Saturday, 23 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

اپنے محسن کا استقبال بھی کرنے کی روادار نہیں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسی ہے مالیگاٶں کی مومن کانفرنس 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر۔۔۔۔احتشام انصاری 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مہذب معاشرے کی عام طور سے یہ روایت رہی ہے کہ اپنے ملک،ریاست، ضلع یا شہر میں جب کوٸی شخصیت صاحب اعزاز ہوتی ہے تو اس کا استقبال و خیرمقدم کیا جاتا ہے۔اور اس کے کرنے میں اپنے پراۓ کا کوٸی امتیاز نہیں برتا جاتا۔
  لیکن اس معاملے میں آل انڈیا مومن کانفرنس شاخ مالیگاؤں نے جس طریقے سے اس احسن روایت کی دھجیاں اڑاٸی ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیے۔حالیہ اسمبلی الیکشن تو آپ کو ابھی بھی یاد ہوگا۔اسلام پارٹی اور مجلس اتحادالمسلمین کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہوٸی۔اور مجلس کے امیدوار مفتی محمد اسماعیل قاسمی فاتح قرار پاۓ۔آپ کی اس کامیابی کے بعد شہر بھر کے اداروں ،تنظیموں اور ممتاز شخصیات نے ان کا استقبال کیا۔واضح رہے کہ اسلام پارٹی کے امیدوار شیخ آصف صاحب بھی کامیاب ہوتے تو ان کا بھی اسی طرح سے استقبال و خیرمقدم کیا جاتا۔کیوں کہ یہ ایک مہذب معاشرے کی دیرینہ روایت ہے۔اسی کی پاسداری میں مفتی محمد اسمعیل قاسمی صاحب کا استقبال شہر کی جانب سے کیا گیا۔ان استقبال کرنے والوں میں وہ بھی شامل تھے جنہوں نے ان کے مخالف امیدوار کی سرگرم تاٸیدوحمایت کی تھی۔اس کا مطلب قطعی یہ نہیں ہوتا کہ وہ مفتی صاحب کے حامی و ہمنوا ہو گیۓ۔
ہماری بات کو آسانی سے سمجھنے کے لیۓ ایک اہم مثال حالیہ دنوں کی ہے۔جمیعتہ القریش کی غیر معینہ ہڑتال ابھی بھی ریاست کے کسی نہ کسی حصے میں جاری ہے۔گذشتہ دنوں اس کے مقامی ذمہ داران نے واضح طور پر یہ اعلان کیا کہ ان کی یہ تحریک اسلام پارٹی کے بانی و سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید صاحب کی سرپرستی میں جاری ہے۔دو چار دنوں کے بعد اسی جمیعتہ القریش کے یہی ذمہ داران نے رکن اسمبلی مفتی محمد اسمعیل قاسمی صاحب سے ملاقات کی اور اپنےمساٸل سے موصوف کو آگاہ کیا ۔اس کا مطلب یہ تو کہیں سے بھی نہیں ہوتا کہ جمیعتہ القریش مفتی صاحب کی حمایتی بن گٸ۔
اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرماٸیے الیکشن کے نتائج کے کچھ دنوں کے بعد مقامی مومن کانفرنس کی میٹنگ ہوٸی۔یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ جب شہر میں مومن کانفرنس کا دوبارہ قیام عمل میں آیا۔اس کے لیۓ قومی صدد جناب فیروز احمد انصاری اور دیگر ریاستی ذمہ داران کی استقبالیہ تقریب کا پروگرام جے اے ٹی ہوا۔اس کے لیۓ فنڈ کے سلسلے میں ذمہ داران جب مفتی صاحب کے مکان پر پہنچے تو آپ نے کچھ کہنے سے قبل ہی پچاس ہزار روپے بطور عطیہ بلا شرط ان کے حوالے کر دیا۔جبکہ یہ بات اتنی ہی درست ہے کہ جمیل کرانتی اینڈ کمپنی کی مومن کانفرنس نے اسمبلی الیکشن میں مفتی صاحب کی حمایت کا اعلان تک نہیں کیا۔اور جب قومی سیکرٹری حافظ عبدالحفیظ انصاری نے مفتی صاحب کی حمایت کا اعلان کیا تو اس کی اخبارات اور سوشل میڈیا میں کھلے عام مخالفت کی گٸ۔اس کے باوجود مفتی صاحب نے مومن کانفرنس کی کبھی مخالفت نہیں کی۔اور نہ ہی اس بات کا کہیں پر بھی تذکرہ کیا۔
ہم ذکر خیر کر رہے تھے الیکشن کے بعد ہوٸی مومن کانفرنس کی میٹنگ کا۔اس میں ایک تجویز آٸی کہ الیکشن میں کامیابی پر مومن کانفرنس کی طرف سے مفتی صاحب کو مبارکباد دے کر استقبال کیا جاۓ۔آپ کو حیرت ہوگی اس تجویز کی مخالفت اس شدومد کے ساتھ کی گٸ کہ یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ مومن کانفرنس کی میٹنگ ہے۔سہیل ڈالریا،خورشید چمڑے والا اور دیگر اس تجویز کی سخت مخالفت پر آمادہ تھے۔بڑی مشکل سے دادا بھوسے کے استقبال کو شامل کر کے منظور تو ہوٸی لیکن عمل اس پر آج تک نہیں ہوا۔البتہ شیخ آصف کی کامیابی ہوتی تو نقشہ دوسرا ہوتا۔حالانکہ استقبال کیۓ جانے سے مومن کانفرنس پر مفتی صاحب کی حامی ہونے کا ٹھپہ نہیں لگ جاتا۔لیکن مومن کانفرنس والوں کو توفیق نہیں ہوٸی کہ اپنے محسن کا دلی نہ سہی روایتی استقبال ہی کر کے پروٹوکال کی خانہ پری ہی کر لیں۔اسی لیۓ ہم نے جمیعتہ القریش کی وسیع القلبی کی مثال سے مومن کانفرنس کی تنگ دلی کو واضح کرنے کی کوشش کی۔جب یہ لوگ اپنے محسن کا دکھاوے کا استقبال کرنے کے بھی روادار نہیں ہوۓان سےمومن برادری کا کچھ الا بھلا کیۓ جانے کی امید کیونکر باندھی جا سکتی ہے۔یہ بات تو آل انڈیا مومن کانفرنس کے مرکزی و صوبائی ذمہ داران کے سوچنے کی ہے۔
_____⭕⭕
آگ کا دریا ، کچھ یادیں 
میں نے جب یہ ناول پہلی بار پڑھا توذھن پر کچھ بہت اچھا تاثر قائم نہ ہوا ۔ بلکہ بیزاری کی کیفیت بھی طاری ہوئی ۔ میری عمر اس وقت سترہ برس رہی ہو گی ۔ ذہن نئے اور آفاقی نظریات قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا ۔ میں ہر پاکستانی نوعمر لڑکے کی طرح ہندوستان کی تقسیم کے اس نظریہ کا زبردست حامی تھا جو پاکستان کی درسی کتب سے لے کر جذبات میں ڈوبی کثیرالاشاعت کہانیوں اور ناولز میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔ تاریخی اسلامی ناول کثرت سے پڑھنے کی وجہ سے یہی سمجھتا تھا کہ بہت جلد غزوہ ہند برپا ہوگا اور پاکستان ، انڈیا پر قبضہ کر لے گا ۔ پھر ہر طرف امن و آشتی کا دور ہو گا اور راوی چین ہی چین لکھے گا ۔ :) 
خدا کا شکر ہے میرے یہ بچگانہ خیالات بہت ذیادہ دیر تک قائم نہ رہے ۔ اس کی ایک وجہ تو تاریخ ، فلسفے اور مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ ہے اور دوسری وجہ " آگ کا دریا " کا دوبارہ مطالعہ ۔ 

العین (ابوظہبی ) کے ادبی حلقوں سے وابستگی کے دوران ہندوستان سے تعلق رکھنے والے چند بہت ہی اچھے دوست ملے ۔ جو نہایت اعلیٰ علمی و ادبی پس منظر رکھتے تھے ۔ ہم ہر ویک اینڈ پر اکٹھے ہوتے ۔ شعرو نثر اور کتابوں پر گفتگو ہوتی ۔ وہیں ایک بہت عزیز دوست نے آگ کا دریا ، پھر پڑھنے کے لیے کہا ۔ چنانچہ اس کا دوبارہ گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کیا ۔ اور پھر میں قرۃ العین حیدر کی عظمت کا قائل ہوگیا ۔ اس کے بعد ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کے وہ سب ناول دوبارہ پڑھے جو کچی عمر میں بیزار ہو کر چھوڑ دیتا تھا ۔

1957-58 میں جب قرۃ العین حیدر نے آگ کا دریا لکھا تو ان کی عمر صرف تیس سال تھی ۔ وہ تقسیم کے بعد کراچی آ گئی تھیں ۔ تاہم اس ناول کی اشاعت کے دو سال بعد پہلے لندن اور پھر ہمیشہ کے لیے ہندوستان چلی گئیں ۔

 خیال کیا جاتا ہے کہ دو قومی نظریے کے حامی ادیبوں ، نقاد اور حکومتی حلقوں میں آگ کا دریا ،کی اشاعت پر ہونے والا ردعمل اس کی وجہ بنا۔

اُردو میں آگ کا دریا اپنی ساخت کے اعتبار سے انوکھا ناول ہے ۔ اس کی کہانی کا زمانی دور ڈھائی ہزار سال قبل سے شروع ہو کر بیسویں صدی کےوسط تک ہے ۔ 

میں نے اردو ادب کے تقریبا" تمام بڑے ناول پڑھے ہیں ۔ اگرچہ " اداس نسلیں " بھی عالمی ادب کے معیار کا ناول ہے تاہم میری رائے میں " آگ کا دریا " اردو کا سب سے اچھا ناول ہے ۔ آپ کے خیال میں میری یہ رائے کس حد تک درست ہے؟

کیا آپ نے یہ ناول پڑھا ہے؟ 

آپ کو یہ ناول پڑھ کر کیا محسوس ہوا؟

وحید احمد قمر 

ایڈمن 

عالمی افسانہ فورم
__________
🌼غزل 🌼ورن آنند 
چاند، ستارے، پھول، پرندے، شام، سویرا ایک طرف
ساری دنیا اُس کا چربہ اُس کا چہرہ ایک طرف

وہ لڑ کر بھی سو جائے تو اُس کا ماتھا چوموں میں
اُس سے محبت ایک طرف ہے اُس سے جھگڑا ایک طرف

جس شے پر وہ اُنگلی رکھ دے اُس کو وہ دِلوانی ہے
اُس کی خوشیاں سب سے اوّل سستہ مہنگا ایک طرف

زخموں پر مرہم لگواؤ لیکن اُس کے ہاتھوں سے
چارہ سازی ایک طرف ہے اُس کا چُھونا ایک طرف

ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابہ ہے
سب کا کہنا ایک طرف ہے اُس کا کہنا ایک طرف

اُس نے ساری دنیا مانگی میں نے اُس کو مانگا ہے
اُس کے سپنے ایک طرف ہیں میرا سپنا ایک طرف
وَرُن آنند
__________-
غزل
بدن جھڑے تو کپاسوں کے رنگ اڑنے لگے
کئی غلیظ مشینوں کے رنگ اڑنے لگے
۔
کئی لبوں کی عیادت کو ملتوی کر کے
وہ ہنس پڑا تو دلاسوں کے رنگ اڑنے لگے
۔
غریب شخص کی شہرت، حسد اُگاتی ہے
کنول کِھلا تو گلابوں کے رنگ اڑنے لگے
۔
ہمارے پاؤں کے جھڑنے کی بات پھیل گئی
تمام شہر کی سڑکوں کے رنگ اڑنے لگے
۔
جھلک رہی تھی کفن سےسفید کلکاری 
بڑے بزرگوں کی قبروں کے رنگ اڑنے لگے
۔
دعا کو ہاتھ اٹھائے تو رزق آن گرا
پھر اس کے بعد جو کاسوں کے رنگ اڑنے لگے
--
فرزاد علی زیرک
Ghazal
yahan to sirf kapaason ke rang udney lagey
udhar ghaleez machinon ke rang udney lagey
.
kayi labon ki ayadat ko multawi kar ke
woh hans para to dilasoon ke rang udney lagey
.
ghareeb shakhs ki shohrat, hasad ugaati hai
kanwal khilla to gulabon ke rang udney lagey
.
hamaray paao’n ke jhadne ki baat phail gayi
tamam shehar ki sarkon ke rang udney lagey
.
jhalak rahi thi kafan se safaid kilkaari
barray buzurgon ki qabron ke rang udney lagey
.
dua ko haath uthaye to rizq aan gira
phir us ke baad jo kaason ke rang udney lagey
--
#alizeerak

تقسیم انعامات سے متعلق اہم اطلاع

تقسیم انعامات سے متعلق اہم اطلاع  بجاج فائنانس کی جانب سے ایک پرکشش اسکیم شروع کی گئی تھی جسمیں یکم اپریل سے جون تک بجاج فائنان...