بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
*گیدرنگ کے نام پر غیر شرعی کاموں کو پروان نہ چڑھائیں سرپرست حضرات اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری محسوس کریں*
ازقلم حافظ عقیل احمد ملی قاسمی رکن تنظیم علماء حفاظ وائمہ شہر مالیگاؤں
پیشکش تنظیم علماء وحفاظ وائمہ شہر مالیگاؤں۔
مسلمانوں کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے سارے کاموں اور معاملات میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کو پیش نظر رکھیں اور اس کی ناراضگی والے کاموں سے اپنے آپ کو بچائیں ایمان کامطلب ہی ماننا ہے یعنی حکم الٰہی کے آگے جھک جانا اور جس راستے سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہو اس سے رک جانا مگر افسوس آج ہم مسلمانوں کی حالت زار یہ ہوگئی ہے کہ ہر معاملے میں ہم اس بات کی فکر تو پوری طرح کرتے ہیں کہ چپراسی سے لے کر وزیر اعظم تک کوئی ہم سے ناراض نہ ہو چاہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے راضی ہوں یا ناراض ہوں۔
بس یہی ہمارا وہ نظریہ ہے جس نے ہمیں اپنی ذلت ورسوائی کے آخری دور میں پہنچا دیا اس کی ایک مثال اسکولوں میں منعقد ہونے والے گیدرنگ کے پروگرامات بھی ہیں۔
جی ہاں اسکولوں میں منعقد ہونے والے گیدرنگ پروگرامات کی حیثیت قانونی طور پر صرف اتنی ہے کہ معصوم طلبہ وطالبات کو تعلیم دینے کے لئے اسکول بلایا جاتا ہے اس کے لئے ان کی دلچسپی کس طرح اسکول کی طرف باقی رہے اس کے لئے کچھ کھیل کود کے سنجیدہ پروگرامات وقتاً فوقتاً منعقد کئے جائیں تاکہ اس کے ذریعے سے طلبہ وطالبات کی صحت بھی بہتر رہے اور طلبہ وطالبات پر بغیر کسی سختی اور شدت اختیار کئے وہ پابندی سے اسکول آنے والے بن جائیں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم معیاری اور مہذب کھیل کود شجاعت و بہادری اپنے بچوں اور بچیوں کو سکھاتے مگر افسوس آج اسکولوں میں ایسا نہ کرتے ہوئے پورا پورا مسلم مینجمنٹ ہونے کے باوجود غیروں کا طرز اختیار کیا جارہاہے ناچ گانے موسیقی اور ڈانس طلبہ وطالبات کو سکھائے جارہے ہیں۔
اس عمل کو 15 اگست یوم آزادی اور 26 جنوری یوم جمہوریہ کے موقع پر کچھ زیادہ ہی انجام دیا جانے لگا ہے اور غیر تعلیم یافتہ سرپرست حضرات معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ایسا تصور کرتے ہیں کہ شاید یہ کام قانونی طور پر ضروری ہے اس لئے اسکولوں کے ذمہ داران یہ کام کرتے ہیں۔ لہذا سرپرست حضرات کو ہم سب سے پہلے اس طرف متوجہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور ان پر یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ گیدرنگ کے نام پر غیر شرعی پروگرام قانونی لحاظ سے ضروری نہیں ہیں۔
دوسری چیز جو گذشتہ چند سالوں سےمسلسل رواج پکڑ رہی ہے وہ یہ کہ اب باقاعدہ طلبہ وطالبات کا تقریباً ایک مہینہ پہلے ہی انتخاب کرلیا جاتا ہے اور پھر ان کے سرپرستوں کو مدعو کرکے یہ کہا جاتا ہے آپ کے بچے یا بچی کا انتخاب کرلیا گیا ہے لہذا اب آپ اس کا ڈریس اس کا جوتا اور دیگر لوازمات یا تو فلاں متعین دکان سے ہی خرید کر لاؤ یا پھر اتنی رقم جمع کرائیں ان ساری چیزوں کا نظم ہم خود کریں گے۔ ظاہر بات ہے قانونی طور پر یہ کوئی ضروری عمل نہیں ہے اس لئے سرپرست حضرات کسی بھی طرح یہ دباؤ قبول نہ کریں تھوڑی دیر گھنٹے آدھے گھنٹے کے پروگرام کے لئے اتنا خرچ کروانا وہ بھی ایک ایسے شہر میں جہاں کی اکثریت غریب مزدوروں کی ہو یہ بالکل نامناسب بات ہے فوری طور پر یہ کام رکنا چاہئے اور اس کا بہترین طریقہ کار سرپرست حضرات کا انکار ہے اگر سرپرست انکار کردیں تو یہ سارے تماشے ہرحال میں رک سکتے ہیں قانونی طور پر اسکول انتظامیہ گیدرنگ اور ڈسپلین وغیرہ کے نام پر کسی سرپرست کو اس طرح پابند نہیں بناسکتی ہے۔
اسی طرح ہم سرپرست حضرات کو یہاں یہ بھی یاد دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر اسکول انتظامیہ نے آپ کے بچے یا بچی کو کسی پروگرام کے لئے منتخب کر بھی لیا ہے تب بھی آپ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ آپ پہلے اس پروگرام کی مکمل معلومات حاصل کریں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ اس میں کوئی غیر شرعی کام تو نہیں کروایا جائے گا اگر کوئی غیر شرعی کام کروایا جائے گا تو آپ اپنے بچے یا بچی کو اس پروگرام سے علیحدہ کرنے کا پورا اختیار رکھتے ہیں۔
لہذا ہم تمام ہی سرپرست حضرات سے انتہائی مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ ابھی 15 اگست کو یوم آزادی کی مناسبت سے اسکولوں میں گیدرنگ کے نام پر بہت سے پروگرامات منعقد ہوں گے آپ فوراً جائزہ لیں کہ کہیں آپ کا بچہ یا بچی ایسے غیر شرعی کسی پروگرام میں تو نہیں شریک ہورہاہے اگر کوئی غیر شرعی کام نہیں ہوگا تو بچے یا بچی کو پروگرام میں شرکت کرنے دیں اور اگر کوئی غیر شرعی کام ہونے والا ہے تو وقت سے پہلے فوراً اسے روکنے کی کوشش کریں اور اپنی ذمہ داری ادا کریں اس لئے کہ ہر شخص ذمہ دار ہے اور کل قیامت کے دن ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے متعلق باز پرس کی جائے گی لہذا یہاں اسکول انتظامیہ کے سامنے شرمندگی برداشت کرلیں مگر آخرت کی شرمندگی سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کریں۔
اسی طرح ہم تمام ہی اسکولوں کے ذمہ داران اور وہاں کی انتظامیہ سے بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے ماتحتوں سے غیر شرعی کام نہ کروائیں جائیں بصورت دیگر کل قیامت کے دن بحیثیت ذمہ دار آپ سے بھی آپ کی ذمہ داری کے متعلق سوال و جواب کیا جائے گا لہذا وہاں کی فکر کریں اور اسکولوں میں صرف گیدرنگ کے موقع پر ڈسپلین بتانا ہی اسکولوں کی کارکردگی میں شامل نہیں ہے بلکہ اسکول کی اولین ذمہ داری تعلیمی معیار بلند کرنے کی ہے لہذا اپنی اپنی اسکولوں میں معیار تعلیم بلند کرنے کی پوری طرح فکر اور کوشش کریں اور بہتر سے بہتر تعلیم مہیا کریں اس لئے کہ آج ہماری قوم کے بچوں اور بچیوں کو گیدرنگ کے پروگرام سے زیادہ معیاری تعلیم کی ضرورت ہے اس لئے اس سمت میں توجہ دلانا ضروری سمجھا گیا۔
*شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات*
*یومِ آزادی کا اصل جشن شکرگزاری، احساسِ ذمہ داری قانون کی پاسداری اور دینی بیداری*
*راقم السطور: محمد خالد شاہد ملی، نظام پورہ*
*(خادم مدرسہ مفتاح القرآن، مالیگاؤں)*
*پیشکش: تنظیم علماء، حفاظ و ائمہ شہر مالیگاؤں*
یومِ آزادی کا سورج جب ہر سال طلوع ہوتا ہے تو فضا میں دو پیغام بکھر جاتے ہیں:
ایک مسرت کا، کہ غلامی کی زنجیریں ٹوٹیں اور ہمیں آزاد فضائیں نصیب ہوئیں۔دوسرا ذمہ داری کا، کہ اس آزادی کی حفاظت کریں اور اسے فلاح و بہبود، محبت و اخوت کے فروغ میں صرف کریں۔
یہ آزادی محض ایک لفظ نہیں بلکہ ہزاروں شہیدوں کے خون اور لاکھوں مجاہدوں کی قربانیوں کا نچوڑ ہے۔ اقبال نے کیا خوب کہا:
*؎ وطن کی فکر کر نادان، مصیبت آنے والی ہے*
*تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں*
مگر افسوس! آج یومِ آزادی کا منظر ان قربانیوں کے جذبے سے کوسوں دور ہے۔ مجاہدین نے جان دے کر ہمیں عزت بخشی اور ہم نے اس دن کو شور شرابے، فضول مشغولیات اور اخلاق سوز مناظر کا دن بنا دیا۔
چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب ہمارے شہر میں ایک ایسا منظر پیش آتا ہے جس میں شہیدانِ وطن کی یاد کے بجائے لہو و لعب کی فضا قائم کر دی جاتی ہے۔ شہیدوں کی یادگار کے قریب، بلند آواز موسیقی اور رقص و سرور کے مناظر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ملوث ہو جاتی ہے، اور غیر شرعی امور میں پڑ جاتی ہے۔
ہم مودبانہ گزارش کرتے ہیں کہ جن حلقوں کے زیرِ اہتمام یہ پروگرام ہوتا ہے، وہ حدیث نبوی ﷺ کو یاد رکھیں:
*"جو شخص کسی کو گمراہی کی طرف بلائے، اس پر بھی اتنا ہی گناہ ہے جتنا ان کے پیروکاروں پر ہوگا، اور اس سے ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی"۔ (صحیح مسلم)*
ایسے پروگرام جہاں نوجوانوں کا جوش گناہ کی طرف مائل ہو، وہاں ذرا سا ضبط اور شعور انہیں گناہ سے بچا سکتا ہے۔ ہم سب کو یہ سوچنا ہوگا کہ شہیدوں کی قربانیوں کی یادگار پر گناہ کی محفل سجانا، ان کے مشن اور قربانی کی روح کے سراسر منافی ہے۔
*؎ چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کے ایک جھونکے سے*
*جو اپنی باری پہ جلے تو روشنی دے جا*
پچھلے کچھ برسوں سے ہمارے شہر مالیگاؤں میں کئی اسکول اور ادارے *"ثقافتی پروگرام"* کے نام پر ناچ گانے، مخلوط و فحش ڈرامے اور ایسے مظاہرے پیش کرتے ہیں جو طلبہ و طالبات کے دل و دماغ پر بے حیائی کے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔
اساتذہ اور منتظمین یاد رکھیں! تعلیم کا مقصد صرف کتابی علم دینا نہیں، بلکہ کردار سازی اور اخلاقی تربیت بھی ہے۔ اگر اسی دن بچوں کو بے راہ روی کی طرف دھکیلا جائے تو یہ منصبِ معلمی کی توہین ہے۔ تدریس ایک مقدس پیشہ ہے کہ جس کے متعلق شاعر گویا ہے
*؎ جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک*
*ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں*
ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نوجوان طبقہ، جو ملت کا مستقبل ہے، اس دن سڑکوں پر بائک کی گھن گرج، غیر قانونی سائلنسر کی آوازیں، خطرناک اسٹنٹس، آتش بازیاں، ہلڑبازی، موسیقی، ناچ گانا، لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ اور دیگر غیر اسلامی غیر اخلاقی و غیر قانونی حرکتوں میں وقت ضائع کرتا ہے۔
یاد رکھیں! یہ آزادی نہیں بلکہ آزادی کا مذاق ہے، یہ حرکات وقارِ مسلم کے منافی اور اخلاقی بگاڑ کا سبب ہیں، اس میں ایذائے مسلم، تشبہ باالاغیار، راہگیروں کےلیے زحمت کا سامان ہے جو سراسر تعلیمات اسلامی کے خلاف ورزی ہے۔
*رسول اللہ ﷺ نے کعبے کو مخاطب کرکے فرمایا:*
*"یقیناً اللہ کے نزدیک مومن کی حرمت (عزت، جان و مال) تیری حرمت سے بھی زیادہ ہے" (سنن ابن ماجہ)*
*ایک اور موقعے پر ارشاد فرمایا:*
*"جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے" (سنن ابی داؤد)*
*ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا:*
*"راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے" (صحیح بخاری و مسلم)*
یعنی مومن کا شیوہ دیگر اقوام کی مشابہت اختیار کرنا نہیں، راہگیروں اور مومنوں کو ایذا دینا نہیں، بلکہ راحت پہنچانا ہے اور اپنی تعلیمات پر جم جانا ہے۔
شہر مالیگاؤں اپنی دینی شناخت اور علمی فضا کے لیے جانا جاتا ہے۔ مگر حالیہ حالات نے علماء، ائمہ اور حفاظ کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔ مشاورت کے بعد *"تنظیم علماء، حفاظ وائمہ شہر مالیگاؤں"* نے یہ واضح پیغام دیا ہے:
*➤ ثقافتی پروگراموں کے نام پر غیر شرعی اور غیر اخلاقی حرکات بند کی جائیں۔*
*➤ قانون مخالف سرگرمیوں میں ملوث نوجوانوں پر قانونی اور بھی دیگر کارروائی ہو سکتی ہے۔*
*➤ والدین اپنے بچوں کو ہلڑبازی اور جان لیوا اسٹنٹس سے روکیں۔*
*➤ 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب رقص وسرور کی محفلیں نہ منقعد کی جائے۔*
*؎ مقصود ہے اس بزم میں اصلاحِ مفاسد*
*نشتر جو لگاتا ہے دشمن نہیں ہوتا*
یاد رکھیں! آزادی کا اصل جشن گناہ اور لغو محفلیں نہیں بلکہ شکرگزاری، نیکی اور خدمت کی محفلیں ہیں۔ وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنی نعمتوں کی قدر کرتی ہیں اور انہیں تعمیر و ترقی میں صرف کرتی ہیں۔
*آئیے، اس یومِ آزادی پر عہد کریں!*
*1. ہم اپنی آزادی کو کبھی لہو و لعب، ناچ گانے اور ہلڑبازی میں ضائع نہیں کریں گے۔*
*2. ہم اپنی جوانی کو خدمت، علم، محنت اور کردار کی بلندی کے لیے وقف کریں گے۔*
*3. ہم مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے اور ان کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔*
*4. ہم اپنے شہر، ملک اور دین کا نام روشن کریں گے۔*
*یقین جانیے!*
*قومیں تالیوں کے شور اور آتشبازی کی روشنی سے نہیں، بلکہ علم، کردار اور قربانی کی مشعل سے ترقی کرتی ہیں۔*
اقبال نے کہا تھا:
*؎ نوا کو جنوں کی عطا ہے مجھے*
*کہ سب کچھ ہے منزل، دکھا ہے مجھے*
*نوجوانوں! آؤ وعدہ کریں! آئندہ ہر یومِ آزادی شکرگزاری، احساسِ ذمہ داری، قانون کی پاسداری، وفا شعاری، خدمتِ دینِ باری اور حب الوطنی کے تئیں بیداری کا دن ہوگا، یہی راستہ دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔*
*؎ نشیمن نہیں تیرا قصر سلطانی کے گنبد پر*
*تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر*
یومِ آزادی کی صبح — نوجوانوں کو سنجیدگی کی ضرورت
شہر مالیگاؤں میں گزشتہ چند برسوں سے ایک نیا رجحان دیکھا جا رہا ہے کہ کچھ نوجوان موٹر سائیکلوں پر ترنگا ریلی نکالتے ہیں۔ اگر یہ مظاہرہ سنجیدگی، قومی جذبے اور قواعد کے مطابق ہو تو یہ یقیناً قابلِ تحسین بات ہے۔ آخر یومِ آزادی ہمارا قومی تہوار ہے اور اسے اسی جوش و خروش اور سنجیدگی کے ساتھ منانا چاہیے۔
مگر افسوس کہ کچھ برسوں سے چند غیر سنجیدہ نوجوان دو پہیہ گاڑیوں کا سائلنسر نکال کر، ایک موٹر سائیکل پر تین تین اور چار چار افراد بٹھا کر، تیز رفتاری اور خطرناک ڈرائیونگ کے ساتھ شہر کی گلیوں اور چوراہوں پر دھینگا مشتی کرتے ہیں۔ اس شور اور بے احتیاطی کی وجہ سے ہر وقت حادثے کا خطرہ رہتا ہے۔ دو سال قبل ملت مدرسہ کے قریب ایک بزرگ خاتون کو ایسے ہی لاپرواہ نوجوانوں نے حادثے کا شکار بنایا تھا۔
ایک اور نامناسب رواج یہ بھی چل پڑا ہے کہ 14 اگست کی شب شہیدوں کی یادگار پر زوردار ڈی جے اور ڈانس پارٹی منعقد کی جاتی ہے، جو کہ نہ صرف شہداء کی یاد کو بے ادبی میں بدل دیتا ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے۔
اس صورتحال میں شہر کے پولیس افسران، علمائے کرام، اساتذہ، سیاسی و سماجی قائدین اور والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھرپور توجہ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارے نوجوان ان غیر ذمہ دارانہ حرکات سے دور رہیں۔ خاص طور پر اس وقت تو حد ہی ہو جاتی ہے جب یہ بچے ہندو بھائیوں کے محلوں میں شور مچاتے ہیں اور اس طرح ہمارے بارے میں انتہائی غلط تاثر پیش کرتے ہیں۔
لہٰذا، تمام ذمہ داران سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ خدا را ان بچوں کو اس طرح کی حرکات سے باز رکھا جائے اور یومِ آزادی کو اس کے اصل مقصد — اتحاد، قربانی اور قومی یکجہتی — کے ساتھ منایا جائے۔
جاوید انصاری (اکاشوانی)
علاقہ رمضان پورہ کے جملہ ادارے،کلبوں اور انجمنوں کے ذمہ داران کو یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ بتاریخ 13/اگست بروز بدھ بعد نماز عشاء فورا مختصر سے وقت کے لیے الجامعۃ الزہراء اہلسنت اظہار العلوم میں آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت طیبہ کے 1500/سو سالہ جشن کے حوالے سے میٹنگ کا انعقاد ہوگا۔جس میں آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے اس جشن پر ہمیں کیا کرنا ہے اس سے متعلق حافظ محمد غفران اشرفی صاحب گفتگو فرمائیں گے۔
اس لیے تمام اداروں،کلبوں اور انجمنوں کے ذمہ داران وقت کا خیال رکھتے ہوئے میٹنگ میں ضرور شرکت فرمائیں۔
الداعون:صدر و اراکین الجامعۃ الزہراء اہلسنت اظہارالعلوم و مدرسین مدرسہ اہلسنت شفاعت القران