مالیگاؤں میں ہوئی ’ آزادی : دی فائٹ واز نیوَراووَر‘شارٹ فلم کی شوٹنگ
جنید امام کی ایوارڈ یافتہ فلم کے ذریعے دو قوموں کے درمیان غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے
اسپیشل اسٹوری : فرحان حنیف وارثی
پونے میں مقیم رائٹر، ڈائریکٹرجنید امام ایک مرتبہ پھر اپنی شارٹ فلم ’ آزادی : دی فائٹ واز نیوَراووَر‘کی وجہ سے خبروں میں ہیں ۔اس شارٹ فلم کو کلّال (تمل ناڈو )کے ’روہیپ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ‘ میں ’بیسٹ انڈین شارٹ فلم ایوارڈ‘ سے نوازاگیاہے ۔بوسٹن ( امریکہ ) کے’ بی ڈی سی‘ ٹی وی نے اس فلم کا تبصرہ ٹیلی کاسٹ کیاہے۔اس کے علاوہ سویڈن اور امریکہ وغیرہ میں منعقد ہونے والے فلم فیسٹیول کے لیےبھی اس شارٹ فلم کا انتخاب ہُواہے ۔
آکولہ سے تعلق رکھنے والے جنید امام نے ابھی تک تقریباً 20 ؍ شارٹ فلموں کی تخلیق کی ہے اور ان میں سے بیشتر فلموں کو ایوارڈ سے نوازا گیاہے ۔انھوں نے اپنی شارٹ فلم ’ آزادی : دی فائٹ واز نیوَراووَر‘کےبارے میں بتایا :’ملک کے موجودہ حالات میں خود شناخت ہی آپ کی سب سے بڑی دشمن ہو گئی ہے ۔ہم دشمنی کے اس معیار پر ہیںکہ اب ہم شکل اور نام دیکھ کرہی دوسرے کو اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں۔پہلے دھیرے دھیرے ناراضی اور عداوتیں ہُواکرتی تھیں اور بعد ازاں دشمنی کی شروعات ہوتی تھی مگر اب ایسا نہیں ہے ۔اب شارٹ کٹ ہوگیاہے ۔مثلاً اگر کوئی داڑھی ٹوپی والا ہے تو اسے اپنا دشمن یا دہشت گرد سمجھ لیا جاتا ہے ۔آج ملک کے حالات بہت بگڑ چکے ہیں اور دو قوموں کے بیچ ایک طویل خلیج پید ا ہوگئی ہے ۔‘
جنید امام کے مطابق :’جب طے کیا گیا کہ سماج کو ایک اچھا پیغام دینا ہے تو مختلف زاویے سے کہانی سوچی گئی اور آخر کار اس خیال کو پسند کیا گیا ۔یہ کہانی اس لیے منتخب کی گئی کہ اسے تجسس کےانداز میں پیش کیا گیاہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم کسی کو دیکھ کر اس کے بارے میں غلط تاثر قائم کر لیتے ہیں کہ یہ ایسا ہی ہوگا ۔موجودہ حالات میں مسلم اور برادران وطن اپنی اپنی آبادی والے علاقوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ہم نے اس فلم میں دکھایا ہے کہ ایک ہندو خاندان کچھ اس سچویشن میں آجاتا ہے کہ اسے بحالت مجبوری دس دنوں کے لیے ایک مسلم علاقے میں رہنا پڑتا ہے۔‘ وہ آگے بتاتے ہیں :’اس ہندو خاندان کےایک فرد کے دل و دماغ میں مسلمانوں کو دیکھنے کے بعد مختلف وسوسے پیدا ہوتے ہیں ۔ڈر پیدا ہوتا ہے اورمعاملہ یہاں تک پہنچ جاتاہے کہ وہ اپنی بیوی اور اپنے بھائی کے بارے میں بھی منفی باتیں سوچنے لگتا ہے ،جب کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔آخر میں اسے سچائی کا پتہ چلتا ہے اور وہ خوشی خوشی گنجان آبادی والے اس مسلم علاقے میں رہنے کا فیصلہ کرتا ہے۔‘
’آزادی : دی فائٹ واز نیوَراووَر‘ ( (Azaadi :The Fight Was Never Over نامی اس شارٹ فلم کو ’ نوبل رِیل پروڈکشن ‘ نے پروڈیو س کیاہے ۔اس پروڈکشن ہاؤس کے روح رواں اشرف خان صاحب ہیں جو معروف اسکالر ، صحافی اور ادیب ڈاکٹر سلیم خان کے فرزند ہیں ۔جنید امام نے ’ نوبل رِیل پروڈکشن ‘ کے ساتھ پہلے بھی ’کش ‘نامی ایک شارٹ فلم تیار کی تھی جو ڈرگس کے خلاف تھی ۔انھوں نے بتایا کہ ہماری یہی کوشش ہے کہ تجسس کے اندازمیں سماج کو مثبت اور اچھا پیغام دیا جائے تاکہ سبھی آپس میں مِل جُل کر رہیں اور سماج کو مضبوط کریں ۔
جنید امام نے اپنی اس شارٹ فلم کی شوتنگ کے لیے پاور لوم اور ’ اردو ‘ کے مداحوں کے شہر مالیگاؤں کا انتخاب کیا اور تین چار دنوں میں 22؍ منٹ کی اس فلم کو مکمل کیا ۔اس شارٹ فلم کی کانسیپٹ ایڈوائزری ٹیم میں ہمایوں شیخ ،
عبدالحسیب بھٹکر،عبدالقدیر،عبید الرحمٰن انصاری اور انور شیخ شامل ہیں ۔ بالی ووڈ کے نامور اداکارمشتاق خان ،اکرم خان اور علینا خان وغیرہ نےاس فلم میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے ۔
جنید امام نے پونے کی ’ پونے یونیورسٹی ‘ سے فلم میکنگ کا کورس کیااور سال 2006سے اپنے کیریئر کی شروعات کی ۔وہ امریکہ ، جرمنی اور آسٹریلیا کے متعدد فلم فیسٹیول کی جیوری کے رکن بھی رہ چکے ہیں ۔ان کی ’میریٹ اینیمل ‘ نامی ایک سِنے فلم ریلیز ہوچکی ہے اور سال 2022کے ’10؍ویں انڈیا سِنے فیسٹیول ‘ میں ایوارڈ جیت چکی ہے ۔ان کی مشہور شارٹ فلموں میں :کرب ، کش، میزائل مین ، ڈاٹ دی ڈاؤٹر،ایرر، کردار ، بانگ ،مائی جرنی وتھ سُومِی ، اُجالےکی اوو ر،فلائنگ وِش،افسانہ گوئی ، اقرا، ایکُولتا ایک راجا(دی اونلی کنگ ) ، نیا قانون، اور ’میلاوا: دی فیسٹیول آف میریجیس ‘قابل ذکر ہیں ۔
______________
افسانہ: خالی چارپائی
🇨🇮انیس لعل خان مالی
سلطان گاؤں کے کنارے واقع ایک پرانے زمین دار کے کھیتوں میں روز مزدوری کرتا۔جسم پسینے میں بھیگتا ،مگر چہرہ ہمیشہ مطمئن رہتا۔اس کے خواب بڑے تھے خاص طور پر اپنے بیٹوں کے لیۓ"میرے بچے پڑھ لکھ کر کسی شہر میں نوکری کریں گے!“وہ اکثر یہ جملہ دہراتا ،اور بیوی دھیرے سے مسکرا دیتی ۔بڑا بیٹا رافع اسکول میں ہوشیار نکلا جب وہ بارھویں جماعت میں کامیاب ہوا تو سلطان نے سب کچھ داؤ پر لگا کر اسے اعلی معیار کی تعلیم کے لئے ممبئی بھیج دیا ۔ادھر سلطان بوڑھا ہوتا گیا چھوٹا بیٹا معین اسکول چھوڑ کر باپ کے ساتھ کھیت کے کام میں جٹ گیا زندگی سانس لیتی رہی مگر آہستہ ۔ایک دن کھیت میں ہل چلاتے ہوئے سلطان گر پڑا دل کا دورہ مگر اسے اسپتال نہ پہنچایا جا سکا وہیں اس مٹی پر جان دے دی جسے وہ ساری عمر سینچتا رہا بوڑھی بیوی اور کمسن بیٹے نے بڑی مشکل سے جنازہ اٹھایا گاؤں والوں نے کندھا دیا مگر دل کا بوجھ کون بانٹنا ہیں مہینے گزر گئے رافع کو خبر ہوئی مگر اس وقت وہ سعودی عرب میں تھا اپنے بیوی بچوں کے ساتھ عمرہ کرنے ۔جب گاؤں سے فون آیا کہ ”تمہاری ماں کی طبیعت اب خراب ہے،آنکھوں کی بینائی جا چکی ہے صرف تمہاری آواز سننے کی خواہش ہے ۔۔۔“تو رافع نے سر جھکایا اور بس اتنا کہا ۔”ابھی واپس آنا ممکن نہیں ،ہم مدینہ میں ہیں ۔۔۔“ماں نے جب یہ سنا تو چپ ہوگٔی اور پھر ۔۔۔ہمیشہ کے لئے چپ ہوگٔی ۔کچھ برس کے بعد رافع گاؤں آیا بڑی گاڑی ، مہینگے کپڑے ، موبائل کی جھرمٹ میں ۔مگر صحن میں خالی چارپائی پر دھوپ برس رہی تھی اور اندر ایک بند کمرہ تھا ۔۔۔۔جہاں کبھی ایک ماں اپنی آنکھوں میں انتظار کے چراغ جلاے بیٹھی رہتی تھی ۔ گاؤں کی عورتوں نے سرگوشی میں کہا ”سلطان کا خواب پورا تو ہوا۔۔۔۔ لیکن وہ خود یہ منظر دیکھنے کے لئے زندہ نہ رہ سکا ۔“
انیس لعل خان ۔
_________
"مجھ سے ملو،" میں مالیگاؤں ہوں"
نظم نگار :علیم طاہر
مجھ سے ملو میں مالیگاؤں ہوں
درد بھرا ہے قصہ میرا
ملا نہ اب تک حصہ میرا
قد آور سا ،ہر قد میں ہوں
مگر سیاست کی زد میں ہوں
مدت گزری ضلع نہیں ہوں
گاؤں تھا کل تک آج وہیں ہوں
سارے جہاں میں دھوم ہے میری
اول صورت لوم ہے میری
مسجد ،مندر ،دین، عبادت
میری ہے پہچان محبت
میری رگوں میں "علم اجالے"
مرے تلوؤں میں, پیلے چھالے
چہرہ میرا نورانی ہے
کیوں دشمن کو حیرانی ہے
مری آنکھوں میں غم کے شعلے
یاد ہے مجھ کو بم کے شعلے
ہندو مسلم " نا ک " ہے میری
ہر ظالم پر " دھاک " ہے میری
میری زباں پر پیار کی بولی
پھر بھی ہاتھ میں خالی جھولی
گاؤں تھا پہلے, اب بھی گاؤں ہوں
مجھ سے ملو "میں مالیگاؤں ہوں"
ٹیچر عالم قاری میں ہوں
ہر شعبے پر بھاری میں ہوں
گلی گلی میں علم, ہنر ہے
مجھ میں دلکش اردو گھر ہے
مسجد مندر گردواروں کا
میں مرکز ہوں میناروں کا
مجھ میں کالج، مجھ میں مدرسے
اسکولوں پر رحمت برسے
صبر و سکوں ہے فطرت میری
دنیا میں ہے شہرت میری
علمی فلمی ظاہر مجھ میں
علم و ہنر کے ماہر مجھ میں
مجھ میں محنت والے بھی ہیں
دولت شہرت والے بھی ہیں
کشتی کے ہیں مجھ میں اکھاڑے
داؤ سکھائے ہار پچھاڑے
کتنے باڈی بلڈر بھی ہیں
مجھ میں صحافی لیڈر بھی ہیں
سچائی کے دھرنے مجھ میں
جلسے بھگدڑ نعرے مجھ میں
رستہ چلتا " مرد پاؤں " ہوں
مجھ سے ملو، "میں مالیگاؤں ہوں"
نہ "زیرو" ہوں نہ "ویلن" ہوں
دہشت گر د ی کا دشمن ہوں
بارودوں کا ظلم سہا ہے
ٹکڑے ٹکڑے جسم اڑا ہے
کیا میں چاہوں کوئی پوچھے !
میں نے بھی کچھ سپنے دیکھے
ڈھونڈ رہا ہوں تعبیروں کو
سنتا آیا تقریروں کو
میرے سینے میں بھی دل ہے
سچ کہنا کتنا مشکل ہے
چین سے جیو اور جینے دو
زخم مرے مجھ کو سینے دو
امن کی چاہت بول رہی ہے
میری ہمت بول رہی ہے
مجھ پہ کرم کی کرو نگاہیں
گلے لگاؤ کھلی ہیں باہیں
میں رہتا ہوں حد میں میری
باتیں ہوں سنسد میں میری
ریل سے مجھ کو جوڑو" رہبر"
منہ اپنا نہ موڑو " رہبر"
دھوپ نہیں ہوں سرد چھاؤں ہوں
مجھ سے ملو ، "میں مالیگاؤں ہوں"
(C): " New Malegaon Song " No.01:
"Mujh se Milo main Malegaon hoon."
By:
Aleem Tahir
Mobile no.9623327923.
Email id: aleemtahir12@gmail.com
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
"Mujh se Milo main Malegaon hoon "
Lyrics By: Aleem Tahir
Dard bhara hai qissa Mera
Mila na ab tak hissa mera
Qad Aawar saa har qad me hun Magar siyasat ki zad me hoon
Muddat guzari zila nahin hoon
Gaon tha kal tak Aaj waheen hoon
Saare Jahan main dhoom hai meri
awwal Surat loom hai meri
Masjid, Mandir ,deen, ibadat
meri hai pahchan Mohabbat
Meri ragon mein ilm ujale
Mere talvon mein Peele chhale
chehra Mera nurani hai
kyon Dushman Ko hairani hai
Meri aankhon mein gam ke Shole
yaad hai mujhko bam ke Sholay
Hindu, Muslim ,naak hai meri
har zalim per dhaak hai meri
Meri zubaa par peyar ki boli
fir bhi hath mein Khali jholi
Gaon tha pahle Ab bhi gaon hoon
mujhse Milo main Malegaon hoon
Teacher ,Aalim, qaari main hun
har shobe par Bhari main hun
Gali gali me ilm o hunar hai
mujh me Dilkash Urdu Ghar hai
Mandir masjid gurudwaron ka
main markaz hoon meenaron ka
Mujh me college mujh me madrase
schoolon per rahamat barse
Sabr o suku hai fitrat meri
duniya mein hai shohrat meri
Filmi, filmi ,Zaahir mujh me
Ilm o hunar ke mahir mujhmein
mein
Mujhmein mein mehnat Wale bhi hai
Daulat shohrat Wale bhi hai
Kushti ke hai mujhmein mein akhade
daao sikhaye haar pachade
Kitne body builder bhi hain
Mujh me Sahafi leader bhi hain
Sacchai ke dharne mujh me
jalse ,bhagdad, naare ,mujh me
Rasta chalta "mard paon" hoon mujhse Milo "main Malegaon hoon "
Na zeero hoon na villain hoon
Daheshat gardi ka Dushman hoon
Barudon ka zulm Saha hai
tukde tukde jism uda hai
Kya main chahun koi puche
maine bhi kuch sapne dekhe
Dhundh raha hoon tabiron ko
sunta aaya taqreeron ko
Mere Seene me bhi Dil hai
sach kehena Kitna mushkil hai
Chain se jiyo Aur jeene do
Zakhm mere mujhko seene do
Amn ki Chahat bol rahi hai
meri himmat bol rahi hai
Mujh pe karam ki karo nigahen
gale Lagao khuli hain baahen
Main rahata Hun had mein meri
baaten ho sansad me meri
Rail se mujh ko jodo rahebar
munh apna na modo rehebar
Dhoop nahin hun sard chanv hoon
mujh se Milo main Malegaon hoon
(C) "mujh se Milo main Malegaon hoon"
A Lyrics
By Aleem Tahir
Email id: aleemtahir12@gmail.com
Mobile no.9623327923.
________________
ہندی نظم :''اُس سے محبت'' (ورون آنند)
جھیلیں کیا ہیں؟
اُسکی آنکھیں
عمدہ کیا ہے؟
اُسکا چہرہ
خوشبو کیا ہے؟
اُسکی سانسیں
خوشیاں کیا ہیں؟
اُسکا ہونا
تو غم کیا ہے؟
اُس سے جدائی
ساون کیا ہے؟
اُسکا رونا
سردی کیا ہے؟
اُسکی اُداسی
گرمی کیا ہے؟
اُسکا غصہ
اور بہاریں؟
اُسکا ہنسنا
میٹھا کیا ہے؟
اُسکی باتیں
کڑوا کیا ہے؟
میری باتیں
کیا پڑھنا ہے؟
اُسکا لکھا
کیا سننا ہے؟
اُسکی غزلیں
لب کی خواہش؟
اُسکا ماتھا
زخم کی خواہش؟
اُسکا چھونا
دنیا کیا ہے؟
اک جنگل ہے
اور تم کیا ہو؟
پیڑسمجھ لو
اور وہ کیا ہے؟
اک راہی ہے
کیا سوچا ہے؟
اُس سے محبت
کیا کرتے ہو؟
اُس سے محبت
مطلب پیشہ؟
اُس سے محبت
اس کے علاوہ؟
اُس سے محبت
اُس سے محبت
اُس سے محبت
( ورون آنند )