اورنگ آباد ہی نہیں بلکہ پوری ادبی دنیا آج سوگوار ہے۔
*شہرِ سخن کے مایہ ناز شاعر، خوش آہنگ ترنم اور انوکھے لب و لہجے کے شاعرِ باکمال جناب قمر اعجاز صاحب اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے۔*
ان کا ترنم، ان کا مشاعروں میں کلام پڑھنے کا دلنشین اور منفرد انداز سننے والوں کو مسحور کر دیتا تھا۔ ان کی آواز اور ان کے اشعار نے محفلوں کو روشنی بخشی اور دلوں کو چھوا۔ ان کی رحلت نے نہ صرف اورنگ آباد بلکہ دنیا بھر کی ادبی محفلوں کو ایک ایسا خلا دیا ہے جو مدتوں پُر نہ ہو سکے گا۔
نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ عشاء جامع مسجد بڈی لین، اورنگ آباد میں ادا کی جائے گی، اور تدفین چیتا خانہ قبرستان میں عمل میں آئے گی۔
اللہ رب العزت مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
جموں کشمیرکے سیلاب متاثرین کے لیے نیوز18 جے کے ایل ایچ کی خصوصی مہم ، حکومت تک پہنچے گی متاثرین کی آواز
بارش اور سیلاب سے مرکز کےزیرانتظام علاقےجموں کشمیرمیں بھاری تباہی ہوئی ہے۔ بادل پھٹنے،لینڈ سلائڈنگ اوربارش سے جڑے مختلف حادثات میں متعددہلاکتیں ہوئیں ہیں۔
کئ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔گھروں، مویشیوں کے شیلٹر س بھی تباہ ہوئے ہیں ۔ فصلوں اور زرعی اراضی کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے ۔
کاشت کار،باغبان اورزرعی شعبے سے وابستہ افراد پریشان ہیں ۔
متاثرین کی آواز ارباب اقتدارتک پہنچانے کی نیوز18 جے کے ایل ایچ نے مہم شروع کی ہے۔
اگر آپ بھی سیلاب متاثرہ ہیں اوراپنی بات NEWS18 JKLH کےتوسط حکومت تک پہنچانا چاہتے ہیں تو ہمیں فون کال ،میسیج اور وائس ایپ کریں ۔ہیلپ لائن نمبر 8588807143ہے۔
ملک کے 17ویں نائب صدر کے لیے ووٹنگ کاعمل جاری ہے۔پرائم منسٹرنریندرمودی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے اور سب سے پہلے اپنا ووٹ ڈالا۔ اس الیکشن میں این ڈی اے کے سی پی رادھا کرشنن اور انڈیا الائنس کے امیدوار بی سدرشن ریڈی کے درمیان مقابلہ ہے۔کانگریس صدرملیکارجن کھرگے،سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے بھی نائب صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے۔
نائب صدر کے انتخاب میں نمبر گیم کی بات کریں تو اس معاملے میں این ڈی اے کو سبقت حاصل ہے۔ جبکہ دوسری طرف انڈیا الائنس کراس ووٹنگ کی امیدلگائے بیٹھا ہے۔ ایک اہم بات آپ کو بتاتے چلیں کہ نائب صدر کے انتخاب کے لیے کوئی انتخابی نشان نہیں ہوتا اور پارٹیاں اس کے لیے وہپ جاری نہیں کرتیں۔ ایسے میں کوئی بھی شخص کسی بھی امیدوار کو ووٹ دینے کے لیے آزاد ہے۔ اور درست ووٹ نتائج میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں
اس الیکشن میں تین پارٹیاں ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گی۔ اوڈیشہ سے نوین پٹنائک کی پارٹی بی جے ڈی، پنجاب سے شرومنی اکالی دل اور تلنگانہ سے چندر شیکھر راؤ کی پارٹی بی آر ایس نے نائب صدر کے انتخاب سے دور رہنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک اور اہم بات، اے آئی ایم آئی ایم اور عام آدمی پارٹی نے انڈیا الائنس کے امیدوار کی حمایت کی ہے، جب کہ وائی ایس آر سی پی نے این ڈی اے کے امیدوار کی تائید کی بات کہی ہے۔
ویسے تو آج تک صرف چار ایسے مواقع آئے ہیں جب نائب صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ نہیں ہوئی اور نائب صدر بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے۔ آج کا دن اس لیے بھی اہم ہے کہ راہل گاندھی مسلسل پی ایم نریندر مودی پر حملے کررہےہیں اور بہار انتخابات اور ایس آئی آر کو لے کر دونوں سیاسی اتحاد کے بیچ ٹھنی ہوئی ہے۔
ششی تھرورنے کہی کانگریس کو چبھنے والی بات
پارلیمنٹ ہاؤس میں نائب صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ اس کے بارے میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے ایک بار پھر ایسی بات کہی جو پارٹی لائن سے ہٹ کرتھی جب کہ کانگریس کے کئی لیڈر ،انڈیا بلاک کے امیدوار سدرشن ریڈی کی جیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ششی تھرور نے کہا کہ یہ ایک اہم الیکشن ہے، لیکن لوگوں کو پہلے سے ہی اندازہ ہے کہ این ڈی اے کے پاس ہم سے زیادہ ووٹ ہیں
جے رام رمیش نے دھنکھرکی خاموشی پر اٹھائے سوال
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے ایک بار پھر سابق نائب صدر جگدیپ دھنکھر کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جگدیپ دھنکھر نے گزشتہ 50 دنوں سے غیر متوقع خاموشی برقرار رکھی ہے۔ آج ان کے جانشین کے لیے انتخاب ہورہا ہے، ملک ابھی تک ان کے تاریخی اور غیر متوقع استعفیٰ پر کسی بیان کا انتظار کر رہا ہے۔ جگدیپ دھنکھر نے نائب صدر کے عہدے سے اس وقت استعفیٰ دیا جب انہوں نے مودی حکومت کی جانب سے کسانوں کو نظر انداز کرنے، اقتدار میں رہنے والوں کے ’تکبر‘سے پیدا ہونے والے خطرات اور دیگر مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔