Friday, 20 June 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





نئے کورونا ویرینٹ نمبس کی امریکا میں انٹری
کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ جسے NB.1.8.1 یا نمبس بھی جارہا ہے، اب یہ ویرینٹ امریکا میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے، جہاں یہ جون کے آغاز تک نئے کیسز کا تقریباً ایک تہائی حصہ بن چکا ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ نمبس ویرینٹ کی علامات زیادہ تر سابقہ ویرینٹس جیسی ہی ہیں، جیسے کہ زکام جیسی علامات، تھکن، سردرد، بدن درد، بخار، گلا خراب، کھانسی، سانس لینے میں دشواری متلی یا الٹی کی کیفیت پیدا ہونا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ابھی تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یہ کورونا ویرینٹ زیادہ شدید بیماری کا باعث بن رہا ہے، مگر اس کے زیادہ پھیلنے کی صلاحیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔رپورٹس کے مطابق نِمبس ویرینٹ میں کچھ امیون ایسکیپ (یعنی مدافعتی نظام سے بچنے کی صلاحیت) دیکھی گئی ہے۔
جس کی وجہ سے موجودہ ویکسینز کی افادیت کچھ حد تک کم ہو سکتی ہے تاہم یہ ویرینٹ اومیکرون خاندان سے ہی ہے، اس لیے ویکسین مکمل طور پر بے اثر نہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس اسکینڈیوین ملک سوئیڈن میں منکی پاکس کے نئے ویرینٹ کے پہلے کیس کی تشخیص ہوئی تھی۔

سوئیڈش پبلک ہیلتھ ایجنسی کے مطابق اسٹاک ہوم میں ایک شخص میں منکی پاکس کے نئے ویرینٹ کی تشخیص ہوئی۔ متاثرہ شخص نے افریقی علاقے کا سفر کیا تھا، جہاں سے اسے وائرس لگا۔

خبر ایجنسی کا کہنا تھا کہ ایم پاکس کلیڈ ون بی ویرینٹ کا پھیلاؤ کانگو میں ستمبر 2023 سے شروع ہوا، ایم پاکس ویرینٹ کلیڈ ون بی کا افریقی ممالک سے باہر یہ پہلا کیس سامنے آیا ہے۔

کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ کے تجزیے کیلئے کمیٹی تشکیلرپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے ایم پاکس کو عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا ہے جبکہ کانگو میں ایم پاکس ویرینٹ کے پھیلاؤ کے بعد سے 548 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔












تذکرۂ میرؔ: وہ غریبُ الوطن شاعر جسے ہوائے شوق لکھنؤ لے گئی!
اردو ادب میں باقر مہدی کا نام ایک روایت شکن اور ممتاز نقاد اور بحیثیت شاعر ہی نہیں کیا جاتا بلکہ وہ ایک حد دجہ انا پرست اور درشت مزاج انسان بھی مشہور تھے۔ ہمیں خدائے سخن میر تقی میر کی انا اور خود داری کے چند واقعات بھی ادبی کتابوں میں پڑھنے کو ملتے ہیں۔ یہ تحریر بھی میر کی زندگی اور ان کے ایک کڑے وقت سے متعلق ہے۔

اردو ادب سے متعلق تحریریں اور اہلِ‌ قلم کے مضامین پڑھنے کے لیے یہ لنک کھولیں

یہاں ہم میر سے متعلق باقر مہدی کی تحریر کردہ چند سطریں‌ نقل کر کے آگے بڑھیں گے مگر یہ واضح کر دیں کہ یہاں باقر مہدی کی انا پرستی اور مزاج کی سختی کا ذکر میر کی شخصیت کی مناسبت سے کیا ہے۔ مقصود، شاعرِ درد و غم میر تقی میر پر اسلم فرخی کی ایک تحریر سے اقتباس پیش کرنا ہے۔آغاز باقر مہدی کی تحریر سے کرتے ہیں جنھوں نے میر کی زندگی کو یوں دیکھا:
غم کے کیا معنی ہیں؟ بھوک، پیاس، در بدری، معاشی جدوجہد کی مسلسل ناکام کوششیں، ہجرت اور پھر موت کی پیہم خواہش۔ اس لیے نجات کی ساری راہیں عذاب الیم سے ہو کر گزرتی ہیں اور اس سفر کا زاد راہ ’’صبر‘‘ ہے۔ میر کی شعری شخصیت کا پہلا پتھر ’’صبر‘‘ تھا۔ کمسنی میں یتیمی، کم عمری میں تلاش معاش، عزیزوں اور رشتہ داروں کی بے رخی، محسنوں کا قتل اور بار بار سر پر مسلسل آلام کی دھوپ، رات آتی بھی ہے تو ایک عذاب اور ساتھ لاتی ہے…. بے خوابی اور بے قراری۔۔۔ ایک کم عمر لڑکا ان بحرانی حالات میں پڑوان چڑھتا ہے تو اکثر اس کی شخصیت ٹھٹھر کر رہ جاتی ہے لیکن میر تو اس برگد کی طرح تھے جس کی شاخیں آندھیوں کو بھی جذب کر لیتی ہیں،

خوگر ہوئے ہیں عشق کی گرمی سے خار و خس
بجلی پڑی رہی ہے مرے آشیاں کے بیچ

اسلم فرخی نے لکھنؤ میں میر کے ساتھ پیش آنے والے ایک ناخوش گوار واقعے کو اپنی تحریر میں حوالہ و سند کے ساتھ یوں سمویا ہے: میر جب تک دلّی میں رہے شاہی دربار سے بھی کچھ نہ کچھ آتا رہتا تھا، لیکن شاہی دربار کیا، ایک درگاہ رہ گئی تھی جس کا تکیہ دار خود بادشاہ تھا۔ دلّی کے صاحبانِ کمال اس بے یقینی سے دل برداشتہ ہوکر شہر چھوڑے جارہے تھے۔استاد الاساتذہ سراجُ الدّین علی خان آرزو لکھنؤ چلے گئے۔ مرزا محمد رفیع سودا کہ سر خیالِ شعرائے شاہ جہاں آباد تھے، لکھنؤ چلے گئے۔ میر سوز بھی لکھنؤ چلے گئے، دلّی اجڑ رہی تھی، لکھنؤ آباد ہو رہا تھا کہ وہاں داخلی اور بیرونی کش مکش نہ تھی۔

جان و مال کا تحفّظ تھا، در و دیوار سے شعر و نغمہ کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ آصفُ الدّولہ کی داد و دہش سے گھر گھر دولت کی گنگا بہہ رہی تھی۔ نئی تراش خراش، نئی وضع، ایک نیا طرزِ احساس، ایک نیا تہذیبی مرکز وجود میں آچکا تھا۔

سوداؔ کا انتقال ہوا تو آصفُ الدّولہ کو خیال ہوا کہ اگر میر لکھنؤ آجائیں تو لکھنؤ کی شعری حیثیت نہ صرف برقرار رہے گی بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوگا۔ چناں چہ آصفُ الدّولہ کے ایما سے نواب سالار جنگ نے زادِ راہ اور طلبی کا پروانہ بھجوا دیا۔

میر لکھنؤ کے لیے روانہ ہوگئے۔ راستے میں فرّخ آباد کے نواب نے انھیں صرف چھے دن کے لیے روکنا چاہا، مگر میر ہوائے شوق میں اڑ رہے تھے، رکے نہیں۔ حُسن افزا منزل کے مشاعرے میں ‘‘ہستی اپنی حباب کی سی ہے۔ یہ نمائش سراب کی سی ہے’’ پڑھ کر آگے بڑھ گئے اور لکھنؤ پہنچے۔یہ واقعہ ۱۱۹۶ھ (1782ء) کا ہے۔ میر اس وقت ساٹھ برس کے ہوچکے تھے۔ اور اب یہ راقم آثم کہ اردو ادب کے البیلے انشا پرداز مولوی محمد حسین آزاد کا سوانح نگار بھی ہے اور خوشہ چیں بھی، الفاظ کے رنگ و آہنگ اور تخیل کی تجسیم کے اس باکمال مصور کے نگار خانے کی ایک تصویر آپ کی نذر کرتا ہے اور سلسلۂ سخن کو یوں رونق دیتا ہے کہ ‘‘لکھنؤ میں پہنچ کر جیسا کہ مسافروں کا دستور ہے ایک سرا میں اترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں ایک جگہ مشاعرہ ہے، رہ نہ سکے۔ اسی وقت غزل لکھی اور مشاعرے میں جاکر شامل ہوئے۔

ان کی وضع قدیمانہ، کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، ایک پورا تھان پستو لیے کا کمر سے بندھا۔ ایک رومال پٹری دار تہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع کا پاجامہ جس کے عرض کے پائنچے، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخلِ محفل ہوئے تو شہرِ لکھنؤ میں نئے انداز، نئی تراش، بانکے ٹیڑھے جوان جمع، انھیں دیکھ کر سب ہنسنے لگے۔میر صاحب بے چارے غریبُ الوطن، زمانے کے ہاتھ پہلے ہی دل شکستہ تھے اور بھی دل تنگ ہوئے اور ایک طرف بیٹھ گئے۔ شمع ان کے سامنے آئی تو پھر سب کی نظر پڑی اور بعض اشخاص نے پوچھا، حضور کا وطن کہاں ہے؟ میر صاحب نے یہ قطعہ فی البدیہہ کہہ کر غزل طرحی میں داخل کیا:

کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے

دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے

اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کردیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

سب کو حال معلوم ہوا۔ بہت معذرت کی اور میر صاحب سے عفوِ تقصیر چاہی، صبح ہوتے ہوتے شہر میں مشہور ہوگیا کہ میر صاحب تشریف لائے۔

آزاد کے نگار خانے کا ورق ختم ہوا۔ میر صاحب آصفُ الدّولہ کے یہاں حاضر ہوئے۔ آصفُ الدّولہ لطف و کرم سے پیش آئے۔ دو سو روپے ماہ وار وظیفہ مقرر ہوا۔ نواب بہادر جاوید خان کے یہاں بائیس روپے ماہ وار ملتے تھے اور میر صاحب خوش تھے کہ روزگار کی صورت برقرار ہے، اب دو سو ملتے ہیں اور میر صاحب فریاد کرتے ہیں۔

خرابہ دلّی کا وہ چند بہتر لکھنؤ سے تھا
وہیں میں کاش مرجاتا سراسیمہ نہ آتا یاں

لکھنؤ میں میر صاحب نے عمرِ عزیز کے اکتیس برس گزارے۔ دلّی میں دل کی بربادی کے نوحے تھے، لکھنؤ میں دل اور دلّی دونوں کے مرثیے کہتے رہے:

لکھنؤ دلّی سے آیا یاں بھی رہتا ہے اداس
میر کو سر گشتگی نے بے دل و حیراں کیا

1810ء کو نوّے برس کی عمر میں میر صاحب کا انتقال ہوا۔

مرگِ مجنوں سے عقل گم ہے میر
کیا دوانے نے موت پائی ہے













’سات منٹ میں تل ابیب‘ تک پہنچنے کا دعویٰ کرنے والا ایرانی سجیل میزائل کتنا خطرناک ہے؟
اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ مسلح تنازع دونوں ممالک کی جنگی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کے ہتھیاروں کا بھی امتحان ہے۔

جب ایران نے بدھ کو رات گئے اسرائیل پر ایک بار پھر حملہ کیا تو پہلی بار یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس حملے میں ایرانی سجیل ٹو میزائل استعمال کیا گیا ہے۔

تاہم، اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی فوج نے سجیل میزائل کے حملے کو ناکام بنا دیا اور دفاعی نظام کی مدد سے اسے کامیابی سے روک لیا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ بدھ کی رات گئے یہ حملے ’آپریشن وعدہ صادق 3‘ کے تحت کیے گئے۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’آپریشن وعدہ صادق 3 کی 12ویں انتقامی کارروائی بہت بھاری اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے دو مرحلوں والے سجیل میزائل سے شروع کی گئی ہے۔‘بیان میں اس میزائل کی خصوصیات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے سجیل ایران کے سب سے طاقتور اور اہدف کو درست نشانہ بنانے والے سٹریٹجک ہتھیاروں میں سے ایک ہے جو دشمن کے اہم اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کی جانب سے سجیل ٹو میزائل کے استعمال کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں اور ایرانی حملے کے بعد سیجل میزائل کے حوالے سے بحث تیز ہو گئی ہے۔

سجیل میزائل کتنا طاقتور ہے؟سجیل ایک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جو دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس رینج کے ساتھ یہ میزائل ایران سے پورے مشرق وسطیٰ بشمول اسرائیل، جنوب مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا کے کچھ حصوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اگر اسے ایران کے شہر نطنز سے داغا جائے تو یہ صرف سات منٹ میں اسرائیلی شہر تل ابیب تک پہنچ سکتا ہے ۔

سجیل میزائل لگ بھگ 18 میٹر لمبا ہے اور ٹھوس ایندھن سے چلتا ہے۔ اس وجہ سے اسے دیگر قسم کے ایندھن استعمال کرنے والے میزائلوں کے مقابلے میں برتری ملتی ہے۔

ٹھوس ایندھن کے استعمال کی وجہ سے اسے لانچ کے لیے تیزی سے تیار کیا جا سکتا ہے، اس میں دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کرنے کی بہتر صلاحیت ہے اور یہ لڑائی کے دوران زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ میزائل تقریباً 700 کلوگرام وزنی وار ہیڈ لے جا سکتا ہے اور اس کی بدولت اپنے اہداف کے خلاف کافی تباہ کن صلاحیت رکھتا ہے۔اس میزائل کا پہلا کامیاب تجربہ 2008 میں کیا گیا اور اس تجربے میں اس نے 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔

اس کا دوسرا تجربہ مئی 2009 میں ہوا جس میں جدید ٹیکنالوجی اور نیوی گیشن سسٹم کی جانچ کی گئی۔

امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے مطابق، ’سجیل میزائل کی کئی قسمیں ہو سکتی ہیں۔ 2009 میں ایران نے سجیل 2 نامی میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ ایک غیر مصدقہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سجیل 3 اس سے بھی بہتر ہوسکتا ہے۔ سجیل 3 تین مرحلوں والا میزائل ہے جس کی زیادہ سے زیادہ رینج چار ہزار کلومیٹر اور اس کا وزن 38 ہزار کلوگرام ہے۔

2012 کے بعد سے ایران نے سجیل میزائل کا عوامی سطح پر تجربہ نہیں کیا تاہم تقریباً ایک دہائی کے بعد 2021 میں ایک فوجی مشق کے دوران اس کا تجربہ کیا گیا تھا۔

پابندیوں کے باوجود ایرانی میزائل پروگرام کی ترقی کا سفرامریکی ادارے پیس انسٹیٹیوٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ایران کے پاس بیلسٹک میزائلوں کا سب سے بڑا اور متنوع ذخیرہ موجود ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایران خطے کا واحد ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار تو نہیں لیکن اس کے بیلسٹک میزائل دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ سکتے ہیں۔

بیلسٹک ٹیکنالوجی تو دوسری عالمی جنگ کے وقت بن چکی تھی، تاہم دنیا میں صرف چند ہی ممالک کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ خود اس ٹیکنالوجی کی مدد سے بیلسٹک میزائل بنا سکیں۔

ایران نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران شدید نوعیت کی بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود یہ ٹیکنالوجی بھی حاصل کی اور بیلسٹک میزائل تیار بھی کیے۔ ایرانی رہبر اعلیٰ خامہ ای نے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ جس عسکری اور میزائل پروگرام سے مغرب پریشان ہے، وہ سب پابندیوں کے دوران بنا۔

ایران اس وقت 50 سے زیادہ قسم کے راکٹ، بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ عسکری ڈرونز تیار کرتا ہے، جن میں سے کچھ روس اور یوکرین کی جنگ جیسے عالمی تنازعات میں استعمال بھی ہوئے ہیں۔

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے میزائلوں کی نئی نسل ہائپر سونک ہتھیاروں کی نسل سے ہے۔ ہائپر سونک سے مراد وہ ہتھیار ہیں جن کی رفتار عام طور پر آواز کی رفتار سے پانچ سے پچیس گنا تک ہوتی ہے۔ایران نے پہلی بار ’فتح‘ میزائل کو بیلسٹک اور کروز دونوں زمروں میں ہائپر سونک میزائل کے طور پر متعارف کرایا۔

’الفتح‘ کے ہائپر سونک میزائل کی رینج 1400 کلومیٹر ہے اور آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ میزائل کو تباہ کرنے والے تمام دفاعی نظاموں کو چکمہ دے کر انھیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

’الفتح‘ ٹھوس ایندھن کے میزائلوں کی ایک نسل ہے جس کی رفتار ہدف کو نشانہ بنانے سے پہلے 13 سے 15 میک تک ہے۔ میک 15 کا مطلب پانچ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...