بھارت اپنا خلائی اسٹیشن تعمیر کرے گا: وزیراعظم مودی
بھارت اپنا خلائی اسٹیشن تعمیر کرے گا، نوجوانوں کو ’’ایسٹرونٹ پول‘‘ میں شامل ہونے کی دعوت
وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتے(23،اگست) کے روز نیشنل اسپیس ڈے (National Space Day) کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بھارت جلد ہی اپنا خلائی اسٹیشن (Space Station) تیار کرے گا۔ اس موقع پر انہوں نے بھارتی خلا باز گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا کی تاریخی کامیابی کا ذکر کیا، جنہوں نے حال ہی میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) پر ترنگا لہرایا تھا
مودی نے کہا کہ بھارت تیزی سے جدید خلائی ٹیکنالوجیز جیسے سیمی۔کریوجینک انجنز اور الیکٹرک پروپلشن میں ترقی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے سائنسدانوں کی محنت سے جلد ہی گگن یان مشن (Gaganyaan Mission) کامیابی حاصل کرے گا اور آنے والے وقت میں بھارت اپنا خلائی اسٹیشن تعمیر کر کے دنیا کو حیران کر دے گا۔
وزیراعظم نے نوجوان نسل کو اس مشن کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہوئے کہا:
’’آج کے دن، میں اپنے نوجوان دوستوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بھارت کے ’ایسٹرونٹ پول‘ کا حصہ بنیں اور ملک کے خوابوں کو پر لگائیں۔‘‘
وزیراعظم نے مزید کہا کہ انہوں نے حال ہی میں خلا باز شبھانشو شکلا سے ملاقات کی، جنہوں نے بھارت کا پرچم خلائی اسٹیشن پر لہرا کر پورے ملک کو فخر سے سرشار کر دیا۔ وزیراعظم کے مطابق یہ لمحہ اور وہ جذبہ الفاظ سے ماورا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شبھانشو شکلا کی جرات اور نوجوان بھارت کے خواب ایک نئے عہد کی بنیاد ہیں۔
بھارت کی خلائی ایجنسی اسرو (ISRO) دنیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی خلائی ایجنسیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 1975 میں پہلے بھارتی سیٹلائٹ آریہ بھٹ کی لانچنگ سے آغاز ہوا اور آج بھارت چاند پر مشن بھیجنے، مریخ تک پہنچنے اور اب انسانی خلا مشن ’’گگن یان‘‘ کی تیاری تک آ گیا ہے۔
’ اگر پسند نہیں تو مت خریدیں‘ : جے شنکر کا امریکی الزامات پر دو ٹوک جواب
وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے امریکہ اور یورپ کو روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی ملک کو بھارت سے ریفائنڈ آئل یا دیگر مصنوعات خریدنے میں مسئلہ ہے تو وہ خریدے ہی نہ، لیکن بھارت اپنی قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرتا رہے
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر سخت اقتصادی اقدامات کرتے ہوئے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کردیا۔ اس میں 25 فیصد اضافی ٹیکس بھی شامل ہے جو بھارت کی بڑھتی ہوئی روسی تیل کی درآمدات کو ’’سزا‘‘ کے طور پر لگایا گیا ہے۔
جے شنکر کا دوٹوک پیغام
جے شنکر نے ایکنامک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم 2025 میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
’’ یہ مضحکہ خیز ہے کہ ایک پرو۔بزنس امریکی حکومت کے نمائندے دوسروں پر بزنس کرنے کا الزام لگائیں۔ اگر آپ کو بھارت سے تیل یا ریفائنڈ پروڈکٹس خریدنے میں اعتراض ہے تو مت خریدیں۔ کوئی بھی آپ کو خریدنے پر مجبور نہیں کرتا۔ یورپ بھی خرید رہا ہے، امریکہ بھی خرید رہا ہے، لیکن اگر آپ کو پسند نہیں تو خریداری بند کریں۔‘‘
بھارت ۔ پاکستان تنازع اور ثالثی پر مؤقف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر بھی جے شنکر نے سخت ردِعمل دیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کروا سکتے ہیں۔ جے شنکر نے واضح کیا کہ
’’ بھارت میں اس بات پر قومی اتفاق رائے ہے کہ ہم اپنے پڑوسی کے ساتھ کسی بھی مسئلے میں تیسری پارٹی کی ثالثی قبول نہیں کرتے۔‘‘
کسانوں اور تجارتی مفاد پر حکومت کا مؤقف
جے شنکر نے مزید کہا کہ ’’ یہ حکومت کسانوں کے مفاد، تجارتی معاملات، اسٹریٹیجک خودمختاری اور ثالثی کی مخالفت کے معاملے پر بالکل واضح ہے۔ جو لوگ ہمارے مؤقف پر اعتراض کرتے ہیں وہ بھارتی عوام کو جا کر بتائیں کہ آپ کسانوں کے حق میں کھڑے نہیں ہونا چاہتے یا آپ اسٹریٹیجک خودمختاری کو اہمیت نہیں دیتے۔ لیکن ہم دیتے ہیں، اور اپنی حفاظت کے لیے جو کرنا ہوگا، کریں گے۔‘‘
بھارت کا امریکہ کو جواب
بھارت نے امریکہ کے فیصلے کو ’’غیر منصفانہ، بلاجواز اور غیر معقول‘‘ قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ بھارت کو بلاوجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ کئی دوسرے ممالک بھی روس سے سستا تیل خرید رہے ہیں تاکہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر سکیں۔
امریکی الزامات اور بھارتی ردِعمل
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھارت پر ’’منافع خوری‘‘ (profiteering) کا الزام لگایا اور کہا کہ روسی تیل اب بھارت کی مجموعی درآمدات کا 42 فیصد بن چکا ہے، جو جنگ سے پہلے 1 فیصد سے بھی کم تھا۔ بیسنٹ نے مزید کہا کہ چین، جو روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اس کی درآمدات میں اضافہ صرف 13 فیصد سے 16 فیصد ہوا ہے۔
بھارت نے روس۔یوکرین جنگ کے دوران روس سے تیل خریدنے کی حکمت عملی اپنائی، کیونکہ روس عالمی منڈی سے الگ تھلگ ہونے کے بعد بھارت اور چین کو رعایتی نرخوں پر تیل فراہم کر رہا ہے۔ بھارت اپنی توانائی کی 80 فیصد ضروریات درآمد کے ذریعے پوری کرتا ہے، اس لیے سستا روسی تیل بھارت کے لیے معاشی اور اسٹریٹیجک دونوں حوالوں سے فائدہ مند ہے۔
امریکہ اور یورپ چاہتے ہیں کہ بھارت روس پر دباؤ بڑھائے، لیکن بھارت بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی پالیسی ’’اسٹریٹیجک خودمختاری‘‘ (Strategic Autonomy) پر بناتا ہے اور مغرب کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔ یہ معاملہ مستقبل میں بھارت-امریکہ تجارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب چین کو اسی طرح کے سخت اقدامات کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔
سماج سدھار کمیٹی کی جانب سے منعقدہ جلسہ اصلاح معاشرہ کامیابی سے ہم کنار۔
الحمدللہ مورخہ 22 اگست 2025 مطابق 27 صفر المظفر 1447 بروز جمعہ شام 7 بجے سے رات 10 بجے تک مالیگاؤں سماج سدھار کمیٹی کی جانب ایک جلسہ اصلاح معاشرہ کا انعقاد بنکر لانس میں کیا گیا جس کا افتتاح شہر عزیز مالیگاؤں کے بہترین قاری قرآن قاری زبیر اختر عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی قرأت قرآن مجید سے ہوا بعدہ حضرت موصوف نے ہی نعت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا نذرانہ بھی پیش فرمایا جبکہ نظامت کے فرائض حضرت مولانا ساجد خان صاحب ملی ندوی دامت برکاتہم نے انجام دئیے۔
پروگرام کے ابتدائی مقرر مولانا عقیل احمد ملی قاسمی نے تعلیم کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ہمیں مجموعی طور پر تعلیم کے میدان میں بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جب تک ہم اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر تعلیم کے میدان میں آگے نہیں لائیں گے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
اس کے بعد جمیعت اہل حدیث مالیگاؤں کے اہم ذمہ دار محترم جناب مولانا مصطفی بشیر مدنی صاحب حفظہ اللہ نے مختصراً بہت ہی اہم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر دھیان دینا بھی بہت اشد ضروری ہے اور تربیت کے لئے اپنی اولاد کے ساتھ دوستانہ ماحول بنانا بنیادی تقاضا ہے تاکہ بلا جھجھک اولاد اپنے مسائل ہمیں بتا سکے جب تک وہ مسائل ہمیں نہیں بتائیں گے ہم ان کا حل کیسے تلاش کریں گے۔
موصوف محترم کے بعد سنی اشرف اکیڈمی کے صدر محترم جناب اطہر حسین اشرفی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ اب ہمیں کارنر میٹنگیں بکثرت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارا سماج برائیوں سے پاک ہوسکے۔
بعد ازاں جماعت اسلامی مالیگاؤں کے امیر محترم جناب رمضان فیمس صاحب نے تعلیم کی اہمیت یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ہمیں علم نافع ہر حال میں حاصل کرنا چاہئے بغیر تعلیم کے ترقی کے خواب دیکھنا غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔
موصوف کے بعد اس پروگرام کے مہمان مقرر شہر جلگاؤں سے تشریف لائے ہوئے حضرت مولانا مفتی محمد ہارون ندوی دامت برکاتہم نے مسلمانوں کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ایک مکمل سماج کے لئے ہمیں اچھے ڈاکٹر ٹیچر انجینئر سائنس داں ججس وکلاء سیاستدانوں کی ضرورت ہے جب تک ہم ہر لائن میں اپنے بچوں کو آگے نہیں لائیں گے تب تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
اخیر میں پروگرام کے صدر محترم شہر عزیز مالیگاؤں کے قاضی شریعت حضرت مولانا مفتی محمد حسنین محفوظ نعمانی دامت برکاتہم نے اپنے فکر انگیز خطاب میں کہا کہ پروگرام کے ذریعے پیغام پہنچا دیا گیا ہے اب آپ کی ذمہ داری ہے اپنی نسلوں کو پختہ تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ قوم کو نشہ سے بچانا ضروری ہے بصورت دیگر خودکشی وغیرہ واقعات پر قابو پانا بہت مشکل ہے اخیر میں حضرت مفتی صاحب کی دعاء پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔
اس پروگرام میں شہر مالیگاؤں کی عوام الناس کے ساتھ ساتھ علماء وحفاظ وائمہ کرام نے بڑی تعداد میں شرکت فرمائی بطور خاص مولانا مصطفی بشیر مدنی صاحب جناب اطہر حسین اشرفی صاحب محترم جناب شاہد رمضان فیمس صاحب قاری حفیظ الرحمٰن شمسی صاحب مولانا امین الجبار ملی صاحب حافظ آصف عثمانی صاحب مولانا سفیان جمالی صاحب مولانا عارف فلاحی صاحب مولانا عبد العلیم اشاعتی صاحب قاری ریحان فردوسی صاحب جناب عذیر رحمانی صاحب کے ساتھ ساتھ سماج سدھار کمیٹی کے ذمہ داران نے شرکت فرمائی۔