Thursday, 4 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

سیلاب اورلینڈ سلائڈ پرسپریم کورٹ کا سخت موقف، ہماچل پردیش،جموں کشمیر،اتراکھنڈ اورپنجاب کوجاری کیا نوٹس ،مانگا جواب

سپریم کورٹ نے پنجاب اور جموں کشمیر سمیت کئی ریاستوں میں لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا ازخود نوٹس لیا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت اور این ڈی ایم اے یعنی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر کو نوٹس جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہماچل پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ اور جموں کشمیر جیسی ریاستوں میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی کی وجہ سے آفات آئی ہیں۔

سپریم کورٹ نے مختلف ریاستوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈ سے متعلق عرضیوں کو دو ہفتے بعد سماعت کے لیے درج کیا۔ سماعت کے دوران عدالت میں سالیسٹر جنرل تشارمہتا نے کہا کہ ہم نے قدرت سے اتنی چھیڑ چھاڑ کی ہے کہ اب وہ اس کا جواب دے رہی ہے۔

چیف جسٹس بی آر گاوائی اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے مرکزی وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کے ساتھ ساتھ ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، جموں کشمیر اور پنجاب کی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت اس عرضی پر سماعت کر رہی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی اس طرح کی آفات کی ایک بڑی وجہ ہے۔

سپریم کورٹ نے کیا تشویش کااظہار
بنچ نے انامیکا رانا کی طرف سے داخل کی گئی عرضی کو دو ہفتوں کے بعد سماعت کے لیے درج کیا ہےاور سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے اصلاحی اقدامات کو یقینی بنانے کو کہا۔ CJI نے کہا کہ ہم نے اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور پنجاب میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب دیکھے ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ سیلاب میں لکڑی کی ایک بڑی تعداد میں بہہ گئی ۔ پہلی نظر سے ایسا لگتا ہے کہ درختوں کو غیر قانونی طور پر کاٹا گیا ہے۔ اس لیے، جواب دہندگان کو نوٹس جاری کریں۔ دو ہفتوں میں جواب دیں۔
ایس جی تشار مہتا کی دلیل
اس کے ساتھ ہی سالیسٹر جنرل نے کہا کہ ہم نے فطرت کے ساتھ اس قدر چھیڑ چھاڑ کی ہے کہ اب وہ ہمیں اسی کا جواب دے رہی ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ میڈیا رپورٹس میں ہماچل سے بہتی ہوئی لکڑی کی بڑی تعداد کو دکھایا گیا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ ہم پنجاب کی تصویریں دیکھ رہے ہیں جہاں پورے کھیت اور گاؤں تباہ ہو چکے ہیں۔ ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن ضروری ہے۔ اس پر ایس جی تشار مہتا نے کہا کہ یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔
حماس غزہ میں جنگ بندی کے جامع معاہدے کے لیے تیار، لیکن اسرائیل اپنے موقف پرہے اڑا

غزہ میں اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔آج تاحال مختلف حملوں میں4بچوں سمیت9 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ بُدھ کےروز اسرائیلی بمباری میں 73 فلسطینی جاں بحق ہوئے تھے ۔اُن میں 43 صرف غزہ شہر میں مارے گئے تھے۔

اس بیچ،حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے جامع معاہدے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔حماس کا کہنا ہے کہ،غزہ کے انتظامی امور کے لیے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک آزاد قومی انتظامیہ کی تشکیل پروہ متفق ہے۔تنظیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔جس کے تحت اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کی متفقہ تعداد کے بدلے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی ، غزہ میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی افواج کا انخلا، غزہ پٹی میں تمام ضروری اشیاءکے داخلے کی اجازت دینے کے لیے کراسنگ کھولنےا، اور دوبارہ تعمیراتی عمل کا آغاز ہو گا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حماس نے گزشتہ روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ وہ غزہ میں ایک پائیدار اور مکمل جنگ بندی کے لیے تیار ہے، لیکن غیر مسلح ہونے کی شرط کو اس نے مسترد کردیا ۔اس کا کہنا ہے کہ یہ صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بعد ممکن ہو سکتا ہے۔

تاہم اسرائیل نے اس حماس کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنے پرانے مؤقف کو دہرایا ہے۔اسرائیلی وزیرِاعظم نیامن نیتن یاہو کے دفرسے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ صرف اسرائیلی کابینہ کی مقررکردہ شرائط پر رک سکتی ہے ۔ان میں تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی اور حماس کا مکمل طورپر غیر مسلح ہونا شامل ہے۔

اس بیچ اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حماس نے شرائط تسلیم نہ کیں تو غزہ شہر کی حالت رفح اور بیت حنون جیسی کر دی جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حماس اب بھی دھوکے اور کھوکھلے بیانات کا سہارا لے رہی ہے۔ کاٹز نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل کی شرائط واضح ہیں ۔ تمام یرغمالیوں کی رہائی اور حماس کو غیر مسلح کرنا ہے۔
ادھر،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو صورتحال تیزی سے بدل جائے گی،مانا جاتا رہا ہےکہ غزہ میں اس وقت 48 یرغمالی موجود ہیں، جن میں سے صرف 20 کے زندہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک پر لکھا کہ حماس کو فوری طور پر تمام 20 یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا۔ جیسے ہی ایسا ہو گا حالات تیزی سے بدلیں گے اور یہ جنگ ختم ہو جائے گی۔
ہریانہ کے گروگرام میں ٹیمپو کی ٹکر کے بعدوبال، دو گروپوں کے بیچ جھڑپ،پتھراؤ، 6 افراد زخمی

ہریانہ کے گروگرام ضلع میں دو گروپوں کے بیچ ہوئی جھڑپ میں 6 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔علاقے میں کشیدگی ہے۔جھڑپ کے بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھادی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق، معاملہ گروگرام کے سوہنا کے جاکھوپور گاؤں کا ہے۔ یہاں معمولی جھگڑےنے کچھ ہی دیر بعد فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کرلیا۔

دراصل ، بدھ کی رات دیر گئے ایک ٹیمپو نے ایک نوجوان کو ٹکر مار دی جو ڈیلیوری لینے آیا تھا۔ پھر جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ دونوں فریق آمنے سامنے آگئے ۔ اس دوران پتھراؤ ہوا اور ٹیمپو ڈرائیور نے غصے میں آکر ٹیمپو کو ہجوم پر چڑھا دیا ۔

دیررات کسی ضروری چیزکادیا گیا تھا آرڈر
جاکھوپور کے رہنے والے شیوم نے بتایا کہ اس نے رات گئے کچھ ضروری سامان منگوایا تھا اور ایک نوجوان اسے پہنچانے آیا تھا۔ اسی دوران ، ایک تیز رفتار ٹیمپو ڈرائیور نے ڈلیوری بوائےکو ٹکر مار دی۔ ڈلیوری بوائے نے احتجاج کیا تو ٹیمپو ڈرائیور نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ نوجوان کے اہل خانہ کو واقعہ کی اطلاع ملتے ہی وہ بھی موقع پر پہنچ گئے جس کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ اس کے بعد ٹیمپو ڈرائیور نے غصے میں آکر اپنی گاڑی سامنے کھڑے لوگوں پر چڑھا دی جس کی وجہ سے کچھ لوگ زخمی ہوگئے۔

ٹیمپو ڈرائیور نے 50-60 لوگوں کو بلایا
اس کے بعد ٹیمپو ڈرائیور نے تقریباً 50-60 لوگوں کو بلایا اور دونوں فریقوں کے درمیان زبردست پتھراؤ شروع ہو گیا جو تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا۔ اس پرتشدد جھڑپ میں چھ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک نوجوان کے تین دانت ٹوٹ گئے ہیں۔ زخمیوں کو پہلے سوہنا کے سول اسپتال لے جایا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد ان سبھی کو گڑگاؤں کے ایک بڑے اسپتال میں ریفر کردیا گیا۔

سوالوں کے گھیرے میں پولیس
مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ واقعے کے دوران پولیس کو بار بار کال کرنے کے باوجود پولیس تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد ہی موقع پر پہنچی جس کی وجہ سے لوگ انتظامیہ سے سخت ناراض ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس بروقت پہنچ جاتی تو حالات اتنے سنگین نہ ہوتے۔
انتظامیہ کی کارروائی
معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے جاکھوپور گاؤں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ اے سی پی جتیندر کمار نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہی ہے۔ ذمہ داروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ پولیس گاؤں میں امن برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح چوکس ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی 2.6 ارب ڈالر فنڈنگ بحال، جج نے ٹرمپ کی کٹوتی رد کردی

ہارورڈ یونیورسٹی کیلئے بڑی کامیابی : جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گرانٹس میں کٹوتی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا

بوسٹن : ایک وفاقی جج نے بدھ کے روز ہارورڈ یونیورسٹی کے حق میں ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے اُس اقدام کو مسترد کر دیا جس کے تحت ادارے کے لیے 2.6 ارب ڈالر سے زیادہ کی تحقیقی فنڈنگ میں کٹوتی کی گئی تھی۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج ایلیسن بوروغز(Allison Burroughs) نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ کٹوتیاں غیر قانونی انتقامی کارروائی کے مترادف تھیں کیونکہ ہارورڈ نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے گورننس اور پالیسیوں میں تبدیلی کے مطالبات کو مسترد کر دیا تھا۔

یہ فیصلہ ہارورڈ کے لیے ایک بڑی جیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نہ صرف یونیورسٹی کی فنڈنگ روکنا چاہتی تھی بلکہ اس کے غیر ملکی طلبہ کی میزبانی پر بھی قدغن لگانے اور ادارے کی ٹیکس فری حیثیت کو ختم کرنے کی دھمکیاں دے رہی تھی۔

انتقامی کارروائی اور ’’یہودی دشمنی‘‘ کا بہانہ
ٹرمپ انتظامیہ نے الزام لگایا تھا کہ ہارورڈ کیمپس پر یہودی مخالف رویے (antisemitism) کو روکنے میں ناکام رہا ہے، اسی لیے گرانٹس منجمد کی جا رہی ہیں۔ لیکن جج بوروغز نے قرار دیا کہ وفاقی تحقیقاتی فنڈنگ کا یہودی دشمنی سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا:
’’ریکارڈ کا جائزہ لینے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ ملزمان نے یہودی دشمنی کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا تاکہ اس ملک کی نمایاں ترین یونیورسٹیوں پر نظریاتی حملہ کیا جا سکے۔‘‘

ابتدائی طور پر یہ فنڈز منجمد کیے گئے تھے لیکن بعد میں براہِ راست کٹوتی میں تبدیل کر دیے گئے۔ اگر یہ فیصلہ قائم رہتا ہے تو ہارورڈ کے درجنوں تحقیقی منصوبوں کو دوبارہ زندگی ملے گی جو وفاقی فنڈنگ کے خاتمے کے باعث متاثر ہوئے تھے۔

حکومت اور ہارورڈ کے درمیان مذاکرات
عدالت کے باہر بھی ہارورڈ اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان ایک ممکنہ معاہدے پر بات ہو رہی تھی تاکہ تحقیقات ختم کی جا سکیں اور وفاقی فنڈنگ دوبارہ شروع ہو سکے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہارورڈ کو کم از کم 500 ملین ڈالر ادا کرنے چاہئیں، لیکن کولمبیا اور براؤن یونیورسٹیوں کے ساتھ معاہدے ہونے کے باوجود ہارورڈ کے ساتھ کوئی ڈیل طے نہ ہو سکی۔

ہارورڈ کا موقف ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ سب کچھ اس وقت شروع کیا جب اپریل 2020 میں وفاقی اینٹی سیمیٹزم ٹاسک فورس نے ایک خط کے ذریعے سخت مطالبات کیے تھے، جن میں داخلہ پالیسیوں، احتجاجات اور تدریسی شعبوں میں تبدیلیاں شامل تھیں۔ اسی دن انتظامیہ نے 2.2 ارب ڈالر کی تحقیقی فنڈنگ کو منجمد کرنے کا اعلان کیا۔ بعد ازاں تعلیمی سیکریٹری لنڈا میکموہن نے اعلان کیا کہ ہارورڈ نئے گرانٹس کے لیے اہل نہیں رہا، اور کچھ ہی ہفتوں بعد ادارے کے ساتھ حکومتی معاہدے منسوخ کر دیے گئے۔

ہارورڈ نے کچھ تحقیقی منصوبوں کو اپنی فنڈنگ سے جاری رکھنے کی کوشش کی، لیکن انتظامیہ نے خبردار کیا تھا کہ وفاقی کٹوتیوں کا مکمل بوجھ برداشت کرنا ناممکن ہے۔

ہارورڈ کی قانونی حکمت عملی
ہارورڈ نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ ان کٹوتیوں کو غیر قانونی قرار دے کر مستقبل میں بھی ان جیسے اقدامات کو روکا جائے۔ ہارورڈ کے صدر ایلن گاربر نے کہا:
’’ہم یہودی دشمنی کے خلاف لڑنے کے لیے پرعزم ہیں، لیکن کوئی بھی حکومت یہ تعین نہیں کر سکتی کہ نجی جامعات کیا پڑھائیں، کسے داخلہ دیں، کسے ملازمت دیں اور کن تحقیقی شعبوں کو آگے بڑھائیں۔‘‘

ٹرمپ انتظامیہ نے ان الزامات کو رد کیا اور موقف اختیار کیا کہ گرانٹس پر نظرثانی پہلے ہی جاری تھی۔ انتظامیہ نے کہا کہ پالیسی کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے اداروں کو فنڈ نہ دے جو یہودی دشمنی کو سنجیدگی سے نہ لیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اور ہارورڈ آمنے سامنے آئے ہوں۔ اس سے پہلے بھی ایک مقدمے میں جج بوروغز نے ٹرمپ حکومت کو غیر ملکی طلبہ پر پابندی لگانے سے روکا تھا۔ اب فنڈنگ کے معاملے پر بھی عدالت نے ہارورڈ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، تاہم انتظامیہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ، مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ فڑنویس نے دیا تحقیقات کا حکم* ...