اسرائیلی سفیر کا جواب
پرینکا گاندھی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے نئی دہلی میں اسرائیلی سفیر روون عازر نے ان کے الزامات کو ’’شرمناک فریب‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے ایکس پر لکھا:
’’شرمناک آپ کا فریب ہے۔ اسرائیل نے 25 ہزار حماس کے جنگجوؤں کو مارا ہے۔‘‘
سفیر نے مزید کہا کہ شہری ہلاکتوں کی وجہ حماس کی ’’سنگین حکمتِ عملی‘‘ ہے، جس میں وہ شہریوں کے پیچھے چھپتے ہیں، ان لوگوں پر فائرنگ کرتے ہیں جو محفوظ مقامات کی طرف نکلنے یا امداد لینے کی کوشش کرتے ہیں، اور اسرائیل پر راکٹ داغتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں 20 لاکھ ٹن خوراک بھیجی ہے لیکن حماس اسے قبضے میں لینے کی کوشش کرتی ہے، جس سے بھوک پیدا ہوتی ہے۔
مزید کہا:
گزشتہ 50 سال میں غزہ کی آبادی 450 فیصد بڑھی ہے، وہاں کوئی نسل کشی نہیں ہو رہی۔ حماس کے اعداد و شمار پر یقین نہ کریں۔‘‘
گزشتہ 50 سال میں غزہ کی آبادی 450 فیصد بڑھی ہے، وہاں کوئی نسل کشی نہیں ہو رہی۔ حماس کے اعداد و شمار پر یقین نہ کریں۔‘‘
ٹرمپ نے بدل لیا اپنا پروگرام... اب پوتن سے روس میں ہوگی براہ راست ملاقات، جانئے کیوں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا اعلان کیا ہے۔ اس جمعہ، 15 اگست کو، وہ ذاتی طور پر روس کا دورہ کریں گے اور صدر ولادیمیر پوتن سے روبرو بات چیت کریں گے۔ ٹائمنگ کمال کی ہے، کیونکہ کچھ ہی دیر پہلے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے فون پر بات کی تھی۔ اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ اور پوتن کی الاسکا میں ملاقات ہونے والی تھی۔
یہ اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ شرمناک ہے، یہ گھنونا ہے، یہ گندا ہے، لیکن میں پوتن سے ملنے جا رہا ہوں۔ میں جمعہ کو روس جا رہا ہوں۔ اس دورے کو ہائی اسٹیک کہا جا رہاہے کیونکہ عام طور پر امریکہ اور روس کے رہنماؤں کے درمیان براہ راست ملاقات نہیں ہوتی۔
ویسے ٹرمپ روس کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر نہیں ہیں۔ آئزن ہاور، ریگن، جارج بش سینئر اور جونیئر سبھی اپنے وقت میں ماسکو یا سوویت یونین جا چکے ہیں۔ کبھی ان دوروں سے تعلقات میں گرمجوشی آئی تو کبھی یہ محض فوٹو سیشن ہی بن کر رہ گیا تھا ۔
ویسے ٹرمپ روس کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر نہیں ہیں۔ آئزن ہاور، ریگن، جارج بش سینئر اور جونیئر سبھی اپنے وقت میں ماسکو یا سوویت یونین جا چکے ہیں۔ کبھی ان دوروں سے تعلقات میں گرمجوشی آئی تو کبھی یہ محض فوٹو سیشن ہی بن کر رہ گیا تھا ۔
جسٹس یشونت ورما کے مواخذے کی تحریک لوک سبھا میں منظور، تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل
لوک سبھا اسپیکر نے جسٹس یشونت ورما کے مواخذے کی تحریک قبول کرلی، تین رکنی تحقیقاتی پینل تشکیل
لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے سابق دہلی ہائی کورٹ جج جسٹس یشونت ورما کے خلاف مواخذے کی تحریک قبول کرتے ہوئے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔ اس کمیٹی میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اروند کمار، مدراس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منیندرا موہن شریواستو، اور کرناٹک کے سینئر وکیل بی وی اچارہ شامل ہیں۔
یہ کمیٹی اس واقعے کی تحقیقات کرے گی جس میں سابق جج کے گھر سے جلی ہوئی نقدی کے بنڈل برآمد ہوئے تھے۔ یہ نقدی اس وقت ملی جب ان کے گھر میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔
اسپیکر اوم برلا نے بتایا کہ جسٹس ورما کے خلاف 146 اراکینِ پارلیمنٹ نے مواخذے کی تحریک پر دستخط کیے ہیں۔ سپریم کورٹ کی ایک کمیٹی نے بھی سفارش کی تھی کہ ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے کارروائی شروع کی جائے۔
اوم برلا نے کہا ’’جسٹس یشونت ورما کے خلاف مواخذے کی درخواست موصول ہوئی ہے۔ جب ان کے گھر میں آگ لگی، تب نقدی برآمد ہوئی۔ ہم نے ججز انکوائری ایکٹ کی دفعات کا جائزہ لیا ہے۔ ہمیں ان کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اس شکایت کو سنگین قرار دیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے بھی غور و فکر کے بعد یہ ضروری سمجھا کہ تحقیقات ہوں۔ کمیٹی کی رپورٹ میں جج کو ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ ’’یہ معاملہ زیرِ التواء ہے اور اس پر تحقیقات ہوں گی۔ جسٹس یشونت ورما کو ہٹانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ میں نے اس کمیٹی کی منظوری دے دی ہے۔ جج کو ہٹانے کا عمل آئین میں درج قواعد کے مطابق شروع ہونا چاہیے۔‘‘
ہندوستان میں کسی جج کو عہدے سے ہٹانے کا عمل نہایت پیچیدہ اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہوتا ہے، جسے ’’مواخذہ‘‘ (Impeachment) کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے پارلیمنٹ کے ایک بڑے حصے کی حمایت ضروری ہوتی ہے اور تحقیقات ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کرتی ہے۔
جسٹس یشونت ورما کے خلاف الزامات اُس وقت سامنے آئے جب ان کے گھر میں آگ لگی اور وہاں سے مبینہ طور پر بڑی مقدار میں جلی ہوئی نقدی ملی۔ اس واقعے نے عدلیہ میں شفافیت اور بدعنوانی کے معاملات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔