Saturday, 23 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

غزہ میں ہم لوگوں کے ساتھ... احمد آباد میں مسجد سے مسجد جا رہا تھا ملک شام کا نوجوان ، ارادے جان کر پولیس بھی رہ گئی دنگ

احمد آباد پولیس نے غزہ میں اسرائیل کی کارروائی کے درمیان ہندوستان میں کی جانے والی ایک بڑی دھوکہ دہی کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ شام میں رہنے والے کچھ لوگ گجرات کی مساجد سے پیسے جمع کر رہے تھے۔ بھتہ خوری کے ذریعے یہ لوگ اپنے آپ کو غزہ کا مظلوم بتا کر چندہ مانگتے تھے اور اس رقم سے شاہانہ زندگی گزار رہے تھے۔ احمد آباد کرائم برانچ نے اس معاملے میں ایک شامی شہری علی میثت الظاہر کو گرفتار کیا ہے۔ اس معاملے میں تین دیگر مفرور بتائے جاتے ہیں۔

غزہ کے نام پر فراڈ
کرائم برانچ کے مطابق علی اور اس کے تین ساتھی احمد آباد کی مساجد میں جایا کرتے تھے۔ وہاں وہ لوگوں کو بتاتے کہ وہ غزہ کے تنازعے کا شکار ہیں اور انہیں زندہ رہنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔ لوگ ہمدردی دکھاتے اور پیسے دیتے۔ لیکن سچ یہ تھا کہ یہ رقم نہ تو کسی مظلوم تک پہنچی اور نہ ہی کسی امدادی کام میں استعمال ہوئی۔ ملزمان اس رقم سے پرتعیش اور شاہانہ زندگی گزار رہے تھے۔
ملزم سیاحتی ویزے پر آیا تھا
پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزم علی میثت الظاہر شام کا رہائشی ہے اور وہ سیاحتی ویزے پر ہندوستان آیا تھا۔ اس نے یہاں آکر ایک گینگ بنالیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ فراڈ شروع کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایکٹ نہ صرف ویزا قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ ملک کی اندرونی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔
اس شخص کو ملک بدر کر دیا جائے گا
احمد آباد کرائم برانچ کے حکام نے بتایا کہ گینگ کے باقی تین ارکان فرار ہیں اور ان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مرکزی اور ریاستی سیکورٹی ایجنسیاں بھی اس جانچ میں شامل ہو گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس کے پیچھے کوئی بڑی سازش تو نہیں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ علی میثت الظاہر کو گرفتار کرنے کے بعد اب ان کی ملک بدری کا عمل شروع ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی جب اس کے ساتھی پکڑے جائیں گے تو یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ کیا یہ محض دھوکہ دہی اور عیاشی کے لیے تھا یا کسی دہشت گرد تنظیم سے جڑا کوئی بڑا نیٹ ورک اس میں سرگرم ہے۔
کولکتہ ایئرپورٹ پر محکمہ کسٹمزکے کتے کا حملہ، 4 سالہ بچہ زخمی، FIR درج

پولیس کے مطابق متاثرہ بچے کا نام انَو جین ہے جو اپنے والدین کے ساتھ روانگی گیٹ 4A اور 4B کی جانب جا رہا تھا۔ اسی دوران ’’نینسی‘‘ نامی ایک چار سالہ جرمن شیفرڈ (السیشن) کتیا اچانک قابو سے باہر ہوگئی اور بچے پر جھپٹ پڑی، جس کے نتیجے میں اس کی کمر پر گہرے زخم آئے۔ بچے کو فوراً اسپتال لے جایا گیا جہاں اسے رات بھر زیرِ علاج رکھا گیا اور اب وہ 28 دن کے دوران پانچ اینٹی ریبیز انجیکشنز کے کورس سے گزر رہا ہے۔

والد کا الزام

بچے کے والد رونک جین، نے اپنی ایف آئی آر میں الزام لگایا کہ کتے کی ہینڈلنگ کرنے والا کسٹمز اہلکار مکمل طور پر نااہل تھا اور اس نے حملے کے بعد اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر کتے کو لے کر وہاں سے فرار اختیار کرلیا۔ والدین کے مطابق انہوں نے فوری مدد کے لئے چیخ و پکار کی لیکن اہلکاروں نے بروقت کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
خاندان کا غم و غصہ

انَو کے چچا، روشن جین نے بتایا کہ پورا خاندان بڑی خوشی سے ایئرپورٹ میں داخل ہوا تھا، یہاں تک کہ بچے کی تصاویر بھی لی گئیں۔ مگر لمحوں بعد یہ المناک واقعہ پیش آگیا۔ ان کے مطابق:
’’پندرہ منٹ تک ہمیں کوئی مدد نہیں ملی۔ آخر کار CISF اہلکار ڈاکٹر کو لائے۔ لیکن ڈاکٹر نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے ہمیں کہا کہ آپ اپنی یاترا جاری رکھ سکتے ہیں۔‘‘

والد رونک جین نے مزید کہا کہ ایئرپورٹ حکام نے شدید لاپرواہی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ جب انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج مانگا تو انکار کر دیا گیا۔

پولیس کارروائی

بیدھن نگر پولیس نے کسٹمز ڈاگ ہینڈلر کے خلاف فوجداری مقدمہ (FIR) درج کرلیا ہے۔ نئی فوجداری ضابطہ (BNS) کی ایک دفعہ کے تحت ملزم کو چھ ماہ قید یا 500 روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ ایئرپورٹ اتھارٹیز نے کہا ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

کسٹمز محکمہ کی خاموشی

ذرائع کے مطابق ’’نینسی‘‘ نامی یہ کتیا اٹاری کے کسٹمز کینائن ٹریننگ سنٹر سے تربیت یافتہ تھی اور منشیات پکڑنے کے لئے استعمال کی جا رہی تھی۔ تاہم کسٹمز حکام نے میڈیا کے رابطہ کرنے پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

چار سالہ بچے کو اس سانحے کے باعث اپنی چھٹیاں اور خوابیدہ سفر ترک کرنا پڑا۔ خاندان اب بچے کے علاج اور نفسیاتی بحالی پر توجہ دے رہا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایئرپورٹ سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے بلکہ مسافروں کے تحفظ کے حوالے سے بھی سنگین تشویش پیدا کرتا ہے۔
ہندوستان کے بڑے ایئرپورٹس پر کسٹمز اور سیکیورٹی ایجنسیاں اسنیفر ڈاگز کا استعمال کرتی ہیں تاکہ منشیات، دھماکہ خیز مواد اور دیگر غیر قانونی اشیاء پکڑی جا سکیں۔ یہ کتے عام طور پر سخت تربیت سے گزرتے ہیں اور اپنے ہینڈلر کے ساتھ ہی کام کرتے ہیں۔ تاہم اگر ہینڈلر ذرا بھی لاپرواہی کرے تو ایسے ناخوشگوار واقعات رونما ہوسکتے ہیں، جیسا کہ کولکتہ ایئرپورٹ کے اس واقعے میں ہوا۔
ا ب یہ طے ہے، ٹی ایم سی جائے گی اور بی جے پی آئے گی، پی ایم مودی کا ممتا پر نشانہ
کولکتہ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو مغربی بنگال کی حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے ترقیاتی کاموں کے لیے بھیجی گئی رقم یہاں لوٹ لی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، “بنگال میں ترقیاتی کاموں کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ ہم جو پیسہ براہ راست ریاستی حکومت کو بنگال کے لیے بھیجتے ہیں… اس کا زیادہ تر حصہ یہاں لوٹا جاتا ہے۔ وہ رقم ٹی ایم سی کیڈرس پر خرچ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنگال غریبوں کی فلاح و بہبود کی کئی اسکیموں میں ملک کی دیگر ریاستوں سے پیچھے ہے

پی ایم مودی نے مزید کہا، “کچھ سال پہلے، پڑوسی ریاست آسام اور تریپورہ میں یہی صورتحال تھی، لیکن جب سے آسام اور تریپورہ میں بی جے پی کی حکومت بنی ہے، وہاں کے لوگوں کو غریبوں کی فلاح و بہبود کی اسکیموں کا فائدہ ملنا شروع ہوگیا ہے۔ آج ان ریاستوں میں ہر گھر تک پانی پہنچانے کا کام تیزی سے چل رہا ہے، ہر غریب کو پانچ لاکھ روپے تک کا مفت علاج مل رہا ہے، آیوشمان اسکیم کے تحت غریبوں کا پانچ لاکھ روپے تک کا مفت علاج ہو رہا ہے۔”
مغربی بنگال کو تبدیلی کی ضرورت ہے’
ممتا حکومت کو گھیرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا، “آج مغربی بنگال کو ایک نئی شروعات اور تبدیلی لانے والی حکومت کی اشد ضرورت ہے۔ آزادی کے بعد سے، ریاست نے کانگریس اور بعد میں بائیں بازو کی حکمرانی کا طویل تجربہ کیا ہے۔ 15 سال پہلے، مغربی بنگال کے لوگوں نے تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا اور ما، ماٹی ، مانوش کے نعرے پر بھروسہ جتایا تھا۔ حالانکہ تب سے اب کی حالات اور بھی خراب ہے۔
وزیراعظم مودی نے کولکتہ کو بڑی سوغات دیتے ہوئے کولکتہ میٹرو کی تین نئی لائنوں کا افتتاح کیا۔ پی ایم نے میٹرو میں سفر بھی کیا۔ اس دوران انہوں نے بچوں سے ہنسی مذاق کیا۔ ساتھ ہی مسافرین سے ان کی خیریت دریافت کی۔

تقسیم انعامات سے متعلق اہم اطلاع

تقسیم انعامات سے متعلق اہم اطلاع  بجاج فائنانس کی جانب سے ایک پرکشش اسکیم شروع کی گئی تھی جسمیں یکم اپریل سے جون تک بجاج فائنان...