Friday, 20 June 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





سنی تعزیہ کمیٹی کی اہیم
 میٹینگ
محرم کی تیاری کے لئے کل جمعہ کو سُنّی تعزیہ کمیٹی کی میٹنگ!

👈 آنے والے محرم کی تیاریوں کا جائزہ لینے اور تعزیہ داروں کے مسائل کو لے کر مناسب انتظامات کرنے کے تعلق سے شہر کے تمام سُنّی تعزیہ داروں کی اہم اور ضروری میٹنگ کل بروز جمعہ مورخہ 20/ جون کو رات میں بعد نمازِ عشاء ٹھیک سوا نو بجے سُنّی تعزیہ کمیٹی کے آفس نیا اسلام پورہ میں ہوگی۔ اس میٹنگ میں 
1) تعزیہ داروں کے پولیس اسٹیشن سے پرمیشن نکالنے کی ذمے داری دینا۔
2) تعزیہ رکھنے کی جگہوں پر اور تعزیہ لے جانے کے راستوں پر کیچڑ سے بچنے کے لئے مورم کا انتظام کرنے، فوکس لائٹ لگوانے اور صاف صفائی کے لئے کارپوریشن کے آفیسران سے ملاقات کرنا۔ 
3) تعزیہ کی جگہوں پر، اکھاڑہ اور سبیل اور دیگر پروگرام کی جگہوں پر اور تعزیہ کی جلوس میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے پولیس آفیسران کے ساتھ مل کر مناسب حفاظتی اقدامات کرنا۔ 
4) تعزیہ دفن کرنے کی جگہ اور تعزیہ محفوظ رکھنے کے لئے سُنّی امام باڑہ کی جگہ اور کربلا کی زمین کے لئے کورٹ اور کارپوریشن میں سُنّی تعزیہ کمیٹی کے کام کاج کہاں تک پہنچے؟ اس کی معلومات دینا۔
5) شہر میں 72 والے اور 76 والے کو لے کر چرچا چل رہی ہے۔ اس 72 اور 76 کے معاملے میں سُنّی تعزیہ کمیٹی کا کیا کہنا ہے؟ یہ طے کرنا۔ 
6) میٹنگ میں شریک تعزیہ داروں کی طرف سے آنے والے مسائل پر غور کرنا۔ 
اس لئے شہر کے تمام سُنّی تعزیہ داروں سے اور تعزیہ سے محبت اور عقیدت رکھنے والوں سے گذارش ہے کہ کل بروز جمعہ کو عشاء بعد ہونے والی میٹنگ میں شرکت کریں۔

---------- گذارش کردہ ------

👈صدر ریاض احمد قادری عطر والے، نائب صدر جمال بھیا، سیکریٹری جاوید انور، نائب سیکریٹری محمد اکرم، خازن عبدالودود اشرفی سالکی، شفیق حسن، عثمان غنی، رضوان احمد، عتیق موٹو، سلیم احمد اور دیگر ذمہ داران سُنّی تعزیہ کمیٹی۔ مالیگاؤں۔
گذارش کردہ









*خودکشی اور دیگر جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کا ذمہ دار کون???*

ازقلم:_مولانا امتیاز اقبال,استاذحدیث جامعہ تجویدالقرآن و مدیر نویدِ شمس,مالیگاؤں
خودکُشی,کسی کا ناحق قتل,لوٹ مار,ادارہ جاتی سطح پر مالی غبن و بدعنوانیاں شھر عزیز کی خبروں کی شاہ سرخیاں ہیں,ان میں سے سب سے زیادہ غمناک و خطرناک جرم "خود کُشی"ہے,خبروں کے مطابق عیدالفطر کے بعد سے 30 سےزائد دلخراش واقعات پیش آچکے ہیں,جن میں سے اکثر واقعات انتہائی حیرت انگیز ہیں,اول تو ان کے سنتے ہی کانوں پر یقین نہیں آیا,لیکن حقیقت کو تو جھٹلایا نہیں جاسکتا اس لیے چاروناچاران کربناک حقیقتوں کو ماننا ہی پڑا, تجزیہ نگاران نے اس قسم کےواقعات کے اسباب بھی بیان کیے ہیں-
(1)پہلا سبب آپسی ناجائزتعلقات ہیں,یہ تعلقات اکثر تو مردوخاتون دونوں کی طبعی ضرورت ہوتے ہیں,جو جائز طریقے سے پورے نہ ہونے کی وجہ سےناجائز راستہ اختیار کرنے پرمجبوراہوجاتے ہیں,بعض مرتبہ نکاح کی عمر کو پہنچ جانے والی بچیوں کا وقت پر مناسب رشتہ دیکھ کر نکاح نہ کرنا اس کا سبب بن چکا ہے, لیکن اکثر مرتبہ خواتین کی معاشی ضرورتیں انکو مجبور کردیتی ہیں,اور کبھی مرد ,پیار و محبت کے جال میں پھنسا کراپنی ہوس پوری کرنے کے بعد چھوڑ دیتا ہے,جس سے دلبرداشتہ ہونے کے بعد اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں-
(2)دوسری بڑی وجہ یہ بن رہی ہے کہ "معاشی قرض" (finenciel loan)کے نام پربڑی مقدارمیں رقمیں حاصل کی جارہی ہیں,اور اسی میں دوسرا معاملہ یہ ہورہا ہے کہ ایک شخص کچھ لوگوں کو ملا کرمشترکہ کاروبار کرتا ہے,پھر حالات دگرگوں ہونے پر منافع تو درکنار, اصل رقم کے ہی لالے پڑجاتے ہیں,جوذہنی اذیت کا سبب بنتے ہیں اور متاثر شخص کو خودکشی ہی اس کا واحد حل نظر آتا ہے,ایک واقعہ تو ایسا بھی ہے کہ ایک شخص بڑی بھاری رقم کا مقروض ہوگیا,آئے دن تقاضا کرنے والے گھر پر آدھمکنے لگےتو اس کے گھروالوں پر الزام ہے کہ انہوں نے تنگ آکرخود ہی قصہ تمام کروادیا,نام "خودکُشی یا قتل" کا دے دیا گیا۔ خیر مالی قرض اور کاروبار میں بھاری نقصان بھی خودکُشی کے بڑے اسباب میں سے ہے-
(3)سماجی ظلم وناانصافی تیسری بڑی وجہ ہے,اس طرح کے واقعات تو عام ہیں کہ بہو پر سسرال والے ظلم کرتے ہیں,جس کی بناء پراس ظلم سے بچنے کا واحد راستہ بہو کو خودکُشی ہی نظر آتا ہے,حالانکہ بعض حادثات کے بارے میں کچھ مدت کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ قتل تھا,لیکن اکثر تو خودکُشی ہی ہوتی ہے-
(4)چوتھی وجہ جو آج کل سامنے آرہی ہے وہ مھلک اورلمبے عرصے تک رہ جانے والی بیماریاں ہیں جس سے پریشان ہوکرمریض اپنی ہی جان کا دشمن بن جاتاہے,نیز دماغی خلل بھی اس کی وجہ بن رہی ہے-
خود کُشی ایک وباکی شکل اختیار کررہی ہے,اس کے سد باب کے لیے چند باتیں عرض ہیں-
۞اگر اس قسم کے خیالات آئیں تو یہ سوچے کہ میں اپنے اس وجود کا مالک نہیں ہوں میراجسم وبدن , اللہ کی ملکیت ہے,جب میں مالک ہی نہیں ہوں تو اپنے جسم پر مجھے کوئی حق حاصل نہیں ہے,اسی وجہ سے بھوک وپیاس کی صورت میں کھانا پینا ضروری و فرض ہے تاکہ اپنے بدن کو زندہ رکھ سکے,اسی طرح بیمار ہونے کی صورت میں دواعلاج واجب ہے,اگر کوئی شخص بھوک وپیاس اور بیماری کی حالت میں جان بوجھ کر کھانے پینے کی چیزیں اور دوا استعمال نہ کرے اور اس کے بدن کو نقصان پہنچ جائے تو گنہ گار ہوگا,صرف نقصان پرگنہ گار ہوگا تو پورے وجود کو کیسے ختم کرسکتا ہے ?!? یہ بات ہروقت ذہن میں رہے گی تو خود کُشی کا خیال بھی نہیں آئے گا ان شاء اللہ-
۞خودکُشی کی وعیدوں کوپیشِ نظر رکھا جائے اور خدانخواستہ یہ خیال آجائے تو اس پر غوروفکرکرتے رہنا چاہیے,جیساکہ نبی پاک ﷺ نے کہ خود کُشی کرنے والوں کو ہمیشہ ہمیش کے لیے جھنم کی سزا سنائی ہے,یہ بھی ذہن میں رہےکہ کافر کو اس کے کفر کی وجہ سے ہمیشہ ہمیش جھنم میں رہنا پڑے گا,اب یہی سزا خودکُشی کی بھی ہونا جرم کی سنگینی کو بتاتا ہے,ظاہر بات ہے کہ سزا کی یکسانیت جرم کی یکسانیت کو ثابت کرتا ہے,اگرچہ خود کشی کو حرام اور گناہ سمجھنے کے باوجودارتکاب کیا ہے تو کبھی نا کبھی جھنم سے نکالا جائے گا لیکن بہرحال عام سزا تو ہمیشہ ہمیش جھنم میں رہنے کی ہی سنائی گئی ہے ,نیز مرنے کے بعد قیامت تک یہ سزا دیجائے گی کہ جس طرح کا اقدام خودکُشی کے لیے کیا گیا ہے,اسی طرح کرتا رہے گا اور مرنے کی تکلیف اٹھاتا رہے گا,مثلا زہر کھاکر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہے تو قیامت تک زہر کھاتا رہے گا,اس کی تکلیف سہتا رہے گا اور اس کے نتیجے میں مرنے کی جو تکلیف دنیا میں اٹھایا تھا وہی تکلیف تا قیامِ قیامت اٹھاتا رہے گا-
 ۞تقدیر کے عقیدے کو تازہ کرتے رہنا ,یہ بھی مجرب عمل ہے,اس لیے کہ تقدیر پر ایمان کا مقتضا یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوچکا ہے اور ہورہا ہے, ان سب کا علم اللہ کوہے,اورانسان کو اللہ نے اپنے اعمال (اچھے ہوں یا برے)انجام دینے کا اختیار دیا ہے,اسی طرح اسباب کو بروئے کار لانے کا حکم بھی دیا ہے,اچھے یابرے نتائج اسی کے مطابق واقع ہوتے ہیں,اس لیے اولا بندے کو چاہیے کہ مایوسی اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کی بجائے اپنی بس بھر کوشش کرے اور دونوں قسم کے اسباب ,اسباب ظاہری یعنی دنیاوی تدابیر جیسے روزی کمانے کے لیے حلال ذریعہ معاش اختیار کرے,مال کے حصول کی جائز کوششیں کرے,تجارت, کاروبار,نوکری و محنت مزدوری وغیرہ کرے-مومن کے لیے دوسرے قسم کے اسباب اعمال صالحہ ہیں,یعنی جن کاموں کے کرنے کا حکم اللہ تعالی نے دیا اس کو بجالائے اور جن باتوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے بچے,اور دعاؤں کے ذریعے اللہ تعالی سے مدد طلب کرے,پھر نتائج اللہ تعالی کے ذمے چھوڑدے,اور اچھے یا برے حالات پیش آئیں تو اللہ تعالی ہی کی طرف سے یقین کرکے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردے,اسی کو تقدیر پر ایمان کہتے ہیں,واضح رہے کہ دونوں قسم کے اسباب,دنیوی تدبیراور اللہ تعالی کی اطاعت ودعا ضروری ہیں,صرف دنیوی تدبیر انجام کے اعتبارسے مایوسی پیدا کرتی ہے,اوردعا کے بعدبھی حالات کا درست نہ ہونا,شیطان برے وسوسے ڈال کر اللہ تعالی سے دورکرسکتا ہے,اس لیے انفرادی واجتماعی پریشانیوں کا حل یہ ہے کہ دونوں اسباب,دنیاوی تدبیراور اللہ کے احکام کوپورا کرکے دعا کے بعد اللہ کی طرف سے اچھے حالات پر شکرادا کرےاور برے حالات پر صبر اختیار کرے, حالات کا درست ہونا اسی پرموقوف ہے-
۞حالات بگڑنے اور ذہنی تناو کے وقت اندر ہی اندر گھٹتے رہنے کی بجائے جس شخص کو بھی اپنا خیرخواہ سمجھتا ہو,اس کے سامنے اپنے حالات رکھے,بہتر یہ ہے کہ کسی دیندار اور بظاہر اللہ تعالی کے تابعدار ونیک بندوں سے رابطہ کرے,کوئی نہ ملے تو اپنے محلے کی مسجد کے امام صاحب کی خدمت میں حاضری دے اور اپنی پریشانی بیان کرے بہرصورت بدنامی کے خوف اور شرم وحیاء کو بالائے طاق رکھ کر اپنی پریشانی دوسروں کو بتاکر اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کرے-
۞قرآن وحدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دنیا میں ہروقت پریشانی و تکلیف اور ہروقت راحت و آرام نہیں ہوتا,بلکہ کبھی تکلیف تو کبھی راحت ہوتی ہے,خصوصا تکلیف و پریشانی کے بعد تو راحت و آرام ضرور ملتا ہے,تو سوچے کہ دنیا کی تکلیف و راحت تو ختم ہوجانے والی ہے لیکن خودکشی کے خطرناک گناہ کو انجام دے کر اپنی جان لینے سے تکلیف تو ہرگز ختم نہیں ہوگی البتہ اس گناہ کی وجہ سے مرنے کے بعد جو تکلیف و عذاب ہے وہ اس سے بڑھ کر مصیبت میں ڈالنے والا ہے,اس لیے دنیاوی وقتی تکلیف کو برداشت کرلے اور اللہ تعالی سے اس کے بعد کے آرام کی امید رکھے-
۞خود کُشی کے واقعات کو روکنے کے لیے سب سےاہم اقدام یہ ہے کہ اگر کسی گھر میں اللہ نہ کرے اس طرح کا واقعہ پیش آجائے تواس سے متعلق سرکاری کارندوں اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے والے ضروری افراد کے علاوہ کسی کو بھی کانوں کان خبر نہ ہونے دے اور اپنی بس بھر کوشش کرکے اس کو چھپائے,یہانتک کہ گھر کے بچوں کو تو ہرگز نہ بھنک لگنے دے,آج کل جو یہ طریقہ چل پڑا ہے کہ باقاعدہ لوگوں کو بلابلاکر بتایا جاتاہے اور خاص طورپر اس کی خبر دی جاتی ہے,یہ اسلامی شریعت کے مزاج کے بالکل مخالف بات ہے,واضح رہے کہ خودکُشی شریعت کی نگاہ میں بہت بڑا گناہ ہے,اورشریعت نے جرائم اور گناہ کو چھپانے کا حکم دیا ہے,قرآنی آیات کے علاوہ کئی واقعات ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ باقاعدہ کسی سے کوئی گناہ سرزد ہوجانے کے نتیجے میں اس کو چھپانے کا حکم دیا گیاہے,غور کریں کہ نماز کو چھوڑناکتنا سنگین گناہ ہے,اور چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضاء واجب ہے,لیکن اس کی قضاء چھپ کر کرنے کا حکم دیا گیا ہےیعنی اس طور پر نمازکی قضا کی جائے کہ کسی کو احساس نہ ہو,تاکہ نماز چھوڑکرکوئی یہ نہ سوچے کہ کوئی بات نہیں, قضاء کرلیں گے اور اس طرح نماز کے چھوڑنے پر جرات ہوجائے گی,
قرآن کریم میں فواحش اور بے حیائی کی باتوں کے سدِباب کے لیے ایک آیت میں ایک طریقہ بیان کیاگیا ہے,اس آیت کاترجمہ اور اردو میں اس کی تشریح پیش کی جاتی ہے جس بخوبی بات سمجھ میں آجائے گی-
؛؛ترجمہ؛؛جولوگ چاہتے ہیں کہ چرچا ہو بدکاری کا ایمان والوں میں ان کے لیے عذاب ہے درد ناک دنیاوآخرت میں اور اللہ تعالی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے؛؛(سورہ نورآیت نمبر١٩)
اس آیت کے ضمن میں مفتی محمد شفیع صاحب رح فرماتے ہیں کہ "انسدادِفواحش کا قرآنی نظام اور ایک اہم تدبیر جس کے نظرانداز کردینے کا نتیجہ آجکل فواحش کی کثرت ہے"پھرآگے بہترین تشریح کرتے ہوئے ایک خاص نکتے پر زور دیا ہے کہ بے حیائی کی خبروں کو پھیلانے اور شہرت دینے کی وجہ سے طبعی طور پر لوگوں کے دلوں سے فواحش اور بے حیائی کی نفرت کم ہوجاتی ہے,اور یہی چیزجرائم پر اقدام کرنےکاسبب بن جاتی ہے,روزآنہ ایسی خبروں کے سامنے آنے کی وجہ سے وہ فعلِ خبیث نظروں میں ہلکا ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔بالکل اسی طرح خود کُشی کی خبریں عام ہونے کی وجہ سے اس سنگین گناہ اور خطرناک جرم کی قباحت لوگوں کے دلوں سے نکلتی جارہی ہے,اب اسکو اتنا ہلکا سمجھاجانے لگا ہیکہ اس کے گناہ ہونے کا تصور بھی دل سے نکل چکا ہے,آج سے چندسال پہلے اگر اس طرح کا کوئی واقعہ ہوجاتا تھا تو پورے محلے میں اس کی دہشت ہوتی تھی,اس کی وجہ یہی تھی کہ حتی الامکان اس کو مخفی رکھا جاتا تھا اور بیان کرنے والے بھی اس کو بہت بھاری اوربڑا گناہ بتاکر بیان کرتے تھے,خلاصہ کلام یہ ہے کہ حادثے کے متعلقین خودکشی کی خبروں کو عام ہونے سے بچائیں,اور عوام الناس کو بھی چاہیے کہ کھود کرید میں نہ لگیں,اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ اس طرح کی خبروں کا شائع کرناقرآن وحدیث کی روسے ناپسندیدہ اور ممنوع ہے تو خبررسانی کا فریضہ انجام دینے والوں کو تو ازخود اس سے بچنا چاہیے,چہ جائیکہ باضابطہ نام وپتہ ,مکمل شناخت اور خودکشی کی وجہ بھی بیان کیجائے,اللہ کی ذات سے قوی امیدہیکہ اگر ان تدابیر خاص طور خود کشی کی خبروں کو چھپانے کاکام کیا گیا تو ان شاء اللہ ضرور مثبت نتائج آئیں گے-










تنگ گلیوں میں بغیر لے آؤٹ کے پلاٹوں کی خریدو فروخت

 ۔نوٹری ۔بند کرو۔پی کے چودھری کی بدلی کرو۔جنتادل سیکولر مالیگاؤں کا مطالبہ

     ( پریس نوٹ )رشوت معاملے میں گرفتار ہوچکا سٹی سروے آفیسر PK چودھری کی مالیگاؤں سے بدلی کرو اس طرح کا مطالباتی مکتوب جنتادل سیکولر مالیگاؤں نے ناسک ضلع کلکٹر کو بھیجا ہے یادرہے 16 دسمبر 2024 کو اینٹی کرپشن بیورو نے رشوت الزام میں PK چودھری کو گرفتار کیاتھا اسکے خلاف کیمپ پولس اشٹیشن میں مقدمہ نمبر 0284 کےمطابق قلم 7.7A 12 کے مطابق کاروائی ہوئی تھی گرفتاری بعد ضمانت پر رہا ہوا تھا اسکے بعد اس ملزم آفیسر کو دوبارہ اسی آفس اور جگہ پر رجوع کیا گیا ہے اس پر دائر مقدمہ پر اثر نہ ہو فریادی کے کام میں رکاوٹ نہ ہو اسلیئے اسکی مالیگاؤں سے باہر بدلی کیجائے اس مطالباتی خط کو وزیر محصول مہاراشٹر اور وزیر اعلئی مہاراشٹر کو بھی میل کیا گیا ہے
آگرہ روڈ بس اشٹیشن کے بازو میں سٹی سروے نمبر 1505 میں جاری خریدی بکری بند کیا جائے اس طرح کامکتوب پرانت آفیسر مالیگاؤں کو دیا گیا ہے یادرہے سٹی سروے نمبر 1505 بغیر لے آؤٹ کی جگہ ہے ساتھ ہی اس جگہ 5/10 فٹ کی گلیاں ہیں جسکی وجہ سے بستی کی عوام کو خطرہ لگا رہتا ہے خاص طور پر آگ لگنے پر عوام پریشانی میں آسکتی ہے اور اھم بات یہ ہے کہ جو ٹکڑے گرائے جارہے ہیں وہ 11/20 اور 12/24 کے چھوٹے ٹکڑے ہیں پرانت آفیسر کو مکتوب دیتے وقت صدر jds عبدالخالق صدیقی۔نائب صدر عبدالغفار۔ شریف بھائی ss رضوان بھائی اور دیگر حاضر تھے اگر مطالبات پر عمل نہ ہوا تو تحریک کا انتباہ دیا گیا ہے

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...