وزیراعظم،چیف منسٹراور وزراء کی برطرفی کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری
وزیراعظم، چیف منسٹر اور وزراء کی برطرفی سے متعلق پارلیمنٹ میں بل پیش کرنے کی تیاری
مرکزی حکومت آج پارلیمنٹ میں تین اہم بل پیش کرنے جا رہی ہے جن کا مقصد اُن منتخب نمائندوں وزیراعظم، چیف منسٹر اور وزراء کو ہٹانے کا قانونی طریقہ وضع کرنا ہے جو سنگین فوجداری مقدمات میں گرفتار یا حراست میں لیے جائیں۔
وزیر داخلہ امت شاہ بدھ(20،اگست) کو یہ بل پیش کریں گے جن میں 130ویں آئینی ترمیمی بل بھی شامل ہے۔ اس بل کے تحت آئین کے آرٹیکل 239AA میں نئی شق 5A کا اضافہ کیا جائے گا تاکہ ایسے وزرائے اعلیٰ یا وزراء کو ہٹایا جا سکے جو کسی جرم کے الزام میں مسلسل 30 دن تک حراست میں رہیں۔
تجویز کردہ ترمیم کی وضاحت
بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی چیف منسٹر 30 دن تک حراست میں رہتا ہے اور جرم ایسا ہے جس کی سزا پانچ سال یا اس سے زیادہ ہوسکتی ہے تو اُسے 31ویں دن استعفیٰ دینا ہوگا۔ بصورت دیگر اُس کا عہدہ خود بخود ختم تصور ہوگا۔ یہی شق وزیراعظم کے لیے بھی لاگو ہوگی۔
آرٹیکل 75 میں مجوزہ ترمیم کے مطابق، اگر وزیراعظم 30 دن تک مسلسل حراست میں رہیں تو اُنہیں بھی استعفیٰ دینا ہوگا، ورنہ 31ویں دن کے بعد اُن کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔
تاہم ترمیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر وزیراعظم، چیف منسٹر یا وزیر بعد میں رہا ہو جائیں تو صدر جمہوریہ (وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کے مشورے سے) دوبارہ انہیں عہدے پر بحال کر سکتے ہیں۔
پس منظر اور مثالیں
یہ بل دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کے معاملے کے پس منظر میں پیش کیا جا رہا ہے، جنہوں نے مبینہ شراب اسکیم کیس میں ای ڈی اور سی بی آئی کی حراست کے باوجود تقریباً 6 ماہ تک استعفیٰ نہیں دیا۔ اسی طرح تمل ناڈو کے وزیر سنتھل بالاجی کی مثال بھی پیش کی گئی ہے جو گرفتاری کے باوجود کابینہ کا حصہ رہے۔
سیاسی ردعمل
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا:
’’کیا بھیانک چکر ہے! گرفتاری کے لیے کوئی رہنما اصول نہیں، اپوزیشن لیڈروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نئے بل کے تحت محض گرفتاری ہوتے ہی وزیراعلیٰ کو ہٹا دیا جائے گا۔ یہ اپوزیشن کو غیر مستحکم کرنے کا سب سے آسان ہتھیار ہے۔ حکمراں جماعت کے وزرائے اعلیٰ پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا جاتا!‘‘
سنگھوی وہی وکیل ہیں جنہوں نے کیجریوال کے لیے سپریم کورٹ میں ضمانت حاصل کی تھی۔
جموں و کشمیر اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں سے متعلق بل
اسی کے ساتھ حکومت جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل 2025 اور یونین ٹیریٹری ایڈمنسٹریشن ترمیمی بل 2025 بھی پیش کرے گی۔
جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019 کی دفعہ 54 میں ترمیم کے تحت یہ تجویز دی گئی ہے کہ اگر کوئی وزیر 30 دن تک حراست میں رہے اور اُس پر ایسا جرم عائد ہو جس کی سزا پانچ سال یا اس سے زیادہ ہو تو لیفٹیننٹ گورنر، چیف منسٹر کے مشورے پر، 31ویں دن اُسے عہدے سے ہٹا دے گا۔
یونین ٹیریٹریز ایکٹ میں بھی اسی طرز کی شق 5A شامل کی جا رہی ہے۔
حکومت کا مؤقف
بل کے مقاصد اور وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عوامی نمائندے قوم کی اُمیدوں اور امنگوں کے ترجمان ہیں۔ ان کا کردار شفاف اور شکوک و شبہات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ ایسے وزراء جو سنگین جرائم میں گرفتار ہوں وہ عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور آئینی اصولوں کے منافی ہیں۔
اسی لیے یہ ترمیم ضروری سمجھی گئی ہے تاکہ عوامی نمائندوں کے عہدے کا تقدس برقرار رہے۔
جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت پر قیاس آرائیاں
ان ترامیم کی فہرست میں جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن بل کی موجودگی نے یہ قیاس آرائیاں بھی تیز کر دی ہیں کہ شاید اس کے ذریعے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کی سمت کوئی قدم اُٹھایا جائے
روس : بھارت کے ساتھ تیل کے تعلقات امریکی ٹیرف سے متاثر نہیں ہوں گے
’’زیادہ دباؤ، زیادہ تعاون‘‘ : روس کا مؤقف کہ بھارت کے ساتھ تیل کے تعلقات ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر تازہ تجارتی ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے صرف چند دن بعد روس نے واضح کیا ہے کہ نئی دہلی کے ساتھ اس کے تیل کے تجارتی تعلقات کسی دباؤ سے متاثر نہیں ہوں گے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ کے نتیجے میں بھارت اور روس کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون مزید گہرا ہوگا۔
روس کے نائب تجارتی نمائندہ برائے بھارت ایوگینی گریوا نے کہا: ’’زیادہ دباؤ کا مطلب ہے زیادہ تعاون۔‘‘
انہوں نے وضاحت کی کہ ماسکو نے ایک ’’بہت خاص میکنزم‘‘ تیار کیا ہے تاکہ پابندیوں کے باوجود بھارت کو خام تیل کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
روس فی الحال بھارت کے لیے توانائی کا ایک اہم شراکت دار ہے اور بھارت کی مجموعی خام تیل کی درآمدات میں روس کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہے۔ گریوا کے مطابق یہ تناسب ’’بھارتی معیشت کے لیے انتہائی اہم‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامات روس کو مسلسل اور مستحکم فراہمی کے قابل بناتے ہیں اور مستقبل میں کسی رکاوٹ کا امکان نہیں ہے۔
بھارت-روس تجارت میں وسعت
عہدیداروں نے بتایا کہ توانائی کے علاوہ بھارت کی برآمدات بھی روس کے لیے بتدریج بڑھ رہی ہیں، جن میں مشین ٹولز، ادویات اور کیمیکلز شامل ہیں۔ اس سے دوطرفہ تجارتی تعلق مزید مستحکم ہوا ہے۔
گریوا نے مستقبل کو ’’بالکل مثبت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی پابندیاں دراصل ماسکو اور نئی دہلی کو مزید قریب لا رہی ہیں۔
’’غیر قانونی‘‘ : مغربی ثانوی پابندیوں پر روسی اعتراض
ایوگینی گریوا نے مغربی ممالک کی جانب سے ممکنہ پابندیوں (Secondary Sanctions) کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’غیر قانونی، دوہرے معیار اور قومی مفادات کی توہین‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ BRICS جیسے فورمز پر روس نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ کسی پر پابندیاں عائد نہ کرے۔ ان کے مطابق روسی تیل نہ صرف قیمت کے اعتبار سے مسابقتی ہے بلکہ بھارت کے لیے منافع بخش بھی ہے۔
’’ ایسی صورت میں بھارتی حکومت بخوبی سمجھتی ہے کہ اس کے لیے روسی تیل کتنا فائدہ مند ہے‘‘۔
روسی سفارتکار کی یقین دہانی
روس کے نائب سفیر برائے بھارت رومن بابوشکن نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اضافی ٹیرف کو وقتی طور پر معطل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روسی مارکیٹ بھارتی برآمدکنندگان کے لیے کھلی ہے اور وہ مغربی ممالک میں درپیش رکاوٹوں کے باوجود روس میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔
’’فکر نہ کریں، یہ دباؤ بلاجواز ہے،‘‘بابوشکن نے کہا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپی یونین کی پابندیوں نے روس کے تیل کے شعبے کو زیادہ متاثر نہیں کیا کیونکہ ماسکو نے اپنے ایڈجسٹمنٹس (structural adjustments) کے ذریعے نظام کو آزاد کر لیا ہے۔ ’’ہم نے اپنا سسٹم خودمختار بنا لیا ہے
بابوشکن نے مزید کہا کہ ماسکو کو نئی دہلی پر مکمل اعتماد ہے اور روس کو توقع نہیں کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کرے گا۔ ان کے مطابق، چیلنجز کے باوجود بھارت-روس تجارتی حجم سات گنا بڑھ چکا ہے۔
بھارت نے 2022 کے بعد سے روسی خام تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا، خاص طور پر اس وقت جب مغربی ممالک نے یوکرین جنگ کے بعد ماسکو پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ بھارت کے لیے روسی تیل سستا اور پائیدار ذریعہ ہے، جبکہ روس کے لیے یہ ایشیائی منڈیوں میں اپنی جگہ بنانے کا بڑا موقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پالیسی میں بھارت پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان اسی تناظر میں سامنے آیا کہ واشنگٹن ماسکو-نئی دہلی توانائی تعاون کو یوکرین جنگ کے خلاف اپنی پالیسی کے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے۔ تاہم، روس کا کہنا ہے کہ یہ دباؤ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید گہرا کر رہا ہے
مذاکرات کی گونج میں دھماکوں کی آواز! روس-یوکرین جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب یوکرین میں جنگ بندی کا مطالبہ ترک کر دیا ہے۔ اس کے بجائے اب وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی اس تجویز کی حمایت کر رہے ہیں جس میں وہ ایک مستقل امن معاہدہ چاہتے ہیں۔ تاہم، کچھ یورپی رہنما اب بھی پہلے عارضی جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں، حالانکہ ٹرمپ اب اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ یوکرین اور یورپی ممالک امن چاہتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے سب سے بنیادی اصول کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ کوئی ملک طاقت کے بل بوتے پر کچھ بھی کر سکتا ہے۔
ایک مثبت اقدام میں، روسی حکام نے یوکرین کے ایک ہزار فوجیوں کی لاشیں یوکرین کو واپس کر دی ہیں۔ یہ معلومات یوکرین کے سرکاری محکمے کیف انڈیپنڈنٹ کو دی گئیں۔ ساتھ ہی روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی TASS نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یوکرین نے بدلے میں 19 روسی فوجیوں کی لاشیں واپس کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ TASS نے یہ بھی اطلاع دی کہ روسی وزارت دفاع کے مطابق ایک ہی دن میں تقریباً 1,370 یوکرینی فوجی مارے گئے۔ تاہم یوکرین کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ دونوں ممالک کے درمیان امن مشقوں کے درمیان کچھ نہ کچھ تواتر سے جاری ہے، جس کی معلومات ہم آپ کو دے رہے ہیں۔
آسٹریا-سوئٹزلینڈ نے امن مذاکرات کی پیشکش کی
سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا نے منگل کو کہا کہ اگر روسی صدر ولادیمیر پوٹن امن مذاکرات کے لیے یوکرین آتے ہیں تو وہ انہیں اپنے ملک آنے کی اجازت دیں گے۔ ان دونوں ممالک نے کہا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے، لیکن وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ سوئس وزیر خارجہ اگنازیو کیسس نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پیوٹن کو کچھ شرائط کے تحت سوئٹزرلینڈ میں قدم رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ آسٹریا نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر یوکرین جنگ کے حوالے سے اس کے ملک میں امن مذاکرات ہوتے ہیں تو وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سے رابطہ کرے گا تاکہ صدر ولادیمیر پوتن کی شرکت ممکن ہو سکے۔
اس کے بعد بھی منگل کی رات دیر گئے یوکرین کے ڈرون حملے کی وجہ سے روس کے زیر کنٹرول علاقے زاپوریزیہ میں بجلی منقطع ہو گئی۔ یہ معلومات ماسکو کے مقرر کردہ گورنر یوگینی بالیتسکی نے دی۔ Zaporizhia کا زیادہ تر علاقہ روسی کنٹرول میں ہے لیکن یوکرین اب بھی انتظامی مرکز کو کنٹرول کرتا ہے اور وقتاً فوقتاً حملوں کے ذریعے روس کے زیر قبضہ علاقوں کو بجلی کی فراہمی میں خلل ڈالتا ہے۔ بالٹسکی نے کہا کہ بجلی کی یہ کٹوتی ہائی وولٹیج آلات پر دشمن کے دہشت گرد ڈرون حملوں کی وجہ سے ہوئی۔ جون میں اسی طرح کے ایک حملے میں تقریباً 7 لاکھ افراد 24 گھنٹے سے زائد بجلی سے محروم ہو گئے تھے، جسے اب تک کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ روس کے زیر قبضہ Zaporizhia جوہری پلانٹ یورپ کا سب سے بڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: Donald Trump-Zelensky Meeting: روس سے محبت، یوکرین سے نفرت! ڈونلڈ ٹرمپ زیلنسکی کو گھر بلا کر دھمکیاں کیوں دے رہے ہیں؟
روس نے یوکرین پر حملہ کیا۔
روس نے منگل کی رات یوکرین کے مرکزی شہر کریمینچک پر بھی بڑا حملہ کیا، جس سے شہر پر دھویں کے گہرے بادل چھا گئے۔ مقامی میئر Vitaly Maletsky نے کہا کہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ صدر ولادیمیر پوٹن امن نہیں چاہتے۔ یوکرین کی فضائیہ کے مطابق اگست میں یہ اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا۔ روس نے 270 ڈرون اور 10 میزائل فائر کیے جن میں سے 230 ڈرون مار گرائے گئے تاہم 16 مقامات پر حملے کامیاب رہے۔
کریمینچک اور دیگر علاقوں میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کی وجہ سے تقریباً 1500 گھروں میں آگ لگ گئی اور بجلی کی بندش ہوئی۔ روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرین کی فوج کو سپلائی کرنے والی آئل ریفائنری پر حملہ کیا۔