Saturday, 22 March 2025

*🔴سیف نیوز اردو*







راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے لبنان پر فضائی حملے
اسرائیل کی جانب سے اس بیان کے بعد کہ اس نے سرحد پار سے راکٹ حملوں کو ناکام بنایا ہے، اس نے توپ خانے اور فضائی حملوں کے ذریعے جنوبی لبنان کو نشانہ بنایا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کو ان نئے حملوں نے اسرائیل اور لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ کے درمیان ایک برس کی جنگ کے بعد ہونے والی جنگ بندی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
حزب اللہ نے ان حملوں کی ذمہ داری سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا راکٹ حملوں سے ’کوئی تعلق‘ نہیں ہے اور وہ جنگ بندی پر کاربند ہے۔ جبکہ اب تک کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ راکٹ داغنے والے گروہ کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چھ راکٹ فائر کیے گئے، جن میں سے تین اسرائیل میں داخل ہوئے اور انہیں مار گرایا گیا۔
اسرائیل کی غزہ میں حماس کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے بعد لبنان سے ہونے والا یہ پہلا حملہ ہے۔ حماس اور حزب اللہ اتحادی ہیں جنہیں اسرائیل کے روایتی دشمن ایران کی حمایت حاصل ہے۔
قبل ازیں سنیچر کو اسرائیلی فوج نے تھا کہ اس نے لبنان کے ایک ضلع سے داغے گئے تین راکٹوں کو سرحد کے تقریباً چھ کلومیٹر دور شمال میں اسرائیلی سرحدی قصبے میتولا کی طرف روکا تھا۔
اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جوابی کارروائی کے طور پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوج کو حکم دیا کہ ’وہ لبنان میں دہشت گردوں کے درجنوں اہداف کے خلاف بھرپور طاقت سے کارروائی کرے۔‘
اسرائیلی فوج نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے درجنوں راکٹ لانچروں اور ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا جہاں سے گروپ کے عسکریت پسند کام کر رہے تھے۔
لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی این این اے نے وزارت صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوب میں سرحد کے پاس اسرائیلی فضائیہ کے حملوں میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے۔
گذشتہ برس نومبر میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت حزب اللہ کے پاس جنوبی لبنان میں کوئی ہتھیار نہیں ہونے تھے، اسرائیلی زمینی دستوں کو واپس بلایا جانا تھا اور لبنانی فوج کے دستے علاقے میں تعینات ہونے تھے۔
معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ لبنان کی حکومت جنوبی لبنان میں تمام فوجی انفراسٹرکچر کو ختم کرنے اور تمام غیرمجاز ہتھیاروں کو ضبط کرنے کی ذمہ دار ہے۔
صدر جوزف عون نے لبنانی فوج کو حکم دیا کہ وہ ملک کے استحکام کو خطرے والے ڈالنے والی ’کسی بھی خلاف ورزی‘ کو روکے۔ جبکہ فوج نے کہا کہ اس نے جنوب میں تین ’راکٹ لانچروں‘ کو تلاش کر کے ختم کر دیا ہے۔








کلامِ غالب کی تشریح نے مجھے شاعر بنایا، شاعری میں وزن کیا ہوتا ہے، اکبر جے پوری سے سیکھا: اشرف عادل
سرینگر، (پرویز الدین): اشرف عادل گزشتہ 3 دہائی سے زائد عرصے سے اردو زبان وادب کی آبیاری کرتے آرہے ہیں۔ اشرف عادل دو اصناف میں لکھ رہے ہیں۔ شاعری میں غزلیں اور نثر میں ڈرامہ۔ اب تک ان کی 5 کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جن میں دو شعری مجموعہ کی ہیں جب کہ تین کتابیں ان کے لکھے سو سے زائد ڈراموں پر مبنی ہیں۔

کلام غالب کی تشریح کے ذریعہ وجود میں آئے اس شاعر اور ڈرامہ نویس کے ادبی کارناموں اور اردو زبان کے تئیں ان کی خدمات سے متعلق ای ٹی وی بھارت کے نمائندے پرویز الدین نے اشرف عادل کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کی۔

وہ جو شاعری کا سبب ہوا

شہر خاص کے خانیار علاقے سے تعلق رکھنے والی اشرف عادل کہتے ہیں کہ اگرچہ گھر میں کوئی ادبی ماحول نہیں ہے۔ البتہ کالج میں اس وقت کے اردو کے پروفیسر محمد شفیع کے کلام غالب کی اس تشریح نے مجھ پر ایسی کیفیت طاری کردی کہ میں لکھنے پر مجبور ہوا اور میں نے غزل کی صورت میں اُس وقت ایک تخلیق سامنے لائی اور یہی تحریر میری شاعری کی ابتداء تھی۔

شاعری میں وزن کیا ہوتا ہے، اکبر جے پوری سے سیکھا

انہوں نے کہا کہ میں ایسے میں تقریباً اڑھائی سو غرلیں لکھتا گیا مگر یہ سبھی شاعری کے وزن سے پرے تھیں۔ ایسے میں مجھے اکبر جے پوری کے نام سے ایک سفارشی خط ملا۔ جس کے بعد میں نے انہیں ڈائری میں قلم بند وہ سبھی غزلیں دکھائی۔ تاہم لکھنے پر تو انہوں نے داد دی لیکن ساتھ ہی کہا کہ برخوردار شاعری میں وزن ہوتا ہے جو کہ ان غزلوں میں دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ اگرچہ مجھے شاعری کے عروز اور وزن وغیرہ کے بارے میں کوئی بھی جانکاری نہیں تھی۔ تاہم انہوں نے ایک غزل کی تختی کرکے دکھائی۔ جس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ وزن کس کو کہتے ہیں اور وزن کی شاعری میں کیا معنی اور اہمیت ہے۔ ایسے میں کافی وقت تک میں ان کی رہنمائی حاصل کرتا رہا۔ اس کے بعد میری رہنمائی مرحوم ڈاکٹر فرید بربتی کرتے رہے۔ اس طرح میں سیکھتا گیا اور غزلیں لکھتا گیا۔

اشرف عادل خصوصی نمبر کی اشاعت

اشرف عادل کے شعری مجموعہ کی اب تک دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جن میں "الہام سے پہلے" اور" لذت گریہ" شامل ہیں۔ عادل اشرف کے کلام نہ صرف مقامی بلکہ قومی سطح کے مقتدر جرائد ورسائل میں چھپے ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اور حال ہی میں قومی سطح کے جریدے "سرسبز "میں اشرف عادل خصوصی نمبر شائع ہوا۔ جو کہ تقریباً دو سو صفحات پر مشتمل ہے۔کشمیر کے شعراء کی جدید نسل سے تعلق

شائع کیے گئے اس خاص نمبر پر اشرف عادل کہتے ہیں یہ میرے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرشن کمار تور نے "میری شاعری اور فن "پر اپنے جریدے میں جو نمبر شائع کیا یہ میرے لیے بہت بڑی حوصلہ افزائی ہے۔ اشرف عادل کا تعلق کشمیر کے شعراء کی جدید نسل ہے۔ ان کی غزلوں میں شدت سے عشق و محبت کی ترجمانی ملتی ہے۔ یہ داخلی کیفیات کو ہی اپنی شاعری کا موضوع نہیں بناتے بلکہ کائنات کے دیگر موضوعات معاملات، انسانی رشتوں، خواہشات، آسمان کی بلندیوں اور زمین کی گہرائی کو نہایت سادہ بیانی اور فنکاری کے ساتھ موضوع بناتے ہیں۔

ریڈیو کشمیر سرینگر پر ڈرامہ کی پیشکشی

ڈرامہ نویسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں بچپن میں فلمیں دیکھتا رہتا تھا۔ جس کے بعد پھر ٹی وی ڈرامے اور ریڈیو ڈرامے بھی۔ ایسے میں ابتداء میں شوقیہ طور میں نے ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھے۔ جو کہ اس وقت ریڈیو کشمیر سرینگر کی یووانی سروسز سے نشر ہوا اور یہ میرا پہلا ڈرامہ تھا۔ اس طرح سال 1992 میں انہوں نے پہلا ڈرامہ "وقت کا فرشتہ" لکھا۔ اشرف عادل ریڈیو ڈراموں کے ساتھ ساتھ ٹی وی ڈرامے بھی لکھ چکے ہیں جو کہ بعد میں کافی مشہور بھی ہوئے۔

آل انڈیا ریڈیو سے سیریل کی اشاعت

اس کے علاوہ اب تک یہ تقریباً 12 سیریلز تحریر کر چکے ہیں اور داغ دہلوی کی سوانحۂ حیات اور فن پر انہوں نے کئی قسط پر مبنی سیریل بھی لکھے جو کہ آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہوا۔ ان کے نشر ہوئے ڈراموں پر مبنی تین کتابیں بھی آچکی ہیں۔ جن میں 2012 میں "تمثیل داغ"، 2016 میں" چاند کا ہم شکل" اور 2023 میں "رات کا تیسرا پہر" قابل ذکر ہیں۔










روزہ: بیماریوں سے نجات کا ذریعہ
روزہ جہاں ہماری روحانی پاکیزگی اور بالیدگی کا ذریعہ بنتاہے وہیں جسمانی لحاظ سے بھی بدن انسانی پر صحت افزاء اثرات مرتب کرتاہے۔طب نبوی ﷺ نے تو روزے کو بہت پہلے روحانی وجسمانی صحت اور تندرستی کا بہترین ذریعہ قرار دیتے ہوئے روزہ رکھنے کی ترغیب دی اور یونانی طبی ماہرین نے روزہ رکھنے کے جسمانی فوائد کی بھرپور تائید بھی کی۔ گزشتہ چند صدیوں سے جدید میڈیکل سائنس کے بہت سے ماہرین نے روزے کو صرف بھوکا اور پیاسا رہنا سمجھتے ہوئے اس کی طبی افادیت کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ روزے کی طبی اہمیت اور بدنی افادیت پر جدید طبی ماہرین نے سائنسی تحقیقات پر بہت زیادہ توجہ دی اور یہ ثابت کیا ہے کہ روزہ جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ادویات کے استعمال کی نسبت کئی گنا زیادہ مفید اثرات رکھتا ہے۔ زیر نظر تحریر میں ہم روزے کے طبی فوائد اور انسانی جسم پر مرتب ہونے والے اثرات کو تفصیل سے بیان کریں گے:میٹابولزم کی بہتر کارکردگی اور وزن میں کمی
میٹابولزم پر روزے کے اثرات جاننے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ میٹابولزم کیاہے؟یہ کام کیسے کرتاہے اوراس کی اہمیت کیا ہے۔ میٹابولزم ایک حیاتیاتی عمل ہے جس کے ذریعے ہمارے جسم میں کیمیائی تبدیلیاں ہوتی ہیں تاکہ ہم توانائی حاصل کر سکیں اور جسم کے مختلف افعال کو انجام دے سکیں۔ میٹابولزم جسم کو زندہ اور فعال رکھنے کے لیے ضروری ہے اور اس میں کھانے کو توانائی میں تبدیل کرنے سے لے کر جسم کی تعمیر اور ٹوٹ پھوٹ کے عمل شامل ہوتے ہیں۔ میٹابولزم کے دو اہم حصے ہیں:

انابولزم (Anabolism): یہ وہ عمل ہے جس میں جسم چھوٹے مالیکیولز کو جوڑ کر بڑے مالیکیولز بناتا ہے، جیسے پروٹینز اور ڈی این اے۔ یہ عمل توانائی خرچ کرتا ہے اور جسم کی نشوونما اور ٹشو کی مرمت میں مدد دیتا ہے۔کیٹابولزم (Catabolism): یہ عمل جسم کے بڑے مالیکیولز کو توڑ کر چھوٹے مالیکیولز میں تبدیل کرتا ہے تاکہ توانائی آزاد ہو سکے۔ یہ توانائی جسم کے روزمرہ کے کاموں جیسے چلنا، سانس لینا، اور دل کی دھڑکن کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

جب ہم خوراک کھاتے ہیں، تو ہمارا نظام انہضام اس خوراک کو توڑتا ہے تاکہ غذائی اجزاء حاصل کیے جا سکیں۔

یہ غذائی اجزاء پھر خلیوں تک پہنچائے جاتے ہیں جہاں میٹابولزم کے عمل کے ذریعے ان سے توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ اس توانائی کا استعمال جسم کے مختلف افعال کے لیے کیا جاتا ہے، جیسے کہ جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنا، پٹھوں کی حرکت، اور دماغ کے افعال۔جسم کو زندہ اور فعال رکھنے کے لیے میٹابولزم کے ذریعے توانائی حاصل کی جاتی ہے۔ جسمانی افعال جیسا کہ سانس لینا، خون کی گردش، اور خلیات کی مرمت میٹابولزم پر منحصر ہیں۔ میٹابولزم خوراک کو توانائی میں بدلتا ہے، اور اس کے توازن سے جسمانی وزن پر اثر پڑتا ہے۔ میٹابولزم کیٹابولک عمل کے ذریعے غیر ضروری اور زہریلے مواد کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے۔ میٹابولزم کی رفتار مختلف لوگوں میں مختلف ہو سکتی ہے، اور اسے جینیاتی عوامل، عمر، اور جسمانی سرگرمی جیسے عوامل متاثر کرتے ہیں۔روزہ رکھنے کے دوران، جسم غذا نہ ملنے پر چربی کو بطور ایندھن استعمال کرتا ہے۔ اس عمل کو ’’کیتوسس‘‘ کہا جاتا ہے، جہاں جسم کی توانائی کا ذریعہ کاربوہائیڈریٹس کے بجائے چربی بنتی ہے۔ اس سے وزن کم ہوتا ہے اور جسم میں چربی کی مقدار میں کمی آتی ہے۔ انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ (جس کا اصول اسلامی روزے سے ملتا جلتا ہے) پر کی جانے والی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ میٹابولزم کو تیز کرتی ہے اور چربی جلانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے، جو کہ وزن کم کرنے میں مددگار ہے۔خون میں شکر کی سطح کی بہتری

فی زمانہ بڑی تیزی سے پھیلتی بیماری ذیابیطس ہے جس سے ہر پانچواں فرد متاثر ہے۔ ذیابیطس کی علامات خون میں گلوکوز کی سطح بڑھ جانے سے رونما ہوتی ہیں۔ روزہ خون میں گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔ کھانے سے وقفہ لینے سے انسولین کی حساسیت میں بہتری آتی ہے، جس سے جسم بہترین طریقے سے گلوکوز کو استعمال کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے، روزہ رکھنے سے خون میں شکر کی سطح مستحکم رہتی ہے، بشرط یہ کہ غذا کا انتخاب واستعمال مناسب، متوازن اور معتدل کیا جائے۔ یہ انسولین کے بہتر استعمال میں مدد کرتا ہے اور ذیابیطس کے خطرات کو کم کرتا ہے۔جسم سے زہریلے مادوں کی صفائی

بدن انسانی کی زیادہ بیماریوں کا سبب جسم میں زہریلے مادوں کا جمع ہونا اور ٹھہرنا ہے۔ جب انسان روزہ رکھتا ہے، تو جسم قدرتی طور پر ڈیٹاکسیفیکیشن (صفائی ) کے عمل میں داخل ہوتا ہے۔ روزے کے دوران جسم میں موجود زہریلے مادے (ٹاکسنز) جگر اور گردوں کے ذریعے خارج ہوتے ہیں۔ چونکہ کھانے کا عمل رکتا ہے، جسم خود کو صاف کرنے کے لیے زیادہ وقت پاتا ہے۔آکسیڈیٹیو اسٹریس (جو کہ خلیات کو نقصان پہنچاتا ہے) میں کمی آتی ہے اور جسم میں مضر مادوں کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔دل کی صحت

فی زمانہ غیر معیاری، ملاوٹ شدہ اور مصنوعی غذائوں کے مستقل استعمال سے خون میں زیریلے مادے اور چربیاں شامل ہوکر اسے گاڑھا کردیتے ہیں جس سے بلڈ سرکولیشن متاثر ہوتی ہے۔ کولیسٹرول وغیرہ کی مقدار میں اضافہ ہوکر نتیجے میں دل کے مختلف مسائل سامنے آنے لگتے ہیں۔

روزہ دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزہ رکھنے سے کولیسٹرول کی سطح میں بہتری آتی ہے اور بلڈ پریشر مستحکم ہوتا ہے۔ خون میں کولیسٹرول کی کمی سے شریانوں میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور دل کے دورے اور اسٹروک جیسے مسائل کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں روزہ رکھنے سے بلڈ پریشر میں کمی آتی ہے، کیونکہ جسم میں پانی کی کمی اور نمکیات کی کمی سے خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔دماغی صحت اور ذہنی سکون

معاشی بد انتظامیوں، معاشرتی الجھنوں اور سماجی مسائل نے اکثریت کو ذہنی مریض بنا چھوڑا ہے۔ ڈپریشن، سٹریس، ٹینشن اور اینگزائٹی جیسے مسائل عام ہوتے جارہے ہیں۔ اعصابی دبائو سے دماغی تنائو پیدا ہوکر بے سکونی اور اضطراب کی علامات سامنے آتی ہیں۔ روزہ ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔

روزے کے دوران دماغ میں ایک خاص قسم کا پروٹین بی ڈی این ایف(Brain-Derived Neurotrophic Factor) پیدا ہوتا ہے، جو دماغی خلیات کی نشوونما اور تحفظ میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، روزہ رکھنے سے ڈوپامین اور سیرٹونن جیسے کیمیائی مادے پیدا ہوتے ہیں، جو ذہنی سکون اور خوشی کی حالت کو فروغ دیتے ہیں۔ سائنسی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ رکھنے سے یادداشت اور توجہ میں بہتری آتی ہے، اور ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کی علامات کم ہوتی ہیں۔خلیات کی تجدید (Autophagy)

تساہل پسند طرز زندگی اور غیرمعیاری خوراک سے بدن انسانی کے خلیات میں خرابی واقع ہوتی ہے یا بعض اوقات غیر ضروری خلیات بھی بننے لگتے ہیں۔ روزے کے دوران جسم میں ایک قدرتی عمل آٹو فیجی شروع ہوتا ہے، جس میں جسم کے خراب یا غیر ضروری خلیات کی صفائی ہوتی ہے اور نئے خلیات کی نشوونما ہوتی ہے۔

یہ عمل خلیات کو عمر کے ساتھ ہونے والے نقصان سے بچاتا ہے اور کینسر جیسے امراض کے خلاف حفاظتی ڈھال فراہم کرتا ہے۔ آٹو فیجی کا عمل روزے کے دوران زیادہ فعال ہوتا ہے اور جسم کو مختلف بیماریوں جیسے الزائمر، پارکنسنز اور دیگر نیورو ڈی جنریٹیو امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔

 جسمانی قوت مدافعت کی بہتری

بدن انسانی کو مختلف بیماریوں سے بچانے والا نظام قوت مدافعت بدن کہلاتاہے۔ مدافعتی نظام خودکار ہوتا ہے اور حملہ کرنے والے امراض سے انسانی جسم کا دفاع کرتا ہے۔ کسی بھی انسان کی جب قوت مدافعت بدن کمزور پڑتی ہے تو وہ بیماریوں کے چنگل میں پھنسنے لگتا ہے۔ روزے سے جسم کے مدافعتی نظام میں بہتری آتی ہے۔ روزہ رکھنے سے سفید خون کے خلیات کی پیداوار بڑھتی ہے، جو جسم کو بیماریوں اور انفیکشنز سے لڑنے کی طاقت فراہم کرتی ہے۔ کچھ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزے کے دوران اسٹیم سیلز کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، جو جسم میں نئے مدافعتی خلیات بننے کا باعث بنتے ہیں اور عمر بڑھنے کے ساتھ مدافعتی نظام کی کمزوری کو روکتے ہیں۔معدہ اور نظام ہضم کو آرام

بدن انسانی میں معدے اور نظام ہضم کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ ہم جوکچھ بھی کھاتے پیتے ہیں اسے معدہ نظام ہضم کی مدد سے ہی جزو بدن بننے کے قابل بناتا ہے۔ اسی لیے تو داناکہتے ہیں کہ معدہ درست تو تن درست۔ روزے کے دوران معدہ اور ہاضمے کا نظام آرام کرتا ہے، کیونکہ دن بھر کھانے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔

یہ عمل معدے کو اضافی بوجھ سے نجات دیتا ہے اور ہاضمہ کے مسائل جیسے تیزابیت، قبض اور گھبراہٹ کو کم کرتا ہے۔ ہاضمے کے نظام کو وقفہ ملنے سے معدہ بہتر طریقے سے اپنے کام انجام دیتا ہے اورآنتوں کی صحت میں بہتری آتی ہے۔خون کے نظام کی بہتری

لاتعداد بدنی مسائل کی وجہ اندرونی سوزش ہوتی ہے اور اس سوزش کی تشخیص بھی جلد نہیں ہو پاتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سی بیماریاں عمر بھر تنگ بھی بہت کرتی ہیں۔ روزہ رکھنے سے جسم میں انفلیمیشن (سوجن) کم ہوتی ہے، جو کہ مختلف بیماریوں جیسے دل کے امراض اور کینسر سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ خون کے اندر موجود پلیٹلیٹس اور دیگر خلیات کے افعال میں بہتری آتی ہے، جو کہ مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
 جسمانی اور جذباتی سکون

مقابلے کی دوڑ نے انسانی زندگی کو بے سکون کر دیا ہے۔ متواتر بھاگ دوڑ اور آرام و نیند کا خیال نہ رکھنے سے بدن انسانی اکتاہٹ اور تھکاوٹ کا شکار رہتا ہے۔ روزہ انسان کو جذباتی سکون فراہم کرتا ہے، کیونکہ حالت روزہ میں آرام اور نیند پوری کرنے کا موقع ملتا ہے۔ بھوک کے دوران صبر و تحمل کی تربیت ملتی ہے۔اس سے ذہنی نظم و ضبط، نفس اور خود پر کنٹرول کرنے کی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں، جو کہ جذباتی صحت اورذہنی سکون کے لیے مفید ثابت ہوتی ہیں۔ المختصر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جدید سائنسی تحقیقات نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ روزے کا عمل جسم کے مختلف نظاموں کو بہتر بناتا ہے، جسمانی بیماریوں سے بچاؤ فراہم کرتا ہے، اور جذباتی و ذہنی صحت میں بہتری لاتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ثابت ہواکہ روزہ انسان کی بدنی و روحانی صحت کا محافظ ومعاون ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...