جموں و کشمیر: ڈوڈہ ضلع میں انتظامیہ نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے اور ایم ایل اے مہراج ملک کو پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔ ریاست کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی موجودہ ایم ایل اے پر پی ایس اے لگایا گیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد علاقے کی سیاست اور عوام میں ہلچل مچ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مہراج ملک کے خلاف اب تک 18 ایف آئی آر درج کی جاچکی ہیں اور ان کا نام 10 ڈیلی ڈائری رپورٹس میں بھی شامل ہے۔ ڈوڈہ پولیس نے ایم ایل اے پر کئی مواقع پر ڈاکٹروں اور سرکاری افسران کے ساتھ بدسلوکی کا الزام لگایا۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے نوجوانوں کو اکسایا۔
پہلے حراست، پھر PSA کے تحت گرفتاری
شروع میں مہراج ملک کو ڈوڈہ پوسٹ آفس میں حراست میں رکھا گیا تھا۔ یہاں کسی بھی قسم کی ملاقات کی اجازت نہیں تھی۔ کچھ وقت بعد انتظامیہ نے باقاعدہ طور پر PSA کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں جیل بھیج دیا۔
PSA کیا ہے؟
پبلک سیفٹی ایکٹ یعنی PSA جموں و کشمیر کا ایک خصوصی قانون ہے۔ اسے 1978 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ کی حکومت نے متعارف کرایا تھا۔ ابتدا میں اس قانون کا مقصد جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور اسمگلنگ کو روکنا تھا، لیکن آہستہ آہستہ اسے قومی سلامتی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ اس قانون کے تحت حکومت کو کسی بھی شخص کو بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھنے کا حق حاصل ہے۔
پی ایس اے کے تحت اگر کسی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے تو اسے 2 سال تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ عام حالات میں حراست کی مدت تین ماہ سے بارہ ماہ تک ہوسکتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ گرفتاری کی وجہ فوری طور پر بتانا لازمی نہیں ہے جس سے انتظامیہ کو کافی قوت مل جاتی ہے۔
اس قانون کو متنازعہ کیوں سمجھا جاتا ہے؟
پبلک سیفٹی ایکٹ کو اکثر ‘سخت قانون’ کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو بغیر مقدمہ چلائے طویل عرصے تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ اس قانون کو سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے اور اختلاف رائے کی آوازوں کو دبانے کے لیے کئی بار استعمال کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی کئی بار پی ایس اے کے غلط استعمال پر سوالات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ اس قانون کو بہت سوچ سمجھ کر استعمال کیا جانا چاہئے کیونکہ اس میں من مانی کا بہت زیادہ امکان ہے۔
کن پر ہوا استعمال اور کیوں یہ معاملہ الگ ہے؟
جموں و کشمیر میں پی ایس اے اب تک علاحدگی پسند لیڈروں، پتھراؤ کرنے والوں اور ان لوگوں کے خلاف استعمال ہوتا رہا ہے جن پر امن و امان کو خراب کرنے کا الزام تھا۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے جب کسی موجودہ ایم ایل اے کو اس قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقدمہ قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع بھی بن گیا ہے۔
اترپردیش کے جھانسی ضلع کے بھوجلا گاؤں میں پیرکو سرعام ایک شخص کوگولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔اروند یادو جو اپنی بیوی سنگیتا کے ساتھ دوپہر کے وقت بائک پر بینک سے رقم نکالنے کے بعد قرض کی قسط جمع کرانے جا رہے تھے،انھیں حملہ آوروں نےگھیر لیا اور ان پر گولیاں برسائیں۔ چار گولیاں لگنے کے بعد اروند زمین پر گرپڑے اور ان کی بیوی سنگیتا لاش سے لپٹ کرزاروقطار رونے لگی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
یہ واقعہ جھانسیوہ سپری بازار تھانہ علاقہ کے بھوجلا گاؤں کا ہے۔ اروند یادو اپنی بیوی سنگیتا کے ساتھ بی کے ڈی کراسنگ کے قریب ایک بینک سے دو لاکھ روپے نکالنے گئے تھے۔ اس کے بعد وہ بھوجلا منڈی میں واقع ایس بی آئی بینک میں قرض کی قسط جمع کرنے جا رہے تھے۔ جیسے ہی وہ بھوجلا گاؤں کے قریب پہنچے، حملہ آور جو پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے، ان کی بائک کو گھیر لیا۔ اور اروند پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اورموقع سے فرار ہو گئے۔ گولیوں کی آواز سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔ اروند کو اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دے دیا۔
اروند کی بیوی کا الزام
سنگیتا نے ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا کہ حملہ آوروں نے اس کے شوہر کو قتل کرنے کے بعد اس کے پاس موجود دو لاکھ روپے بھی لوٹ لئے۔ تاہم بعد میں دی گئی شکایت میں لوٹ کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ سنگیتا نے گاؤں کے سابق سربراہ رنکو یادو اور اس کے خاندان پر قتل کا الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہحملہ آور پہلے ہی تاک میں بیٹھےتھے۔ گولیاں برسا کرحملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔
2019 کی رنجش سے جڑا معاملہ
پولیس کی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ اس قتل کے پیچھے 2019 کی پرانی رقابت ہوسکتی ہے۔ اسی سال، گاؤں کے اس وقت کے سربراہ رنکو یادو کے چچا منا یادو کو بھوجلا گاؤں میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں اروند یادو سمیت آٹھ لوگوں کو پولس نے گرفتار کیا تھا۔ اروند کو چار سال قبل ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی تی، لیکن مقدمہ ابھی تک عدالت میں زیر التوا ہے۔
اروند کے کزن ارجن یادو نے بتایا کہ منا یادو کے قتل کے بعد ان کے خاندان کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اروند کا بڑا بھائی نریش یادو منا یادو کے قتل کے اگلے دن لاپتہ ہوگیا تھا اور آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ ارجن نے اسے ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ قرار دیا۔
پولیس کی کارروائی
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) بی بی جی ٹی ایس مورتی نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں قتل کی وجہ پرانی رنجش معلوم ہوتی ہے۔ پولیس نے رنکو یادیو سمیت دیگر ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پولیس نے معاملے کی گہرائی سے تفتیش شروع کر دی ہے اور حملہ آوروں کو جلد پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔
*شمشاد مو بائیل پوائنٹ آگرہ روڈ پر ایک لڑکے کی ضرورت ہے کمپیوٹر کے جانكار اور ٹیلی،ایکسل کے تجربہ کار کو ترجیح دی جائیگی۔تنخواہ 13000 سے 15000 تک دی جائیگی۔*
*🏢 پتہ :- شـمشـاَد موبائیل پوائنٹ طیبہ ٹاور بیسمینٹ گھوڑے والا كمپاونڈ آگـرہ روڈ مالیگاؤں-*
*یاسین شمشاد 9326167000*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*نئی نئی آفرس اور اسكیم کے لیے اس لنک کے زریعے گروپ جوائن کریں۔*
*https://chat.whatsapp.com/ClctTTSxsLXEdXx47HKI8N*