Tuesday, 6 May 2025

*🔴سیف نیوز اردو*





پاکستان سے آئی 22 خواتین، یہاں ہوگئے 95 بچے... کیا ملے گی ہندوستان کی شہریت یا کہلائیں گے پاکستانی؟ جانئے کیا کہتا ہے قانون
جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان میں پاکستان کے خلاف کافی غصہ دیکھا جا رہا ہے۔ وادی بیسرن میں دہشت گردوں نے 26 سیاحوں کا گولی مار کر قتل کر دیا تھا ۔ ہندوستان نے پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔ ان میں سب سے بڑا اقدام پاکستانی شہریوں کے ویزوں کی منسوخی اور انہیں واپس بھیجنا تھا۔ ہندوستان کے مختلف شہروں سے پاکستانی شہریوں کو چن چن کر بھیجا جا رہا ہے۔ ادھر اتر پردیش کے مرادآباد میں ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پاکستانی شہریت کی حامل 22 خواتین یہاں سے ملی ہیں، جو ہندوستانی مردوں سے شادی کر کے کئی دہائیوں سے یہاں رہ رہی ہیں۔ ان سب کے اب 95 بچے ہیں جن میں سے کئی شادی شدہ ہیں اور کچھ نانی – دادی بھی بن چکی ہیں۔

اس خبر کے سامنے آنے کے بعد یہ ہر طرف سرخیوں میں چھا گیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے کافی بحث ہورہی ہے۔ لوگ اس بارے میں سوال پوچھتے نظر آرہے کہ کیا ان بچوں کو ہندوستانی شہریت ملے گی یا انہیں پاکستانی کہا جائے گا؟ تو آئیے اس معاملے کو تفصیل سے سمجھیں اور دونوں ممالک کے شہریت کے قوانین کے نقطہ نظر سے اس سوال کا جواب تلاش کریں۔کیا ہے پورا معاملہ؟
مراد آباد میں رہنے والی ان 22 پاکستانی خواتین نے ہندوستانی مردوں سے شادی کی اور پھر طویل مدتی ویزے پر یہاں آباد ہوگئیں۔ اس عرصے کے دوران کل 95 بچے پیدا ہوئے جن میں سے کئی اب بالغ ہو چکے ہیں۔ یہ بچے ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں اور انہیں ہندوستانی شہریت کا حقدار سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کی والدہ اب بھی پاکستانی شہری ہیں اور ان کی شہریت کا عمل زیر التوا ہے۔ اس معاملے نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان شہریت کے قانون کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ہندوستان کا شہریت قانون کیا کہتا ہے؟
ہندوستان کا شہریت ایکٹ، 1955 پیدائش کی بنیاد پر شہریت دیتا ہے، لیکن اس کی کئی شرائط ہیں۔ 26 جنوری 1950 اور 1 جولائی 1987 کے درمیان ہندوستان میں پیدا ہونے والے افراد خود بخود ہندوستانی شہری تصور کئے جاتے ہیں۔ اس قانون کو 1987 میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ پھر یہ بندوبست کیا گیا کہ 1 جولائی 1987 کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کی شہریت کے لیے والدین میں سے کم از کم ایک کا ہندوستانی شہری ہونا ضروری ہے۔سال 2004 میں شہریت کے قانون میں ایک بار پھر تبدیلی کی گئی۔ اس کے مطابق 3 دسمبر 2024 کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کے لیے، والدین میں سے کسی ایک کی ہندوستانی شہریت کے ساتھ، یہ شرط بھی شامل کی گئی کہ والدین میں سے کوئی بھی غیر قانونی تارکین وطن نہیں ہونا چاہیے۔

مرادآباد کے معاملے میں یہ بچے ہندوستان میں پیدا ہوئے اور ان کے والد ہندوستانی شہری ہیں۔ اگرچہ ان کی والدہ پاکستانی ہیں، لیکن وہ ایک درست ویزے پر ہندوستان میں رہ رہی ہیں، اس لیے انہیں ‘غیر قانونی مہاجر’ نہیں سمجھا جائے گا۔ اس بنیاد پر ان بچوں کو پیدائش کی بنیاد پر ہندوستانی شہری مانا جا سکتا ہے۔

پاکستانی شہریت قانون میں پیچحالانکہ ان بچوں کی شہریت کے حوالے سے پاکستانی قانون کا پیچ بھی پھنس سکتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کے قانون کی بات کریں تو وہاں جائے پیدائش نہیں بلکہ نسب کی اہمیت ہے۔ پاکستان کا سٹیزن شپ ایکٹ، 1951 کہتا ہے کہ اگر ماں یا باپ پاکستانی شہری ہیں تو بچے کو بھی پاکستانی شہری سمجھا جائے گا… خواہ بچہ ہندوستان میں ہی پیدا کیوں نہ ہوا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان 95 بچوں کے پاس خود بخود پاکستانی شہریت ہے۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ہندوستان یا پاکستان میں دوہری شہریت کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ ہندوستان دوہری شہریت کی بالکل اجازت نہیں دیتا۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی بچہ ہندوستانی شہریت چاہتا ہے تو اسے پاکستانی شہریت ترک کرنا ہوگی۔ لیکن یہ عمل خود بخود نہیں ہوتا۔ اس کے لیے قانونی درخواست، تصدیق اور اس معاملے میں سفارتی اجازت درکار ہوگی۔تاہم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی اس پورے معاملے کو بہت پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستانی حکومت نے پاکستانیوں پر نگرانی بڑھا دی ہے۔ مختصر مدت کے ویزوں پر آنے والے پاکستانی شہریوں کو بڑے پیمانے پر ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی طویل مدتی ویزے رکھنے والوں پر بھی تفتیش اور نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں ان خواتین کے ویزے کی میعاد، ان کے شوہروں کی شہریت کی حیثیت اور بچوں کی پیدائش کا وقت، تینوں عوامل ان خواتین کے بچوں کی شہریت کا فیصلہ کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔












ہندوستان سے پنگا لے کر پست ہوا پاکستان، طالبان اور ایران بھی اٹھا رہے موقع کا فائدہ، چین کی بڑھ گئی تشویش
کوئٹہ/اسلام آباد: پاکستان کو اپنی سرحدوں پر سیکورٹی کے سنگین بحران کا سامنا ہے۔ بلوچستان اور افغانستان کی سرحد سے اپنی فوج واپس بلانے کا فیصلہ پاکستان پر الٹا پڑ گیا ہے۔ افغان طالبان نے پاک افغان سرحد پر بڑے پیمانے پر بنکروں کی تعمیر شروع کر دی ہے جبکہ بلوچستان میں علاحدگی پسند گروپوں نے سیکورٹی فورسز پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے پاکستان کی سرحد پر دہشت گرد تنظیم جیش العدل کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے۔

پاکستانی فوج کے ہٹنے کے بعد افغان طالبان نے پاک - افغان سرحد پر بنکرز بنانا شروع کر دیے ہیں۔ پہلے پاکستانی فوج نے ان تعمیرات کو روک دیا تھا لیکن اب طالبان بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے ارادوں کو پورا کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق طالبان ان بنکرز کے ذریعے سرحد پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتے ہے۔بلوچستان میں گھری پاکستانی فوج
بلوچستان کے حالات اور بھی تشویشناک ہیں۔ پاکستانی فوج کی غیر موجودگی میں علاحدگی پسند تنظیموں نے کئی علاقوں پر قبضہ جما لیا ہے۔ کوئٹہ بلوچستان روڈ پر علاحدگی پسندوں نے حملے تیز کر دیے ہیں۔ ایک حالیہ حملے میں، علاحدگی پسندوں نے سیکورٹی فورس کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا، جس میں ایک درجن سے زائد پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کی موت ہوگئی ۔ علاحدگی پسند تنظیمیں مسلسل اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہیں جس سے خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ چین کی بلوچستان میں خصوصی دلچسپی ہے اس لیے یہ خبر اس کے لیے بھی تشویشناک ہے۔

ایران نے بھی لگایا موقع پر چوکا
ایران نے بھی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کی سرحد پر دہشت گرد تنظیم جیش العدل کے خلاف بڑی کارروائی کی۔ آج صبح ہوئی اس کارروائی میں چھ سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ قبل ازیں پاکستانی فوج کی موجودگی کی وجہ سے ایران کی کارروائیاں روک دی جاتی تھیں، لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے۔ پاکستانی فوج کی غیر موجودگی میں ایران نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔پاکستانی فوج کے لئے بحران
ہندوستان - پاکستان سرحد پر کشیدگی بڑھنے کے بعد پاکستان نے اپنی 12ویں کور اور دیگر فوجی بٹالین کو بلوچستان اور افغانستان کی سرحد سے ہٹا کر ہندوستان کی سرحد پر تعینات کر دیا تھا۔ ان بٹالینز کو 11ویں کور کمانڈر کے ماتحت کام کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم اس فیصلے سے بلوچستان اور افغانستان کی سرحد پر فوجی خلا پیدا ہوگیا ہے۔ پاکستان کی پنجاب بٹالین ان علاقوں میں تعیناتی سے گریز کر رہی ہے جہاں جان کو زیادہ خطرہ ہے۔ جس کی وجہ سے بلوچستان اور افغانستان کی سرحد پر فوجی جوانوں کی شدید کمی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کی یہ حکمت عملی اب اس کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔










نیٹ کا مشکل پیپر، کتنے نمبروں پر ملے گی سرکاری سیٹ؟ کیا اس بار کٹ آف کم ہوگا؟ جانیے ماہرین کی رائے کیا ہے؟
نئی دہلی: قومی اہلیت کے ساتھ داخلہ ٹیسٹ (نیشنل ایلیجیبلیٹی کم انٹرنس ٹیسٹ، National Eligibility cum Entrance Test (UG)) برائے گریجویٹ (NEET UG 2025) کے امتحان میں بچوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج سوالیہ پرچہ کی لمبائی رہا ہے۔ جس کی وجہ سے کئی طلبہ بہت سے اہم سوالات کے جوابات لکھنے سے محروم رہے۔ نتیجے کے طور پر، وہ اپنا پورا پرچہ مکمل نہیں کر سکے اور اس کا اثر براہ راست اس کے نتائج پر پڑے گا۔ امتحان کے بعد ای ٹی وی بھارت (ETV Bharat) نے NEET امتحان کی کوچنگ کرنے والے بہت سے ماہرین سے بات کی، جنہوں نے بہت سی اہم معلومات دیں۔

دراصل ملک کا سب سے بڑا میڈیکل داخلہ امتحان NEET UG 2025 اتوار 3 مئی 2025 کو آف لائن قلم و کاغذ (پین پیپر) موڈ میں منعقد ہوا۔ سوالات کافی مشکل تھے، یعنی وہ گھما پھراکر پوچھے گئے تھے۔ سوالیہ پرچہ ہمیشہ کی طرح روایتی نہیں تھا۔ اس بار روایتی فارمولہ اور حقائق پر مبنی سوالات غائب تھے۔ اس سے پہلے NEET UG میں حساب پر مبنی سوالات نہیں پوچھے جاتے تھے، لیکن اس بار ایسے سوالات کی بہتات تھی۔ یہ تجزیاتی اور ایپلیکیشن لرننگ پر مبنی سوالات تھے۔ماہرین کی رائے

اس سلسلہ میں ماہرین نے بتایا کہ سرکاری سیٹ حاصل کرنے کے لیے کتنے نمبر درکار ہوتے ہیں۔ آئیے مزید جانتے ہیں کہ کن ریاستوں میں حکومت کی سیٹ کتنے نمبروں پر مل سکتی ہے۔
ہریانہ میں 600 نمبروں تک سرکاری سیٹ

ایلن کوچنگ سینٹر کے پری میڈیکل ہیڈ سنجیو سنگھ نے کہا کہ امتحان ان کی پیشین گوئیوں کے مطابق منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرکزی سطح پر 600 سے زیادہ نمبر حاصل کرنے پر کوئی بھی آسانی سے سرکاری کالج حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم خاص طور پر ہریانہ کی بات کریں تو وہاں 600 سے 625 نمبر تک سرکاری کالج مل جائیں گے۔ہماچل پردیش میں 500 نمبروں تک سرکاری سیٹ

سنجیو سنگھ نے کہا کہ اس بار سرکاری سیٹیں مجموعی طور پر 600 سے زیادہ نمبروں کے لیے دستیاب ہوں گی۔ اس بار، ہماچل پردیش میں طلباء کے لیے سنہری موقع ہے کیونکہ وہ وہاں تقریباً 500 نمبروں کے ساتھ سرکاری نشست حاصل کر سکتے ہیں۔

اس بار کٹ آف کم ہوگا

سنجیو سنگھ، جو کافی عرصے سے طلباء کو NEET امتحان کی تیاری کرا رہے ہیں، نے کہا کہ اس سال کٹ آف پچھلے سال کے مقابلے بہت کم ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار فزکس کے سوالات بہت مشکل تھے۔ اگر ہم کیمسٹری کی بات کریں تو وہ بھی اعلیٰ درجے کا تھا، کچھ سوالات ہائیر لیول کے تھے۔ بائیو مضمون کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کافی لمبا تھا جس کی وجہ سے بہت سے طلباء پیپر مکمل نہیں کر سکے اور ان کے پاس سوالات کے جوابات دینے کا وقت نہیں تھا۔پیپر لمبا ہونا رہا سب سے بڑا ڈرا بیک

سنجیو سنگھ نے کہا کہ طلبا کے نقطۂ نظر سے اس بار سب سے کمزور پہلو امتحانی پیپر کی طوالت تھی۔ انہوں نے کہا کہ کٹ آف کم ہونے کی یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ فزکس اور کیمسٹری کے سوالات نے بھی بچوں کو الجھائے رکھا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...