چیمپئنز ٹرافی: انڈیا کی عمدہ بولنگ، پاکستان کے پانچ کھلاڑی آؤٹ
اب سے کچھ دیر قبل تک پاکستان نے 37 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 166 رنز بنائے ہیں۔ وکٹ پر سلمان علی آغا اور خوشدل شاہ موجود ہیں۔
اتوار کو دبئی میں ٹاس جیت کر گرین شرٹس کے کپتان محمد رضوان نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
پاکستان کو اس ٹورنامنٹ میں رہنے کے لیے ہر حال میں یہ میچ جیتنا ہو گا کیونکہ پاکستان کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ سے ہارنے کے بعد اپنے گروپ میں سب سے آخر نمبر پر ہے۔ جبکہ انڈیا دو پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل پوائنٹ پر دوسرے نمبر پر ہے۔
انجریز، آؤٹ آف فارم کھلاڑی اور پے در پے شکستوں سے نبردآزما پاکستانی ٹیم کے لیے یہ میچ جیتنا جتنا اہم ہے، وہیں طویل عرصے بعد ٹیم میں واپسی کرنے والے امام الحق اور آؤٹ آف فارم بابر اعظم کے لیے کارکردگی دکھانا بھی اتنا ہی ضروری تھا۔ لیکن افسوس دونوں نے اپنے مداحوں کو ایک بار پھر مایوس کیا۔
امام الحق انڈین پیس اٹیک کے آگے دباؤ میں نظر آئے اور انہوں نے کافی ڈاٹ بالز کھیلیں۔ جبکہ بابر نے ابتدائی اوورز کے بعد کئی دلکش باؤنڈریز لگائیں اور لگ رہا تھا کہ شاید آج وہ بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ لیکن ہاردک پانڈیا نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ بابر اعظم سے ایک چوکا کھانے کے بعد انہوں نے اس سے اگلی ہی گیند پر انہیں کیچ آؤٹ کر دیا۔ بابر نے 26 گیندوں پر پانچ چوکوں کی مدد سے 23 رنز بنائے۔ انہوں نے آؤٹ ہونے سے قبل آئی سی سی ون ڈے ایونٹس میں ایک ہزار رنز بھی بنا لیے۔
اس سےا گلے ہی اوور میں امام الحق نے انڈین فیلڈرز کی صلاحیتوں کو آزمانے کی کوشش کی اور اکشر پٹیل کے ہاتھوں رن آؤٹ ہو کر منہ کی کھائی۔ انہوں نے 26 گیندوں پر بغیر کسی باؤنڈری کے 10 رنز بنائے۔
’ہر میچ اہم ہوتا ہے‘
ٹاس جیت کر محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ’پچ اچھی لگتی ہے اس لیے ہم پہلے بیٹنگ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ آئی سی سی ایونٹ کھیلتے ہیں تو ہر میچ اہم ہوتا ہے۔ ہمارے کھلاڑی یہاں کی کنڈیشن سے آگاہ ہیں اور ہم نے پہلے بھی اس گراؤنڈ میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ ہم گذشتہ میچ ہار گئے تھے لیکن اب یہ ماضی کی بات ہے۔‘
ٹیم میں تبدیلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فخر زمان کی جگہ امام الحق کو شامل کیا گیا ہے۔
ٹاس ہارنے کے بعد انڈیا کے کپتان روہت شرما نے کہا کہ ’(ٹاس ہارنے سے) اس سے فرق نہیں پڑتا اور ہم پہلے بولنگ ہی کرتے۔ یہ ویسی پچ نہیں ہے لیکن اس (پچ) سے ملتی جلتی نظر آتی ہے جس پر ہم نے گذشتہ میچ کھیلا تھا۔ ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔‘
دونوں ٹیموں کے سکواڈ
پاکستان: امام الحق، بابر اعظم، سعود شکیل، محمد رضوان، طیب طاہر، سلمان علی آغا، خوشدل شاہ، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف، ابرار احمد۔
انڈیا: روہت شرما، شبھمن گِل، وراٹ کوہلی، شریاس ائیر، اکشر پٹیل، کے ایل راہُل، ہاردک پانڈیا، رویندرا جدیجہ، ہرشت رانا، محمد شامی، کلدیپ یادو۔
مجلس مشاورت ملک میں بھائی چارے کو مضبوط کرنے کے لیے کام کرے گی، اپریل میں تمام مذاہب کے رہنماؤں کی ایک بڑی میٹنگ ہوگی
نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، دہلی چیپٹر (رجسٹرڈ) نے ملک میں بڑھتے ہوئے سماجی تناؤ اور ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوششوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بھائی چارے اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے دہلی میں مختلف مذہبی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک بڑے پیمانے پر مہم چلائے گی۔ یہ فیصلہ اے آئی ایم ایم ایم دہلی چیپٹر کی گورننگ کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ میں لیا گیا، جس کی صدارت چیپٹر کے صدر سید نور اللہ نے کی۔
اجلاس میں اپنے خطاب میں سید نور اللہ نے کہا کہ ملک اس وقت ایک سنگین دور سے گزر رہا ہے، جہاں منصوبہ بند طریقے سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں کشیدگی پھیلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ رجحان معاشرے اور ملک دونوں کے لیے مہلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ خود غرض عناصر ہندوستانی سماج کی گنگا جمونی ثقافت کو نقصان پہنچانے کی سازش کر رہے ہیں جسے کسی بھی قیمت پر ناکام بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے امن پسند ہندوستانیوں سے اپیل کی کہ وہ سماج میں اتحاد اور امن کو برقرار رکھنے اور تخریب کار عناصر کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے آگے آئیں۔
اپریل میں تمام مذاہب کے رہنماؤں کی ایک بڑی میٹنگ
مجلس مشاورت نے اعلان کیا ہے کہ اپریل میں تمام مذاہب کے رہنماؤں کا ایک بڑا اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں معاشرے کو متحد کرنے والی قوتوں کو مضبوط کرنے اور ملک کو توڑنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جامع حکمت عملی بنائی جائے گی۔
اجلاس میں تنظیم کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ایم اے جوہر نے تفصیل سے ایجنڈا پیش کیا اور موجود اراکین سے اس پر گہرائی سے بحث کرنے کی اپیل کی۔ اس موقع پر نائب صدر ڈاکٹر ایم رحمت اللہ نے کہا کہ کسی بھی معاشرے اور ملک کی ترقی کے لیے امن و سکون کی برقراری بہت ضروری ہے۔ قائم مقام جنرل سکریٹری محمد طیب نے اردو زبان سے متعلق مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے تحفظ اور فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات میں اوقاف اور تعلیم سے متعلق مختلف امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے آخر میں مولانا انور قاسمی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اس مہم کو مضبوطی سے آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ہیمنت بسوا سرما نے 90 سال کی روایت کو بدلا، مسلم ممبران اسمبلی نہیں کرپائیں گے یہ کام، جانئے کیا ہے پورا معاملہ؟
گوہاٹی : آسام اسمبلی میں 90 سال پرانی روایت ٹوٹ گئی۔ مسلم قانون سازوں کی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے دو گھنٹے کے وقفے کی دہائیوں پرانی روایت کو ختم کر دیا گیا۔ رواں بجٹ اجلاس کے دوران پہلی بار اسے ختم کر دیا گیا۔ وقفہ ختم کرنے کا فیصلہ اگست میں ایوان کے آخری اجلاس میں کیا گیا تھا ۔ تاہم اس پر اس اجلاس سے عمل درآمد کیا گیا۔ حالانکہ سبھی 31 مسلم ایم ایل ایز نماز جمعہ کے لیے گئے ۔ کانگریس کے مسلم ایم ایل اے نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ آج کے اہم اجلاس میں نماز کے وقت موجود نہیں ہوسکے۔
ایوان کے اس فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اے آئی یو ڈی ایف کے ایم ایل اے رفیق الاسلام نے کہا کہ یہ نمبروں کی بنیاد پر تھوپا گیا فیصلہ ہے۔ اسلام نے کہا کہ اسمبلی میں تقریباً 30 مسلم ایم ایل ایز ہیں۔ ہم نے اس اقدام کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ لیکن ان کے پاس (بی جے پی) نمبر ہیں اور وہ اس کی بنیاد پر اسے مسلط کر رہے ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کیا کہا؟
اپوزیشن کانگریس کے لیڈر دیب برت سیکیا نے کہا کہ مسلم ایم ایل ایز کے لیے قریب میں جمعہ کی نماز پڑھنے کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج میرے پارٹی کے بہت سے ساتھی اور اے آئی یو ڈی ایف کے ایم ایل ایز اہم بات چیت سے چوک گئے، کیونکہ وہ نماز پڑھنے گئے تھے۔ چونکہ صرف جمعہ کے دن ہی خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں، اس لیے میرے خیال میں اس کے لیے قریب ہی میں انتظام کیا جا سکتا ہے۔
90 سال پرانی روایت ختم
تقریباً 90 سال پرانی روایت کو توڑنے کا فیصلہ گزشتہ سال اگست میں اسپیکر کی سربراہی میں ایوان کی رولز کمیٹی نے کیا تھا۔ اسپیکر بسواجیت ڈیمری نے تجویز پیش کی تھی کہ ‘آئین کی سیکولر نوعیت کے پیش نظرآسام اسمبلی کو کسی بھی دوسرے دن کی طرح جمعہ کو اپنی کارروائی چلانی چاہئے’۔
اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئےوزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے کہا کہ یہ ایک پریکٹس تھی جو 1937 میں مسلم لیگ کے سید سعد اللہ نے شروع کی تھی اور چھٹی کو ختم کرنے کے فیصلے نے “پروڈکٹیویٹی کو ترجیح دی اور نوآبادیاتی بوجھ کا ایک اور نشان ہٹا دیا”۔