Monday, 8 September 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

بھاگوت آر ایس ایس اور بھارت کے مسلمان 
تکلف برطرف : سعید حمید
 
آر ایس ایس چیف بی جے پی راج میں جو بھی تقاریر کرتے رہے ہیں ، کر رہے ہیں ، 
جو بیان دیتے رہے ہیں ، دے رہے ہیں ، 
جو انٹریوز دیتے رہے ہیں ، دے رہے ہیں ، وہ محض سنگھی پبلک ریلیشنز اور پروپگنڈہ کا حصہ ہے ، زمینی سطح پر اس کی کوئی سچائی نہیں ہے اور نا ہی اس کی عملی شکل ، زمینی سطح پر بھارت میں کہیں نظر آتی ہے ، 
اسلئے یہ سمجھا جاتا ہے کہ سنگھی طاقتیں ، ان کی فرنٹ تنظیمیں مثلا ً بجرنگ دل ، وی ایچ پی ، گئو رکشا دل ، گئو رکشا سمیتی اور دیگر متعدد تنظیمیں جن کا بظاہر آر ایس ایس سے کوئی تعلق نہیں ، لیکن جنہیں آر ایس ایس ، بی جے پی سے مکمل سپورٹ ملتا ہے ، مثلاً مہاراشٹر کی سکل ہندو سماج ، اور ملک کے دیگر علاقوں میں سرگرم کئی کٹر وادی ہندوتوا وادی تنظیمیں ۔۔۔۔۔
 یہ طاقتیں اور بھگوا تنظییں جو کچھ زخم ملک کی اقلیتوں ، مسلمانوں ، بدھسٹوں ، دلتوں ، عیسائیوں کو لگاتی ہیں ، 
ان زخموں کی نمائشی مرہم ، پٹی کا کام آر ایس ایس چیف اپنی صرف اور صرف بیان بازی سے کیا کرتے ہیں ۔
ورنہ ملک کے وزیر اعظم کی جس قدر سیکوریٹی ہے ، اس قدر بھاری سرکاری خرچ والی ، سرکاری سیکوریٹی ملک کی کسی غیر سیاسی تنظیم کے چیف کو ملتی ہے ، مطلب اس کا عہدہ ، رتبہ ، پاور ، اختیارات ، کسی وزیر اعظم سے کم نہیں ہے اور وہ اگر اپنے بیانات میں ظلم و ستم سے پریشان طبقات ، خاص طور پر اقلیتوں کو دلاسہ دینے کی بات کرتا ہے ، 
تو یہ محض لفاظی ہے ، اور کچھ نہیں ، کیونکہ اس کا پاور تو یہ ہے کہ وہ ایک ٹیلی فون کال وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کو کر سکتا ہے ، اور اقلیتوں کی شکایات کو دور کیا جا سکتا ہے ، جو تنظیمیں مسلمانوں ، اقلیتوںپر مظالم ڈھا رہی ہیں ، ان کے غنڈے بھی یو اے پی اے کے تحت گرفتار ہو سکتے ہیں ،  
جس طرح مسلمانوں پر فسادات کے الزام میں بلڈوزر چلائے جاسکتے ہیں ، بھگوا فسادیوں پر بلڈوزر کیو ں نہیں چلتے ؟
 جس طرح ہر مسجد کے نیچے شیو لنگ یا کسی مندر کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے ِ وہ کیوں نہیں رک رہا ہے ؟ 
بھاگوت صاحب بیان پر بیان جاری کئے جا رہے ہیں ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن ہم بس بیان ہی بیان پڑھ رہے ہیں ، ان کا زمینی سطح پر اثر نہیں دیکھ رہے ہیں ۔۔۔!!
تو پھر کیا سمجھا جائے ؟ 
 ایک انٹریو میںآر ایس اس چیف نے اس بات کو تسلیم کیا کہ بھارت کے کٹر وادی ہندو سماج میں جارحانہ فکر پیدا ہوئی ہے ۔
لیکن ، اس کا وہ افسوس ناک حد تک دفاع کرتے ہیں ۔اسکے لئے وہ انتہائی بچکانہ وجہ اور دلیل بھی پیش کرتے ہیں ۔
وہ کہتے ہیں ؛ ـ بھارت اور دیگر جگہوں کے ہندوؤں میں نو دریافت شدہ جارحیت کی وجہ یہ ہے کہ ہندو سماج ایک ہزار
سال سے جنگ کر رہا ہے اور آخر کار سنگھ کی مدد سے بیدار ہوچکا ہے ۔ــَ
بھاگوت جی کا یہ بیان خود ہندوؤں کیلئے غور و فکر کا مقام ہےکہ ہزار سال میں ہندو سماج میں بڑے بڑے ریفارمر آئے ،
سدھارک آئے ، سنت مہاتما آئے ، لیکن وہ سب مل جل کر بھی ہندو سماج کو بیدار نہیں کرسکے ۔
آج ہندوسماج صرف بھارت ہی نہیں کئی اور جگہوں پر بیدار ہوچکا ہے ، اور اس کی وجہ آر ایس ایس کی مدد ہے ۔
سوامی وویکانند ، ٹیگور ، سے لیکر مہاتما پھلے اور ڈاکٹر امبیڈکر تک ، سنت سادھو ، مہاتما آئے ، لیکن پگر بھی ہندو سماج سوتا رہا ؟ 
موہن بھاگوت کی بہکی بہکی باتوں میں یہ ایک نیا اضافہ ہے ۔
آر ایس ایس کے متعلق اب تک جو پروپگنڈہ کیا گیا تھا ، وہ سب 2016 ء کے بعد سے غلط ثابت ہو رہا ہے ۔
مثلاً ، یہ کہا جاتا تھا کہ سنگھ کے تربیت یافتہ سوئم سیوک سچے دیش بھکت اور ایماندار ہوتے ہیں ، جبکہ کانگریس یا دیگر جماعتوں کے لیڈر ایماندار یا دیش بھکت نہیں ہوتے ۔۲۰۱۶ ء کے بعد سے حکومت اور سرکاری عہدوں میں ٹھونس ٹھونس کر آر ایس ایس کے سوئم سیوکوں کو بٹھا دیا گیا ہے ۔آج ملک کے وزیر اعظم سے لیکر مرکزی وزارت ،ریاستی حکومتوں ، عدلیہ ، انتظامیہ ، میڈیا میں جگہ جگہ سابقہ چڈی دھاری افراد بیٹھے ہوئے ہیں ، جن کی تربیت شکھاؤں میں ہوئی ہے ۔
لیکن کیا اس سے ملک کا نظام تبدیل ہو ؟ 
کیا اب سرکاری دفاتر میں ، پولس اسٹیشنوں میں ، عدالتوں میں بغیر رشوت کے لئے دئیے کام ہوتا ہے ؟
جی نہیں !! ملک میں آج بھی سب سے بڑی بیماری رشوت اور کرپشن ہے ۔
دہلی سے لیکر گلی تک ، ہر جگہ اب شاکھا وؤں کے تربیت یافتہ سوئم سیوکوں کو ٹھونس ٹھونس کر سرکاری عہدوں پر تعینات کر دیا گیا ہے ، تو کیا عام ہندو ناگرک یہ نہیں پوچھے گا کہ رشوت کا بازار کیوں ختم نہیں ہوا ؟اور کیا اسے یہ سوال نہیں پوچھنا چاہئے کہ کیا رشوت لینا دینا ،
رشوت کا بازار گرم کرنا ، رشوت کے لین دین والے نظام کو جاری رکھنا ،دیش بھکتی ہے ؟ یہ کون سی دیش بھکتی ہے ؟
اور یہ کون سے دیش بھکت ہیں ، جن کے برسراقتدار ہونے کے بعد بھیملک رشوت کی غلامی سے آزاد نہیں ہوا ۔
یہ دیش کا ایک اہم موضوع ہے ۔
ایسے ہی دیش کو درپیش کئی اہم موضوعات ہیں۔
جن کا جواب شاکھاؤں والے سابقہ خاکی چڈی دھاریوں کے پاس نہیں،اس لئے وہ عوام کی توجہ بھٹکائے رکھنا چاہتے ہیں ۔
اس لئے آر ایس ایس چیف بھی وقفہ وقفہ سے ایسی باتیںکرتے رہتے ہیں ، جن کا مقصد حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانا اور آر ایس ایس کیلئے جھوٹا پروپگنڈہ کرنا ہے ، اقلیتوں کو جھوٹا دلاسہ دینا ہے ، ورنہ ایک بیان یہی دیکھ لیجیئے کہ انہوں نے جب کہا کہ ہر مسجد کے نیچے شیو لنگ تلاش نہیں کرنا چاہئے ، تو یہ سلسلہ رک جانا چاہئے تھا ؛ نہیں رکا ، آج بھی جاری کیوں ہے ؟ ۔
 اس لئے ان کا سوچ سمجھ کر دیا گیا یہ بیان بھی جھوٹے پروپگنڈہ کی سیریز کا ایک حصہ تھا اور تاریخ کے متعلق ان کی سنگھی سوچ وچار کا پروپگنڈا آج تک جاری ہے ، کیا ہم یہ بات ، گذشتہ بیانات کی روشنی میں نہیں کہہ سکتے ؟ ان کے بیانات پر سوالیہ نشانات نہیں لگائے جا سکتے ؟ 
  ۔
 کیا ہمیں یاد نہیں کہ بھاگوت جی نے پانچ جنیہ کو دئیے گئے ایک پرانے انٹریو میں یہ کہا تھا کہ بھارت میں ہندو سماج ( غیر ملکی یا بیرونی حملہ آوروں سے ) ایک ہزارسالوں سے جنگ کر رہا ہے ، اور یہ جنگ جاری ہے؟
 بھارت کی جنگ کی بات کرتے کرتے ، وہ ہندو سماج کی جنگ پر چلے جاتے ہیں۔
 اور فرماتے ہیں کہ ہندو سماج کو غیر ملکی سازشوں ،غیر ملکی اثرات اور غیر ملکی جارحیت سے جنگ کرتے کرتے ایک ہزار برس ہو چکے ہیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ جو سماج حالت جنگ میں ہوگا ، اس کا جارح ہونا بھی فطری ہے ۔یعنی بھاگوت جی ہندوتوا بریگیڈ کے تشدد اور دھمکیوں والے انداز کی وکالت بھی کر رہے ہیں ، اور اس کا دفاع بھی کر رہے ہیں ۔
یہ انتہائی شرم ناک بات ہے ۔
  ایک سوال یہ بھی ہیکہ جب ملک کی تاریخ کی بات کی جا رہی ہے تو پھرصرف ایک ہزار برس کی بات کیوں کی جا رہی ہے ؟
جب کہ بھارت میں غیر ملکی INVADERS کی تاریخ ڈھائی ہزار برس سے بھی زیادہ قدیم ہے ؟
 اور مہاتما پھلے سے لیکر ڈاکٹر امبیڈکر تک کئی مورخین کہہ چکے ہیں کہ آریائی اس ملک میں سب سے پہلے گھس پیٹھ کرنے والے حملہ آور تھے !!!مطلب صاف ہے ، بھاگوت یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بھارت کو غیر ملکی جارحیت سے جو خطرہ لاحق تھا ، وہ آریائی گھس پیٹھ سے نہیں، 
بلکہ مسلمان اور عیسائی غیر ملکیوں کے INVASION کے بعد سے ہوا ۔
اور وہ آج بھی جا ری ہے ۔
تاریخ سے سچ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا سنگھی ذہنیت کی ایک نشانی ہے ۔
اور ہم یہ بات بھاگوت کی بہکی بہکی باتوں میں بھی بخوبی دیکھ رہے ہیں ۔
اس ملک کو یہ طے کرنا چاہئے کہ بھاگوت بڑے مورخ ہیں ؟
یا ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ؟ جنہوں نے یہ کہا تھا کہ بھارت کی تاریخ برہمن ازم اور بدھ ازم کے ٹکراؤ کےسواء اور کچھ بھی نہیں ہے ۔
اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کیلئے جھوٹی تاریخ گڑھی جارہی ہے ،اور ہزاروں سالہ قدیم بھارتی تاریخ کو صرف ایک ہزار برس کے اندر اندر محدود رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
 ہمیں یاد ہے ، پانچ جنیہ اور آرگنائزر کو دئیے گئے انٹرویو میں بھاگوت جی نے اس سے قبل کہا تھا کہ چونکہ ہندو سماج حالت جنگ میں ہے ،اس لئے لوگوں( ہندو کٹر پسندوں ) کا ضرورت سے زیادہ پرجوش ہونا فطری ہے ، اور اشتعال انگیز بیانات بھی دئے جاتے رہیں گے ۔
کیا ہمیں پتہ نہیں کہ یہ آر ایس ایس ہی ہے ، جو بی جے پی سرکار میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے تمام درسی کتابوں اور نصاب میں ایسی تبدیلی لا رہی ہے ، کہ جو تاریخ نہیں ، بلکہ ہندووتوادی جھوٹا پروپگنڈہ ہو گا ، اس طرح زہریلے ، متعصب درسی مواد سے کچی عمر سے ہی طلبا و طالبات کو ایک خاص ائیڈیا لوجی میں دھالا جائے گا ۔
اس ملک کی تاریخ ۴ ؍حصوں میں تقسیم ہے : (۱) ہندو دور ؛ ( جس میں بدھسٹ دور بھی شامل ہے ) ۔
(۲) مسلم دور ( ۳) برٹش دور (۴) آزادی کی جنگ اور آزاد بھارت کا دور 
بتائے تو بھلا درسی کتابوں سے مسلم دور حکومت کی ایک ہزار سالہ تاریخ کے ابواب بالکل ختم کردینے ، اور خارج کردینے کے کیا معنی ہیں؟
کیا یہ نئی تعلیمی پالیسی آر ایس ایس کے ایجنڈے سے مرعوب نہیں ہے ؟ 
کیسی تاریخ نئی نسلوں کو سکھانے کا ارادہ ہے ؟ وہ جس کی بنیاد تعصب اور نفرت ہے ؟ 
مستقبل میں ایسی نسل اگر ہر شعبہ زندگی میں ذمہ دار بن گئی تب اس دیش کا کیا ہو گا ؟ اس خطرناک ٹرینڈ کو بدلنے ، بھائی چارہ ، ایکتا کیلئے کیا آر ایس ایس کا کوئی مثبت منصوبہ موجود ہے ؟ جو کچھ ہو رہا ہے ، کیا وہ بھاگوت جی کے پیش نظر نہیں ہے ؟ اور اس کے باوجود اگر وہ بھارت کے وشوا گرو بننے ، عالمی امن و سلامتی اور وشوا ( سارا عالم ) ایک خاندان ہونے کی باتیں کرتے ہیں ،
تو کیا یہ بھی محض پرپگنڈہ نہیں ہے ؟ 
بھاگوت جی نے مسلمانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا ،جو اخبارات میں آ چکا ہے ، اور اس پر ہم جس قدر تبصرہ کرلیں، کوئی فائدہ نہیں کہ ایسے بیانات محض پروپگنڈہ کی مشق ہیں۔
ہاں ، وہ مسلمان جو ہر ایک بیان کے بات اس تاک میں رہتے ہیں کہ چلئے آر ایس ایس چیف سے باتیں کر لیتے ہیں ،اپنا ارادہ ترک کردیں کہ وہ تمہیں گھا س نہیں ڈالنے والے ۔
سیدھا راستہ یہ ہے ، کہ اپنی منزل اور اپنا راستہ خود طے کرو ، ورنہ سنگھ کے چکر میں گھن چکر بن جاؤ گے !!!!
شائع شدہ : ممبئی اردو نیوز ، سنڈے ایڈیشن
______________
ریاست ، ڈیم اور طاقت کی سیاست 

تحریر : اروندھتی راۓ (The Guardian) خلاصہ 

بھارت میں سردار سروور ڈیم کے خلاف جدوجہد ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ ابتدا میں یہ لڑائی محض ایک دریا کے لیے سمجھی جاتی تھی، لیکن جلد ہی یہ ایک بڑے سوال میں بدل گئی: ہماری جمہوریت کی اصل حقیقت کیا ہے؟ زمین کس کی ہے؟ دریا کس کے ہیں؟ جنگلات اور مچھلیاں کس کی ملکیت ہیں؟ یہ محض ماحولیات کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ پورے سیاسی و سماجی نظام پر سوالیہ نشان بن گیا۔ ریاست نے ان سوالوں کا جواب اپنے تمام اداروں کے ذریعے ایک ہی آواز میں دیا ... اور وہ جواب بہت واضح، تلخ اور ظالمانہ تھا۔

نہرو کا جنون اور گاندھی کی بصیرت

آزادی کے بعد نہرو نے بڑے ڈیموں کو “جدید بھارت کے مندر” قرار دیا۔ ان کے پیروکاروں نے غیر معمولی جوش سے ڈیم بنانے کو ملک بنانے کے برابر سمجھ لیا۔ لیکن گاندھی ہمیشہ چھوٹے اور مقامی حل پر زور دیتے تھے: چھوٹے کھیت، چھوٹے گاؤں اور ڈھانچے ، مقامی علم و خود مختاری ، کمیونٹی پر مبنی منصوبے ۔ وقت نے ثابت کیا کہ گاندھی کی سوچ زیادہ درست تھی۔ بڑے منصوبوں نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا، زمین اور پانی تباہ کیے اور ماحول کو بگاڑ دیا۔ آج ہمیں پھر اسی "چھوٹے" کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے تاکہ ترقی پائیدار اور سب کے لیے انصاف پر مبنی ہو۔

بھارت کا ڈیموں کا ریکارڈ

نتیجہ یہ ہے کہ بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ڈیم بنانے والا ملک ہے، جہاں 3600 بڑے ڈیم موجود ہیں اور مزید 1000 زیرِ تعمیر ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ایک پانچواں حصہ یعنی تقریباً 20 کروڑ لوگ آج بھی پینے کے محفوظ پانی سے محروم ہیں، اور دو تہائی یعنی 60 کروڑ کے پاس بنیادی صفائی کی سہولت نہیں۔ 1947 کے مقابلے میں آج بھارت میں زیادہ علاقے قحط اور سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں۔ دنیا بھر میں بڑے ڈیموں کے خلاف تحریکیں بڑھ رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں کئی ڈیم توڑ دیے جا رہے ہیں کیونکہ اب یہ حقیقت تسلیم کی جا چکی ہے کہ بڑے ڈیم فائدے سے زیادہ نقصان دیتے ہیں۔

بڑے ڈیموں کے نقصانات

یہ ڈیم نہ جمہوری ہیں، نہ مقبول۔ یہ حکومتوں کے اختیار بڑھانے کا ہتھیار ہیں۔ یہ کسان کی دانش چھین لیتے ہیں اور پانی، زمین اور آبپاشی غریبوں سے لے کر امیروں کو دے دیتے ہیں۔ ان کے ریزروائر لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیتے ہیں۔ ماحولیاتی تباہی اپنی جگہ: زمین بنجر، پانی میں نمکیات، سیلاب اور بیماریاں۔ شواہد بڑھ رہے ہیں کہ بڑے ڈیم زلزلوں سے بھی جڑے ہیں۔ “قومی فائدے کے لیے مقامی قربانی” کا جھوٹ اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔

ترقی یافتہ دنیا کا کچرا

انہی وجوہات کی بنا پر ترقی یافتہ دنیا میں ڈیم انڈسٹری سکڑ گئی ہے (جس کی مالیت سالانہ 12 ارب پاؤنڈ سے زیادہ تھی)۔ اب یہ صنعت ترقی پذیر دنیا کو “ترقیاتی امداد” کے نام پر بھیج دی جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے پرانے ہتھیار، بحری جہاز اور زہریلے کیمیکل۔ بھارت کی ہر حکومت اوپر سے تو مغرب پر تنقید کرتی ہے، مگر خوشی خوشی ان کا لپٹا ہوا کچرا قبول کر لیتی ہے۔

بے گھر ہونے والوں کی تعداد

بھارت کے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے مطابق 54 ڈیموں کے مطالعے میں اوسطاً ہر ڈیم نے 44,182 لوگوں کو بے گھر کیا۔ اگر احتیاطاً اوسط 10,000 فی ڈیم مان لیں تو 3,300 ڈیموں نے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو بے گھر کیا۔ منصوبہ بندی کمیشن کے سیکریٹری این سی سکسینا کے مطابق یہ تعداد 5 کروڑ تک ہے، جن میں سے 4 کروڑ صرف ڈیموں سے متاثر ہوئے۔ یہ تعداد ناقابلِ یقین لگتی ہے، لیکن حقیقت یہی ہے۔

انسانی المیہ 

پچاس ملین لوگ ۔۔۔۔گجرات کی آبادی سے زیادہ، آسٹریلیا کی آبادی سے تین گنا، تقسیمِ ہند کے مہاجرین سے بھی تین گنا، اور فلسطینی مہاجرین سے دس گنا۔ پھر بھی دنیا خاموش ہے۔ متاثرین کا 60 فیصد قبائلی اور دلت ہیں، حالانکہ بھارت کی کل آبادی میں ان کا حصہ صرف 23 فیصد ہے۔ یوں بھارت کے سب سے غریب لوگ اس کے امیروں کی زندگیوں کو سبسڈی کر رہے ہیں۔

ڈیم اور ترقی کا بیانیہ 

بھارت میں لاکھوں بے گھر لوگ ایک غیر اعلانیہ "ترقیاتی جنگ" کے پناہ گزین ہیں، جسے ہم سب قومی مفاد اور عوامی بھلائی کے نام پر نظرانداز کرتے ہیں۔ بظاہر ترقی اور اناج کی بڑھتی پیداوار کے باوجود کروڑوں لوگ غربت اور بھوک کا شکار ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنی اگائی ہوئی خوراک خریدنے کے بھی قابل نہیں۔ ریاست بیرونی طاقتوں سے لڑنے کے لئے طاقت اور ہتھیاروں کو ترجیح دیتی ہے ۔مگر ہمیں خود اپنے آپ سے کون بچائے گا؟ یہ کیسا ملک ہے؟ اس کا مالک کون ہے؟ اس کو کون چلا رہا ہے؟ یہ سب آخر چل کیا رہا ہے؟

سوال یہ ہے کہ آپ ترقی کو کیسے ناپ سکتے ہیں جب آپ کو یہ ہی نہیں پتا کہ اس کی قیمت کیا ہے اور کس نے ادا کی؟ “مارکیٹ” کسی چیز کی قیمت کیسے لگاتی ہے جب وہ اصل پیداوار کی لاگت کو شامل ہی نہیں کرتا؟

ان کروڑوں لوگوں کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ تاریخ میں ان کا ذکر بھی نہیں ہوگا۔ کئی لوگ تین چار بار بے گھر کیے گئے ۔۔ ایک بار ڈیم کے لیے، پھر فوجی میدان، پھر یورینیم کی کان یا پاور پروجیکٹ کے لیے۔ آخرکار یہ سب شہروں کے کنارے جھگیوں میں آ جاتے ہیں، جہاں سستے مزدور بن جاتے ہیں ، وہی مزدور جو مزید منصوبے تعمیر کرتے ہیں اور مزید لوگوں کو بے گھر کرتے ہیں۔ شہروں میں حکومت کے بلڈوزر اور صفائی مہم انہیں جینے نہیں دیتی۔
دہلی جیسے شہروں میں تو وہ اس خطرے میں رہتے ہیں کہ اگر کسی نے انہیں کھلے میں رفع حاجت کرتے دیکھ لیا تو پولیس انہیں گولی مار سکتی ہے۔
 یوں سب سے غریب لوگ سب سے امیروں کی زندگی کو سہارا دینے کے لیے مسلسل قربان ہوتے ہیں، لیکن تاریخ میں ان کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔

بحالی کا فریب

حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ دنیا کا بہترین بحالی پیکج دے رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو ٹین کی جھونپڑیوں میں پھینک دیا گیا ہے جو گرمی میں تندور اور سردی میں فریزر ہیں۔ کئی آبادکاری سائٹس بارش کے پانی میں بہہ جاتی ہیں۔ بچوں کی آنکھوں میں خوف اور بخار، بیمار مویشی، ملیریا اور دست۔ اور یہ وہ خوش قسمت ہیں جنہیں سرکاری طور پر “پروجیکٹ افیکٹڈ پرسنز” مانا گیا۔ باقی تو سیدھا بے دخل کر دیے جاتے ہیں۔

بھارت کی ریاست ناکام نہیں بلکہ اپنے مقصد میں کامیاب ہے: وسائل پر قبضہ کر کے انہیں اشرافیہ میں بانٹ دینا اور پھر سب کچھ خوشنما انداز میں چھپا دینا۔ اصل معلومات بیوروکریٹس اور حکمران طبقات کے پاس مقید ہیں جبکہ عام لوگ لاعلم اور بے بس ہیں۔ یہ جھوٹا بیانیہ پیش کیا جاتا ہے کہ "بھارت اپنے دیہاتوں میں بستا ہے"، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت اپنے دیہاتوں کو روند کر شہروں میں زندہ ہے۔ دیہات صرف شہروں کے غلام اور ان کی خدمت گزار ہیں، اس لیے انہیں بس زندہ رکھنے کے قابل سمجھا جاتا ہے۔

کیا دو لاکھ لوگوں کو، جن میں سے ایک لاکھ سترہ ہزار قبائلی ہیں، دوبارہ انسانی طریقے سے بسانا ممکن ہے؟ کسی بھی ریاست کے لیے یہ ناممکن ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے بچے کے ناخن کاٹنے کے لیے قینچی سے اس کی انگلیاں کاٹ دی جائیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کہاں ہے وہ خالی زرخیز زمین جو ان برادریوں کو دوبارہ بسا سکے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسی زمین موجود ہی نہیں۔

فاشسٹ ریاضی

200,000 لوگوں کو بے گھر کر کے 40 ملین کو پانی دینا “فاشسٹ ریاضی” ہے۔ یہ کہانیوں کو گلا گھونٹ دیتی ہے اور لوگوں کو جھوٹی بصیرت سے اندھا کر دیتی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 245 دیہاتوں میں سے 30 ڈوبنے والے ہیں۔ لوگ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی زمینیں چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ ڈیم کو پسند کرتے ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے۔

اروندھتی رائے کی دلیل یہ ہے کہ بڑے ڈیم اور بڑے منصوبے ترقی کا فریب ہیں۔ نہرو کا بڑا سوچنے کا جنون بھارت کو اس نہج پر لے آیا جہاں لاکھوں لوگ بے گھر اور غریب ہوئے۔ گاندھی کی چھوٹی اور مقامی حل والی سوچ ہی آج کی ضرورت ہے۔ ترقی وہی ہے جو مقامی علم، انصاف اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر ہم نے بڑے کو ترک کر کے چھوٹے کو اپنانا نہ سیکھا تو مستقبل کی نسلوں کے لیے صرف تباہی بچے گی۔
_________
🎬زندگی ایک تجربہ گاہ ہے 
💄نظم :- احمد نعیم 
میں نے اداکاری سیکھنے کے لیے 
عبادت گاہوں کا رخ کیا 
اور 
اسی فن کی معراج 
مذہبی لوگوں کی گود میں بیٹھ کر پائی 

کتے 
آدمی سے زیادہ وفادار ہوتے ہیں 
یہ بات اُس کتے نے بتائی 
جو مجھے ہر شام روٹی کھلاتے ہوئے وفاداری کا درس دیتا تھا 
مگر میں ادیبوں کی بے حسی دیکھ کر 
بے حسی کا پتلا بن گیا تھا 
اور مبصرین کے جھوٹ سن سن کر 
اپنے جھوٹ کو بھی مقدس حروف مانتا تھا 

میں نے ناچنا
عورت کی انگلی کے اشارے سے سیکھا
مگر، __! مگر مچھ کے آنسو بہانا نہ سیکھ سکا
کیوں کہ کاہلی 
اور بے کاری 
وراثت میں ملی کتابیں پڑھ کر مل چکی تھی 

میں نے بہت کچھ سیکھا 
جو ایک آدمی کو زندگی گزارنے کے لیے سیکھنا چاہیے 
مگر تم نے محبت کا اسم اعظم پھونک کر 
مجھے پتھر کے بت میں تبدیل کردیا 
اور آج برسوں بعد!
اداسی کے مندر میں بیٹھا سوچ رہا ہوں 
کہ تم نے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیں 
اور یہ ادا 
میں کہیں بھی
کسی سے بھی نہیں سیکھ پایا
______________
 7 جنوری 2025
 شب تین بجے
موسمِ :- سرما
___________

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

ہر طرف دیوار و در اور ان میں آنکھوں کے ہجوم
کہہ سکے جو دل کی حالت وہ لب گویا نہیں

جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا
کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

✍️ منیر نیازی

*🛑سیف نیوز اُردو*

*🛑ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ، مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ فڑنویس نے دیا تحقیقات کا حکم* ...