Tuesday, 6 May 2025

*🔴سیف نیوز اردو*





سردار ہائی اسکول اینڈ جونئیر کالج "ایچ ایس سی کے درخشندہ ستارے"
پریس ریلیز:-
نہایت ہی مسرت و شادمانی کا مقام ہے کہ امسال2024-25ء کا سردار ہائی اسکول اینڈ جونئیر کالج کا ایچ ایس سی کا رزلٹ نہایت ہی شاندار رہا۔ کالج کا آرٹس و سائنس فیکلٹی کا مجموعی رزلٹ قابل تعریف 98.66 اٹھانوے فیصد رہا جس میں سائنس فیکلٹی کا رزلٹ ٪ 94.64 چورانوے عشاریہ چونسٹھ فیصدی اور آرٹس فیکلٹی کا ٪ 98.43 اٹھانوے عشاریہ تینتالیس فیصدی رہا۔
ہمارے اوّلین تین (ٹاپ تھری) درخشندہ ستارے اسطرح ہیں۔ سائنس فیکلٹی میں
 ۱) انصاری عفیفہ ناز محمد عارف 76.00 چھیاتر فیصد، 
 ۲) مومن اقصیٰ ارم اقبال احمد 72.17 بہتر فیصد، 
 ۳) مدیحہ فاطمہ عبدالکریم 69.67 ستر فیصد،
  اسی طرح آرٹس فیکلٹی میں
  ۱) اسماء فردوس شبیر احمد 76.33 چھیاتر فیصد، 
  ۲) سدرہ شفق شاہد اختر 76.00 چھیاتر فیصد،
  ۳) یشفین فردوس عبدالرحیم 73.50 ترہتر فیصد
اس عظیم الشان کامیابی پر سٹیزن کیمپس کے روح رواں و چئیرمین محترم الحاج ڈاکٹر منظور حسن ایوبی صاحب نے پرنسپال ایوبی شاہد اختر، ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف ممبران کامیاب طالبات اور انکے والدین و سرپرست حضرات کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے اور مستقبل کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے-
 شعبہ نشر و اشاعت سردار ہائی اسکول اینڈ جونئیر کالج، مالیگاؤں









*بسم الله الرحمن الرحيم*

*_مولانا وستانوی مرحوم کی عظیم دینی، تعلیمی اور رفاہی خدمات ناقابلِ فراموش!_*
*_وفاق المدارس والمکاتب کے زیرِ اہتمام تعزیتی نشست کا انعقاد!_*
*_جانے والے چلے جاتے ہیں مگر اپنے پیچھے نقوشِ قدم چھوڑ کر جاتے ہیں، ان نقوشِ قدم کو اختیار کرنا بعد والوں کے لیے کامیابی کی ضمانت ہے، حضرت مولانا غلام محمد وستانوی صاحب نے بھی تعلیمی، رفاہی اور سماجی خدمات کے شعبے میں نقوشِ قدم اپنے بعد والوں کے لیے چھوڑے ہیں، ان کو زندہ و تابندہ رکھنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے، ان بامقصد جملوں کا اظہار حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب (نائب صدر وفاق المدارس والمکاتب، مالیگاؤں) نے اکبری مسجد (محوی نگر) میں منعقدہ تعزیتی نشست میں کیا، قبل ازیں وفاق المدارس والمکاتب کے بانی و جنرل سکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے اظہار خیال کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ مولانا وستانوی مرحوم ایک عظیم قرآنی شخصیت تھے، بڑوں کی خدمت، چھوٹوں پر شفقت، وسعت فکر، جامعیت، انابت و رجوع الی اللہ ان کے خصوصی اوصاف تھے، قیام مساجد کے اعتبار سے وہ عالمگیر ثانی اور فنِ تعمیر کی مہارت کے لحاظ سے وہ علماء میں شاہجہاں تھے، انھوں نے خدمت قرآنی کا دائرہ اس قدر وسیع کیا کہ اس باب میں پورے ملک میں ان کا کوئی ہمسر نہیں، معہد ملت کی نمائندگی کرتے ہوئے مفتی محمد حسنین محفوظ نعمانی صاحب نے فرمایا کہ مولانا غلام محمد وستانوی مرحوم باکمال انسانوں کے قدردان تھے، مختلف مقامات سے منتخب کرکے انھوں نے اصحابِ فضل وکمال کو اپنے جامعہ میں جمع کیا تھا، یہ ان کی جوہر شناسی کی واضح دلیل ہے، جامعہ ابوالحسن علی ندوی کی نمائندگی کرتے ہوئے مولانا جمال عارف ندوی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا مرحوم مدارس کے بڑے محسن تھے اور خود ہمارے جامعہ ابوالحسن پر بھی ان کے احسانات ہیں، کڑے وقت میں انھوں نے جامعہ کی مالی مدد کی اور برابر رہنمائی کا فریضہ انجام دیا، وفاق المکاتب کے صدر اور جامع مسجد کے نائب امام مولانا نعیم الظفر نعمانی ندوی نے اپنی تقریر میں پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ میرے والد مرحوم حضرت مولانا محمد حنیف ملی صاحب سے بھی حضرت وستانوی کے قریبی مراسم اور تعلقات تھے، والد صاحب کو انھوں نے جامعہ میں تدریس کی پیش کش بھی کی جسے والد صاحب نے قبول نہیں فرمایا مگر حضرت وستانوی مرحوم کی دعوت پر بار بار جامعہ اکل کوا تشریف لے جاتے رہے اور جامعہ کے ابتدائی دور میں اپنے مفید اور گراں قدر مشوروں سے نوازتے رہے، مدرسہ بیت العلوم کی نمائندگی کرتے ہوئے حضرت مولانا سراج احمد قاسمی (نائب صدر وفاق المدارس والمکاتب) نے مولانا مرحوم کے وصال کو بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے یہ فرمایا کہ ان کی رحلت سے ملت اسلامیہ ایک قابلِ قدر اور لائقِ احترام ہستی سے محروم ہوگئی اور ان کا اٹھ جانا قحط الرجال کے اس دور میں بہت بڑا نقصان ہے، ان حضرات علماء کے علاوہ دارالفلاح یتیم خانہ کی نمائندگی کرتے ہوئے جناب مولانا خالد اختر رشیدی صاحب، مدرسہ خلیفہ اول کی نمائندگی کرتے ہوئے جناب مولانا شفیق الرحمن فلاحی صاحب، مدرسہ داراالاحسان کی نمائندگی کرتے ہوئے جناب مولانا عبدالصمد اشاعتی صاحب، جمعیت علماء (سلیمانی چوک) کی نمائندگی کرتے ہوئے جناب مولانا جمال ناصر صاحب، اسی طرح جناب مولانا امین الجبار ملی صاحب(نائب صدر وفاق المکاتب) جناب مولانا نشاط مظاہری صاحب مدرسہ دعوت الحق وغیرہ نے بھی اظہار خیال فرمایا اور حضرت وستانوی مرحوم کی رحلت پر رنج و غم کا اظہار کیا اور حضرت مرحوم کے اہل خانہ اور متعلقین و متوسلین اور تلامذہ کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کی، اس تعزیتی نشست کا اہتمام و انتظام وفاق المدارس والمكاتب کی جانب سے کیا گیا تھا نیز اسے کامیاب بنانے کے لیے مدرسہ ریاض الجنۃ کے ناظم حافظ جمیل اشاعتی صاحب اور وہاں کے اساتذہ کرام نے خصوصی تعاون کیا، پروگرام کی ابتداء حافظ ایان خان یونس خان (متعلم ریاض الجنۃ) اور حافظ ذاکر حسین نسیم احمد (متعلم ریاض الجنۃ) کی تلاوت سے ہوئی اسی طرح حافظ معاذ احمد ریاضی نے نعت شریف پیش کی، جناب مولانا محمد عمران اسجد ندوی صاحب نے اس پورے تعزیتی اجلاس کی کارروائی چلائی، حضرت مولانا محمد ادریس عقیل ملی قاسمی صاحب بھی پروگرام کے ابتدائی حصے میں تشریف فرما ہوئے اور انھوں نے اپنی نیک خواہشات اور دعاؤں سے نوازا نیز حضرت وستانوی مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور رفع درجات فرمائی، حضرت کے تشریف لے جانے کے بعد صدارت کا فریضہ حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے انجام دیا، دیر رات کو انہی کی دعا پر یہ تعزیتی اجلاس بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا، مولوی عمران ندوی (مدرس مدرسہ ریاض الجنۃ) نے حافظ جمیل اشاعتی صاحب کا پیغام اجلاس کے آخر میں پڑھ کر سنایا، وفاق المدارس والمکاتب کے ذمہ داران و عہدیداران اور ارکان نے خاص طریقے پر شرکت فرمائی -_*










گرمی کے موسم میں جِلد کو متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے؟
زیادہ گرمی بہت زیادہ پسینے، کیل مہاسوں، سوزش اور جلد کے دیگر مسائل کا باعث بنتی ہے۔ چکنی جلد والے افراد کو عام طور پر اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن خشک جلد والے لوگوں کے لیے بھی گرمیاں آسان نہیں ہوتیں۔ مرطوب موسم خشک جلد کو مزید خشک کر دیتا ہے، جو اکثر خارش کا باعث بنتا ہے۔
اس کے لیے عارضی طور پر کاسمیٹک مصنوعات کو آزمایا جاتا ہے لیکن جلد کو غذا کے ذریعے ٹھیک کرنے سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے اور ایسا یقینی طور پر ہو سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق شدید گرمی اور ایئر کنڈیشنر کے ٹھنڈے جھونکے بیک وقت آپ کی جلد متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے غذا کی مدد سے اس صورت حال کو متوازن بنایا جا سکتا ہے۔رپورٹ میں سات ایسی غذائیں بتائی گئیں جن سے موسم گرما کے دوران جلد صاف اور نرم رہتی ہے۔
موسمی پھل
اس وقت دستیاب تمام پھل جیسے آم، تربوز اور انناس وغیرہ کا استعمال کریں۔ ان میں پانی کی مقدار زیادہ ہونے کے علاوہ یہ جلد کی نشونما کے لیے غذائیت سے بھی بھرپور ہوتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آم کو پورشن کے ساتھ کھائیں۔
وٹامن سی
وٹامن سی نہ صرف قوت مدافعت بڑھانے کے لیے ہی اچھا ہے، بلکہ یہ کولیجن کو برقرار رکھنے میں بھی مدد کرتا ہے، کولیجن جلد کی اندرونی تہہ بناتا ہے، اور اسے صحت مند رہنے میں مدد کرتا ہے۔ تو لیموں، ٹماٹر اور موسم گرما کی سبز پتوں والی سبزیاں گھر میں رکھیں تاکہ آپ کی جلد میں وٹامن سی شامل ہو۔جسم کو ٹھنڈا رکھیں
ہم یہ تجویز نہیں کر رہے ہیں کہ آپ ایئر کنڈیشنر کے سامنے بیٹھیں اور برف کھائیں۔ آپ کے ارد گرد بہت سے کھانے اور مشروبات ہیں جو ٹھنڈی تاثیر رکھتے ہیں۔ گرمی سے نمٹنے کے لیے موسمی پھل کھائیں جیسے تربوز اور انناس، اور کھیرا۔ اس کے پیاز اور سبز پتوں والی سبزیاں بھی کھا سکتے ہیں۔ اور ٹھنڈے مشروبات جیسے ناریل کا پانی اور لیمونیڈ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اپنے کھانے میں دہی اور پودینہ بھ شامل کریں۔
مصالحہ دار کھانوں سے دور رہیں
مصالحہ جسم میں گرمی پیدا کرتا ہے اور آپ اس انتہائی گرم موسم میں ایسا نہیں چاہیں گے۔ لہذا، جتنا ممکن ہو مصالحہ دار کھانوں سے پرہیز کریں یا کھانے میں اس کی مقدار کو کم کریں۔ لال مرچ کے بجائے ہری مرچ اور کالی مرچ کا پاؤڈر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
روزانہ اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور غذائیں کھائیں
اینٹی آکسیڈنٹس بیکٹیریا اور بیماری پیدا کرنے والے وائرس کو دور کرتے ہیں۔ گری دار میوے، ٹماٹر، بروکولی اور راجما اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں۔زیادہ پانی استعمال کریں
پانی جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے، زہریلے مادوں کو خارج کرتا ہے، اور نظام ہاضمہ کو ہموار رکھتا ہے۔ یہ جلد کو صحت مند اور چمکدار رکھنے کا اہم عنصر ہے۔ گری دار میوے اور بیجوں کو کھانا مت چھوڑیں۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ گری دار میوے اور بیج صرف سردیوں میں کھانے کے لیے ہیں تو ایسا نہیں ہے۔  
یہ درست ہے کہ خشک میوہ جات کی تاثیر گرم ہوتی ہے لیکن اچھی جسمانی اور جلد کی صحت کے لیے سال بھر ان کا استعمال ضروری ہے۔ گرمیوں میں ہر روز ایک کھانے کا چمچ گری دار میوے اور بیج اپنے سلاد، سموتھیز، دہی، اور میٹھے وغیرہ میں شامل کرکے کھائیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...