پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے درمیان مرکزی وزارت داخلہ کی ریاستوں کو 7 مئی کو سیکورٹی مارک ڈرل کرنے کی ہدایت
نئی دہلی : پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے درمیان مرکزی حکومت نے کئی ریاستوں سے مارک ڈرل کرنے کو کہا ہے۔ وزارت داخلہ نے ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ 7 مئی کو شہری سلامتی کے لیے ماک ڈرل کریں۔ مرکزی حکومت کی ان ہدایات کا وقت بہت اہم ہے۔ اس طرح کی آخری ماک ڈرل 1971 میں کی گئی تھی۔ 1971 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو محاذوں پر جنگ ہوئی تھی۔ اب اس جنگ کے 54 سال بعد ملک میں ماک ڈرل کی جا رہی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے موثر سول سیکورٹی کے لیے 7 مئی کو ماک ڈرل کرنے کیلئے کہا ہے۔ اس میں درج ذیل اقدامات کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔فضائی حملے کے وارننگ دینے والے سائرن کو بجایا جائے گا ۔
حملے کی صورت میں دفاع کیلئے شہریوں اور طلبہ وغیرہ کو سول ڈیفینس کی ٹریننگ دی جائے گی ۔
ماک ڈرل کے دوران بلیک آوٹ کیا جائے گا ۔
اہم پلانٹس/تنصیبات کو وقت سے پہلے چھپانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے ۔
ساتھ ہی لوگوں کو نکالے جانے کے منصوبے بنائے جائیں گے اور ان پر عمل کیا جائے گا۔
پہلگام حملے کے بعد زبردست کشیدگی
پہلگام حملے کے بعد سے سرحد پر کشیدگی کم ہونے کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے 26 معصوم سیاحوں کا گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔پاکستان لائن آف کنٹرول پر مسلسل 11 راتوں سے ہندوستانی چوکیوں پر فائرنگ کر رہا ہے۔ ہندوستان نے بھی اسلام آباد کی جانب سے بار بار سرحد پار سے فائرنگ کا سخت جواب دیا ہے۔
واٹر اسٹرائیک، پاکستان کو بھارت کا ایک اور جھٹکا: دریائے چناب پر بنائے گئے سلال ڈیم کے دروازے بند، سرحد پار جانے والا پانی روک دیا گیا -
ریاسی، جموں وکشمیر: پاکستان کی طرف بہنے والی دریائے چناب پر جموں و کشمیر میں سلال ڈیم کے تمام دروازے بند ہونے سے ضلع ریاسی میں پانی کی سطح میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ اسے سرحد پار کے خلاف کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی دوران رامبن میں دریائے چناب پر بگلیہار ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے ڈیم سے پانی بہتا ہوا دیکھا گیا۔ اس پر بی جے پی نے پاکستان کے خلاف پی ایم مودی کی اس کارروائی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
سوشل سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں، بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے اس کارروائی کے بعد پی ایم نریندر مودی کے اقدام کی تعریف کی ہے۔ انھوں نے لکھا، 'ہندوستان کے مفاد میں سخت فیصلے لینے کے لیے سیاسی عزم کی ضرورت ہوتی ہے اور وزیر اعظم مودی نے اپنے عمل سے اس کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ مودی کا مضبوط اصول ہے، جو دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں ثابت قدم اور اٹل ہے۔ ہمارے شہریوں کا پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ یہ واضح ہونا چاہیے.'پاکستان کو پانی روک دیا گیا، مقامی لوگوں میں خوشی
پاکستان کی طرف جانے والے اس پانی کو روکنے کے بارے میں مقامی رہائشی دنیش کہتے ہیں، 'ہمیں خوشی ہے کہ مودی حکومت نے پاکستان جانے والے پانی کو روک دیا ہے۔ جس طرح پاکستان نے پہلگام میں ہمارے سیاحوں کا خون بہایا، اس کا منہ توڑ جواب دیا جانا چاہیے۔ حکومت جو بھی فیصلہ کرے ہم اس کے ساتھ ہیں۔
ایک اور مقامی باشندے نے کہا، 'یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ حکومت کا یہ قدم بہت اچھا ہے۔ ہماری حکومت پاکستان کو کئی طریقوں سے منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔ ہم سب حکومت کے ساتھ ہیں۔جرأت مندانہ قدم
اس کے بارے میں، اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے 28 اپریل کو سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی حکومت کے فیصلے کی تعریف کی تھی۔ دھامی نے اسے پی ایم نریندر مودی کی قیادت میں ایک جرأت مندانہ قدم قرار دیا تھا۔
اے این آئی سے بات کرتے ہوئے سی ایم دھامی نے کہا کہ آج کا ہندوستان دوستی اور دشمنی دونوں کو برقرار رکھنا جانتا ہے۔ انہوں نے کہا، 'یہ پی ایم نریندر مودی کی قیادت میں بہت اچھا فیصلہ ہے۔ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ آج کا ہندوستان دوستی اور دشمنی دونوں کو برقرار رکھنا جانتا ہے۔
ورلڈ بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدہواضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 9 سال کی بات چیت کے بعد 1960 میں سندھ طاس معاہدہ ہوا تھا۔ یہ معاہدہ ورلڈ بینک کی ثالثی میں ہوا۔ اور وہ اس معاہدے پر دستخط کنندہ بھی ہے۔
سندھ طاس معاہدہ کیا تھادریائے سندھ کے پانی کے معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں سندھ، جہلم، چناب کو پاکستان اور مشرقی دریاؤں راوی، بیاس، ستلج کو بھارت کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ معاہدہ ہر دو ملک کو دوسرے کے لیے مختص دریاؤں کا کچھ پانی استعمال کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دریائے سندھ کے پانی کا 20 فیصد بھارت اور بقیہ بڑا حصہ یعنی 80 فیصد پاکستان کو دینے کا معاہدہ ہوا تھا۔
پاکستان کے خلاف سخت کارروائی
آپ کو بتاتے چلیں کہ جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گرد حملہ، 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد وادیٔ کشمیر میں سب سے مہلک حملوں میں سے ایک ہے۔ پلوامہ حملے میں سی آر پی ایف کے 40 جوان شہید ہوئے تھے۔ وہیں پہلگام دہشت گردانہ حملے میں 26 سیاح مارے گئے ہیں۔ بھارت نے پہلگام حملے کے بعد سرحد پار سے دہشت گردی کی حمایت کرنے پر پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ اس حوالے سے بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا ہے۔خبر لکھے جانے تک اطلاع ملی ہے کہ پانی پھر جاری کر دیا گیا ہے۔ اکھنور گرکھل کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولیس نے انہیں دریائے چناب کے کنارے نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی قلت کے چند گھنٹوں کے بعد دوبارہ پانی چھوڑا گیا ہے اور اکھنور میں پانی کا بہاؤ پھر بڑھ گیا ہے۔ پانی کے قریب جانے کی وجہ سے کچھ بھی نقصان ہو سکتا ہے۔
*ایڈوکیٹ ہدایتُ اللہ صاحب بنے نوٹری آفیسر مِسینگ فرینڈس گروپ، حفاظت گروپ کی جانب سے مبارکباد و نیک خواہشات!*
(پریس ریلیز) مالیگاؤں شہر کی مشہور و معروف شخصیت سابق کارپوریٹر، مشہور و معروف صنعتکار، ایڈوکیٹ ہدایتُ اللہ عبدالحکیم صاحب تعلیمی، سماجی، فلاحی، سیاسی، سماجی، ادبی، طبّی و دیگر شعبوں میں اپنی گِراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر شعبے میں وکیل صاحب یکساں مقبول ہیں گذشتہ دِنوں ایڈوکیٹ ہدایتُ اللہ صاحب کو مرکزی سرکار Government Of India کی جانب سے بطور نوٹری آفیسر نامزد کیا گیا یقیناً موصوف اس کے حقدار تھے اِسی مناسبت سے مِسنِگ فرینڈس گروپ کی جانب سے ایڈوکیٹ ہدایتُ اللہ صاحب کے مکان پر پہنچ کر استقبال کیا گیا اور مبارک باد و نیک خواہشات پیش کی گئی وکیل صاحب اپنے اس عہدے کے ساتھ انصاف کرینگے اور قوم و ملّت کے مفاد میں کام کرینگے ایسی امید و دعا کرتے ہیں اللہ پاک وکیل صاحب کی خدمات کو بے حد قبول فرمائے اس موقع پر ڈاکٹر احمد ایوبی سر، مشتاق بے، اے سر، محمد رمضان مکّی سر، غلام حُسین سر، محمد عارف نوری ،منظور عالم سر، عتیق ماسٹر، وسیم نسیمی، شاہد انجنئیر، حاجی محمد امین، عبدالحمید صاحبان موجود تھے۔