.
کیلوریز کم فائبر زیادہ، وزن کم کرنے والے 10 پھل کون سے؟
بہت سے افراد موٹاپے یا بڑھے ہوئے وزن سے نجات کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے عموماً کھانے کی عادات میں تبدیلی اور ورزش وغیرہ سے کام لیا جاتا ہے۔
لیکن وزن کم کرنے میں کچھ پھلوں کا استعمال بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی نے اپنی ایک رپورٹ میں کچھ پھلوں اور ان کے استعمال کے طریقوں کا ذکر کیا ہے جن میں کیلوریز کم اور فائبر زیادہ پایا جاتا ہے۔
اگر پھلوں کو پروٹین (یعنی دہی یا مونگ پھلی) کے ساتھ لیا جائے تو جسم میں شوگر کی سطح مستحکم رہتی ہے۔
اس کے علاوہ زیادہ پانی والے پھل جیسا کہ تربوز اور سنگترے جسم میں پانی کی مقدار کو بہتر رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
1. سیب
سیب فائبر بالخصوص پیکٹین سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس میں کیلوریز کم ہوتی ہیں۔ سیب کچا کھانا، سلاد میں شامل کرنا یا دارچینی کے ساتھ پکا کر استعمال کرنا وزن کم کرنے میں اہم ہو سکتا ہے۔
2. بیریاں
بیریوں میں کیلوریز کم، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ نظام انہضام کو بہتر اور سوزش کو کم کر سکتے ہیں۔ بیریاں دہی، دلیے میں شامل کریں یا اسی طرح کھائیں۔
3. چکوترا
چکوترا انسولین کی سطح کو کم کرنے میں مددگار شمار ہوتا ہے۔ انسولین کی سطح میں کمی وزن گھٹانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ چکوترے میں پانی اور فائبر زیادہ ہوتا ہے۔ کھانے سے پہلے آدھا چکوترا کھائیں یا سلاد میں شامل کریں۔
. سنگترہ
سنگترے میں فائبر اور وٹامن سی کی مقدار زیادہ جبکہ کیلوریز کم ہوتی ہیں۔ سنگترے کو سلاد میں شامل کرنے یا جوس کی بجائے پورا کھائیں۔
5. ناشپاتی
ناشپاتی میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ بالخصوص اس کے چھلکے میں، یہ ہاضمے کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہے۔ وزن کم کرنے کے لیے کچا کھائیں، سلاد میں شامل کریں یا دار چینی جیسے مسالوں کے ساتھ بیک کر لیں۔
6. کیوی
کیوی وٹامن سی، ای اور فائبر سے بھرپور ہے۔ اس میں کیلوریز کی مقدار کم ہوتی ہے اور نیچرل انزائمز کی وجہ سے یہ ہاضمے میں مدد کر سکتی ہے۔ کیوی کا پھل چھلکے سمیت کھائیں۔ اسے دیگر کھانوں کی ٹاپنگ کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
. تربوز
تربوز میں کیلوریز کم اور پانی زیادہ ہوتا ہے جو آپ کو ہائیڈریٹڈ اور بھرپور رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ تربوز سنیک کے طور پر کھائیں، سلاد میں شامل کریں یا سموتھیز (ملک شیک وغیرہ) میں ملا دیں۔
8. پپیتا
پپیتے میں کیلوریز کم ہوتی ہیں۔ اس میں پاپین نامی ہاضمے کے لیے مفید ایک انزائم سمیت فائبر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ تازہ کھائیں، پھلوں کے سلاد میں شامل کریں، یا سموتھیز(ملک شیک وغیرہ) میں ملا کر استعمال کریں۔
9. انناس
انناس میں کیلوریز کم اور پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں ایک انزائم برومیلین ہوتا ہے جو سوزش کم اور ہاضمے میں مدد کرتا ہے۔ تازہ انناس کھائیں، سلاد میں شامل کریں یا سموتھیز میں ملا کر استعمال کر لیں۔
10. چیری
چیری میں کیلوریز کم اور فائبر زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی قدرتی مٹھاس چینی کی خواہش کو پورا کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ تازہ چیری کھائیں، دہی میں شامل کریں یا میٹھے اور سلاد میں شامل کر لیں۔
اپنے بچوں کو مصنوعی ذہانت (AI) سکھانا کیوں ضروری ہے؟ یہاں جانیں۔۔ اے آئی کورسز اور اس کے فائدے
حیدر آباد: بین الاقوامی یوم تعلیم 2025 کا تھیم AI اور تعلیم، آٹومیشن کی دنیا میں انسانی ایجنسی کا تحفظ رکھی گئی۔ اے آئی اور تعلیم، چیلینجز اور مواقع یہ تھیم تعلیم کی اہمیت پر توجہ مرکوز کرتی ہے تاکہ لوگوں کو مہارتوں اور علم سے آراستہ کیا جاسکے۔ تعلیم کے شعبہ میں مصنوعی ذہانت کا استعمال وہ موضوع ہے جو اس وقت پوری دنیا میں زیربحث ہے۔ مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ایسے ڈیجیٹل پروگرام مرتب کیے جاسکتے ہیں جن کے ذریعے طالب علم کی تعلیمی استطاعت، مہارت، حصول علم کی رفتار، اہداف تک رسائی وغیرہ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
انسانی مستقبل بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت پر منحصر ہونے جا رہا ہے اس لئے اس شعبے میں سرٹیفیکیشن حاصل کرنا ایک درست قدم ثابت ہو گا۔ کئی تعلمی ادارے جن میں بین الاقوامی سطح کی مشہور یونیورسٹیز بھی شامل ہیں، اے آئی سے متعلق کورس کا آغاز کر چکے ہیں، جس میں آن لائن اور آف لائن کورسیز شامل ہیں۔ ایسے میں طلباء کو اپنی اسکولی تعلیم جاری رکھتے ہوئے اے آئی میں مہارت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے پر بھی توجہ مرکوز کرنا چاہیئے۔
بھارت میں بہت سے مصنوعی ذہانت (AI) کورسز ہیں، جن میں ایسے کورسز شامل ہیں جو مشین لرننگ، نیورل نیٹ ورکس، اور ڈیپ لرننگ سکھاتے ہیں۔ یہ کورسز آپ کو مسائل حل کرنے کی مہارتوں یعنی پرابلم سولونگ اسکلز کو فروغ دینے اور ٹیک سے چلنے والی صنعتوں میں زیادہ ملازمت کے قابل بننے میں مدد کر سکتے ہیں۔
بھارت میں مصنوعی ذہانت (AI) کے کورسز:
1- بھارت میں اے آئی اور مشین لرننگ کورسز پیش کرنے والے انسٹی ٹیوٹ ہیں جو بوٹ کیمپ، پوسٹ گریجویٹ پروگرام بھی چلاتے ہیں۔
2- ایسے ادارے بھی ہیں جو جنریٹو AI میں ایک ایڈوانسڈ سرٹیفکیٹ پروگرام چلا رہے ہیں۔
3- کچھ انسٹی ٹیوٹ ایسے ہیں جو ایسے کورسز پیش کررہے ہیں جو تھیوری کو عملی مشقوں کے ساتھ جوڑتا ہے۔
آپ اے آئی کورسز میں کیا سیکھ سکتے ہیں؟
2- تکنیک (Techniques): انسانی ذہانت کی نقل کرنے والے نظام بنانے کا طریقہ سیکھیں، جیسے کہ تقریر کو پہچاننا اور فیصلے کرنا
3- ایپلی کیشنز (Applications): حقیقی دنیا کے مسائل پر AI کا اطلاق کرنے کا طریقہ سیکھیں
4- سرٹیفیکیشنز (Certifications): اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے کے لیے AI میں سرٹیفیکیشن حاصل کریں۔
5- پیشہ ورانہ نیٹ ورکس (Professional networks): پیشہ ورانہ نیٹ ورکس اور AI کمیونٹیز تک رسائی حاصل کریں۔
اے آئی کورسز کے فوائد:
1- آسانی سے نوکری حاصل ہو سکتی ہے
2- ٹیکنالوجی سے چلنے والی صنعتوں میں روزگار کی صلاحیت میں اضافہ
3- تازہ ترین AI رجحانات اور ٹیکنالوجیز کے ساتھ اپ ڈیٹ رہیں
4- AI اور ٹیک میں قائدانہ کردار کے لیے دروازے کھل جائیں گے
بھارت میں اے آئی کا انقلاب:
کوئی ملک سائنسی و فنی علوم کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ بھارت اے آئی کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں اے آئی پیشہ ور افراد کی مانگ 2027 تک کافی حد تک بڑھنے والی ہے۔ اگر رپورٹ پر یقین کیا جائے تو صرف بھارت میں 2027 تک 12.5 لاکھ سے زیادہ اے آئی پروفیشنلز کی مانگ ہو سکتی ہے۔
بھارت کا مقصد مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں بین الاقوامی پہچان بنانے کا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اس ٹیلنٹ کی مانگ 2027 تک 6-6.5 لاکھ سے بڑھ کر 12.5 لاکھ سے زیادہ ہونے کی امید ہے۔
'نیس کام' کمپنی اور 'ڈیلائٹ انڈیا' کی ایک رپورٹ کے مطابق، ملک میں اے آئی مارکیٹ میں 25-35 فیصد (2022-2027 کی مدت کے دوران) اضافہ متوقع ہے، ممکنہ طور پر ٹیلنٹ پول میں طلب اور رسد کے فرق کو ختم کرنا اور موجودہ ٹیلنٹ کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
پچھلے ایک سال میں مختلف شعبوں میں 43 فیصد بھارتی افرادی قوت نے اپنی تنظیموں میں اے آئی کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ تقریباً 60 فیصد ملازمین اور جنریشن زیڈ کے 71 فیصد کا خیال ہے کہ اے آئی کی مہارتوں کو حاصل کرنا ان کے کیریئر کے امکانات کو روش کر سکتا ہے۔
تاہم اس صلاحیت کو صحیح معنوں میں بروئے کار لانے کے لیے توجہ صرف مقدار پر نہیں بلکہ اے آئی ٹیلنٹ کے معیار پر بھی مرکوز کرنی چاہیے۔
اے آئی کیا ہے؟
یہ سنہ 2025 ہے اور فی الحال اے آئی ہماری زندگی میں اس وقت عام ہو چکا ہے۔ اگر چند دہائیوں پہلے کی بات کریں تو یہ صرف ایک سائنس فکشن تھا۔ تو ایسا کیا ہو گیا اور ایسی کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں جس نے اے آئی کو سائنس فائی کتابوں اور فلموں سے عام لوگوں کی زندگیوں میں داخل کر دیا؟
مصنوعی ذہانت میں ذہانت سے مراد مشینوں کی دی گئی معلومات کی بنیاد پر باخبر فیصلہ کرنے یا اقدامات کرنے کی صلاحیت ہے۔ انسانوں کو ذہین مخلوق کہا جاتا ہے کیونکہ ہم اپنے آس پاس سے معلومات کو جمع کر کے آزادانہ فیصلے کر سکتے ہیں۔
مختصر طور پر بیان کیا جائے تو، اے آئی پیچیدہ مسائل کو حل کرنے، فیصلے لینے جیسے وہ تمام کام انجام دے سکتا ہے جسے کمپیوٹر سسٹم سے حل کرنے کے لیے انسانی ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے دائرے میں حقیقی ترقی 1956 میں شروع ہوئی جب مصنوعی ذہانت کے شعبے کو باضابطہ طور پر قائم کیا گیا تھا۔
مصنوعی ذہانت کا ہر ممکنہ شعبے میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔ اے آئی نے بینکنگ، سیفٹی، میڈیسن اور انجینئرنگ میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔
اے آئی ہماری ضرورت کیوں بن گیا؟
طب کے میدان میں اے آئی نے تشخیص اور علاج کو آسان اور درست بنا دیا ہے۔ اب بینکنگ بھی آن لائن ہے، اس لیے دھوکہ دہی کی ادائیگیوں، منی لانڈرنگ وغیرہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت بینکوں کو رسک اسیسمنٹ، منی لانڈرنگ کو روکنے، کے وائی سی چیک کرنے اور ادائیگی کے کسی بھی فراڈ کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ سائبرسیکیوریٹی میں اے آئی نے انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن کے بعد سے، بڑی اور چھوٹی کارپوریشنوں سے لے کر حکومتوں تک، ہر ایک کے پاس اپنا حساس ڈیٹا ڈیجیٹل فارمیٹ میں محفوظ ہے۔ اگرچہ اس کے بڑے فوائد ہیں، لیکن یہ حساس ڈیٹا کو سائبر حملوں اور چوری کا شکار بھی بناتا ہے۔ اے آئی سسٹمز معمولی سی بھی بے ضابطگی کا پتہ لگاسکتے ہیں اور حملہ آوروں کو حساس ڈیٹا چوری کرنے یا ڈسٹرائے کرنے سے روک سکتے ہیں۔
2018 میں، معروف وینچر کیپیٹلسٹ ڈاکٹر کائی فو لی نے اے آئی سے متعلق پیشین گوئی کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ، مصنوعہ ذہانت انسانی تاریخ میں بجلی جیسی ایجاد سے زیادہ کسی بھی چیز سے زیادہ دنیا کو بدلنے والا ہے۔ آج دیکھیں تو یہ واقعی سچ ثابت ہوا ہے۔
اگر ہم ابھی اپنے اردگرد نظر ڈالیں، تمام ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT)، مشین لرننگ اور روبوٹکس تک، سب کچھ مصنوعی ذہانت سے چلائے جا رہے ہیں۔
فہمی بدایونی کے مقبول و مشہور اشعار، پڑھیے دل کو چھو لینے والے کلامحیدرآباد (نیوز ڈیسک): منفرد لب و لہجے کے شاعر فہمی بدایونی 72 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کا جانا اردو دنیا کے لیے بڑا خسارہ مانا جا رہا ہے۔ وہ اپنے سادہ اسلوب اور منفرد اندازِ بیان سے اپنے پیچھے ایک گہرا نقش چھوڑ گئے۔ انہوں نے اپنی غزلوں اور اشعار سے بے پناہ مقبولیت اور داد و تحسین حاصل کی۔ ان کے اشعار کی عوامی مقبولیت کا یہ عالم رہا کہ ان کے بے شمار ویڈیو سوشل میڈیا پر طویل وقت تک چھائے رہے۔ ان کے اشعار کی خاصیت یہ ہے کہ وہ سادہ مگر گہرے اور جذبات کی ادائیگی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ فہمی بدایونی کے کچھ مقبول و مشہور اشعار ملاحظہ کیجیے:
تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں
کیسے ملتا کہیں پہ تھا ہی نہیں
-
پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا
کتنا آسان تھا علاج مرا
-
ہمارا حال تم بھی پوچھتے ہو
تمہیں معلوم ہونا چاہیے تھا
-
مری وعدہ خلافی پر وہ چپ ہے
اسے ناراض ہونا چاہیے تھا
-
تم نے ناراض ہونا چھوڑ دیا
اتنی ناراضگی بھی ٹھیک نہیں
-
کاش وہ راستے میں مل جائے
مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے
-
جان میں جان آ گئی یارو
وہ کسی اور سے خفا نکلا
-
کٹی ہے عمر بس یہ سوچنے میں
مرے بارے میں وہ کیا سوچتا ہے
-
مجھ پہ ہو کر گزر گئی دنیا
میں تری راہ سے ہٹا ہی نہیں
-
جس کو ہر وقت دیکھتا ہوں میں
اس کو بس ایک بار دیکھا ہے
-
چھت کا حال بتا دیتا ہے
پرنالے سے گرتا پانی
-
پھولوں کو سرخی دینے میں
پتے پیلے ہو جاتے ہیں
-
نمک کی روز مالش کر رہے ہیں
ہمارے زخم ورزش کر رہے ہیں