ٹرمپ کے ’غزہ پلان‘ کے بعد مسلم ممالک نے اٹھایا یہ بڑا قدم، امریکہ کے خلاف کیا بن گئی حکمت عملی!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی غزہ کے حوالے سے اپنے ارادوں کا اظہار کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے 4 فروری کو اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ پر مکمل کنٹرول چاہتے ہیں۔ اس کے بعد مسلم ممالک نے ٹرمپ کے اس بیان کے خلاف حکمت عملی بنانی شروع کر دی ہے۔ عرب ممالک امریکی عزائم کو ناکام بنانے کے لئے ایک سفارتی قدم پر متفق ہونے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
لیکن میٹنگ سے قبل سفارتی بات چیت سے واقف ذرائع کے مطابق متبادل منصوبہ بنانے کی کوشش کرنے والے عرب ممالک کو ابھی بھی اہم مسائل سے نمٹنا ہے۔ جیسے غزہ کی تعمیر نو کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔ یا غزہ پٹی پر حکومت کیسے ہوگی؟ لوگوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔
قابل ذکر ہے کہ خلیجی عرب ممالک اور مصر اور اردن کے سربراہان جمعے کو ریاض میں ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ اس بارے میں سعودی عرب نے کہا کہ یہ ’’قریبی برادرانہ تعلقات‘‘ کے دائرہ کار میں ایک غیر رسمی ملاقات ہوگی۔ ریاض کے بیان میں غزہ کے بارے میں بات چیت کا سرکاری طور پر کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ لیکن ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ جمعرات کو مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی آمد سے قبل ہونے والی یہ ملاقات بنیادی طور پر مصر کی تجویز پر تبادلہ خیال کیلئے تھی۔ جس کا مقصد غزہ سے فلسطینیوں کو “صاف” کرنے اور ان میں سے بیشتر کو اردن اور مصر میں آباد کرنے کے ٹرمپ کے منصوبے کا مقابلہ کرنا تھا۔
سعودی عرب کے شاہی دربار کے قریبی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ جمعے کی بات چیت سے قبل کسی تجویز کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا عرب رہنما 4 مارچ کو قاہرہ میں عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس سے قبل ٹرمپ کے منصوبے کے خلاف متفقہ متبادل پر اتفاق کر پائیں گے۔
سیسی نے بدھ کے روز عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کو بے گھر کئے بغیر غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ اپنائے۔ فلسطینیوں اور خطے کے دیگر افراد کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ کی تجویز خطے کو غیر مستحکم کر دے گی، 1948 کی جنگ کے “نقبہ” یا تباہی کو دہرائے گی جو اسرائیل کے وجود کے وقت ہوئی تھی۔
محمد یونس کے راج میں یہ کیا ہورہا؟ اب سیاست داں بھی محفوظ نہیں...بی این پی لیڈر کا بے رحمی سے قتل
ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں محمد یونس کی عبوری حکومت میں اقلیتوں بالخصوص ہندوؤں کے خلاف تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے لیکن اب وہاں کے رہنما بھی محفوظ نظر نہیں آتے۔ یہ اس لئے کہا جا رہا ہے کہ بی این پی کے ایک رہنما کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔
ڈھاکہ میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ایک رہنما کو اس کے حریفوں نے ان کی اہلیہ کے سامنے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے یہ اطلاع دی ہے۔ ڈیلی اسٹار بنگلہ دیش کی رپورٹ کے مطابق بی این پی کی کلہ یونین یونٹ کے سابق نائب صدر محمد بابل میاں کا جمعہ کی دوپہر کو اس وقت قتل کردیا گیا جب وہ اور ان کی اہلیہ دھامرائی سب ڈسٹرکٹ میں اکشیر نگر ہاؤسنگ کے قریب سرسوں کی کٹائی کر رہے تھے۔
بابل کی اہلیہ یاسمین بیگم نے کہا کہ گاؤں والوں کا اکشیر نگر ہاؤسنگ کے ساتھ ایک دیرینہ تنازعہ تھا، جو کہ ایک ریئل اسٹیٹ کا کاروبار ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اگرچہ میرے شوہر اس معاملہ میں شامل نہیں تھے لیکن افسر، ارشد اور منیر ہم دونوں کو کئی دنوں سے دھمکیاں دے رہے تھے۔
یاسمین نے کہا کہ انہوں نے بابل کی لاٹھیوں اور ایس ایس پائپوں سے پٹائی کی، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگئے ۔ انہوں نے ان کی دونوں آنکھیں بھی بھوڑ دیں۔ جب میں نے اور کچھ مقامی لوگوں نے مداخلت کرکے انہیں اسپتال لے جانے کی کوشش کی تو انہوں نے ہمیں روک دیا۔ وہ ان کے بے ہوش ہوجانے کے بعد وہاں سے گئے۔ بابل کو بعد میں ساور انعام میڈیکل کالج اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
دھامرئی تھانے کے انچارج منیر الاسلام نے بتایا کہ ابتدائی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ بابل کو سابقہ جھگڑے کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قتل کے ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ یاسمین نے کہا کہ وہ اس واقعے کے حوالے سے فوری طور پر ایف آئی آر درج کرائیں گی۔
چندریان 3 : چاند پر اترنے کے بعد ’وکرم‘ نے لگائی تھی ’کود‘، اب اسرو نے کھولا یہ بڑا راز
اگست 2023 میں چندریان 3 کے ‘وکرم’ لینڈر نے چاند کی سطح پر کامیابی کے ساتھ سافٹ لینڈنگ کی تھی۔ یہ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) کے لئے ایک تاریخی کامیابی تھی۔ حالانکہ لینڈنگ کے بعد سائنسدانوں نے پایا کہ وکرم میں ابھی کچھ پروپیلنٹ بچ گیا تھا ۔ باقی ماندہ پروپیلنٹ استعمال کرنے یا نہ کرنے پر سائنسدانوں کے درمیان اختلاف رائے تھا۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ اسے استعمال کیا جانا چاہئے۔ جبکہ دوسروں نے مشورہ دیا کہ مشن پہلے ہی کامیاب ہو چکا تھا اور کسی اضافی تجربات کی ضرورت نہیں تھی۔ آخر کار اسرو نے ایک غیر متوقع فیصلہ کیا۔ انہوں نے وکرم لینڈر کو ‘ہاپ’ ٹیسٹ کرنے کی ہدایت دی۔ یعنی ‘وکرم’ نے چاند کی سطح پر کود کر دکھایا ۔
چاند پر کیسے ’کودا‘ وکرم لینڈر؟
اسرو کے مطابق ستمبر 2023 میں وکرم کے انجنوں کو دوبارہ فعال کیا گیا ۔ اس کے بعد یہ چاند کی سطح سے تقریباً 40 سینٹی میٹر اوپر اٹھا اور اپنے اصل لینڈنگ پوائنٹ سے 30-40 سینٹی میٹر دور دوبارہ لینڈ کیا۔ اس ٹیسٹ نے اسرو کی اس صلاحیت کا مظاہرہ کیا کہ لینڈر اپنے انجنوں کو ری اگنائٹ کرسکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل کے مشنز جیسے چاند سے زمین پر واپسی کے لیے اہم ہے۔
اسرو چیف نے بتایا اپنا تجربہ
اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے اسرو چیف وی نارائنن نے کہا کہ لینڈنگ کے دن کافی تناؤ تھا، لیکن پروپیلنٹ سسٹم نے پوری طرح سے کام کیا اور چندریان 3 کامیابی کے ساتھ چاند پر اترا۔ یہ مشن ایک بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بقیہ پروپیلنٹ کے استعمال کے بارے میں اسرو کے سابق چیئرمین ایس سومناتھ سے ان کی بحث ہوئی۔ تاہم چندریان 3 کے زیادہ تر سائنسدانوں نے کہا کہ مشن کا بنیادی مقصد چاند پر نرم لینڈنگ تھا، جو پہلے ہی پورا ہو چکا تھا۔
‘ہاپ’ ٹیسٹ کے ذریعے اسرو نے ثابت کیا کہ وکرم لینڈر اپنے انجنوں کو دوبارہ اگنیٹ کر سکتا ہے۔ یہ صلاحیت مستقبل کے مشنوں کے لیے اہم ہے ، چاند کی سطح سے نمونے اکٹھے کر کے انہیں زمین پر واپس لانا ہے۔ اس غیر متوقع ‘ہاپ’ ٹیسٹ نے سب کو حیران کر دیا، کیونکہ یہ اصل مشن کا حصہ نہیں تھا اور اسرو نے اس کے بارے میں پہلے کوئی معلومات نہیں دی تھی۔