آپ کی دعوت کا شکریہ لیکن میں…ٹرمپ سے فون پر کیا بولے تھے پی ایم مودی ، آج سنائی پوری کہانی
وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت بھونیشور میں ہیں، جہاں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے G7 سے واپسی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی بات چیت کا ذکر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ابھی دو دن پہلے میں کینیڈا میں تھا۔امریکی صدر ٹرمپ نے مجھے فون کیا اور کہا کہ کینیڈا آئے ہیں ہیں، ہمارے یہاں بھی آئیے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کی دعوت کا شکریہ ، لیکن میرے لیے مہا پربھو کی سرزمین ج پرانا بہت ضروری ہے۔ اس لیے میں نے شائستگی سے ان کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور مہا پربھو سے آپ کی محبت اور عقیدت مجھے یہاں کھینچ لائی۔
G-7 میٹنگ کے دوران پی ایم مودی کو امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کرنی تھی۔تاہم ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں جاری اسرائیل ایران جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے G7 کے دوران ہی امریکہ واپس لوٹ گئے تھے۔ بعد میں ٹرمپ نے پی ایم مودی کو فون کیا اور واپس دہلی لوٹتے وقت انہیں واشنگٹن ڈی سی سے ہوتے ہوئے جانے کی دعوت دی۔ تاہم، وزیر اعظم نے اپنے مصروف شیڈول کا حوالہ دیتے ہوئے شائستگی کے ساتھ ان کی دعوت کو مسترد کر دیا۔وزیر اعظم نے آج اڈیشہ میں 18,600 کروڑ روپے کے 105 پروجیکٹوں کا افتتاح کرنے کے بعد یہ تبصرہ کیا۔ آج اوڈیشہ میں بی جے پی کی پہلی حکومت نے ایک سال مکمل کر لیا ہے۔ پی ایم مودی نے کہا، “اڈیشہ صرف ایک ریاست نہیں ہے بلکہ ہندوستان کی وراثت کا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں، اڈیشہ نے ہندوستان کی ثقافت اور ورثے کو مالا مال کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اڈیشہ کا کردار ترقی اور وراثت کے منتر کے طور پر بڑھا ہے اور یہ ہندوستان کی ترقی کا ستون بن گیا ہے۔”
جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ دشمن کی جارحیت کو غیر مشروط طور پر روکنا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی دو ٹوک
تہران:اسرائیل اور ایران کے درمیان ہر گزرتے دن کے ساتھ جنگ شدت ا ختیار کرتی جارہی ہے۔ اسرائیل لگاتار ایران پر حملے کررہا ہے تو وہیں ایران بھی اسرائیل کو منھ توڑ جواب دے رہا ہے۔ اس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے حالات روز بہ روز کشیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ ان سب کے درمیان ایران کے صدرمسعود پزشکیان کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہےجنگ کے خاتمے کا واحد راستہ دشمن کی جارحیت کو غیر مشروط طور پر روکنا ہے۔ مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’ہم نے ہمیشہ امن و امان کی کوشش کی ہے لیکن موجودہ حالات میں مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ دشمن کی جارحیت کو ’غیر مشروط طور پر روکنا‘ ہے۔
سماجی رابطی کی سائٹ ایکس پر انھوں نے لکھا کہ امن کے لیے ضروری ہے کہ ’صیہونی دہشت گردوں کی مہم جوئی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی یقینی ضمانت فراہم کی جائے۔‘انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ’بصورت دیگر دشمن کے خلاف ہمارا ردعمل زیادہ سخت اور افسوسناک ہوگا۔‘ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی یورپی وزرائے خارجہ اور ان کے ایرانی ہم منصب کے درمیان آج طے شدہ مذاکرات سے قبل جنیوا پہنچ گئے ہیں۔
اس سے پہلے انھوں نے مذاکرات کی فوری ضرورت کی طرف اشارہ کیا۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’سفارتی حل حاصل کرنے کے لیے اگلے دو ہفتوں کے اندر ایک ونڈو موجود ہے۔‘یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر اسرائیلی حملوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے دو ہفتے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔یورپی لیڈروں کو امید ہے کہ اس سے پہلے سفارتی حل تلاش کرکے کشیدگی سے بچا جا سکتا ہے۔خیال رہے کہ روس اور چین نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ جو جنگ میں کودنے سے پرہیز کرے ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
ہندوستان کے خلاف کینڈا میں خالصتانیوں کے ساتھ ملک کر گھناؤنی سازش کررہا ہے پاکستان،انٹلی جنس رپورٹ سے انکشاف
اوٹاوا: پاکستان ایک بار پھر اپنی ناپاک حرکتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں بے نقاب ہوگیا۔ کینیڈین خفیہ ایجنسی سی ایس آئی ایس کی تازہ ترین رپورٹ نے پاکستان کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت کو کم کرنے اور اپنی بھارت مخالف سازشوں کو آگے بڑھانے کے لیے کینیڈا کی سرزمین کا استعمال کر رہا ہے۔ یہ انکشاف نہ صرف چونکا دینے والا ہے بلکہ پاکستان کی مذموم چالوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ CSIS کی 2024 کی پبلک رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے نہ صرف کینیڈا میں سیاسی اور سیکورٹی مفادات کو فروغ دینے کی کوشش کی بلکہ بھارت کے خلاف اپنی گندی سیاست کو ہوا دینے کے لیے کینیڈا کے انتخابات میں بھی مداخلت کی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے کینیڈا کے وفاقی اور صوبائی انتخابات میں خفیہ طور پر مداخلت کرنے کی کوشش کی، تاکہ ایسے لیڈروں کوابھارجا سکے جو بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے حامی زیادہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان جہاں جمہوریت صرف نام کی ہے، دوسرے ممالک میں بھی ایسی ہی صورتحال چاہتا ہے۔ CSIS نے اسے غیر ملکی مداخلت کی سب سے مذموم شکل قرار دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان، کینیڈا میں مقیم اپنے ناقدین کو دبانے کے لیے غیر قانونی طریقوں کا بھی سہارا لے رہا ہے۔
پاکستان کو وارننگ
رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان مستقبل میں کینیڈا میں مختلف سطحوں پر حکومتوں، ثقافتی،مذہبی گروپوں اور میڈیا کو نشانہ بنا سکتا ہے، خاص طور پر انتخابی امیدواروں کے انتخاب کے عمل میں مداخلت کر کے۔ اس رپورٹ میں پہلی بار کینیڈا کی خفیہ ایجنسی نے خالصتانی عسکریت پسندوں کے بھارت مخالف عزائم کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ سرگرم لوگ کینیڈا کو اڈہ بنا کر بھارت میں فنڈنگ، منصوبہ بندی اور تشدد کو فروغ دے رہے ہیں۔
کینیڈا میں جنوبی ایشیائی نژاد لوگوں کی بڑی آبادی کو دیکھتے ہوئے رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں پاکستان کے حامی یا بھارت مخالف گروپوں کے لیے میدان تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم اسی رپورٹ میں بھارت کو بھی ‘غیر ملکی مداخلت’ کرنے والے ملک بتایا گیاہے، جسے بھارتی حکومت نے مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا ہے۔بھارت میں اعلیٰ حکومتی اور انٹلی جنس ذرائع نے کہا کہ یہ رپورٹ جان بوجھ کر ‘علیحدگی پسند لابی کو خوش کرنے’ اور کینیڈا کی جانب سے اپنی سرزمین پر کھلے عام سرگرم خالصتان کے حامی انتہا پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لیے تیار کی گئی تھی۔