جامعہ محمدیہ منصورہ کیمپس میں یومِ آزادی کی شاندار تقریب
جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سوسائٹی (منصورہ کیمپس) میں یومِ آزادی 15 اگست 2025 کو صبح 8 بجے نہایت جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ پرچم کشائی کی رسم ادارے کے چیئرمین محترم جناب ارشد مختار صاحب نے ادا کی۔ اس کے بعد قومی گیت پیش کیا گیا اور " نشہ مُکت بھارت" کا عہد لیا گیا۔اس موقع پر سٹی پولیس انتظامیہ کی موجودگی میں سابق فوجی جناب یونس خان نے مراٹھی زبان میں اور ڈاکٹر ساجد نعیم نے اردو زبان میں طلبہ و اساتذہ کو عہد دلایا۔
اس تقریب میں ادارے کے سیکریٹری جناب راشد مختار، ڈاکٹر سلمان بیگ، انجینئرنگ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شاہ عقیل احمد، پالی ٹیکنک کے پرنسپل یعقوب انصاری، طبیہ یونانی کالج کے پرنسپل زبیر احمد، اور دیگر معزز عہدیداران موجود تھے۔اس موقع پر جامعہ محمدیہ ایجوکیشن سو سائٹی کے زیرِ اہتمام جاری تمام تعلیمی اداروں کے طلبہ و اساتذہ نے شرکت کی۔پروگرام کے اخیر میں تمام شرکاء کومیٹھائی تقسم کی گئی۔
آپریشن سندور کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے ایسے لوگو کی ضرورت تھی جو اپنے آپ میں آپریشن کو مکمل طور پر بیان کرے۔ یہ لوگو آرمی ہیڈ کوارٹر میں تعینات فوجی افسران لیفٹیننٹ کرنل ہرش گپتا اور حوالدار سریندر سنگھ نے تیار کیا تھا۔ آپریشن سندور کا LOGO صرف 45 منٹ میں تیار کر لیا گیا۔ آج وہی لوگو ملک کی بہادری کی نئی علامت بن گیا ہے۔ اس کام کو انجام دینے والے لیفٹیننٹ کرنل ہرش گپتا کو آرمی چیف کی جانب سے تعریفی خط دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹریٹیجک کمیونیکیشن ٹیم کے تین دیگر لیفٹیننٹ کرنل، لیفٹیننٹ کرنل امول جادھو اور لیفٹیننٹ کرنل انیکیت کو چیف کا تعریفی کارڈ اور لیفٹیننٹ کرنل گوتم جھا کو وائس چیف کا تعریفی کارڈ دیا جائے گا۔ ان لوگوں نے پاکستان کے جھوٹے بیانیے کو دفن کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
آرمی ہیڈ کوارٹرز میں تین روز تک نقل و حرکت بند تھی
جب آپریشن کی تاریخ 7 مئی مقرر کی گئی تو اس کی تیاری پہلے سے جاری تھی۔ آپریشن کے ساتھ ساتھ اسے دنیا کے سامنے کیسے پیش کیا جائے اس کی تیاریاں 5 مئی سے ہی وزارت دفاع میں شروع ہو گئی تھیں۔ اعلیٰ فوجی افسران کو دو دن تک وہاں رکھا گیا۔ اسٹرائیک کی رات کچھ اور افسران کو بھی دفتر بلایا گیا۔ اس سلسلے میں تیاریاں جاری تھیں کہ کس طرح اہل وطن کو اسٹرائیک سے آگاہ کیا جائے۔ اسٹریٹجک کمیونیکیشن آفس کے دروازے پر نو انٹری پیپر بھی چسپاں کیا گیا تھا۔ متعلقہ دفتر میں آمد و رفت مکمل طور پر بند تھی۔
وزارت دفاع نے ایک پریس ریلیز جاری کر کے کامیاب حملے کی جانکاری دی۔ ریلیز پر اس کے جاری کرنے کا وقت بھی لکھا تھا۔ یہ وقت 1:44 بجے کا تھا۔ اس کے ٹھیک 6 منٹ بعد صبح 1 بج کر 51 منٹ پر بھارتی فوج کے سوشل میڈیا ہینڈل سے آپریشن سندور کی کامیابی کا اعلان بھی کیا گیا۔ آپریشن سندورکے LOGOکے ساتھ “بدلا پورا ہوا” لکھا گیا تھا۔
ہر ممکن مدد کی جائے گی، کشتواڑ میں بادل پھٹنے کے واقعہ پر پی ایم مودی نے کہا، چشوتی میں حالات پر گہری نظر
کشمیر کے کشتواڑ کے چشوتی علاقے میں بادل پھٹنے اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں نے حادثے میں جان گنوانے والوں کے تئیں دکھ کا اظہار کیا۔ پی ایم مودی نے کشتواڑ میں بادل پھٹنے کے واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ آفت سے متاثرہ لوگوں کو بروقت امداد فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا : جموں و کشمیر کے کشتواڑ میں بادل پھٹنے کے واقعے میں بہت سے لوگوں کی موت کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ میں غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتب ہوں اور راحت اور بچاؤ کارروائیوں میں کامیابی کی خواہش کرتب ہوں۔"
وزیر اعظم مودی نے ایکس پوسٹ میں لکھا: میری تعزیت اور دعائیں جموں و کشمیر کے کشتواڑ میں بادل پھٹنے اور سیلاب سے متاثرہ تمام لوگوں کے ساتھ ہیں۔ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ بچاؤ اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ضرورت مندوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
بتادیں کہ جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے ایک دور افتادہ گاؤں میں جمعرات کو بادل پھٹنے کے ایک بڑے واقعے میں کم از کم 30 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ چشوتی میں دوپہر 12 بجے سے 1 بجے کے درمیان بادل پھٹنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب بڑی تعداد میں لوگ مچیل ماتا کے مندر میں جانے کے لیے جمع تھے۔ مندر تک 8.5 کلومیٹر کا سفر چشوتی سے شروع ہوتا ہے۔
قبل ازیں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے فون پر کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے آئے سیلاب کے بارے میں بات کی۔ اس کے ساتھ ہی وزیر داخلہ نے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی بھی کرائی۔
تقسیم کے وقت کس چیز کیلئے بھڑ گئے ہندوستان اور پاکستان، پھر ٹاس سے ہوا فیصلہ
سال 1947 میں جب ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم ہوئی تو دونوں ممالک کے درمیان کئی معاملات پر تنازعہ پیدا ہوا۔ ان میں رقم، منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں سے لے کر دیگر وسائل کی تقسیم شامل تھی۔ لیکن ایک ایسی چیز بھی تھی جس نے دونوں ممالک کے درمیان سب سے زیادہ ہنگامہ کھڑا کیا اور وہ تھی وائسرائے کی بگھی۔ یہ بگھی بعد میں آزاد ہندوستان کے صدر کی سرکاری گاڑی بن گئی۔ اس کی تاریخ، ہندوستان کی آزادی، تقسیم اور بدلتے ہوئے حالات کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ صرف ایک شاہی سواری نہیں بلکہ ہندوستانی خودمختاری اور فخر کی علامت بن چکی ہے۔
سونے کی ملمع کاری سے آراستہ چھ گھوڑوں سے کھینچی جانے والی اس کالی گاڑی کے اندرونی حصے میں سرخ مخمل لگا ہوا ہے اور اوپر اشوک چکر کندہ ہے۔ یہ دراصل برطانوی دور میں وائسرائے ہند کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ یہ رسمی تقاریب اور وائسرائے ہاؤس (جو اب راشٹرپتی بھون کہلاتا ہے) کے گرد گشت کے لیے مخصوص تھی۔ لیکن جب نوآبادیاتی حکومت کا خاتمہ ہوا، تو ہندوستان اور نو تشکیل شدہ پاکستان دونوں اس شاہی گاڑی کے حصول کے لیے کوشاں ہو گئے۔
ہندوستان کے حق میں گیا ٹاس
یقیناً، ہندوستان نے ٹاس جیتا اور یوں یہ گاڑی ہندوستان کے حصے میں آ گئی۔ آزادی کے بعد یہ بگھی ہندوستان کے صدر کے استعمال میں آنے لگی۔ 1950 میں پہلے یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے دوران، ہندوستان کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے اسی بگھی میں بیٹھ کر راج پتھ پر منعقد ہونے والی پریڈ میں حصہ لیا تھا۔ ابتدائی برسوں میں صدرِ جمہوریہ اس گاڑی کو باقاعدہ طور پر حلف برداری کی تقریب، بیٹنگ دی ریٹریٹ اور یومِ جمہوریہ پریڈ جیسی اہم تقریبات میں استعمال کرتے تھے۔ یعنی جب بھی ملک کی شان و شوکت دکھانے کا موقع آتا، صدر جمہوریہ اس تاریخی بھی کا استعمال کرتے تھے۔
2014 میں ہوئی بگھی کی واپسی
تاہم 1984 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد، سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اس گاڑی کا استعمال بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد صدر نے تقریبات میں شرکت کے لیے بلٹ پروف لیموزین کا استعمال شروع کیا۔ آخری بار یہ گاڑی صدر گیانی جیل سنگھ نے 1984 میں استعمال کی تھی۔ اس کے بعد کئی دہائیوں تک کسی صدر نے اس گاڑی کو لگاتار استعمال نہیں کیا۔ تاہم یہ تاریخی بگھی کبھی کبھار استعمال ہوتی رہی۔ 2014 میں صدر پرنب مکھرجی نے اسے دوبارہ سامنے لایا اور بیٹنگ دی ریٹریٹ کی تقریب میں اسی میں سوار ہو کر شریک ہوئے۔ ان کے دورِ صدارت میں یہ گاڑی کئی بار استعمال کی گئی۔ صدر رام ناتھ کووند نے بھی اس روایت کو آگے بڑھایا۔ جب وہ صدر جمہوریہ بنے تو انہوں نے بلٹ پروف گاڑی کو چھوڑ دیا اور راشٹرپتی بھون سے پارلیمنٹ تک ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں اسی تاریخی گاڑی میں سوار ہو کر گئے۔
صدر مرمو اس پر بیٹھ کر پریڈ میں پہنچیں
موجودہ صدر دروپدی مرمو بھی اس تاریخی بکھی کی سواری کرچکی ہیں۔ انہوں نے 26 جنوری 2024 کو 75ویں یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے دوران فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون کے ساتھ اسی روایتی گاڑی میں بیٹھ کر راج پتھ پر منعقدہ پریڈ میں شرکت کی تھی۔
یہ 40 سال کے وقفے کے بعد پہلا موقع تھا کہ جب کسی صدر نے یومِ جمہوریہ کی تقریب کے لیے اس گاڑی کا استعمال کیا۔ اس ایک سواری نے صرف تاریخ کو زندہ نہیں کیا بلکہ ایک شاندار روایت کو پھر سے جلا بخشی۔