دکھاتے ہوئے فوراً سپریم کورٹ پہنچ جاتی ہے اور مالیگاؤں بم بلاسٹ کے ملزمین کے متعلق دوہرا رویہ اختیار کرتے ہوئے چُپی سادھ لیتی، یہ کیسا معیار ہے؟ اس لیے بہوجن سماج پارٹی کے کارکنان مظلومین کو انصاف دلانے کے لیے منظم لائحہ عمل اور مضبوط پیروی کے لیے آپ کے پاس آئیے ہیں، تاکہ اس فیصلہ کو اگلی عدالت میں چلینج کیا جائے، ماضی میں بھی ہم نے این آر سی، ٹرپل طلاق اور دستور مخالف قوانین کی پُر زور مخالفت کی تھی اِس وقت او بی سی، ایس سی، ایس ٹی اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ مل کر ایک دوسرے کے حقوق کی آواز بلند کرنا ہے مظلوموں کو انصاف دلانے اور اس کے طریقۂ فعالیت پر، چرچا کرنے، اور آپ بلا مقابلہ صدر منتخب ہوئے اس پر استقبال کرنے کے لیے ہماری آمد ہوئی، اسی طرح ہمارے ریاستی صدر بھی آپ سے ملاقات کے خواہاں ہیں حضرت مولانا آصف شعبان صاحب نے ان کی پوری گفتگو دلجمعی کے ساتھ سُنی، خوشی و مسرّت کا اظہار کرتے ہوئے، مظلومین کو انصاف ملے اور بھگوا دھاری ملازمین کو قانونی سزا ملے اس کی انتھک کوشش و کاوش کی بھرپور تائید کی اور ریاستی صدر سے اس بابت چرچا کرنے کے لیے ملاقات کی یقین دہانی کرائی اور اس فیصلہ کو اگلی علالت میں چلینج کرنے پر مکمل تائید کا اظہار بھی کیا،*
*اس موقع پر مولاناآصف شعبان صاحب، قاری اخلاق احمد، مفتی محمد اسلم جامعی، مولانا انیس احمد ملی، ظہیر قیصر، صابر شیخ کے علاوہ ایڈوکیٹ رمیش نکم، سنیل پوار، ظہور بھائی زمزم اسکول، شبیر بھائی، شکیل بھائی اور خلیل شاہ کے علاوہ دیگر حضرات موجود تھے،*
*معمارِ شہر آصِف شیخ رشید صاحب کے بدست سیمینٹ کانکریٹ روڈ کے عمدہ و معیاری تعمیری کام کا افتتاح*
*تعمیر و ترقی پسند سیاسی رہنما، قائدِ نَسلِ نَو عالیجناب آصِف شیخ رشید صاحب نے ساکنینِ جعفرنگر علاقہ کے نہایت اہم مسئلے کو حل کرتے ہوئے 80 لاکھ روپے تخمینہ سے جونا آگرہ روڈ جعفرنگر بابِ ارقم سے محمد علی روڈ حاجی محمد ہارون سیٹھ کپڑے والے کے مکان تک عمدہ و معیاری سیمینٹ کانکریٹ روڈ کے تعمیری کام کی منظوری حاصل کرکے تمام کاغذی کاروائی مکمل کرنے کے بعد 15 دن قبل تعمیری کام کا آغاز بھی کروا دیا تھاـ*
*کل بروز اتوار صبح 11 بجے جعفرنگر 60 فٹی سیمینٹ کانکریٹ روڈ کے عمدہ و معیاری تعمیری کام کا باوقار افتتاح معمارِ شہر آصِف شیخ رشید صاحب کریں گےـ لہٰذا ساکنانِ جعفرنگر، وارڈ نمبر 5 کے تمام خواہش مند امیدواروں اور اسلام پارٹی کے تمام ذمہ داران سے شرکت کی پُرخُلوص گزارش ہےـ*
*الداعیان :-*
*حاجی محمد اسماعیل مُلا* (سابق کارپوریٹر)
*عہدیداران و ذمہ داران اسلام پارٹی جعفرنگر*
*سوشل میـ I.S.L.A.M ـڈیا سیل*