بھارتی آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے جمعہ کو کہا کہ آپریشن سندھ 10 مئی کو ختم نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد بھی جاری رہا۔ لیکن عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ آپریشن 10 مئی کو ختم ہو گیا تھا۔انھوں نے یہ بیان دہلی کے مانیک شا سینٹر میں منعقدہ کتاب کی ریلیز کی تقریب میں دیا۔ انہوں نے ‘آپریشن سندور: دی ان ٹولڈ سٹوری آف انڈیاز ڈیپ سٹرائیکس انسائیڈ پاکستان’ کے نام سے ایک کتاب جاری کی۔ یہ کتاب سابق فوجی افسر اور مصنف لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلون (ریٹائرڈ) نے لکھی ہے۔
جنرل دویدی نے کہا کہ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جنگ 10 مئی کو ختم ہوئی تھی۔ نہیں، کیونکہ یہ ایک طویل عرصے تک جاری رہا، کیونکہ بہت سے فیصلے لینے تھے اور میں اس سے آگے کی چیزیں یہاں شیئر نہیں کر سکتا۔ 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے جواب میں آپریشن سندور شروع کیا گیا تھا، جس میں 26 لوگوں کی جانیں گئی تھیں۔ اس آپریشن کے تحت، ہندوستانی مسلح افواج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے کئی ڈھانچوں کو تباہ کردیا تھا۔
تاب کی ریلیز کے دوران جنرل دویدی نے کہا کہ اس کتاب میں ان پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے جو عام طور پر نہ سنے اور نہ کہے جاتے ہیں، کیونکہ فوجی اہلکار ان کے بارے میں کھل کر بات نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر اس طرح کی لڑائی کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہم اس کی مناسبت، جذبات، نقصانات، فائدے اور چیلنجز کو نہیں سمجھتے۔
جنرل دویدی نے بھارتی فوج کی کارروائی کو ایک تال کی لہر قرار دیا، جس میں 88 گھنٹوں کے اندر مکمل ہم آہنگی اور وضاحت کے ساتھ آپریشن کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فوج کو مکمل آزادی دی گئی تھی اور یہ آپریشن ا سٹریٹجک رہنمائی اور پوری قوم کے ویژن کی علامت ہے۔
آرمی چیف نے پاک بھارت سرحد پر مسلسل کشیدگی اور پاکستان کی طرف سے دراندازی کی کوششوں پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا، “ایل او سی پر آپریشن سندور کے اثرات
کا اندازہ لگانا بہت جلد بازی ہوگی ، کیونکہ یہ حال ہی میں ختم ہوا ہے۔ کیا ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے؟ مجھے ایسا نہیں لگتا، کیونکہ ایل او سی کے پار سے دراندازی کی کوششیں جاری ہیں۔” اس آپریشن کے دوران، ہندوستانی فوج نے پاکستانی میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب درست حملے کرتے ہوئے پاکستانی فضائی اڈوں اور ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا۔
مئی کو دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، لیکن جنرل دویدی نے واضح کیا کہ اس کے بعد بھی کئی اسٹریٹجک اقدامات کیے گئے تھے۔ یہ کتاب نہ صرف ایک فوجی آپریشن کی کہانی ہے بلکہ ہندوستانی فوج کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل جذبے کو بھی خراج تحسین پیش کرتی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے ایک بار پھر متوسط طبقے کے خاندانوں کو بڑی راحت دینے کے لیے ایک قدم اٹھایا ہے۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ جی ایس ٹی (گڈس اینڈ سروسز ٹیکس) میں کی گئی حالیہ اصلاحات کو ان لوگوں کے لیے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے ٹیکس ڈھانچے میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان تبدیلیوں سے نہ صرف عام خاندانوں پر معاشی بوجھ کم ہو گا بلکہ ملکی معیشت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی تیزی آئے گی۔
اشونی ویشنو نے مزید کہا کہ 2014 سے پہلے ملک میں ٹیکس کا نظام اتنا پیچیدہ تھا کہ ہر شے پر مختلف ٹیکس لگائے جاتے تھے۔ ایک عام خاندان کے لیے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ ملٹی لیول ٹیکس کا نظام عام آدمی اور بالخصوص متوسط طبقے کے لیے ایک بھاری بوجھ بن گیا تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد مودی حکومت نے ٹیکس اصلاحات کو ترجیح دی اور سب سے پہلے انکم ٹیکس کے ڈھانچے کو آسان بنا کر 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی والے متوسط طبقے کے خاندانوں کو ریلیف دیا۔ اب اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے جی ایس ٹی میں وسیع اصلاحات کی گئی ہیں۔
روٹی، کپڑا اور مکان پر ریلیف
مرکزی وزیر کے مطابق، حالیہ اصلاحات سے عام خاندان کی انتہائی ضروری ضروریات روٹی، کپڑا اور مکان سستی ہو جائیں گی۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء کے ساتھ ساتھ موبائل فون اور سولر پینلز جیسی الیکٹرانکس پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف صارفین کو ریلیف ملے گا بلکہ ماحول دوست مصنوعات کے استعمال کو بھی فروغ ملے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ راحت 22 ستمبر سے نافذ ہوگی جو کہ نوراتری کا پہلا دن بھی ہے۔ اسے علامتی طور پر ملک کے 140 کروڑ شہریوں کے لیے “نئی خوشی کی شروعات” کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ مرکزی وزارت خزانہ کے مطابق، یہ فیصلہ کروڑوں خاندانوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور استعمال کی صلاحیت کو بڑھانے کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔
معیشت پر اثرات
اشونی وشنو نے کہا کہ ہندوستان کی موجودہ جی ڈی پی 330 لاکھ کروڑ روپے ہے، جس میں سے 202 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق جی ایس ٹی اصلاحات سے کھپت میں 10فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک کی معیشت میں تقریباً 20 لاکھ کروڑ روپے کی اضافی کھپت شامل ہو جائے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کھپت میں اضافہ براہ راست روزگار پیدا کرنے اور صنعتی سرگرمیوں کا باعث بنے گا۔ اس کے مثبت اثرات پیداوار، خدمات اور تجارت جیسے مختلف شعبوں پر نظر آئیں گے۔
متوسط طبقے کو براہ راست ریلیف
وزیر اعظم مودی کی پالیسیوں کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کی ترجیح ہمیشہ متوسط طبقے کے خاندان رہے ہیں۔ انکم ٹیکس میں چھوٹ کے بعد، جی ایس ٹی اصلاحات نے اس کے عزم کو پھر سے مضبوط کیا۔ متوسط طبقہ (جسے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے) اب نسبتاً زیادہ خرچ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ مودی حکومت کا یہ قدم وزیر اعظم کے لال قلعہ سے کیے گئے وعدے کی یاد دلاتا ہے، جس میں انہوں نے ٹیکس نظام کو سادہ اور شفاف بنانے کی بات کی تھی۔ آج اس قرارداد کو جی ایس ٹی اصلاحات کے ذریعے پورا کیا گیا ہے۔
آگے کا راستہ
اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ جی ایس ٹی اصلاحات کے فوائد قلیل مدتی نہیں بلکہ طویل مدتی ہوں گے۔ کھپت میں اضافے سے صنعتوں کو تقویت ملے گی جس سے برآمدی صلاحیت بھی بڑھے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ روزگار میں اضافے سے دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں آمدنی کے مواقع پیدا ہوں گے۔ جی ایس ٹی اصلاحات کے بارے میں حکومت اسے متوسط طبقے اور عام خاندانوں کے لیے تحفہ قرار دے رہی ہے
آنے والی نوراتری سے لاگو ہونے والی یہ تبدیلی نہ صرف کروڑوں خاندانوں کے بجٹ کو راحت دے گی بلکہ ملک کی اقتصادی رفتار کو تیز کرنے کا کام کرے گی۔ پی ایم مودی کے اس قدم کو ان کی ٹیکس اصلاحات کی پالیسی کے اگلے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا براہ راست تعلق عوام کی زندگی اور ملک کی مجموعی ترقی سے ہے
بارہمولہ : 2ربیع الاول کی مناسبت سے نہال پورہ پٹن میں عبدالستار لون کے عرس مبارک کے موقع پر یومِ ستار بب نہایت ہی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر ان کی زیارتِ شریف پر پھول نچھاور کئے گئے اورعقیدت کی چادر چڑھائی گئی ۔ اجتماعی فاتحہ خوانی کا اہتمام بھی کیا گیا۔ درود واذکار کی محفل بھی آراستہ کی گئی ۔ اس موقعہ پر میر کارواں جناب لسہ بب نے امت مسلمہ کے لئے خصوصی دعائیں بھی مانگی۔
منعقدہ تقریب میں ستار بب کے کمالات اور کرامات کے حوالے سے عبدالاحد مانسبلی اور شیخ غلام رسول المعروف لسہ بب نے مفصل اور مدلل گفتگو کی ۔ محمد یوسف ملک جنرل سیکرٹری بزمِ شیرین نے پورے پروگرام کو نہایت ہی احسن طریقے سےمنعقد کروایا۔اعجاز احمد میر نے تمام میڈیا چنلز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے رول کو کافی سراہا۔آخر پر غلام رسول میر صاحب نے شکریہ کی باضابطہ تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیتِ کیمرہ مین طاہر احمد کی کارکردگی قابل تحسین ہے ۔
پروگرام میں بزمِ شیرین کے ممبران اور عام لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی اور اپنی عقیدت کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ تقریب میں خصوصی دعا کی گئی۔اس موقع پر لسہ بب نے کہاکہ عبدالستارلون نے اپنی پوری زندگی روحانی کمالات میں گزاری اور لوگوں کو دین اسلام کی طرف راغب کیا۔اور انہیں روحانی طریقت سے منور کیا۔
معروف شاعر خورشید خاموش نے کہاکہ اس عرص منانے سے عبدالستارلون کے کمالات اور ان کی خدمات کو یاد کیا جاتاہے اور وقت کی ضرورت ہے کہ ایسی روحانی شخصیات کو یاد کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ اعتقادات انسانی روح کی غذا فراہم کرتاہے۔ محمد یوسف نے کہاکہ ہر سال یہ عرس منایا جاتاہے اور نئی نسل کو ان بزرگ روحانی شخصیات کے کمالات سے روشناس کیا جاتاہے کہ اعتقاد برقرار رہے