Saturday, 16 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*

پوتن کے الاسکا پہنچتے ہی فضاؤں میں گونجے ایف-35، خوش آمدید یا خطرے کا اشارہ؟

الاسکا کا آسمان جمعے کو اس وقت گونج اٹھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن آمنے سامنے ہوئے۔ دونوں رہنماؤں کی پہلی جھلک خاص تھی۔ ریڈ کارپٹ پر دونوں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ امریکی B-2 بمبار طیارے اور F-22 Raptors ان کے اوپر سے گزرے۔ یہ نظارہ دنیا کو پیغام دے رہا تھا کہ امن کی باتیں بھی طاقت کے سائے میں ہوتی ہیں۔ پیوٹن جب روس سے الاسکا کے فوجی اڈے کے لیے روانہ ہوئے تو انھوں نے شاید ہی سوچا ہو گا کہ ان کا اتنا شاندار استقبال ہو گا۔ ٹرمپ نے انہیں اپنی بیسٹ کار میں سواری بھی دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اپنے ایئر فورس ون طیارے میں جوائنٹ بیس ایلمینڈورف-رچرڈسن پہنچ چکے تھے۔ ٹرمپ یہاں ہوائی جہاز کے قریب پوٹن کا انتظار کر رہے تھے۔ چند منٹ بعد پیوٹن کا طیارہ اڈے پر اترا۔ اسی ائیر بیس پر جہاں امریکہ کے مہلک لڑاکا طیارے تعینات تھے۔ ہر طرف نظر دوڑائی تو صرف لڑاکا طیارے ہی دکھائی دے رہے تھے۔ پوٹن کے اترنے کے بعد ٹرمپ نے ان سے مصافحہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ریڈ کارپٹ پر واک کی۔ انہوں نے ایک اسٹیج پر تصویر کھنچوائی جس پر لکھا تھا، ‘الاسکا 2025، پرسوئنگ پیس’۔

امریکہ نے استقبال کے ساتھ اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا
جب دونوں صدور ریڈ کارپیٹ پر اکٹھے چل رہے تھے تو امریکی B-2 سٹیلتھ بمبار اور F-35 جیٹ طیارے سر پر گرج رہے تھے۔ F-22 لڑاکا طیارے دونوں طرف کھڑے تھے۔ یہ ایک طرف روسی صدر کے لیے خوش آئند تھا تو دوسری طرف امریکی طاقت کا مظاہرہ بھی تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اس سربراہی اجلاس سے قبل دو B-2 بمبار طیارے الاسکا کے اڈے پر لائے گئے تھے، جب کہ 4 F-35 طیاروں نے قریبی ایلسن ایئر فورس بیس سے پرواز کی۔ اسی وقت ایلمینڈورف بیس پر F-22 طیارے پہلے سے موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: Alaska Summit Update: ٹرمپ کے ساتھ کیا ہوئی پوتین کی ڈیل! کیا اب یوکرین ہتھیار ڈال دے گا؟

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ فلائی اوور ٹرمپ کے ذاتی حکم پر ہوا یا اس کا فیصلہ امریکی محکمہ دفاع نے کیا تھا۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نمائش روس جیسے ایٹمی طاقت والے ملک کے لیڈر کے سامنے ایک مضبوط پیغام تھا۔ اس دوران ٹرمپ پیوٹن کو اپنی بیسٹ کار میں لے گئے جو کہ انتہائی غیر معمولی تھی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہی۔

بمبار کیا ہے؟

B-2 اسپرٹ، جسے عام طور پر B-2 سٹیلتھ بمبار کے نام سے جانا جاتا ہے، کو امریکی فضائیہ کی سب سے بڑی افواج میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ جنگی طیارہ، جس نے پہلی بار 1989 میں اڑان بھری تھی، آج بھی دنیا کا سب سے مہلک اور ناقابل تسخیر بمبار تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ انتہائی محفوظ دشمن کے فضائی دفاعی نظام میں گہرائی تک گھس سکتا ہے اور بھاری حملے کر سکتا ہے۔ جون میں امریکا نے اس بمبار سے ایران کے جوہری اڈوں پر حملہ کیا جو کامیاب رہا۔


مغربی بنگال میں ایک اور بڑا سکینڈل، نرسنگ ہوم کا ایسا انکشاف کہ سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں

مغربی بنگال میں ایک اور سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ ریاست کے ہوگلی ضلع کے سنگور علاقے میں واقع ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم سے مشتبہ حالات میں پھندے سے لٹکی ہوئی ایک ٹرینی نرس کی لاش ملنے کے بعد کشیدگی پھیل گئی۔ متوفی کی شناخت دیپالی جانا کے طور پر کی گئی ہے جو مشرقی میدنی پور ضلع کے نندی گرام کی رہنے والی ہے۔ پولیس کے مطابق اس کی لاش نرسنگ ہوم کی تیسری منزل پر ایک کمرے میں چھت سے لٹکی ہوئی ملی۔ لڑکی نے تین دن پہلے ہی ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں بطور نرس نوکری جوائن کی تھی۔ نرسنگ ہوم کے عملے نے پہلے لاش کو دیکھا اور بعد میں پولیس کو اطلاع دی۔

پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ ایک سینئر ضلعی پولیس افسر نے بتایا کہ غیر فطری موت کا معاملہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ موت کی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے اور وہ خودکشی نہیں کر سکتی۔ لواحقین نے نرسنگ ہوم کے مالک کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا ہے۔ ان کی شکایت اسپتال انتظامیہ کے خلاف ہے۔ لڑکی نے جنرل نرسنگ مڈوائفری (GNM) - ایک تین سالہ ڈپلومہ کورس - پچھلے سال بنگلورو کے ایک نرسنگ انسٹی ٹیوٹ سے مکمل کیا تھا

اس دوران اس کی مشتبہ موت سے مشتعل مقامی لوگوں نے پولیس کا گھیراؤ کیا اور واقعہ کے خلاف احتجاج کیا۔ مقتول کے والدین انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑک پر بیٹھ گئے۔ مقتولہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ میری بیٹی نرس کی تربیت کے لیے آئی تھی۔ وہ ایک صحت مند اور اچھی لڑکی تھی۔ پولیس کو معلوم کرنا چاہیے کہ میری بیٹی کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ اسے قتل کر دیا گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ واقعہ کولکتہ کے سرکاری آر جی کار اسپتال میں ایک ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کی پہلی برسی کے چند دن بعد ہوا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ مغربی بنگال کی راجدھانی کولکتہ میں آر جی کار واقعے کے بعد لاء کالج کی طالبہ کی عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ پولیس نے اس الزام میں ملزم کو گرفتار بھی کیا تھا۔ ملزمین کے ترنمول کانگریس چھاترا پریشد (ٹی ایم سی پی) سے وابستہ ہونے کے دعووں نے بھی کیس کو سیاسی موڑ دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ترنمول کانگریس اور اس کی قیادت والی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

کئی دیگر تنظیموں نے اس کیس کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ تاہم، ٹی ایم سی پی نے ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی ملزم کئی سالوں سے ان کی تنظیم میں سرگرم نہیں تھا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ وہ کالج میں ایک عارضی ملازم کے طور پر کام کر رہا تھا۔


مجلس ابناءقدیم مدرسہ اسلامیہ کے زیر اہتمام ساتواں عظیم الشان مسابقۂ اذان وپارۂ عم حفظ مع سورہ یٰسین وسورہ ملک


✍🏻ازقلم۔حافظ بلال احمد جمالی

(نائب صدر مجلس ابناء قدیم مدرسہ اسلامیہ واقع بڑا قبرستان)


*مورخہ 28 ستمبر2025 بروز اتوار صبح ساڑھے سات بجے تا اختتام مجلس ابناء قدیم مدرسہ اسلامیہ واقع بڑا قبرستان  کے زیر اہتمام ڈاکٹر زینی بشیر ہال واقع بڑی مالیگاؤں ہائی اسکول میں ایک عظیم الشان مسابقے کا انعقاد ہوگا جس میں شہر مالیگاؤں کے مختلف مکاتب کے طلباء شریک ہونگے۔

 یہ مسابقہ دو فروعات پرمشتمل ہوگا 

مجلس ابناءقدیم مدرسہ اسلامیہ کی سابقہ روایات کی بناء پر دونوں فروعات کو شہرعزیز کی  دینی وسماجی شعبے میں بے مثال خدمات  انجام دینے والی شخصیات کے نام سے موسوم  کیا گیا ہے

*فرع اول اذان کی ہوگی* جس میں شریک مساہم کو اذان کے علاوہ اذان سے ہی متعلق مختصر اور دلچسپ ٢٠سوالات کے جوابات یاد کرنا ہوگا جواب صرف دو لفظ میں دینا ہوگا ہر مساہم سے صرف ایک ہی سوال کیا جائیگا

اس فرع کو شہر مالیگاؤں کی مشہورو معروف شخصیت عصری علوم کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کی بناء پر ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام  شہر کی عوام کو مدر آمنہ اور مدر عائشہ جیسی تعلیم گاہیں مہیاکروانے والی شخصیت مرحوم الحاج عبدالمطلب شیخ سر صاحب  کے نام سے موسوم کیا گیا ہے 

*دوسری فرع پارۂ عم مع سورہ یسین وسورہ ملک حفظ* کی ہوگی اس فرع کو صوبہ مہاراشٹر کی مشہور و معروف دینی درسگاہ ام المدارس مدرسہ بیت العلوم کے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا محفوظ الرحمٰن صاحب قاسمیؒ(مفتی حسنین صاحب اور مولانا عمرین صاحب کے والد محترم) کے نام سے موسوم ہوگی 

مسابقات کو ان شخصیات کے نام موسوم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عوام کے سامنے ان کی خدمات اجاگر ہو اور دوسروں میں خدمت کا جذبہ پروان چڑھے

مسابقہ اذان کا مقصد یہ ہے کہ اذان شعائر اسلام کا جزو ہے اور توحیدورسالت کی ایک ایسی دعوت ہے جو ہر خاص وعام تک بکثرت بآسانی پہنچتی ہےاس پراثر دعوت کی فضیلت خود حضورؐ نے احادیث میں فرمائی ہےعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے  روایت ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص  ثواب کی امید رکھتے ہوئے 12 سال تک اذان دے تو اس کے لیے جہنم سے آزادی لکھ دی جاتی ہےاسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ  جہاں تک موذن کی آواز پہنچتی ہے وہاں تک تمام چیزیں جو اس کی اذان سنتی ہے سب اس کی مغفرت کے لیے دعا کرتی ہے 

مساجد سے ہونے والی اذانیں اگر بہترین لب و لہجے اور حسن صوت سے ہو تو مسلمانوں کے علاوہ غیروں پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے

کچھ زمانہ قبل شہر مالیگاؤں میں مساجد میں اذان کی خدمت کے لیے اکثر عمر رسیدہ افراد کو متعین کیا جاتا تھا  جس بنا پر اذان کی چاشنی اور روحانیت گویا ختم ہو چکی تھی مجلس ابناء قدیم مدرسہ اسلامیہ کے زیر اہتمام اصلاح اذان اور مسابقہ اذان جیسے پروگرامات کی بناء پر شہر میں یہ ماحول بنا کے اب مساجد میں اذان کی خدمت پر ایسےنوجوانوں کو متعین کیا جاتا ہے جو حافظ قران  ہوتا ہے یا عالم دین ہوتا ہے جس سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ مجلس ابناء قدیم مدرسہ اسلامیہ اپنے مقاصد میں پوری طرح کامیاب ہے 

پارہ عم اور سورہ یاسین و سورہ ملک جیسی سورتوں کو حفظ کرانے کا مقصد یہ ہے کہ اگر طالب علم مکمل حافظ قران نہ بھی بن سکے تو کم از کم اس کو اتنی سورتیں یاد ہونی چاہیے  جسے نماز میں وہ تجوید کی رعایت کے ساتھ تلاوت کر سکے اور اپنی نماز کو قبولیت کے مقام تک پہنچائے

پارہ عم کے ساتھ ایسی سورتیں متعین کی جاتی ہے جو معمولات میں شامل ہواور ان سورتوں کے بہت زیادہ فضائل وارد ہیں

 مثلا سورہ یاسین کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قران شریف کا دل سورہ یسین ہے

 دوسری روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری چاہت ہےکہ سورہ یاسین میرے ہر امتی کے دل میں ہو یعنی حفظ یاد ہو

 اور سورہ ملک کے متعلق ایک حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قران شریف میں ایک سورت 30 آیات کی ایسی ہے جو  اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرتی رہتی ہے  یہاں تک کہ اس کی مغفرت کردی جاتی ہے وہ سورت سورہ ملک ہے 

معمولات کی یہ سورتیں اگر کوئی شخص پابندی کے ساتھ پڑھے تو ان شاءاللہ اس کے واضح اثرات زندگی پر پڑتے ہیں 

بہر حال  دعا ہے کہ اللہ تعالی مجلس ابناء قدیم مدرسہ اسلامیہ کی ان خدمات کو قبول فرمائے

 اور ہونے والے مسابقے کو کامیابی کے ساتھ ہمکنار فرمائے آمین

*🛑سیف نیوز اُردو*

نویں کے طلبہ سے...ڈاکٹر مبین نذیر آپ سوچیں گے کہ بھئی یہ نویں جماعت کے طلبہ سے کیا کہنا؟ ابھی تو ان کے بورڈ کے امتحا...