کیا اویسی برادران صرف منافع کمانے کیلئے مالیگاؤں آتے ہیں؟ صابر گوہر
سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کے نام سے زمین خریدنے کے باوجود مجلس کے ایم ایل اے سمیت مقامی ذمہ داران نے کوئی پیش رفت نہیں کی۔
مالیگاؤں (پریس ریلیز) 2، ستمبر بروز منگل کو مالیگاؤں سے شائع ہونیوالے روزنامہ ڈسپلن کے جلد نمبر 26، شمارہ نمبر 28 کے چوتھے صفحہ پر ایڈووکیٹ نعیم ایم شریف کی معرفت ٹائٹل ویریفکیشن شائع ہوا جس میں سنگمیشور شیوار کے باغ محمود نامی علاقہ میں گٹ نمبر 91 میں 0.8140 میں سے 0.40 ہیکٹر آر رقبہ کی ملکیت 7/12 اتارے پر سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین اکبرالدین اویسی کی جانب سے مذکورہ ٹرسٹ کے ڈائریکٹر صابر بن تاب ابن احمد تاب (رہائش رمنیش پورہ بہادر پورہ حیدرآباد) اس ملکیت کیلئے نوٹس جاری کی گئی۔ اس ضمن میں انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر (ا. س. ل. ا. م.) پارٹی کی جانب سے صابر گوہر نے پریس کانفرنس منعقد کرتے ہوئے بتلایا کہ مجلس اتحادالمسلمین 2014 سے مالیگاؤں شہر میں وارد ہوئی اور انہوں نے سابق میئر عبدالملک کو اسمبلی کیلئے پہلی امیدواری دی۔ اسی وقت اویسی برادران نے حیدرآباد میں اویسی ہاسپٹل اور پرائمری اسکول سے لیکر جونیئر و سینیئر کالج سمیت میڈیکل کالج جاری رہنے کے حوالے سے مالیگاؤں میں بھی اس خدمت کو شروع کرنے کا جھانسہ دیا۔ صابر گوہر نے بتلایا کہ سابق میئر عبدالملک کو مالیگاؤں سینٹرل سے امیدواری دی گئی تھی لیکن اپریل 2015 میں سینٹرل کی بجائے مالیگاؤں آؤٹر علاقہ کے سنگمیشور شیوار میں باغ محمود گٹ نمبر 91 کی 0.40 ہیکٹر آر کی جگہ خریدی گئی اور خوب واویلا مچایا گیا کہ مالیگاؤں شہر کی غریب عوام کے لئے اویسی برادران نے ہاسپٹل اور کالج کیلئے زمین خرید لی ہے اور اب حیدرآباد طرز پر مالیگاؤں میں بھی خدمات انجام دی جائے گی۔ اس حوالے سے سابق میئر عبدالملک نے تلنگانہ کے نظام آباد ضلع کے کسی گاؤں میں انتخابی تشہیر کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اویسی برادران نے میرے مالیگاؤں شہر میں اپنے ڈاتی اخراجات سے ہاسپٹل اور کالج جاری کردیا ہے۔ (سابق میئر کی تقریر یوٹیوب پر موجود ہے) شہر کی عوام اس بات سے واقف ہیں کہ موصوف سراسر جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لے رہے ہیں۔
صابر گوہر نے یاد دلایا کہ 2017 میں جس وقت مفتی اسمٰعیل کو مجلس اتحادالمسلمین سے امیدواری دی گئی تھی تب شہر کی عوام مفتی اسمٰعیل پر بھروسہ نہیں کررہے تھے مجلس کے صدر اسدالدین اویسی نے مفتی اسمٰعیل کی گارنٹی لیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ مفتی اسمٰعیل کو نہیں مجھے دیکھ کر ووٹ دیں۔ میں ہر مہینے دو مہینے پر مالیگاؤں آکر ان سے حساب لوں گا لیکن موصوف گدھے کے سر سے سینگ کی مانند پورے پانچ سال غائب رہے۔ سابق میئر عبدالملک مقامی مجلس کے صدر، ڈاکٹر خالد پرویز شمالی مہاراشٹر کے صدر اور عبدالماجد شیخ یونس مجلس کے یوتھ آئیکون ہونے کے باوجود ان دس برسوں میں نہ تو مجلسی ایم ایل اے اور نہ ہی مجلس کے عہدیداران نے اویسی برادران سے باغ محمود میں خریدی گئی زمین پر اپنے وعدے کے مطابق ہاسپٹل اور کالج کے قیام کا کوئی مطالبہ تک نہیں کیا۔ صابر گوہر نے کہا کہ یہ مالیگاؤں شہر کی عوام کیساتھ دھوکہ ہے۔ اب جبکہ ان دس سالوں میں اس زمین کی قیمت بڑھ گئی ہے تو کیا اویسی برادران صرف منافع کمانے کیلئے مالیگاؤں آتے ہیں؟ صابر گوہر نے سوال کیا کہ مالیگاؤں کی عوام کو ایک ہی بل سے کتنی بار ڈسا جائیگا؟ اور ہم کب تک ان کے جھانسے میں آتے رہیں گے انہوں نے کہا کہ مفتی اسمٰعیل مالیگاؤں کی انصاری برادری اور بنکروں کو اپنا ووٹ بینک کہتے ہیں لیکن جو شخص ایک بنکر سرکل کیلئے دریگاؤں شیوار میں شانداد افتتاحی تقریب کے ذریعہ کدال مارنے، فنڈ مہیا ہوجانے کے باوجود بنکر سرکل نہیں بنا سکتا تو پھر ایسے ایم ایل اے سے مزید کوئی امید رکھنا فضول ہے۔
نئی دہلی۔ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر سے متعلق کئی فرضی خبریں اور پرانے ویڈیوز وائرل ہو رہے ہیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق مسعود اظہر کو آپریشن سندورکے بعد محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے۔ حالانکہ اپنی حفاظت کو لے کر فکر مند مسعود اظہر جان بوجھ کر عوام میں نظر نہیں آرہا ہے۔ ہندوستان کے آپریشن سندور کے دوران جتنے بھی دہشت گرد گروپوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں سب سے زیادہ نقصان جیش محمد کو پہنچا۔
جیش محمد کی طاقت کی علامت بننے والی سب سے بڑی ڈھانچہ جو کہ بہاولپور کا ہیڈ کوارٹر تھا، اس قدر بری طرح متاثر ہوا کہ اب اس کا کوئی وجود نہیں۔ اس حملے سے تنظیم کے غرور کو ٹھیس پہنچی ہے، اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان میں ہندوستانی مسلح افواج کی پہنچ سے باہر کچھ نہیں ہے۔
تاہم اظہر کے اتنے مایوس ہونے کی سب سے بڑی وجہ ذاتی نقصان ہے۔ پہلگام حملے کا بدلہ لینے کے لیے کیے گئے حملے میں اظہر نے اپنے خاندان کے دس افراد کو کھو دیا۔ اس لیے انٹیلی جنس ایجنسیوں کا تجزیہ یہ ہے کہ اسے اپنے کارکنوں سے زیادہ ذاتی نقصان سے تکلیف ہوئی۔
آپریشن کے بعد اظہر نے بتایا کہ اس کے خاندان کے دس افراد اور اس کے چار ساتھی مارے گئے۔ یہ لوگ بہاولپور کی جامع مسجد سبحان اللہ میں موجود تھے جو جیش محمد کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ اظہر کے حوالے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں پانچ معصوم بچے، اس کی بڑی بہن اور اس کا شوہر مارے گئے۔ اگرچہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں نہ تو پچھتاوا ہے اور نہ ہی مایوسی، لیکن یہ بیان حقیقت سے بہت دور ہے۔ اظہر سے رابطے کی کمی نے ان کے کارکنان اور تنظیم کے دیگر ارکان کو پریشان کر دیا ہے۔ ان پیشرفتوں کی وجہ سے بھرتیوں میں زبردست کمی آئی ہے۔ جیش محمد کے پاس اس وقت اظہر کی جگہ لینے والا کوئی نہیں ہے۔
تنظیم کی پوری قیادت اپنے کارکنوں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اظہر محفوظ جگہ پر ہے اور جلد سامنے آئے گا۔ کارکنوں کو قائل کرنے کے لیے قیادت اظہر کی پرانی ویڈیوز اور تقریریں گردش کر رہی ہے اور انہیں نئے بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کارکن بار بار پوچھ رہے ہیں کہ اسے عوام میں کیوں نہیں دیکھا جاتا، جبکہ وہ سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دے رہے ہیں۔
آئی ایس آئی نے پہلے بھی اسے افغانستان بھیجنے کی کوشش کی تھی، لیکن یہ تجویز بہت خطرناک معلوم ہوئی۔ اس کے علاوہ آئی ایس آئی اور طالبان کے درمیان اس وقت اچھے تعلقات نہیں ہیں کیونکہ آئی ایس آئی نے طالبان پر تحریک طالبان کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ اس کے بعد آئی ایس آئی نے اسے فوج کے زیر نگرانی علاقے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ وہ پاک فوج کی نگرانی میں راولپنڈی میں ہے۔ جب یہ دعویٰ کیا گیا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ہے تو اسے اسی جگہ کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ گردوں کی خرابی کے بعد اسے دوبارہ راولپنڈی لے جایا گیا۔
جیش محمد پر کڑی نظر رکھنے والے سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اظہر واپسی کرے گا، لیکن اس بار اس میں زیادہ وقت لگے گا ۔ پاک فوج اور آئی ایس آئی ان کی حفاظت جاری رکھیں گے کیونکہ وہ اب بھی ان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ اظہر کے بغیر جیش محمد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ وہ لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کے بعد ان کا سب سے طاقتور نمائندہ ہے اور آئی ایس آئی انہیں کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہے گی۔ فی الحال وہ فوج اور آئی ایس آئی کی حفاظت میں ہے۔ بھارتی ایجنسیاں اس پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں کوئی شک نہیں کہ وہ جلد یا بدیر دوبارہ سرگرم ہو جائے گا۔
پٹنہ: بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی (SIR) کو لے کر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جویمالیہ باغچی کی بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ بہار کے ایس آئی آر عمل کے دوران، آدھار کارڈ کو ووٹروں کی شناخت کے لیے “12واں دستاویز” مانا جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آدھار کو شہریت کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ اپنے عہدیداروں کو آدھار سے متعلق واضح رہنما خطوط جاری کرے۔
آج کی سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے ایک بار پھر آدھار کارڈ کو ایک درست دستاویز ماننے کا مطالبہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ شہریت ثابت کرنے کے لیے فی الحال 11 دستاویزات کو قبول کیا جاتا ہے، لیکن اس میں آدھار کو بھی شامل کیا جانا چاہیے
کپل سبل کے دلائل
سینئر وکیل کپل سبل نے دلیل دی کہ عدالت کے تین احکامات پہلے سے موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ آدھار کو قبول کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل او نے خود کہا ہے کہ آدھار کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، جبکہ اسے 12ویں دستاویز کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی وکیل دویدی نے کہا کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ اور قانون کے مطابق آدھار کو قبول کر رہا ہے، لیکن اسے شہریت کا ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔ اس پر عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آدھار شہریت کا ثبوت نہیں ہے، لیکن اسے راشن کارڈ اور ای پی آئی سی جیسے دستاویز کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے سبل سے پوچھا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ آدھار کو شہریت کا ثبوت مانا جائے؟ اس پر سبل نے جواب دیا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آدھار کو دستاویز کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہئے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہریت کا تعین BLO (بلاک لیول آفیسر) کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔
الیکشن کمیشن کا موقف
الیکشن کمیشن نے عدالت میں ایک نوٹ پیش کیا ہے، جس میں اس نے کہا ہے کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں شامل 7.24 کروڑ ووٹرز میں سے 99.5 فیصد نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران اپنی اہلیت کے دستاویزات جمع کرائے ہیں۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ باغچی کی بنچ آج الیکشن کمیشن کے اس جواب پر عرضی گزاروں کے جواب پر غور کرے گی۔
پچھلی سماعت میں کیا ہوا؟
آخری سماعت 22 اگست کو ہوئی تھی، جہاں عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ جن ووٹرز کو ڈرافٹ لسٹ سے باہر رکھا گیا ہے۔ وہ آن لائن اور جسمانی ذرائع سے اپنے اعتراضات اور دعوے جمع کرا سکتے ہیں۔ اس کے بعد یکم ستمبر کو الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا تھا کہ ایس آئی آر کے تحت دعوے اور اعتراضات یکم ستمبر کے بعد بھی داخل کیے جاسکتے ہیں لیکن حتمی ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد ہی ان پر غور کیا جائے گا۔