سرلا بھٹ کون تھیں؟
27 سالہ سرلا بھٹ کا تعلق کشمیر کے پنڈت خاندان سے تھا۔ وہ ضلع اننت ناگ کی رہنے والی تھی اور سری نگر شہر کے سورا علاقے میں واقع شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SKIMS) میں بطور نرس کام کرتی تھیں۔ انہیں 18 اپریل 1990 کو ہاسٹل سے اغوا کیا گیا تھا اور اگلے دن 19 اپریل کو سری نگر شہر کے مالاباغ علاقے میں گولیوں سے چھلنی ان کی لاش سڑک پر ملی تھی۔ الزام لگایا گیا کہ یہ قتل ایک بڑی سازش کا حصہ تھا جس کا مقصد کشمیری پنڈت برادری کو وادی سے باہر نکالنا تھا۔ انہیں ہندوستان خفیہ ایجنسیوں کا ایجنٹ بتاکر نشانہ بنایا گیا تھا۔
یاسین ملک کا نام کیسے آیا؟
اس وقت کے کئی گواہوں اور پولیس کیس ڈائری میں بتایا گیا ہے کہ جے کے ایل ایف سے وابستہ لوگ سرلا بھٹ کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔ یاسین ملک اس وقت جے کے ایل ایف کی اعلیٰ قیادت میں شامل تھے، اسلئے اس پر بھی شکوک و شبہات ظاہر کئے گئے ۔
یہ کیس کئی سالوں تک سرد بستہ میں پڑا رہا، لیکن حالیہ برسوں میں مرکزی حکومت کی ہدایت پر 90 کی دہائی کے پرانے دہشت گردی کے مقدمات کو دوبارہ کھولا گیا۔ اسی سلسلے میں سرلا بھٹ کیس بھی دوبارہ تحقیقات کے دائرے میں آگیا۔
یاسین ملک فی الحال دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ 2017 میں درج دہشت گردی فنڈنگ کیس میں این آئی اے کی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔ اب سرلا بھٹ کیس کی جان یاسین بھٹ کے لیے ایک اور بڑا قانونی چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
کشمیر کے 96 سالہ بزرگ نے جم(Gym) جوائن کر کے نئی مثال قائم کر دی
کشمیر جیسے خطے میں جہاں سرد موسم، سیاسی بے چینی اور محدود وسائل عوامی صحت اور طرزِ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں، وہاں 96 سالہ غلام حسن بھٹ کا جم(Gym) جوائن کرنا صرف ایک ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک علامتی اقدام ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ضعیف العمری میں صحت مندانہ زندگی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ کشمیری نوجوانوں اور بزرگوں دونوں کے لیے ایک طاقتور پیغام ہے کہ عمر محض ایک عدد ہے۔ یہ رجحان دنیا بھر میں ابھرنے والے اس بڑھتے ہوئے شعور سے ہم آہنگ ہے کہ ’’ایکٹو ایجنگ‘‘ یعنی فعال بڑھاپا، خوشحال زندگی کی کنجی
جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے ایک 96 سالہ بزرگ نے اپنے عزم، حوصلے اور صحت مند طرزِ زندگی کی قابلِ تقلید مثال قائم کر دی ہے۔ ٹُکرو گاؤں سے تعلق رکھنے والے غلام حسن بھٹ نے حال ہی میں ایک مقامی جم جوائن کیا ہے ، یہ ثابت کرتے ہوئے کہ صحت کی راہ میں عمر کبھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
اس عمر میں جہاں اکثر افراد چلنے پھرنے سے بھی گریز کرتے ہیں، غلام حسن نے خود کو متحرک رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ باقاعدہ ورزش کے لباس میں جم جاتے ہیں اور بڑی خوشی اور اعتماد کے ساتھ نوجوانوں کے ساتھ ایک ہی انداز میں مشقیں کرتے ہیں۔
میں نے آج تک کبھی کوئی دوا نہیں لی۔ مجھے کبھی کوئی بیماری لاحق نہیں ہوئی۔ میرا ماننا ہے کہ سادہ غذا اور جسمانی مشقت نے مجھے ہمیشہ صحت مند رکھا ہے۔‘‘
مقامی افراد کے مطابق غلام حسن کی پوری زندگی سادگی، محنت اور نظم و ضبط کا نمونہ رہی ہے۔ ان کا طرزِ زندگی ہمیشہ متوازن رہا، جو ان کی صحت کی اصل بنیاد ہے۔
ان کی یہ متاثر کن کہانی سوشل میڈیا اور علاقائی خبروں میں تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، اور ہر عمر کے افراد کو اپنی صحت کو ترجیح دینے پر آمادہ کر رہی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں اوسط عمر بڑھ رہی ہے، غلام حسن بھٹ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ بڑھتی عمر کا مطلب سست پڑنا نہیں بلکہ زیادہ شعوری انداز میں جینا ہے۔