Tuesday, 18 February 2025

*🔴سیف نیوز اردو*





ایلون مسک کے محکمے کا ایسا دعویٰ جسے انڈین اپنی ’بے عزتی‘ اور ’انتخابی عمل میں مداخلت‘ کہہ رہے ہیںانڈیا میں انتخابی عمل پر امریکہ کی ارب پتی شخصیت اور صدر ٹرمپ کے مشیر ایلون مسک کے محکمے کی جانب سے ایک حالیہ دعوے نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس دعوے کے مطابق امریکی حکومت نے انڈیا میں ’ووٹر ٹرن آؤٹ کو بڑھانے‘ کے لیے 21 ملین (تقریباً 182 کروڑ روپے) مختص کیے تھے۔

ایلون مسک کے محکمے ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی (Doge) نے 16 فروری 2025 کو 15 نکات پر مشتمل جو فہرست پیش کی اس میں’انڈیا میں ووٹر ٹرن آؤٹ‘ کی مد میں 21 ملین ڈالر کا ذکر کیا گيا، جسے اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی (Doge) کے مطابق کئی ایسے منصوبے منسوخ کر دیے گئے ہیں جن کا مقصد امریکی ٹیکس دہندگان کے ڈالروں سے دنیا بھر میں کسی نہ کسی مقصد کو آگے بڑھانا تھا۔

واضح رہے کہ یہ اخراجات یو ایس ایڈ کے تحت ہوتے تھے جن کا مقصد امریکہ کے قومی مفاد کے لیے دوسرے ممالک کو امداد فراہم کرنا رہا ہے۔

بہرحال ایلون مسک کے محکمے نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ادائیگیاں کب کی گئیں اور آیا یہ مئی 2024 میں ہونے والے انڈیا کے عام انتخابات کے دوران استعمال ہوئیں۔

’بیرونی مداخلت‘
ایلون مسک کے محکمے کی جانب سے اس دعوے کے بعد انڈیا کے سوشل میڈیا پر جہاں انتخابی عمل میں ’بیرونی مداخلت‘ کی بات ہو رہی ہے تو کوئی اسے انڈیا کی ’بے عزتی‘ قرار دے رہا ہے۔

لوگ اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ پیشرفت انڈین وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے فوراً بعد ہوئی۔

انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسے انڈیا کے انتخابی عمل میں ’بیرونی مداخلت‘ قرار دیا۔ بی جے پی کے قومی ترجمان اور آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ووٹر ٹرن آؤٹ کے لیے 21 ملین ڈالر؟ یہ یقینی طور پر انڈیا کے انتخابی عمل میں بیرونی مداخلت ہے۔ اس سے فائدہ کس کو ہو گا؟ یقینی طور پر حکمران جماعت کو نہیں۔‘
امت مالویہ نے مزید الزام لگایا کہ یہ غیر ملکی قوتوں کے ذریعہ انڈین اداروں میں ’منظم دراندازی‘ ہے۔

اس کے جواب میں انڈیا میں کانگریس کے ترجمان اور میڈیا اور پبلیسٹی کے چيئرمین پون کھیڑا نے لکھا کہ ’کوئی انھیں بتائے کہ 2012 میں جب انڈین الیکشن کمیشن (ای سی آئی) کو مبینہ طور پر یو ایس ایڈ سے یہ فنڈنگ ملی تو حکمران جماعت کانگریس تھی۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’اس حساب سے کیا حکمران جماعت (کانگریس) نام نہاد ’بیرونی مداخلت‘ حاصل کر کے اپنے ہی انتخابی امکانات کو سبوتاژ کر رہی تھی اور یہ کہ کیا اپوزیشن (بی جے پی) نے 2014 کے انتخابات یوایس ایڈ کی وجہ سے جیتے تھے؟‘

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی سابق وزیر اعلی اور بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے بھی اس متعلق ایک پریس نوٹ میں تشویش کا اظہار کیا۔

انڈین خبررساں ادارے پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے لکھنؤ میں پارٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس نوٹ میں کہا کہ ’امریکہ سے آنے والی خبریں کافی چونکا دینے والی ہیں کیونکہ مبینہ طور پر انڈیا میں ووٹنگ میں اضافے کے نام پر 21 ملین ڈالر کی بڑی رقم فراہم کی گئی۔ ملک کے لوگوں کو محتاط رہنا چاہیے اور سوال کرنا چاہیے کہ آیا یہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات میں مداخلت ہے اور اگر ایسا ہے تو اس کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے۔‘

ایک صارف بھاویکا کپور نے لکھا کہ ’انتہائی حیرت والی بات ہے کہ اب تک امریکہ انڈین انتخابی نظام میں مداخلت کر رہا تھا، تقریباً 200 کروڑ روپے سالانہ خرچ کرتا تھا۔ انڈیا میں ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھانے کی کوششوں کو فنڈ کر رہا تھا۔ ایلون مسک نے اب اس فنڈنگ کو روک دیا لیکن سوال یہ ہے کہ یہ فنڈنگ کہاں جا رہی تھی؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ انڈین جمہوریت میں براہ راست مداخلت کر رہا ہے؟‘

’رپورٹ میں کوئی حقیقت نہیں‘
انڈین وزیراعظم مودی کے اکنامک فورم کے مشیروں میں سے ایک سنجیو سانیال نے اس کے متعلق متعدد ٹویٹس کی ہیں اور انھوں نے نیوز چینلز سے بھی اس متعلق بات کی۔

یوایس ایڈ کو ’دنیا کی سب سے بڑی سکیم‘ قرار دیتے ہوئے سنجیو سانیال نے کہا کہ ’جو لوگ انڈین انتخابات میں یو ایس ایڈ کی مداخلت کے بارے میں فکر مند ہیں انھیں انڈیا کے طبی نظام اور سماجی پالیسیوں میں بھی یو ایس ایڈ کے بارے میں اتنا ہی فکر مند ہونا چاہیے۔ یو ایس ایڈ نے مؤثر طریقے سے انڈیا کے قومی خاندانی صحت سروے (این ایف ایچ ایس) کو 1990 کی دہائی سے اس وقت تک چلایا جب تک کہ اسے دو سال قبل روک دیا گیا تھا۔‘

اگرچہ ایلون مسک کے محکمے نے کسی سال کا ذکر نہیں کیا لیکن انڈین میڈیا کے مطابق سنہ 2012 میں اس حوالے سے ایک ایم او یو (یاداشت) پر دستخط کیے گئے تھے۔

انھوں نے مزید لکھا کہ ’انڈیا میں ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھانے کے لیے ایک امریکی ایجنسی کی طرف سے کچھ ملین ڈالر کی فنڈنگ کے بارے میں رپورٹ میں کوئی حقیقت نہیں۔‘

انھوں نے مزید نشاندہی کی کہ سنہ 2012 میں انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فار الیکٹورل سسٹمز (آئی ایف ای ایس) کے ساتھ بہت سی دوسری ایجنسیوں کی طرح تربیتی سہولیات کے لیے ایک یاداشت پر دستحظ ہوئے تھے لیکن اس میں کوئی فنڈز کا وعدہ شامل نہیں تھا۔‘



روسی ڈرون نے یوکرین کے نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا، زیلنسکی کا دعویٰ کیو : روس نے ڈرون حملے کی مدد سے چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کے چوتھے پاور یونٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ روسی ڈرونز نے چرنوبل کے ناکارہ جوہری پاور پلانٹ پر حملہ کیا، جو عالمی جوہری سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے خود اس حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ ماہرین روس کے اس حملے کو عالمی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ چرنوبل میں بنایا گیا یہ خصوصی یونٹ یوکرین، یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک کی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا، جس کا مقصد تابکاری کے خطرات سے بچنا تھا۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے اس واقعے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے روس پر الزام لگایا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر رہا ہے اور جوہری مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جو کہ پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ زیلنسکی نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے حملے عالمی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور فوری ردعمل کی ضرورت ہے۔

آگ پر قابو پالیا گیا
صدر زیلنسکی کی تصدیق کے بعد فائر سیفٹی حکام نے بتایا کہ چرنوبل پلانٹ پر ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ پر مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے۔ تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر دنیا کو چرنوبل جیسے حساس مقامات پر خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔

تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں

روسی ڈرون حملے کے بعد چرنوبل پلانٹ میں تابکاری کی سطح کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیقات کے بعد ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ فی الحال تابکاری کی غیر معمولی سطح کا پتہ نہیں چلا ہے۔ پلانٹ کے اہلکار صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ آئندہ کسی بھی خطرے سے نمٹا جا سکے۔




آر پی ایف کی رپورٹ ‘غلط اور گمراہ کن’ہے: وزارت ریلوے
نئی دہلی (یو این آئی) ریلوے کی وزارت نے ہفتہ کو نئی دہلی اسٹیشن پر بھگدڑ کے بارے میں منگل کو میڈیا میں شائع ہونے والی ریلوے پروٹیکشن فورس (آرپی ایف) کی رپورٹ کو "غلط اور گمراہ کن” قرار دیا۔آج یہاں ایک بیان میں، ریلوے کی وزارت نے کہا کہ آج کچھ میڈیا رپورٹس میں نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ کے بارے میں آر پی ایف کی تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا جو "غلط اور گمراہ کن” ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ناردرن ریلوے نے واقعے کی تحقیقات کے لیے دو رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کی جانب سے 100 سے زائد ذاتی بیانات جمع کیے جا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) نے نئی دہلی اسٹیشن پر گزشتہ سنیچر کو ہوئی بھگدڑ سے متعلق اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسٹیشن پر پریاگ راج کے لیے خصوصی ٹرین کا پلیٹ فارم تبدیل کرنے کے اعلان کے بعد افراتفری مچ گئی اور فٹ اوور برج پر مسافر ایک دوسرے پر گرنے لگے، جس کی وجہ سے 20 مسافر ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہوگئے۔نئی دہلی کے آر پی ایف پوسٹ کے انچارج انسپکٹر نے اتوار کو سینئر ڈویژنل سیکورٹی کمشنر (کوآرڈینیشن) کو ایک رپورٹ پیش کی، جس میں اس واقعہ کے بارے میں تفصیلی اطلاعات دی گئیں۔ تاہم، ریلوے حکام کے دعوے اور آر پی ایف کی رپورٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے فرق ہے۔

رپورٹ میں انسپکٹر انچارج نے لکھا ہے کہ 15 فروری کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر عام دنوں کی طرح پریاگ راج کی طرف جانے والی بھیڑ بھاڑ والی ٹرینوں کو انسپکٹر، نئی دہلی کے ہمراہ آر پی ایف پوسٹ نئی دہلی اور ڈویژن کی دیگر پوسٹوں سے آئے اسٹاف کے ہاتھوں کمبھ میلے کے دوران بھیڑ کو عام دنوں کی طرح آسانی سے گزرنے دیا جا رہا تھا۔ ٹرین نمبر 12560 شیو گنگا کے پلیٹ فارم ۔12 سے روانہ ہونے کے بعد اچانک اسٹیشن پر مسافروں کی بھیڑ بڑھنے لگی جس کی وجہ سے فٹ اوور برج نمبر 2 اور 3 پر پلیٹ فارم 12-13، 14-15 اور 16 پر ٹریفک جام ہوگیا، جس سے لوگوں کے دم گھٹنے لگے۔ موقع پر اسسٹنٹ سیکورٹی کمشنر (نئی دہلی) فٹ اوور برج 2 پر پہنچے، ہجوم کا جائزہ لیا اور اسٹیشن ڈائریکٹر کو مزید ٹکٹ نہ بیچنے کی تنبیہ کی اور انہیں محتاط رہنے کو کہا کیونکہ زیادہ بھیڑ کا امکان تھا۔

رپورٹ کے مطابق آر پی ایف انچارج نے سی سی ٹی وی کے ذریعے ایک اعلان کیا اور تمام آن ڈیوٹی عملے کو فوری طور پر مذکورہ پلیٹ فارم اور فٹ اوور برج پر پہنچنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے اسٹیشن ڈائریکٹر سے کہا کہ وہ اسپیشل ٹرین کو فوری طور پر چلانے کا حکم دیں اور وہ خود عملے کے ساتھ فٹ اوور برج 2 پر موجود رہیں اور دیگر افسران کو ہدایت دی کہ وہ فٹ اوور برج پر پہنچ جائیں۔اس دوران اسسٹنٹ سیکورٹی کمشنر (نئی دہلی) خود فٹ اوور برج 3 پہنچے اور عملے کے ساتھ مل کر انہوں نے فٹ اوور برج 3 کو کلئر کرنے کی کوشش کی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب ریلوے پروٹیکشن فورس فٹ اوور برج 2 اور 3 کو کلئر کرنے کی کوشش کر رہی تھی، اس وقت تقریباً 20:45 بجے ایک اعلان ہوا کہ پریاگ راج جانے والی کمبھ اسپیشل پلیٹ فارم 12 سے روانہ ہوگی لیکن کچھ دیر بعد اسٹیشن پر دوبارہ اعلان کیا گیا کہ کمبھ اسپیشل پلیٹ فارم 16 سے روانہ ہوگی جس کی وجہ سے مسافروں کے درمیان بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ۔گاڑی نمبر 12418 پریاگ راج کے ایکسپریس کے مسافروں کی بھیڑ بھی پلیٹ فارم نمبر 14 پر موجود ہونے کی وجہ سے مسافروں کی آمدو رفت رک گئی تھی ۔ دوبارہ اعلان سننے کے بعد مسافر پلیٹ فارم نمبر 12 – 13- اور 14 – 15 سے سیڑھیوں پر چڑھنے اور اترنے لگی جس کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی اور مسافر ایک دوسرے پر چڑھنے لگے۔ مندرجہ بالا معلومات آن ڈیوٹی اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ نئی دہلی کو 20.48 بجے سیکٹر انچارج اسسٹنٹ سب انسپکٹر دھنیشور نے سی سی ٹی وی کے ذریعے مطلع کیا اور آر پی ایف کے عملے اور پورٹرز کی مدد سے زخمی مسافروں کو قریبی اسپتالوں (رام منوہر لوہیا اسپتال، لوک نائک جے پرکاش اسپتال اور پی سی آر نارائنس اسپتال اور دہلی پولیس کے ذریعے اسپتال بھیج دیا گیا۔

دریں اثنا، اسسٹنٹ سیکورٹی کمشنر (نئی دہلی) کی ہدایت پر، پولیس انسپکٹر، نئی دہلی اجمیری گیٹ کی طرف پہنچے اور تمام داخلی دروازے بند کرائے اور حالات بہتر ہونے تک انہیں اسی طرح رکھا۔ اعلیٰ حکام کو موقع پر ہی مذکورہ کارروائی کی اطلاع دی گئی۔
اس دوران اسٹیشن ایریا میں موبائل نیٹ ورک خراب ہونے کی وجہ سے اس حوالے سے تمام پیغامات کا تبادلہ سی سی ٹی وی اور ڈائری کے عملے کے ذریعے کیا گیا اور ڈویژنل سیکیورٹی کنٹرول روم کو بھی سی سی ٹی وی کے عملے کی جانب سے واقعے سے آگاہ کیا گیا۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریلوے بورڈ کے چیئرمین، ڈائریکٹر جنرل ریلوے سیکورٹی فورس، انسپکٹر جنرل ریلوے بورڈ، پرنسپل چیف سیکورٹی کمشنر ناردرن ریلوے، ڈپٹی انسپکٹر جنرل (پروجیکٹ)، سینئر ڈویژنل سیکورٹی کمشنر دہلی، ریلوے، جی آر پی اور دہلی پولیس کے سینئر افسران بھی موقع پر پہنچ گئے۔حکام نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔ موقع سے ہی سب انسپکٹر کلدیپ کو ان کے عملے کے ساتھ مذکورہ تمام اسپتالوں میں بھیجا گیا جہاں سے بتایا گیا کہ کل 30 زخمی مسافروں کو مذکورہ تین اسپتالوں میں بھیجا گیا ہے جن میں سے 20 مسافروں کی موت ہوگئی اور 10 مسافر زخمی ہوگئے جن کا علاج کیا جارہا ہے۔
18 ایمبولینس، 18 پی سی آر اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں۔ ریلوے کی جانب سے جاں بحق اور زخمی مسافروں کے لیے معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے اور اسپتالوں میں ہی مرنے والوں اور زخمیوں کے اہل خانہ کو معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔ادھرنئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ میں کئی لوگوں کی موت پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے یوتھ کانگریس نے منگل کو یہاں احتجاج کرتے ہوئے اس واقعہ کے لئے ریلوے وزیر اشونی ویشنو کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مسٹر ویشنو کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔یوتھ کانگریس کے ترجمان ورون پانڈے نے یہ جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں نے زبردستی ریلوے منسٹری کی طرف بڑھنے کی کوشش کی، لیکن پولیس کی بھاری تعیناتی کی وجہ سے انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مظاہرین نے وزیر ریلوے کا پتلا نذر آتش کیا اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ‘موت کی تعداد نہ چھپاؤ’، ‘بھگدڑ نہیں، قتل عام’ جیسے نعرے لکھے ھے۔مسٹر پانڈے کے مطابق اس دوران یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب نے احتجاجی نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھگدڑ یا حادثہ نہیں ہے بلکہ قتل عام ہے۔ وزیر ریلوے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے ہیں اس لیے انہیں فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے ۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...