Thursday, 18 June 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


نویں کے طلبہ سے...ڈاکٹر مبین نذیر
آپ سوچیں گے کہ بھئی یہ نویں جماعت کے طلبہ سے کیا کہنا؟ ابھی تو ان کے بورڈ کے امتحانات کو ایک سال باقی ہے ـ ابھی سے کیوں ان کو نصیحت فضیحت کی جائے ؟ابھی مزید ایک سال انھیں مٹر گشتی ،کھیل کود اور موج مستی کرلینے دیں ـ یہی سوچ طلبہ اور سرپرستوں کی ہوتی ہے ـ چند برسوں پہلے تک ایسا معاملہ چل جاتا تھا لیکن فی زمانہ مقابلہ اتنازیادہ بڑھ چکا ہے کہ کسی بھی شعبے میں کامیابی اور کامرانی کے لیے لانگ ٹرم منصوبہ بندی اور سنجیدگی ضروری ہے ـ اگر آپ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں تو آپ کو برسوں پہلے سے پلاننگ کرنی ہوگی ـ اور اس کے حصول کے لیے سنجیدگی سے کوشش بھی کرنی ہوگی تب ہی آپ اور آپ کا بچہ عملی زندگی میں کامیاب ہوگا ـ
دسویں جماعت میں سرخرو ہونا ہے تو اس کے لیے کوشش آٹھویں، نویں جماعت سےشروع کرنی چاہیے ـ لیکن اگر آپ نے کئی برس گنوا دیے ہیں اور آپ اس وقت نویں جماعت میں زیر ِ تع


لیم ہیں تو ابھی سے دسویں جماعت کی تیاری شروع کردیں ـ دسویں کی تیاری کے لیے یہ موزوں ترین وقت ہے ـ ایک ٹائم ٹیبل بنائیں ـ روزانہ دو تین گھنٹے باقاعدگی سے پڑھائی کریں ـ تمام مضامین کی بنیادی باتیں سمجھیں ـ اپنا کانسپٹ کلیئر کریں ـ جو بات سمجھ میں نہ آئے بلا کسی تکلف و تردد کے اساتذۂ کرام سے بار بار پوچھیں ـ سوالات کرنے میں بالکل بھی جھجک محسوس نہ کریں ـ جو سوالات کرتا ہے وہ سیکھتا ہے ـ اسکول میں کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو گھر پر اپنے والدین اور سرپرستوں سے پوچھیں ـ
کچھ بنیادی باتیں، ضابطے، پہاڑے، گرامر، مضمون نگاری ، مکتوب نگاری، اشتہار سازی، خاکے کی مدد سے کہانی لکھنا، اقتباس پڑھ کر سوالوں کے جوابات لکھنا، اشعار کی تشریح کرنا وغیرہ ایسے امور ہیں جن کا تعلق یاد کرنے کی بجائے عملی مشق سے ہے ـ مذکورہ عناوین اور ان سے ملتے جلتے موضوعات کی تیاری آپ ابھی سے شروع کردیں ـ مشہور مصنفین،شعرا اور اصناف کی بنیادی معلومات کو جمع کریں اور یاد کریں ـ صنعتوں کی تعریف اور ان کی مثال کے لیے اشعار، محاوروں اور کہاوتوں کے معنی اور ان کا جملوں میں درست استعمال کرنے کی مشق کریں ـ پہاڑوں کے ساتھ کسوٹیاں اور ضابطے یاد کریں ـ انگریزی گرامر کی مشق کریں ـ غیر نصابی کتابیں، اخبارات اور رسائل کا بھی مطالعہ کریں ـ خوش خطی، زبانی امتحان ،انٹرویو اور پریکٹیکل وغیرہ کی تیاری پر ابھی سے توجہ دیں ـ 
نویں جماعت کے امتحانی پرچوں کو حل کریں ـ ان کا تجزیہ کریں کہ کس قسم کے سوالات پوچھے جاتے ہیں ـ ایک ہی سوال کو مختلف انداز سے کس طرح امتحان میں پوچھا جاتا ہے؟ اس کو نوٹ کریں ـ اپنے اساتذۂ کرام اور سرپرستوں کی رہنمائی میں آپ مصنوعی ذہانت کی بھی مدد لے سکتے ہیں اور اپنی تیاری کو بہتر بناسکتے ہیں ـ رہی بات موبائل کا استعمال اور اسکرین ٹائم کم کرنے کی ،تو اس کار ِ خیر کے لیے آپ کو کسی نصیحت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے ـ اپنی صحت اور غذا پر بھی توجہ دیں ـ صحت بخش اور متوازن غذا استعمال کریں ـ ہلکی پھلکی ورزش بھی کرتے رہیں ـ پڑھائی کے ایام میں بھرپور نیند لیں ـ اکثر طلبہ امتحان کے ایام میں بہت زیادہ جاگتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی پڑھائی متاثر ہوجاتی ہے ـ 
دسویں جماعت میں آپ کتنے فیصد مارکس حاصل کرنے ہیں ، یہ نویں جماعت میں ہی طے کرلیں ـ اکثر ہوتا یہ ہے کہ ہمارے طلبہ اپنا گول یعنی مقصد طے نہیں کرتے ـ بس دوستوں اور سہیلیوں کی دیکھا دیکھی اختیاری مضامین، کوچنگ کلاسز کا انتخاب اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں ـ آپ کو دسویں جماعت کی بنیاد نویں کلاس میں ہی رکھنی ہے، تب ہی آپ دسویں جماعت میں نمایاں کامیابی سے ہمکنار ہوں گے، کیوں کہ ہر طالب علم کی صلاحیت ،حالات اور پسند و ناپسند مختلف ہوتی ہے ـ اسی کے مطابق ہمیں اسکول، مضمون اور کلاس کا انتخاب کرنا چاہیے ـ آپ نویں جماعت میں تو یہ سب تبدیل نہیں کرسکتے لیکن اگر ابھی سے محنت شروع کردیں اور مستقل مزاجی سے مسلسل محنت کرتے رہیں تو دسویں جماعت میں آپ کا تعلیمی معیار بلند ہوسکتا ہے ـ آپ کا دسویں جماعت کا رزلٹ بہتر ہوسکتا ہے اور مستقبل روشن ہوسکتا ہے ـ بس شرط یہ ہے کہ آپ نویں جماعت میں سستی اور دھینگا مستی کی بجائے ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ پڑھائی پر دھیان دیں ـ یاد رکھیں کہ ساری کوشش، محنت، بھاگ دوڑ اور تگ و دو ،نویں اور دسویں کے امتحان سے پہلے تک ہے ـ آپ امتحان سے پہلے جتنی محنت کریں گے اتنا ہی آپ کا رزلٹ بہتر ہوگا ـ ہر ہفتے یا مہینے اس بات کا جائزہ بھی لیں کہ آپ نے اپنی ہی کی ہوئی منصوبہ بندی پر کتنا عمل کیا؟ اور کہاں آپ کمزور پڑ رہے ہیں؟ اپنی کمزوریوں پر قابو پاتے ہوئے منصوبہ بندی اور ٹائم ٹیبل میں آپ مناسب تبدیلی بھی کرسکتے ہیں ـ
رزلٹ کے بعد کم مارکس ملنے پر آپ کے حیلے بہانے ، رونا دھونا اور بھاگ دوڑ آپ کے رزلٹ کو بہتر نہیں بناسکتی ـ اس لیے ابھی وقت ہے، ابھی سے پڑھائی اور اپنے مستقبل کو سنوارنے میں جٹ جائیں ـ یاد رکھیں کہ دسویں جماعت کا رزلٹ ایک سال میں یا صرف امتحان کے وقت تیار نہیں ہوتا بلکہ نویں جماعت کے ان ہی ایام میں تشکیل پاتا ہے ـ آج کی محنت کا پھل کل کامیابی کی صورت میں آپ کے سامنے ہوگا ـ







کسماگرج پرتسٹھان (ناسک) کی جانب سے ڈاکٹر بشیر بدر کو شاندار خراجِ عقیدت
ناسک (نامہ نگار):
۱۰ جون بروز بدھ شام ۶ بجے ناسک میں کسماگرج پرتسٹھان کے زیرِ اہتمام اردو کے عظیم شاعر، غزل کے معتبر اور مقبول ترین فنکار ڈاکٹر بشیر بدر کی یاد میں ایک پُروقار تعزیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مرحوم کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
اس تعزیتی تقریب کی صدارت جناب جاوید انصاری (آکاش وانی) نے فرمائی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں ایڈوکیٹ نند کشور بھتڑا، ایڈوکیٹ ولاس لوناری (رکن و ٹرسٹی کسماگرج پرتسٹھان) سمیت دیگر معزز شخصیات اسٹیج پر موجود تھیں۔
صدرِ جلسہ جناب جاوید انصاری نے ڈاکٹر بشیر بدر کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عہد کے سب سے معتبر اور ہر دلعزیز غزل گو شاعر تھے۔ انہوں نے مالیگاؤں، جلگاؤں اور بھوپال میں ڈاکٹر بشیر بدر سے ہونے والی ملاقاتوں کا تذکرہ کیا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ادبی سرمایہ سمجھے جانے والے بزرگوں کے آخری ایام میں ان سے جس طرح کی ہمدردی اور وابستگی کا اظہار ہونا چاہیے، وہ نظر نہیں آتا، جو ہم سب کے لیے ایک اہم سوال اور لمحۂ فکریہ ہے۔
محبِ اردو اور معروف قانون داں ایڈوکیٹ نند کشور بھتڑا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان اور ادب سے ان کی محبت کا پہلا زینہ ڈاکٹر بشیر بدر کی شاعری رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ مرحوم کے خوبصورت اور فکر انگیز اشعار سے بے حد متاثر رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بشیر بدر کے متعدد اشعار سنائے اور کہا کہ ان کے کلام میں پوشیدہ پیغام کو عوام تک پہنچانا ہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔
ایڈوکیٹ بھتڑا نے کسماگرج پرتسٹھان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے مراٹھی ادب کے ساتھ ساتھ اردو کے اس عظیم شاعر کی یاد میں تعزیتی جلسہ منعقد کرکے قابلِ ستائش مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ادارے کی جانب سے اردو ادبی محفلوں کا اہتمام کیا جاتا رہے۔
کسماگرج پرتسٹھان کے ٹرسٹی ایڈوکیٹ ولاس لوناری نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ مراٹھی شعرا کے ساتھ ساتھ اردو اور ہندی کے ممتاز شعرا سے بھی گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ڈاکٹر بشیر بدر کے کلام سے خصوصی طور پر متاثر رہے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر مرحوم کے متعدد مقبول اشعار بھی سامعین کی نذر کیے۔
تقریب کے دوران ڈاکٹر بشیر بدر کی اہلیہ محترمہ راحت بدر کا خصوصی پیغام بھی سنایا گیا، جس میں انہوں نے کسماگرج پرتسٹھان اور تمام منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر بشیر بدر کی یاد میں منعقدہ اس پروگرام کو سراہا۔
تقریب کے آخری مرحلے میں ناسک شہر کے غزل سنگر راجیش بھالے راؤ اور سنجئے باون کڑے نے ڈاکٹر بشیر بدر کے منتخب کلام کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔
اس یادگار تعزیتی محفل کی نظامت ایڈوکیٹ زبیر سوداگر نے نہایت خوش اسلوبی اور مؤثر انداز میں انجام دی۔ پرتسٹھان کے آڈیٹوریم میں مراٹھی اور اردو ادب سے وابستہ شعراء، ادباء، دانشوروں اور ادب دوست حضرات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ جس میں ناسک بار کونسل کے صدر ایڈوکیٹ نتن ٹھاکرے،معروف مراٹھی شاعر ارون مہاترے،پرشانت کیندڑے،صنعتکار سنجے پٹیل، گلوکارہ راگینی کامٹھیکر،شاعر ارشاد وسیم و ریاض شیخ وغیرہ موجود تھے۔
آخر میں ایڈوکیٹ ولاس لوناری نے رسمِ شکریہ ادا کی، جس کے ساتھ یہ باوقار اور یادگار تعزیتی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔





خلیل ہائی اسکول سے رضاپورہ تک روڈ آخر کب تعمیر ہوگی؟ روڈ ہے یا وبال جان ؟ کیا سیاسی لیڈران اس روڈ پر کسی انسانی جان جانے اور بڑے حادثے کے انتظار میں ہے؟ 
گذشتہ تین سالوں سے پرشاسک (کمشنر ) راج تھا کہیں نہ کہیں روڈ راستے تعمیر ہورہے تھے۔ اسی دوران تقریبا" آج سے 8 مہینہ پہلے کمشنر نے اس روڈ کی تعمیر کے لئے 1 کروڑ کا فنڈ منظور کیا تھا۔ مگر روڈ سے پہلے انڈر گراونڈ ڈرینج کا کام ہو اسکے لئے روڈ کی تعمیر رک گئی ۔ انڈر گراونڈ ڈرینج کے بعد ٹھیکدار کی ٹال مٹولی جاری تھی کہ کارپوریشن الیکشن کا اچار سہیتہ لگ گیا۔جس سے روڈ کا کام زیر التوا کا شکار ہوگیا۔ اب سوال یہ ہیکہ شہر بھر میں روڈ راستے کی تعمیر کا ٹھیکہ جو لوگ لیتے ہیں وہ کون ہے کسی کو بتانے کی ضروت نہیں یہ پورا شہر جانتا ہے۔ خیر الیکشن ہوگیا کارپوریشن اقتدار میں کون لوگ براجمان ہوئے یہ بھی شہر نے دیکھا۔ مگر اس روڈ کا سابقہ 1 کروڑ کا فنڈ زمین کھاگئی یا آسمان ، روڈ کاغذ پر بن گئی اور بل نکل گیا، کون مل بانٹ کر کھایا؟ اللہ کو حساب تو بحرحال دیگا۔ اس روڈ کے اطراف کے تمام ہی راہ گیروں کا سوال یہی رہا کہ آخر کہاں گیا عوام کی جیب سے نکلا ہوا ٹیکس کی شکل میں روپیہ پیسہ اور کہاں گیا اس روڈ کا فنڈ؟ کون کون مل بانٹ کر کھالئے؟ رہی بات آج کے برسراقتدار کی انہوں نے 122 کروڑ کے بجٹ میں اس روڈ کا دوبارہ 2 کروڑ کا فنڈ پھر سے منظور کئے۔ اللہ کی پناہ کہ روڈ پہلے بنی نہیں اور 1 کروڑ کا بل نکل گیا۔ اب دوبارہ 2 کروڑ منظور ہوا۔ مگر اب بھی ٹھیکدار ٹال مٹول اور جھوٹی باتیں کرریے ہیں۔ بس یہ سننے میں آتا کہ بقرعید بعد شروع ہوجائے گا۔ فلاں ہفتہ فلاں دن شروع ہوجائے گا۔ مگر انہیں یہ شرم نہیں آتی کہ یہ روڈ کی حالت کیا سے کیا ہورہی ہے۔ روڈ پر سواری تو کیا پیدل چلنا دوبھر ہوا ہے۔ مگر نہ آج کے برسراقتدار کو فکر ہے نہ ہی انکے مثیر خاص ٹھیکدار کو فکر ہے اور نہ ہی شہر کے ہر سیاسی لیڈران کو فکر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ روڈ اب وبال جان بن چکا ہے۔ یا پھر ہر سیاسی لیڈران اس اہم روڈ پر کسی انسانی جان جانے یا بڑے حادثے کے انتظار میں ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

نویں کے طلبہ سے...ڈاکٹر مبین نذیر آپ سوچیں گے کہ بھئی یہ نویں جماعت کے طلبہ سے کیا کہنا؟ ابھی تو ان کے بورڈ کے امتحا...