Tuesday, 12 August 2025

🔴*سیف نیوز بلاگر*

*دھولیہ جمعیت علماء(مولانا ارشد مدنی)کے زیر نگرانی پمپل نیر میں عظیم الشان اصلاح معاشرہ پروگرام کامیابی کے ساتھ ہمکنار*

پیپلنیر۔ مورخہ 10اگست 2025بروز اتوار کو بمقام ثناء ہال پمپل نیر میں ایک عظیم الشان اصلاح معاشرہ پروگرام کا انعقاد زیرصدارت مولانا شکیل احمد قاسمی صاحب (جنرل سیکرٹری جمعیت علماء دھولیہ) کے بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوا۔

الحمد للہ جمعیتہ علماء پمپل نیر نے کافی اچھی محنت کرکے پروگرام میں چار چاندلگایا۔جس میں ڈاکٹر سعید صاحب(صدر پمپل نیر) توصیف سید صاحب(جنرل سیکرٹری) اظہر شیخ ، ذاکر شیخ ، ہاشم سید ، وسیم شیخ ، نہال شیخ ، شیخ اویس ، شیخ جاوید پٹھان ، صاحبان کے علاوہ اور بھی احباب نے قربانی دی، مفتی صدیق صاحب کی تلاوت کے ذریعہ پروگرام کا آغاز ہوا ، نعت شریف کا نذرانہ حافظ داؤد صاحب نے پیش کیا ، الحاج مشتاق صوفی صاحب نےجمعیتہ علماء کا تعارف ، جمعیتہ علماء کے اغراض مقاصد ، جمعیتہ علماء کی خدمات اور قانونی امداد پر بہت اچھے طریقے سے روشنی ڈالی ، جنگ آزادی میں علماء کرام کی قربانیوں کو بتایا، جمعیت علماء کے قیام کے مقصد کو واضح کیا، اور جمعیت علماء ملک میں کیسی کیسی خدمات انجام دے رہی اس موضوع پر مفصل بات کی ، بعدہ ، حاجی محمد یوسف(پاپاسر) نے آج ہمارے لئے جمعیت علماء سے جڑنا کیوں ضروری ھے اس پر اپنے خیال کا اظہار بہت شاندار انداز میں پیش کیا، تعلیم پر زوردیا، اور ہمارا کوئی بھی مسئلہ آتا ھے تو جمعیتہ علماء کام کرتی اس لیے جمعیتہ علماء سے جڑنا ھے، اور بھی بھت اھم اھم باتوں کی طرف رہنمائی فرمائی ۔ 
الحمد اللہ، مولانا مبین یاسین ملی صاحب نے اصلاح معاشرہ کے لیے علمائے کرام کی ذمہ داری پر قرآن حدیث کی روشنی میں بہت ہی بہترین انداز میں ذمہ دارن کو سمجھایا، علمائے کرام کے ساتھ جڑنے کو کہا۔علمائے کرام کی بھی ذمہ داریوں کو واضح کرکے بتایا بہت مفید باتوں سے آغاکیا ، مفتی عمران صاحب(پمپل نیر) نے معاشرے سے اختلاف ، نفرت ، نشے ، سود ، جیسی دیگر برائیوں کو کیسے ختم کیا جاۓ اس موقع پر بہت اچھے طریقے سے روشنی دال کر بتایا کہ ھم نشے کو سماج سے ختم کرنا چاہتے لیکن اپنے ہاتھ میں خود تمباکو ہے ۔ تو صرف بولنے سے کام نہیں بلکہ اپنی ذات سے کوئی بھی کام شروع کرناچاہئے ، دلوں کو جو سکون ملے گا اللہ کے ذکر سے، ظاہر اور باطل کیسے بنے گا اسکو تفصیل کےساتھ سمجھایا ،
آخر میں مولانا شکیل احمد قاسمی نے خطبہ صدارت میں فرمایا کہ تمام جمعیتہ علماء کے ذمہ داران کے سامنے ابھی جمعیتہ کا تعارف، اغراض و مقاصد، خدمات، قانونی امداد، جمعیت سے جوڑنا، اصلاح معاشرہ، نفرت، نشے سود پر بھت اچھے انداز میں باتوں کو سنا. میں آپ کو جمعیتہ علماء کے تعلق سے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ملک میں جمعیت علماء کیسے کاموں کو انجام دے رھی، سنو آسام میں ساٹھ ہزار شہرت دلانے کاکام جمعیت نے کیا، جس میں .مسلمانوں کے ساتھ برادران وطن بھی شامل ھے، بے سہاراؤں کو سہارا دینے کا کام کیا، بابری مسجد کے معاملہ میں سب سے پہلے پٹیشن داخل کیا،ملک میں جو بھی مسئلہ اٹھتا اسکے لے صدر محترم اپنی آواز کو بلند کرتے اور بھت اہم اہم قیمتی باتوں کو جمعیت علماء کے اراکین کے سامنے رکھا گیا، 
نظامت کے فرائض و شکریہ کی رسم بہت اچھے انداز میں حافظ عمران صاحب نے انجام دی (ساکری)ساتھ میں انہی کی دعا پر مجلس کا اختتام ھوا. الحمداللہ بہت بڑی تعداد میں اطراف سے ذمہ داران جمعیت علماء تشریف لائے اللہ پاک تمام کے آنے کو قبول فرمائے آمین .
 دھولیہ جمعیت علماء کے ذمہ داران مولانا شکیل احمد قاسمی ، مولانا مبین یاسین ملی ، حافظ اختر سراجی ، الحاج مشتاق صوفی، ایاز احمد ایاز ، ڈاکٹر خلیل احمد ، یوسف پاپا سر، اعجاز رفیق احمد، نعمان سر، سلیم بھیا وغیرہ۔ حضرات تشریف لائے تھے . اللّٰہ رب العالمین سے دعاء ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس نقل و حرکت سے پورا ضلع کیا پورے ملک کو فائدہ پہونچائے ۔ آمین یارب العالمین ۔
نشر اشاعت.
*جمعیت علماء مولانا ارشد مدنی پمپل نیر*
*رودادِ سفر: مارول وبرہانپور اور اطراف کے قصبات و دیہات کا دو روزہ دینی و دعوتی دورہ*
================

*"سفر وسیلۂ ظفر، یہ محض منازل طے کرنے کا نام نہیں، یہ دراصل دلوں کو جوڑنے اور ایمان کی شمعیں روشن کرنے کا عمل ہے"*

الحمدللہ! بفضلہٖ تعالیٰ، 8 اگست 2025ء بروز جمعہ، دعوت و اصلاح نیز دریافتگی احوال کی غرض سے ایک قافلہ مارول کے مؤقر عالم دین مفتی سید ساجد اشاعتی دامت برکاتہم (مہتمم دارالعلوم عیدگاہ پرتواڑہ، چکل دھرا روڈ، امراوتی) کی پُرخلوص دعوت اور گراں قدر مساعی کے نتیجے میں، مارول، برہانپور اور ان کے اطراف کے دیہات و قصبات کی طرف رواں دواں ہوا۔

یہ قافلہ *قاری حفیظ الرحمن شمسی صاحب کی سرپرستی اور راقمِ عاجز محمد خالد شاہد ملی کی رہبری میں، مولانا سراج صاحب بیتی، نہال احمد قلعہ، مسعود الرحمن بھائی، دانش احمد، اورخواتین خدمت گارِ دین—محترمہ سعیدہ آپا (معلمہ حدیث، جامعہ الطیبات و صاحبزادی حضرت مولانا محفوظ الرحمن قاسمی نور اللہ مرقدہ)، محترمہ یاسمین آپا (ناظمہ مدرسہ روضۃ الصالحات، کنڑ)، محترمہ رئیسہ آپا (نگراں اعلیٰ مکتب دارالرشید)، اور محترمہ فوزیہ آپا (ٹیچر، مالیگاؤں ہائی اسکول)—پر مشتمل تھا۔*

*پہلا دن — جمعہ، 8 اگست*

یہ قافلۂ نور دھولیہ، پارولہ، ارنڈول، جلگاؤں، بھساول ہوتا ہوا جب قصبہ مارول پہنچا تو گویا ایمان و عزم کا قافلہ منزل بکنار ہوا ہو!
*"مارُول"* جو علاقۂ خاندیش کے بیاول تحصیل، جلگاؤں ضلع میں واقع ہے  شہر جَلگاؤں سے تقریباً 55 کلومیٹر دور، سطحِ سمندر سے تقریباً 860 فٹ کی بلندی پر بسا ہوا ہے، جو گرم آہستہ آہستہ شفق کے رنگوں میں ڈوبنے والی وادیوں کی سرزمین کہلاتا ہے، یہ سرسبز قصبہ 'ست پڑا' پہاڑیوں کی آغوش میں چھپا ہوا ہے، یہاں سے لامتناہی سلسلۂ کوہسار کی ابتدا ہے،  یہی وہ مقام ہے جہاں سے نہریں اور زرخیز بانسوں کی قطاریں بیلوں کی مانند کشید ہوتی ہوئی دور تک پھیلتی ہیں،  یہ علاقہ  سرسبزی وشادابی سے مالا مال ہے، کھیتوں میں کیلوں کے خوشبودار باغات پھیلے ہوئے ہیں، جہاں ہر پھل ایک خواب کی کہانی بیاں کرتا ہے۔ بانسوں کی سرسراہٹ، مدھم ہوا، اور مالک کے گیتوں کی لَے قلوب وازہان کو ایک ایسے سفر پر لے جاتی ہیں جو دلوں کو نشاط اور دماغ کو تازگی سے نوازتا ہے۔ دینی مزاج کے حامل اس قصبے میں سینکڑوں کی تعداد میں علماء وحفاظ نیز مفتیان موجود ہیں، اہلیان مارول دینی اعتبار سے زندہ دل قوم کہلائے جانے کے لائق ہیں، یہاں کی خواتین پردے کا غیر معمولی اہتمام کرتی ہیں۔

 الغرض! قافلہ دعوت مارول پہنچنے کے بعد فوراً سے پیشتر مقصودِ سفر کی تکمیل کے لیے سرگرم ہوا۔ اسلام پورہ، اندھار مَلّی محلہ، اور تڑوی پٹھان برادری کی بستیوں میں خواتینِ اسلام کے پُررونق اور پُراثر اجتماعات ہوئے۔ 

عالماتِ معظمات نے دعوت و اصلاح، دین و اخلاق، اور عمل و تقویٰ پر ایسے خطابات کیے جن میں حکمت کی حلاوت اور سچائی کی حرارت یکجا تھی۔
جیسا کہ اقبالؔ نے کہا تھا:
*؎ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے*
*پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے*

اِجتماعات سے فراغت کے بعد راقم عاجز اپنے مقامی (اہل مارول) اور سفر کے ساتھیوں کے ہمراہ مدرسہ عروج الاسلام پہنچا، جو علاقہ خاندیش کا ایک مشہور ترین ادارہ ہے، جامعہ اشاعت العلوم اکل کواں کی  بڑی شاخوں میں اس کا شمار ہے، یہاں پر دینیات عالمیت اور حفظ کی مکمل تعلیم ہے، چھ سو کے قریب نونہالان قوم وملت اس ادارے میں اپنی علمی تشنگی کو بجھا رہے ہیں، یہاں کے *'مہتمم حضرت مولانا شبیر صاحب بیگامی'* ایک خدا شناس اور خدمت گذار عالم دین ہیں، اسی طرح *'نائب مہتمم مولانا شکیل صاحب اشاعتی'* بھی اس علاقے کے معروف عالم دین ہیں جو اہلیان مارول میں دعوت واصلاح کےلیے مسلسل سرگرم رہتے ہیں۔
 مدرسہ عروج الاسلام کی زیارت اور مدرسے میں ملاقاتوں سے فارغ ہونے کے بعد راقم عاجز اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جامع مسجد مرکز پہنچا جہاں نماز عشاء ادا کی گئی۔  نماز عشاء سے قبل عزیز گرامی مرتبت *'حضرت مولانا مفتی نور الاسلام صاحب اشاعتی'* سے شرفِ ملاقات حاصل ہوئی جوکہ برسہا برس سے جامع مسجد مرکز کے امام وخطیب اور مدرسہ عروج الاسلام کے شیخ الحدیث ہیں، موصوف انتہائی متواضع اور باصلاحیت عالم دین ہیں، شہر مالیگاؤں میں خانقاہ رحمانیہ کی معرفت اکثر راقم کی ان سے ملاقات ہے۔
بعدہ دیگر اہل تعلق سے بھی مختصر ملاقاتیں ہوئیں۔ یوں یہ قافلۂ دعوت گذرے دن کی حسیں یادوں کو لیے آغوش نوم میں سما گیا۔


*دوسرا دن — سنیچر، 9 اگست*

صبح کا آغاز مارول ہی کے تڑوی پٹھان کے بالائی علاقے کی زیارت سے ہوا، جہاں (زیر تعمیر) مسجد عرفات واقع ہے۔ اہل تعلق نے خبر دی کہ یہاں پر پہاڑی اور پتھریلے علاقے میں پانی کی قلت کی وجہ سے زندگی کی دھڑکنیں سست تھیں، مگر مالیگاؤں کے مخیر حضرات کے عزم نے اس کار مشقت کو بھی زیر کر لیا۔ ایک بلند و بالا (آٹھ انچی) بوروہیل کی کھدائی چھ دن کی محنت کے بعد ابھی قریب میں مکمل ہوئی، گویا صدیوں کی پیاس کو شربتِ تسکین مل گیا۔
"من جدّ وجد، ومن زرع حصد" — جو محنت کرے وہ پائے، جو بوئے وہی کاٹے کے مصداق اس کار مشقت کو سر کرجانے کا سہرہ بھی شہر مالیگاؤں کو جاتا ہے۔

یہاں سے قافلہ برہانپور اطراف واکناف کےلیے روانہ ہوا، برہانپور سے پندرہ کلومیٹر آگے شیرپور نامی ایک قصبہ ہے، جہاں بنات حواء کی دینی آبیاری کےلیے  مدرسہ اُمّ المومنین حضرت خدیجہؓ ایک عرصے سے مشغول خدمت ہے۔ یہاں کے ناظمِ اعلیٰ حافظ جاوید اشاعتی کی خدمات اس وادی میں چراغِ ہدایت کی مانند ہیں۔ مدرسہ ھذا میں پرائمری اسکول بھی جاری ہے جہاں تقریبا تین سو طالبات تعلیم حاصل کررہی ہے بعض طالبات وہ ہیں جو ایک ساتھ دینی وعصری علوم کے حصول میں مشغول ہے، یہاں دینیات کی کلاسیں موجود ہیں اور مومنہ کورس کا مکمل نظام کامیابی کے ساتھ جاری ہے یوں کل دینی وعصری طالبات کی تعداد پانچ سو کے قریب بتلائی گئی۔
اس مدرسے میں دو نشستوں میں (پہلی نشست میں طالبات سے اور دوسری میں خواتین و معلمات سے) شریکانِ سفر عالماتِ معظمات نے نہایت دلنشین اور بصیرت افروز خطاب کیا، دیگر شرکاء قافلہ نے نظام ونصاب کو جانا اور اطمینان کا اظہار کیا، یہ جان کر قلب مسرور ہوا کہ مارول کے کئی علما و حفاظ یہاں بھی تعلیم و تربیت کی شمعیں روشن کر رہے ہیں۔

بعد نمازِ ظہر شیرپور میں مزید اجتماعات سے شرکاءِ قافلۂ دعوت کے اصلاحی خطابات ہوئے۔ اسی دوران معلوم ہوا کہ شیرپور سے محض پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر *"شکار پور"* نامی دیہات میں *"مسجد آمنہ"* موجود ہے جو سابق رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند و صدر جمعیۃ علماء، حضرت مولانا عبدالقادر رحمہ اللہ کی اہلیہ کے نام موسوم ہے،  جو مرحومہ کے فرزند حضرت مولانا عبدالقیوم قاسمی صاحب (صدر جمعیۃ علماء ضلع ناسک) اور ان کے برادران کی مخلصانہ کوششوں سے تعمیر ہوئی ہے۔

قافلہ پھر شاہپور، بمبالا اور دیگر بستیوں سے گزرتا ہوا مدرسہ عائشہ صدیقہ، موہد (ضلع برہانپور) پہنچا—جو 2005ء میں قاری حفیظ الرحمن شمسی صاحب اور مالیگاؤں کے مخیرین کی سعیٔ مشکور سے قائم ہوا۔ یہاں کے ذمہ دار مولانا عبدالقدیر محمدی صاحب دارالعوم محمدیہ مالیگاؤں کے فیض یافتہ عالم دین ہیں، اس مدرسے میں طالبات کےلیے مکمل مومنہ کورس کا نظام ہے اور دارالاقامہ بھی موجود ہے، یہاں بھی طالبات و معلمات کے مابین ایمان افروز اور پرمغز بیانات کیے گئے۔
جیسا کہ میرؔ نے کہا تھا:
*؎ سخن وہ چھیڑ کہ جس سے مزاج پھول اٹھے*
*وہ بات کر جو دلوں میں چراغ گھول اٹھے*

سفر کا آخری پڑاؤ اِچّھا پور میں ہوا، جہاں مولانا صابر قاسمی صاحب (امام و خطیب جامع مسجد اچھاپور) سے ملاقات ہوئی۔ موصوف 23 برسوں سے امامت و خطابت کے منصب پر فائز ہیں، اور مکتب کے بانی و منتظم بھی ہیں۔ ان کی خدمات اس بات کی دلیل ہیں کہ مخلص داعی، چراغِ رہ بھی ہوتا ہے اور سایۂ شفقت بھی۔

یہ قافلہ ایمان و اخلاص کی خوشبو لیے، دعوت الی اللہ اور اصلاحِ باطن کو اپنا نصب العین بناتے ہوئے واپس مالیگاؤں کی سمت روانہ ہوا۔

اس سفر کی کامیابی میں مفتی سید ساجد اشاعتی دامت برکاتہم کی قابل قدر محنتیں شامل رہی۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کی مساعی کو بارآور کرے۔

*؎ ٹھہریں گے نہ قافلے، چلتا رہے گا کارواں*
*منزل ہے سامنے ابھی، بڑھتا رہے گا کارواں*

*("نوٹ: کاغذ پہ تحریر یہ چند سطور، ایک مسافرِ دعوت کی یادگار ہیں")*

*✍🏻 بہ قلم:*
*محمد خالد شاہد ملی*
*(خادم، مدرسہ مفتاح القرآن، مالیگاؤں)*
سٹی کالج سے ڈاکٹر مبین نذیر کی ممبئی یونیورسٹی کے سیمینار میں مدعو

ممبئی یونیورسٹی کے شعبہ ٔ اردو کے زیر ِ اہتمام 13 اور 14 اگست 2025 کو  دو روزہ قومی سیمینار  "سریندر پرکاش : حیات و خدمات" کے عنوان سے منعقد کیا گیا ہے ـ اس سیمینار میں ملک کے طول و عرض سے دانشوران شرکت کررہے ہیں ـ جن میں ڈاکٹر ابوبکر عباد،محمد اسلم پرویز، ڈاکٹر عظمت دلال،ڈاکٹر رشید اشرف خان، اور شکیل رشید وغیرہ قابلِ ذکر ہیں ـ  شہر ِ عزیز سے مہاتما گاندھی ودیا مندر کے آرٹس، کامرس اینڈ سائنس کالج المعروف سٹی کالج کے شعبہ ٔ اردو فارسی کے فعال لیکچرر اور معروف افسانہ نگار، انشائیہ نگار ڈاکٹر مبین نذیر سر کو بھی مدعو کیا گیا ہے ـ  اس سیمینار میں پروفیسر موصوف "سریندر پرکاش کی فلم نگاری پر اپنا مقالہ پیش کریں گے ـ سیمینار میں پیش کیے جانے والے تمام مقالے ممبئی یونیورسٹی کے شعبہ ٔ اردو کے ریسرچ اور ریفریڈ جرنل" اردو نامہ" میں شائع ہوچکے ہیں ـ جس کا اجرا بھی سیمینار میں عمل میں آئے گا ـ یہ سیمینار ممبئی کے کالینہ کیمپس کے جے پی نائیک بھون میں منعقد ہوگا ـ اردو زبان و ادب کا ذوق رکھنے والے افراد سیمینار سے استفادہ کریں ـ اس سیمینار کے انعقاد پر شعبہ ٔ اردو ممبئی یونیورسٹی اور شعبہ ٔ اردو فارسی سٹی کالج مالیگاؤں کے صدر و اراکین کو سٹی کالج کے پرنسپل، وائس پرنسپل اور فزیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان خان سر مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کرتے ہیں ـ
مکاتب و مدارس کے ذمہ داران کے نام اہم پیغام و گزارش

 محترم ناظمین و ذمہ داران مکاتب و مدارس صاحبان، 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

قانونی ذمہ داری
مالی شفافیت، اور
مکاتب و مدارس کا مستقبل

الحمد للہ! مکاتب و مدارس ہمارے معاشرے کی دینی، اخلاقی اور تعلیمی بنیاد ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف قرآن و سنت کی روشنی پھیلا رہے ہیں بلکہ نسل نو کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کر رہے ہیں۔ مگر آج کے دور میں جہاں دین کی خدمت ضروری ہے، وہاں اس کی بقا اور استحکام کے لیے قانونی نظام کی پابندی و مالی شفافیت  بھی ناگزیر ہوچکی ہے۔

اسی مناسبت سے وفاق المکاتب و المدارس کی جانب سے ایک اہم سیمینار
 مورخہ 17 اگست بروز اتوار، صبح 10 بجے تا 1 بجے، مقام: حبیب لانس، مالیگاؤں منعقد کیا جا رہا ہے۔

جس میں ماہر قانون جناب ایڈوکیٹ مومن مصدق مجیب صاحب ، اکاؤنٹس  کے ماہرین سوربھ جین ( GD, CA) و عابد انصاری ( Tax Consultant) صاحبان اور رجسٹریشن سے متعلق اخلاق احمد  فضل الرحمن صاحب ( رٹائرڈ  اسسٹنٹ کمشنر مالیگاؤں ) کو  مدعو کیا گیا ہے تاکہ درج ذیل نکات پر عملی رہنمائی دی جا سکے:

 قانونی رجسٹریشن کی اہمیت

ہر مکتب یا مدرسے کے لیے صرف پڑھانے اور دینی خدمات انجام دینا کافی نہیں، بلکہ اس کا قانونی طور پر رجسٹرڈ ہونا بھی ضروری ہے۔ رجسٹریشن کے بغیر:

سرکاری ریکارڈ میں ادارے کا کوئی وجود تسلیم نہیں ہوتا۔

حکومتی تعاون سے محرومی ہو جاتی ہے۔

کسی تنازع یا شکایت کی صورت میں قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔

رجسٹریشن کے مراحل (مہاراشٹر حکومت کے مطابق)

1. قانون کا انتخاب — عموماً مدارس یا تو Societies Registration Act 1860 یا Bombay Public Trusts Act 1950 کے تحت رجسٹرڈ کیے جاتے ہیں۔
2. دستاویزات کی تیاری — ادارے کا دستور (Constitution/By-laws)، اراکین کی فہرست، عہدہ داران کے نام، پتہ، اور مقاصد۔
3. افیڈیویٹ — صدر یا سیکرٹری کی جانب سے حلف نامہ کہ ادارہ قانون کے مطابق چلایا جائے گا اور کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں ہوگی۔
4. رجسٹریشن فیس — حکومت کی مقررہ فیس جمع کرانا۔
5. رجسٹرار آفس میں جمع کرانا — تمام کاغذات ضلعی رجسٹرار آف سوسائٹیز/ٹرسٹ کے دفتر میں جمع ہوں۔

6. رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کا حصول — درخواست کی جانچ کے بعد حکومت کی جانب سے باضابطہ سرٹیفکیٹ جاری ہوگا۔
 افیڈیویٹ کی ضرورت

افیڈیویٹ ایک قانونی حلف نامہ ہے جس میں ذمہ داران اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ:

ادارے کا مقصد صرف تعلیمی و فلاحی ہے۔
فنڈز صرف مقاصد کے لیے استعمال ہوں گے۔
تمام ریکارڈ اور اکاؤنٹ شفاف رکھے جائیں گے۔
قانون کی پابندی کی جائے گی۔

 رجسٹریشن نہ کرنے کے نقصانات
حکومت کے نزدیک ادارہ غیر قانونی تصور ہوگا۔

پولیس یا انتظامیہ کارروائی کرسکتی ہے۔

چندہ اکٹھا کرنے، زمین یا جائیداد لینے میں قانونی رکاوٹ۔
آڈٹ اور سالانہ رپورٹ پیش نہ کرنے پر جرمانہ یا ادارے کی بندش۔
عوامی اعتماد میں کمی اور بدنامی۔

 مہاراشٹر حکومت کا تقاضا

مہاراشٹر میں چلنے والے تمام فلاحی و تعلیمی ادارے Public Trusts Act یا Societies Act کے تحت رجسٹریشن کے پابند ہیں۔ اس کے بعد ہر سال:
سالانہ اکاؤنٹس تیار اور آڈٹ شدہ پیش کرنا۔
Annual Return رجسٹرار کے پاس جمع کرانا۔

ریکارڈ میں اراکین اور عہدہ داران کی تازہ فہرست درج کرانا۔

آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہر مکتب اور ہر مدرسہ اپنے مالی نظام کو شرعی اصولوں اور ملکی قوانین دونوں کے مطابق منظم کرے، تاکہ نہ صرف دینی خدمات جاری رہیں بلکہ آئندہ نسلیں بھی اس نظام سے فیضیاب ہوں۔

تمام ذمہ داران سے گزارش ہے کہ اس سمینار میں شرکت کو یقینی بنائیں اور اپنے ادارے کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں

تحریر جاوید منصوری سر۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

نویں کے طلبہ سے...ڈاکٹر مبین نذیر آپ سوچیں گے کہ بھئی یہ نویں جماعت کے طلبہ سے کیا کہنا؟ ابھی تو ان کے بورڈ کے امتحا...