Sunday, 23 February 2025

*🔴سیف نیوز اردو*






جامعہ ثناء العلوم میں ختم بخاری وقرآن شریف 
الحمدللہ 18فروری 2025ء
بروز منگل صبح دس بجے 60فٹی روڑداتارنگرمالیگاؤں میں 
قاری عبدالواحد ابن حافظ
عبدالسلام نے حضرت مولانا 
عبدالباری ابن حافظ عبدالسلام ابن حافظ ومولوی ثناءاللہ 
کی سرپرستی میں آج سےاکیس سال پہلے مکتب کی بنیاد رکھی
جوآج ایک جامعہ ثناء العلوم کی شکل اختیار کرگیا جسکی شاخیں شہراوراطراف کے دیہاتوں میں 
جاری وساری ہیں جس میں بنت
حواہزاروں کی تعداد میں قرآن 
وحدیث کی تعلیم سےسرفرازہو
رھی ھیں ایک خاص خصوصیت یہ ھے کہ جامعہ اور
شاخوں میں بڑی عمرکی عورتوں کی تعلیم وتربیت پر
خصوصی طور سے توجہ دی جاتی ھے جسکا نتیجہ ہوتاھےکہ 
وہ دین کی نشرواشاعت مکتب میں پڑھانے کےقابل ہوجاتی ھے 
یہ جامعہ کاکارنامہ ھے
الحمدللہ امسال جامعہ سے18
خوش نصیب طالبات کوحضرت 
مولانا مفتی محمد ھارون صاحب شیخ الحدیث رحمانیہ 
کھامیہ عالی پورگجرات خلیفہ
حضرت مولانا قمر الزماں صاحب آخری حدیث کادرس دےکرزمرہ عالمات میں شامل 
کئے31طالبات تجوید وقراۃ78
طالبات ناظرہ قرآن مجید تکمیل کئےحافظ ثناءاللہ صاحب 
حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب نقشبندی کےشاگرد اورحمیدیہ مسجد کے
اول امام 65سال تک امامت کے
فرائض انجام دئیے اورمولانا شاہ محمد اسحاق صاحب نقشبندی کی جنازہ کی نماز پڑھائی آج بھی حمیدیہ مسجد 
کی امامت انکے پڑپوتے حافظ ومولوی عبید الرحمن ابن مولانا 
عبدالباری صاحب خوش اسلوبی سے انجام دےرھے ہیں 
اسی طرح جامعہ کےناظم مولوی عبدالرحمن ابن مولانا عبدالباری صاحب 
اور انکے رفقاء جامعہ کوترقی کی طرف
لےجارھےہیی مدرسہ کوحضرت مولانا محمد ادریس عقیل ملی قاسمی صاحب کی سرپرستی بھی حاصل ھے نظامت کےفرائض مولانا جمال ناصرایوبی صاحب انجام دینے 
از قاری حفیظ الرحمن شمسی مالیگاؤں 8530489266





روزوں سے جسمانی تقوی، روحانی تقوی اور مالی تقویٰ کی تعلیم
ہر مسلمان مرد و عورت پر شرعا لازم ہے کہ وہ تقویٰ کے ساتھ زندگی گزارے

مفتی آصفا انجم ملی ندوی

9822249411 9273996969 ۔

سورہ بقرہ ، دوسرے پارے کی ساتویں رکوع ، آیت نمبر ۱۸۳ تا آیت نمبر ۱۸۸ رچھ آیتوں پر مشتمل یہ رکوع روزہ ، دعاء اعتکاف اور مالی معاملات کے متعلق احکام و مسائل پر مشتمل ہے۔ درمیان میں قرآن کریم کے نزول کا یادگار اور قابل ذکر تاریخی واقعہ بیان کیا گیا ہے اور اسی ضمن میں قرآن مجید کا نہایت جامع تعارف بھی پیش کر دیا گیا ہے۔ اس رکوع کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں دو مرتبہ ” تقوی کا، ایک مرتبہ شکر کا اور ایک مرتبہ رشید کا ذکر ہے اور رکوع کی آخری آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کا مال نا جائز طور پر مت کھاؤ اُڑاؤ اور نہ اُسے حکام تک پہنچاؤ ( رشوت کے طور پر ) کہ جس سے لوگوں کے مال کا ایک حصہ تم گناہ کے ساتھ جانتے بوجھتے کھا جاؤ ۔ روزہ اور اعتکاف دو ایسی عبادتیں ہیں جن کا تعلق جسم و جان سے ہوتا ہے۔ روزہ کی حالت میں کھانے پینے اور بیوی سے خاص ملاقات کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ اسی طرح روزہ کی حالت میں جھوٹ، غیبت اور بے حیائی کی باتوں سے لڑائی جھگڑے سے خاص طور پر بچنے کی تأکید کی گئی ہے۔ ان سب باتوں کا تعلق انسان کے جسم اور اعضاء سے ہے اس اعتبار سے یہ ممانعتیں در حقیقت جسمانی تقوی کی تعلیم ہے ۔ ذکر و دعا صبر وشکر اور رشد و ہدایت کا تعلق قلب و روح سے ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے مذکورہ افعال کے بارے میں جو ہدایات دی گئی ہیں ان میں قلبی وروحانی تقوی کا ذکر آ گیا ہے۔ پھر رکوع کی آخری آیت میں مالی معاملات مالی معاملات کی درستی اور صفائی کی تعلیم دی گئی ہے۔ سود، رشوت ، چ وت، چوری و غصب اور ناحق و خلاف شریعت طریقہ سے کسی کا مال لینے سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے اس آیت کریمہ میں ” مالی تقویٰ کی مکمل تعلیم آگئی ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے " ڈرنا اور بچنا ایک مسلمان کا حرام اور مشکوک و مشتبہ سے بچنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ملا سلام اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کے ساتھ زندگی گزارنا اور نافرمانی و حکم عدولی اور ہر چھوٹے بڑے گناہ سے بچنا ، سب تقویٰ ہے۔ قرآن مجید اور احادیث کریمہ میں تقویٰ کا مطالبہ اور اس کو اپنانے کی تأکیدو تعلیم بار بار کی گئی ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ تقوی کوئی اختیاری عمل نہیں ہے کہ کسی کا جی چاہے تو وہ تقویٰ اپنائے اور جس کا جی نہ چاہتا ہو وہ تقوی کی زندگی کو اختیار نہ کرنے میں آزاد ہو۔ بلکہ ہر مسلمان مرد و عورت پر شر غا لازم ہے کہ وہ تقویٰ کے ساتھ زندگی گزارے ۔ اپنے اعضاء و جوارح سے اللہ تعالی اور اس کے رسول علی اللہ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری از اختیار کرے اور گناہوں سے بچے ، قلب و روح اور دل و دماغ ایمان ویقین، تقوی و توکل ، صبر و شکر کے جذبات اور اوصاف عالیہ سے پُر ہوں ۔ اچھے اخلاق جیسے سچ ، امانت و دیانت ، صلہ رحمی و حسن سلوک اور حسن ظن و خیر خواہی اپنائے جائیں اور بری خصلتوں سے جیسے جھوٹ، غیبت، تہمت ، حسد، دشمنی ، لڑائی جھگڑا، بدگمانی وغیرہ سے بچیں۔ مالی معاملات میں صفائی و درستی حقوق کی ادائیگی ، حلال کمانے کا فکر اور اس کا اہتمام کیا جائے اور حرام و مشتیبات سے ناپ تول میں کمی کرکے، چوری و خیانت اور غصب سے، رشوت خوری ، سود، جوئے سٹے اور زور ز بر دستی کر کے یا دھوکہ دہی کے راستے ناحق کسی کا مال کھانے سے بچا جائے ۔ غرض ظاہری و جسمانی تقوی بھی اختیار کیا جائے ۔ باطنی و روحانی تقویٰ بھی اپنایا جائے اور مالی تقویٰ کی عادت بھی اپنے اندر پیدا کی جائے ۔ سورہ بقرہ کی مذکورہ بالا رکوع میں ان تینوں قسم کے تقوی کی تعلیم دے دی گئی ہے اور ہر جگہ فعل مضارع کا صیغہ لایا گیا ہے ۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جسم و روح اور مال کے تینوں شعبوں میں تقوی شعاری کی صفت ہماری مستقل عادت اور روزمرہ کا ایک معمول بن جائے ۔ وَفَقَنَا اللَّهُ تَعَالَى لِمَا يُحِبُّ وَ يَرْضَى

شائع کردہ

مرکز دعوت و اصلاح، دار الافتاء والارشاد، امن چوک، اسلام نگر ، مالیگاؤں





🛑 *ام المدارس الجامعة الزہراء اہلسنّت اظہارالعلوم کے زیر اہتمام*
♻️ *`مسجد جامع اہلسنّت آفتاب رسالت میں دوسری تراویح`*

🏠 *بمقام:* مسجد اہلسنّت آفتاب رسالت(عائشہ نگر قبرستان)
👇🏻🌟👇🏻🌟👇🏻🌟👇🏻🌟👇🏻🌟👇🏻🌟
`نماز تراویح کا وقت:10:30بجے`

🎤 *امام تراویح*
*حافظ محمد مزمل حسین* (مدرس مدرسہ اہلسنّت شفاعة القرآن)

📢💫📢💫📢💫📢💫📢💫📢💫
*المعلن:* صدر و اراکین الجامعة الزہراء اہلسنّت اظہارالعلوم و مسجد جامع اہلسنّت آفتاب رسالت انتظامیہ کمیٹی(عائشہ نگر قبرستان)






*نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کے تحت پانچ روزہ* 
*اساتذہ کی صلاحیت سازی کی تربیت 0۔2 کا خوشگوار اختتام*
 مالیگاؤں کارپوریشن کے زیر اہتمام ایس ایم خلیل کیمپس مالیگاؤں مرحلہ وار پرائیویٹ و کارپوریشن اسکول کے اساتذہ کی ٹریننگ کا سلسلہ جاری رہا دوسرے مرحلے کی ٹریننگ جو کہ 17 فروری 2025 سے 22 فروری 2025 کے درمیان بڑے ہی خوشگوار ماحول میں عمل میں آئی جس میں ماہرین نے اساتذہ کو مختلف موضوعات پر معلومات فراہم کرتے ہوئے رہنمائی کی۔ آج ٹریننگ کے آخر میں تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ کی جانب سے تمام ریسورس پرسن(رہنما معلمین ) حضرات کے اعزاز میں ایک اختتامی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ جس میں ان تمام ریسورس پرسنس کی خدمات کا اطراف کرتے ہوئے مومینٹو اور شال ان حضرات کی خدمات میں پیش کئے گئے۔ اسی طرح ٹریننگ کے دوران اساتذہ کی معاونت و خدمات کرنے والے ایس ایم۔خلیل اسکول طلبہ ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں میڈل اور تحائف کے ذریعے بیسٹ اسٹوڈنٹس کے خطاب سے نوازا گیا۔ ایس ایم خلیل ایجوکیشن کیمپس کے تعاون کو سراہتے ہوئے ایس ایم خلیل پرائمری اسکول کے ہیڈ ماسٹر نورالامین سر کی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کی ٹرافی پیش کی گئی اسی طرح ٹریننگ کے منتظم عتیق شیخ سلیم سر (SSA) اور نیرج پوار سر کو بھی اعزازی ٹرافی سے نوازا گیا۔ اس پر مسرت موقع پر سنئیر ریسورس پرسن انصاری یونس محمد الیاس سر جو کہ مئی 2025 میں سبکدوش ہونے والے ہے ان کا بھی اعتراف خدمت کرتے ہوئے موصوف کی خدمت میں بھی ٹرافی و تحائف پیش کئے گئے۔
یہ رنگارنگ پروگرام ایس ایم خلیل پرائمری اسکول کے صدر مدرس نورالامین سر کی زیر صدارت عمل میں آیا۔ تمام اساتذہ کی جانب سے ساجد حمید سر، زاہد امین سر اور مرزا رضوان سر نے پروگرام کی قیادت کی، زاہد امین سر نے نظامت کے فرائض کو پُرمزہ انداز میں انجام دیئے تو ساجد حمید سر ، شارق سر ،اعجاز سر اور سہیل سر و دیگر اساتذہ نے گل پیشی و اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے حاصل کی گئی ٹریننگ کو اپنی عملی زندگی میں استعمال کرنے کا وعدہ کیا۔خطبہ صدارت میں صدر موصوف نے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے یادداہنی کروائی کہ ہمارا پیشہ پیشہ انبیائی ہے اور قوم و قومی تربیت کرنا ہمارا اولین فریضہ ہے تو وہی آخر میں مرزا رضوان سر کے رسم شکریہ کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...