پی ایم نریندر مودی نے لال قلعہ سے کہا کہ آج 15 اگست ہے۔ آج ہم ملک کے نوجوانوں کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کی اسکیم نافذ کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی وکسیت بھارت روزگار یوجنا آج سے ہی لاگو ہو رہی ہے۔ نوجوانوں کے لیے یہ اچھی خبر ہے۔ اس اسکیم کے تحت پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمت حاصل کرنے والے شخص کے بیٹے یا بیٹی کو 15000 روپے دیے جائیں گے۔ کمپنیوں کو روزگار کے نئے مواقع کے لیے مراعات بھی دی جائیں گی۔ وزیراعظم کی اسکیم سے ساڑھے تین کروڑ نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔
اسکیم آج سے ہی نافذ ہو گئی ہے۔ پی ایم نریندر مودی نے کہا کہ آج 15 اگست کو ہی ہم ایک لاکھ کروڑ روپے کی اسکیم شروع کر رہے ہیں۔ ہم اسے آج سے ہی نافذ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم وکسیت بھارت روزگار یوجنا آج سے ہی لاگو ہو رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت پرائیویٹ سیکٹر میں پہلی نوکری حاصل کرنے والے بیٹے یا بیٹی کو حکومت کی طرف سے 15000 روپے دیے جائیں گے۔ جو کمپنیاں نوکریاں دیں گی انہیں بھی مراعات دی جائیں گی۔ اس اسکیم سے ساڑھے تین کروڑ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس کے لیے تمام نوجوانوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔
پی ایم مودی نے بچوں کے کھیلوں کے بارے میں کیا کہا؟
پی ایم مودی نے لال قلعہ سے بچوں کے کھیلوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بچے کھیلوں میں سبقت لے جائیں تو والدین کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ اس کھیل کو فروغ دینے کے لیے، ہم قومی کھیل پالیسی کھیلو انڈیا پالیسی کے ساتھ آئے ہیں۔ ہم اسکول سے کالج تک پورے ماحولیاتی نظام کو تیار کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کھیلوں سے متعلق ہر قسم کے ذرائع بنائے جا سکیں۔
جموں و کشمیر: کشتواڑ کے چشوتی میں بادل بھٹنے سے 45 سے زیادہ افراد کی موت
جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے ایک دور افتادہ پہاڑی گاؤں چشوتی میں جمعرات کو بادل پھٹنے کے واقعہ میں 45 سے زیادہ افراد کی موت ہوگئی، جب کہ کئی دیگر افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام نے یہ جانکاری دی۔ حکام نے بتایا کہ چشوتی گاؤں میں غروب آفتاب تک امدادی کارکنوں نے سخت محنت کرکے ملبے سے 167 افراد کو باہر نکالا۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 38 کی حالت تشویشناک ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کے امکان ہے ۔
عہدیداروں نے بتایا کہ یہ حادثہ دوپہر 12 بجے سے 1 بجے کے درمیان مچیل ماتا مندر کے راستے چشوتی گاؤں میں پیش آیا۔ حادثے کے وقت مچیل ماتا یاترا کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ ساڑے نو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع مچیل ماتا مندر تک پہنچنے کے لیے عقیدت مند گاڑی کے ذریعے چشوتی گاؤں پہنچ سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں 8.5 کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔
وہیں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کشتواڑ ضلع میں بادل پھٹنے کی وجہ سے ہونے والے جانی نقصان کے بعد جمعہ کو یوم آزادی کی تقریبات کے دوران ‘ایٹ ہوم’ چائے پارٹی اور ثقافتی پروگراموں کو منسوخ کر دیا ہے۔
چشوتی گاؤں کشتواڑ شہر سے تقریباً 90 کلومیٹر دور ہے۔ یہاں عقیدت مندوں کے لیے قائم کیا گیا لنگر (کمیونٹی کچن) اس واقعے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ بادل پھٹنے سے اچانک سیلاب آگیا اور کئی عمارتیں بشمول دکانیں اور ایک سیکورٹی چوکی بہہ گئی۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے فون پر بات کی اور مرکز کی طرف سے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ شاہ نے کہا کہ این ڈی آر ایف کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی ہیں اور صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ریسکیو آپریشن کے لیے جموں و کشمیر کے اندر اور باہر سے وسائل کو متحرک کیا جا رہا ہے۔ فی الحال شری مچیل یاترا اگلے نوٹس تک ملتوی کر دی گئی ہے۔