Wednesday, 5 February 2025

نیند پوری نہ ہونے سے بچوں کی ذہنی صحت کیسے متاثر ہوتی ہے؟



1) نیند پوری نہ ہونے سے بچوں کی ذہنی صحت کیسے متاثر ہوتی ہے؟


سائنسدان اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بچپن میں بھرپور نیند لینے سے دماغ کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ویب سائٹ این آئی ایچ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ 6 سال سے 12 سال کی عمر کے بچوں کو ہر روز 9 گھنٹوں تک سونا چاہیے تاہم ابھی تک یہ بات سامنے نہیں آ سکی تھی کہ کم سونے سے دماغ پر کیا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس سوال کے جواب کے لیے یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ڈاکٹر زی وینگ اور اُن کی ریسرچ ٹیم نے کم نیند کی وجہ سے دماغ پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیق کی۔
یہ تحقیق این آئی ایچ کی اڈولسنٹ برین کوگنیٹیوو ڈیلوپمنٹ (اے بی سی ڈی) پروگرام کے تحت کی گئی جس میں 9 سے 10 سال کی عمر کے 12000 بچوں نے حصہ لیا۔
ریسرچرز نے چار ہزار ایسے بچوں پر تحقیق کی جو دن میں 9 گھنٹے نیند پوری کرتے ہیں۔
اسی طرح اس گروپ کا موازنہ چار ہزار ایسے بچوں سے کیا گیا جو کے 9 گھنٹوں سے کم سوتے ہیں۔
یہ تحقیق دو سال کے عرصے تک جاری رہی جس کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ جو بچے کم سوتے ہیں اُن کی ذہنی صحت اور رویے میں 9 گھنٹے نیند کرنے والے بچوں کی نسبت کافی مسائل سامنے آئے۔
ان مسائل میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی، جارحانہ رویہ اور سوچنے کی قابلیت پر پڑنے والے منفی اثرات شامل ہیں۔
ایسے بچے فیصلہ کرنے، معاملات کو سلجھانے، یاداشت رکھنے اور سیکھنے کے عمل میں بھی پیچھے ہیں۔
اس تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے نیند نہ پوری کرنے والے بچے سیکھنے میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور اُن کے رویوں میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
یہ اے بی سی ڈی تحقیق ابھی جاری ہے اور ریسرچرز سمجھتے ہیں کہ آگے آنے والے نتائج مزید ایسے مواقعے پیدا کریں گے جس سے نیند نہ پوری ہونے سے دماغ پر پڑنے والے اثرات کو دیکھا جائے گا۔


روایت پسند گھرانے کی حلیمہ خٹک جن کی پینٹنگز اب دنیا بھر میں آن لائن فروخت ہوتی ہیں
’عرب آرٹ سے پہلے میں مارکر سے مختلف پینٹنگز بنا کر اپ لوڈ کرتی تھی۔ فائنل اسائنمنٹ کی پینٹنگ بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تو لوگوں نے رابطہ کرنا شروع کیا۔ اب میری بنائی ہوئی پینٹنگز لاکھوں روپے میں بِکتی ہیں اور میں یہ سب آن لائن کرتی ہوں۔‘

اپنے شوق کو اپنا فخر بنانے والی حلیمہ خٹک ہمیں اس سفر کی کہانی سنا رہی تھیں۔ حلیمہ خٹک امریکہ، یورپ، سویڈن اور دیگر ممالک میں اپنے فن پارے بھجوا کر نہ صرف نام کما رہی ہیں بلکہ عرق ریزی سے بنائی گئی اپنی پینٹنگز کو منھ مانگے داموں فروخت بھی کرتی ہیں۔

خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی حلیمہ خٹک کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔

انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ایک مدرسے سے حاصل کی اور اسلامک سٹڈیز میں گریجویشن کے بعد اب عربی میں خطاطی کی پیننگز آن لائن فروخت کرتی ہیں۔
پینٹنگز بیچنے کا سفر کو صرف دو ہزار روپے سے شروع ہوا
‎حلیمہ کہتی ہیں ’جب میں سکول میں تھی، ہینڈ رائٹنگ اچھی تھی تو میں اپنی سہیلیوں کی کتابوں پر ان کے نام لکھتی تھی۔

’پھر ایک دن سکول ٹیچر نے کہا کہ حلیمہ آپ کی رائٹنگ اچھی ہے، آپ پینٹگ یا خطاطی سیکھیں۔ بس وہ بات میرے ذہن میں تھی۔‘

حلیمہ خٹک کے مطابق ’جب بھی میں خانہ کعبہ کو دیکھتی تھی تو اس غلاف کے بارے میں سوچتی تھی کہ میں کیسے یہ لکھنا سیکھ سکتی ہوں۔ پھر میں نے آن لائن عربی میں کیلی گرافی کے بارے میں معلومات لینا شروع کیں لیکن بدقسمتی سے خیبر پختونخوا میں آرٹ کے بارے میں کلاسز کا کوئی پلیٹ فارم نہیں۔ اس لیے میں نے آن لائن کلاسز لیں۔‘

’جب میں نے اپنا پینٹنگ کا شوق پورا کرنے کے لیے دوسرے شہر جانے کا ارادہ کیا تو گھر والوں نے اس کی سخت مخالفت کی کیونکہ میں ایک ایسے گھرانےسے تعلق رکھتی ہوں جہاں لڑکیوں کو ہاسٹل میں بھی رہنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔‘

‎لیکن حلیمہ کا کہنا ہے کہ ان کا شوق اپنی جگہ موجود رہا۔

’پھر میں نے نئی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ اس کے لیے میں نے کیلی گرافی آن لائن سیکھنا شروع کر دی۔ میں سوشل میڈیا کافی عرصے سے استعمال کر رہی تھی۔‘
حلیمہ کا کہنا ہے کہ ’پہلی تصویر جو میں نے عریبک آرٹ کی بنائی وہ اسائنمنٹ کی تھی جس کی تصویریں میں نے اپنے سوشل میڈیا پیج پر اپ لوڈ کیں۔‘

ان تصاویر کو دیکھنے کے بعد لوگوں نے اس سے رابطہ کرنا شروع کیا۔ اب تک حلیمہ 200 سے زائد مختلف پینٹنگز جبکہ پچاس کے قریب غلاف کعبہ کی پینٹنگ بنا چکی ہیں۔
’سوشل میڈیا سے آپ کو بھی فائدہ مل سکتا ہے‘
حلیمہ خٹک کے مطابق وہ جب بھی خانہ کعبہ کو دیکھتی تھیں تو اس غلاف کے بارے میں سوچتی تھیں کہ ’میں کیسے یہ لکھنا سیکھ سکتی ہوں۔ پھر میں نے آن لائن عریبک کیلی گرافی کے بارے میں معلومات لینا شروع کیں۔‘

قریب 15 کلاسز کے بعد انھیں اس کام کا اندازہ ہوگیا اور یہی ان کا شوق بن گیا۔
عریبک کیلی گرافی کے علاوہ حلیمہ ترکش اور رومی آرٹ کے بارے میں بھی معلومات رکھتی ہیں۔

‎حلیمہ کا کہنا ہے کہ ’چونکہ ہماری فیملی میں مذہبی رجحان زیادہ ہے اس کے باوجود جب میں نےعریبک آرٹ سیکھنے کا کہا تو سب نے میری بھرپورسپورٹ کی اور جب بھی کوئی میرے چچا یا دوسرے رشتہ دار میری بنی ہوئی پینٹنگ دیکھتے ہیں تو تعریف کے ساتھ ساتھ مجھے انعام بھی دیتے ہیں۔‘

’جب میں پینٹنگ کہیں بھیجتی ہوں تو میرے ابو اور بھائی پینٹنگ پیک کرنے میں مدد کرتے ہیں اور پوسٹ کرنے بھی خود لے جاتے ہیں۔‘



دیو کی جنگ جس میں شکست سے مسلمانوں کی ’سونے سے قیمتی‘ مسالوں کی تجارت یورپ کے ہاتھ چلی گئی
ہندوستان کے ساحلی شہر دیو کی گلیوں میں چندن، لونگ اور کالی مرچ کی خوشبو بسی تھی اور اُس صبح گجراتی، عرب اور مملوک تاجروں کو ایسے بہت سے مسالوں کے سودے طے کر نا تھے۔ لیکن گجرات کی مظفرشاہی سلطنت کی یہ مصروف بندرگاہ آج مسالوں کی تجارت نہیں بلکہ خون ریزی کا مرکز بننے والی تھی۔

یہ مسالے یورپ میں سونے سے زیادہ قیمتی سمجھے جاتے تھے۔

جارج کراؤلی اپنی کتاب ’سپائس‘ میں بتاتے ہیں کہ دواؤں اور کھانے پینے کی اشیا میں استعمال ہونے والے مسالے جب مختلف ہاتھوں سے گزر کر یورپ پہنچتے، تو اُن کی قیمت میں اکثر اوقات دس گنا اضافہ ہو چکا ہوتا تھا۔ یوں اُن کی قیمت سونے کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتی تھی۔

اپنی گراں قیمت کے باوجود یہ مسالے بڑی مقدار میں استعمال کیے جاتے تھے۔

تاریخ دان مارک کارٹرائٹ کے مطابق اگرچہ اِن میں سے زیادہ تر مسالے صرف امرا کے دستر خوانوں تک محدود تھے لیکن غریب طبقہ بھی جب موقع ملتا کالی مرچ تو استعمال کر ہی لیتا تھا۔

اپنے ایک مضمون میں کارٹرائٹ لکھتے ہیں کہ ’شاہی ضیافتوں اور شادیوں میں مسالوں کی بڑی مقدار میں ضرورت پڑتی تھی۔ 15ویں صدی میں انگلینڈ کے ڈیوک آف بکنگھم کے ہاں زیادہ تر کالی مرچ اور ادرک سمیت روزانہ تقریباً دو پاؤنڈ (900 گرام) مسالے استعمال ہوتے تھے۔‘

کراؤلی نے لکھا ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں مسالوں کی تجارت مسلم تاجروں کے ہاتھ میں تھی اور اُن کی ادائیگی کے عوض انھیں سونا اور چاندی ملتا تھا۔

یہ بات یورپ کو بہت کھٹکتی تھی مگر کارٹرائٹ کے مطابق اس کا حل ایشیا تک سمندری راستے کی تلاش میں تھا۔
کارٹرائٹ لکھتے ہیں کہ ’سنہ 1492 میں اطالوی سیاح کرسٹوفر کولمبس نے مغرب کی طرف بحرِ اوقیانوس عبور کر کے ایشیا تک پہنچنے کی کوشش کی، مگر وہ ایک نئی سرزمین، امریکہ، تلاش کر بیٹھے۔ دوسری جانب پرتگالیوں کا ماننا تھا کہ وہ افریقی براعظم کو عبور کر کے ایشیا تک پہنچ سکتے ہیں۔

’سنہ 1488 میں بارٹولومیو ڈیاز پہلی بار کیپ آف گڈ ہوپ (موجودہ جنوبی افریقہ) کے گرد چکر لگا کر افریقہ کے جنوبی کنارے کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے دس سال بعد واسکو ڈی گاما نے بھی یہی راستہ اپنایا، مگر وہ مشرقی افریقہ کے ساحل اور پھر بحرِ ہند کو عبور کر کے جنوبی ہندوستان کے مالابار ساحل پر واقع کالی کٹ (موجودہ کوزی کوڈ) پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

’یوں، یورپی اقوام نے بالآخر مشرق کی دولت تک براہِ راست سمندری راستہ دریافت کر لیا تھا۔‘

سمندری راستہ دریافت کرنے کے بعد پرتگالیوں نے بحر ہند میں اپنی طاقت قائم کرنے کی کوشش شروع کی۔

سنہ 1505 میں پرتگالی بادشاہ مینوئل اول نے فرانسیسکو ڈی المیڈا کو ہندوستان میں پرتگالی وائسرائے مقرر کیا، جس کا مقصد بحر ہند میں پرتگالی بالادستی کو یقینی بنانا تھا۔ تاہم، عرب اور گجراتی مسلمان تاجروں کو یہ مداخلت قبول نہ تھی کیونکہ اس سے ان کی صدیوں پرانی تجارتی اجارہ داری خطرے میں پڑ گئی تھی۔مصنف جولیا دژاک لکھتی ہیں کہ پرتگال کی بحری توسیع کے خلاف شمال مغربی ہندوستان میں ایک طاقتور اتحاد تشکیل پایا۔ اس اتحاد کو گجرات کی مظفر شاہی سلطنت، طاقتور مملوک سلطنت، کالی کٹ (موجودہ کوزی کوڈ) کے راجا سامودری (زمورین)، عثمانی سلطنت کے افسران اور یہاں تک کہ تجارتی سفر کے آخری حصے کے نگہبان وینس نے بھی مدد فراہم کی تھی۔

پرتگالیوں اور مقامی طاقتوں کے درمیان کئی جھڑپیں ہوئیں۔ ان میں سے ایک میں المیڈا کے بیٹے، لورینسو ڈی المیڈا کی 1508 میں چَول بندرگاہ (موجودہ ممبئی کے قریب) پر ہلاکت ہوئی۔ تاہم سب سے بڑی جنگ 1509 میں دیو میں لڑی گئی۔جنگ میں سلطنتِ گجرات کے حکمران محمود بیگڑا کی نمائندگی ملک ایاز کر رہے تھے۔

مؤرخ کے ایس سمتھ نے اپنی کتاب ’پرتگیز اینڈ دی سلطنت آف گجرات‘ میں تاریخی کتب کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایاز ایک جارجیائی غلام تھے۔ ایک بار سلطان نے اپنے سر پر بیٹ کرنے والے بازکو تیر سے مار گرانے پرانھیں آزاد کر کے اپنے امرا میں شامل کر لیا تھا اور چمپانیر قلعے کی فتح میں اہم کردار ادا کرنے پر دیو سمیت بہت سے علاقوں کا گورنربنا دیا تھا۔

کالی کٹ کے طاقتور ہندو حکمران مالابار کے ساحل پر زمورین کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان کی ذاتی محافظ فوج اور زیادہ تر اشرافیہ نائر اور نسطوری مسیحیوں پر مشتمل تھی، لیکن تمام تجارت مسلمان تاجروں کے ہاتھ میں تھی۔

یہ مسلمان تاجر ’موپلا‘ کہلاتے تھے جو عرب تاجروں کی نسل سے تھے اور طویل عرصے سے مالابار کے ساحل پر آباد تھے۔ انھوں نے جلد ہی یہ بھانپ لیا کہ پرتگالیوں کے آنے سے بحیرہ احمر یا خلیج فارس کے راستے یورپ کے ساتھ ہندوستانی تجارت پر اُن کی منافع بخش اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔

اور پھر دیو کے ساحل پر پرتگالیوں کو گجراتی اتحاد کا سامنا ہوا۔

وژاک لکھتی ہیں کہ ’اتحاد کی بحری طاقت 12 بڑی جنگی کشتیوں اور 80 چھوٹی تیز رفتار کشتیوں پر مشتمل تھی۔ پرتگالیوں نے دیو کے جنوب مشرق میں، کوچین بندرگاہ پر ایک بڑی بحری طاقت لنگر انداز کی ہوئی تھی۔ ان کے 18 مضبوط جہازوں پ رتقریباً 1700 تجربہ کار ملاح تھے جو اعلی معیار کے ہتھیاروں اور بکتر سے لیس تھے۔

’یوں پرتگالی نہ صرف تعداد بلکہ معیار میں بھی برتر تھے۔ ان کے لوگ بحری جنگ میں تربیت یافتہ اور تجربہ کار تھے۔‘

وہ مزید لکھتی ہیں کہ ’اتحاد نے فیصلہ کیا کہ وہ دیو کے قلعے کی دیواروں کے پیچھے پناہ لیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ شہر کی توپوں کا استعمال کرتے ہوئے وہ پرتگال کے بیڑے کو شکست دے سکتے ہیں۔ لیکن پرتگالی توپیں زیادہ دور مار کرنے والی تھیں، جن کے جواب میں اتحاد بے بس تھا۔‘
پرتگالیوں نے شاندار فتح حاصل کی
راجر کراؤلی اپنی کتاب ’کنکررز‘ میں لکھتے ہیں کہ المیڈا نے ان مسلمان تاجروں سے بھاری تاوان طلب کیا جنھوں نے دیو میں بحری بیڑے کی مالی معاونت کی تھی، وہ انھیں مل گیا۔

کراؤلی کے مطابق اپنے بیٹے لورینسو کی موت کے بعد وائسرائے نے ہر طرح کی معقولیت کھو دی تھی۔

’قیدیوں میں سے بعض کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر انھیں زندہ جلا دیا گیا، کچھ کو توپوں کے دہانوں سے باندھ کر اڑا دیا گیا، جبکہ کچھ کو زنجیروں میں جکڑ کر پکڑے گئے جہازوں میں ڈال دیا گیا، جو توپوں کی گولہ باری سے غرق کر دیے گئے۔ کچھ کو ایک دوسرے کو قتل کرنے پر مجبور کیا گیا۔ شہر کے دروازے کٹے پھٹے انسانی اعضا کی مالاؤں سے سجائے گئے کیونکہ انھی دروازوں سے وہ لوگ گزرے تھے جنہوں نے ان کے بیٹے کو قتل کیا تھا۔‘

اب کارٹرائٹ کے مطابق پرتگالیوں نے طاقت کے ذریعے تجارتی نیٹ ورک پر قبضہ اور مسالوں کی تجارت پر مکمل اجارہ داری قائم کرنے کا فیصلہ کیا، نہ صرف ایشیا سے یورپ تک بلکہ ایشیا کے اندر بھی۔

’مسالے ان کی پیداوار کرنے والوں سے انتہائی کم قیمت پر خریدے جاتے، مثلاً کپڑے، خشک غذائیں اور تانبا جیسی کم قیمت اشیا کے بدلے، اور پھر انھیں یورپ میں مہنگے داموں بیچا جاتا۔ ایشیا میں بھی ایک بندرگاہ سے دوسری بندرگاہ تک مسالے لے جا کر انھیں قیمتی اشیا جیسے سونے، چاندی، جواہرات، موتی اور نفیس کپڑوں کے عوض بیچا جانے لگا۔‘

’اسی حکمتِ عملی کے تحت، قلعے تعمیر کیے گئے۔ مخالف جہازوں کو تباہ کیا گیا، تعاون نہ کرنے والے شہروں پر بمباری کی گئی، تاجروں کی اشیا ضبط کر لی گئیں اور انھیں من مانی شرائط پر تجارت کرنے پر مجبور کیا گیا۔‘

بہرحال سنہ 1510 میں پرتگالیوں نے گوا پر قبضہ کر لیا، جو اگلے 20 سالوں میں پرتگالی ہندوستان کا دارالحکومت بن گیا۔ سنہ1511 میں ملائشیا کے ملاکا اور سنہ 1515 میں خلیج فارس کے دہانے پر ہرمز پر قبضہ کر لیا گیا۔ سنہ 1518 میں سری لنکا کے علاقے کولمبو میں ایک قلعہ قائم کیا گیا۔اجارہ داری کو نافذ کرنے کے لیے انتظامی اقدامات بھی کیے گئے۔

کوئی بھی نجی تاجر، چاہے یورپی ہو یا غیر یورپی، اگر مسالے جات لے جاتے ہوئے پکڑا جاتا تواسے گرفتار کر لیا جاتا، اس کی اشیا اور جہاز ضبط کر لیے جاتے۔

مسلم تاجروں کے ساتھ سختی برتی گئی اور اکثر انھیں سزائے موت دے دی جاتی۔

جب یہ پالیسی ہر جگہ لاگو کرنا ناممکن محسوس ہوئی، تو کچھ مقامی تاجروں کو محدود مقدار میں تجارت کرنے کی اجازت دی گئی، لیکن عام طور پر صرف ایک مسالے یعنی کالی مرچ کی۔

یورپی جہازوں کے عملے کو تنخواہ کے متبادل کے طور پر مسالے رکھنے کی اجازت دی گئی۔ ایک چھوٹے بورے سے بھی کوئی ملاح اپنے وطن میں ایک گھر خرید سکتا تھا۔

مسالوں کی تجارت کو کنٹرول کرنے کا ایک اور طریقہ تجارتی جہازوں کے لیے شاہی لائسنس کا اجرا تھا۔

ان اقدامات کے ذریعے پورے مشرق میں پرتگالی آمدنی کا 60 فیصد محصولات سے حاصل ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ مسالوں کی فروخت سے زبردست منافع حاصل ہوا۔

سنہ 1535میں گجرات کے سلطان بہادر شاہ نے مغل بادشاہ ہمایوں کے خلاف پرتگالیوں کے ساتھ ایک دفاعی اتحاد کیا اور پرتگالیوں کو دیو قلعہ بنانے اور جزیرے پر ایک چھاؤنی قائم کرنے کی اجازت دی۔ لیکن یہ اتحاد جلد ہی ٹوٹ گیا اور 1537 سے 1546 کے درمیان سلطان کی پرتگالیوں کو دیو سے نکالنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں اور انھی کے ہاتھوں شکست کھا کر مارے گئے ۔

طاقت، دھوکے، بحری جنگوں، تجارتی اجارہ داری اور محصولات کے ذریعے، پرتگالیوں نے مشرق میں اپنی موجودگی کو 16ویں صدی کے اختتام تک انتہائی مستحکم کر لیا تھا۔ لیکن پھر دیگر یورپی کمپنیوں کے ہاتھوں ان کی موجودگی کمزورپڑتی گئی۔

دیو 1961 تک پرتگالیوں کے قبضے میں رہا۔

ولیم ویئر اپنی کتاب ’ففٹی بیٹلز دیٹ چینجڈ دا ورلڈ‘ میں دیو کی جنگ کو ’تاریخ کی چھٹی سب سے اہم جنگ‘ قرار دیتے ہیں۔

تاریخ داں مائیکل ایڈس کے مطابق یہ جنگ بحر ہند میں یورپی بحری برتری کو صدیوں تک قائم رکھنے کا سبب بنی۔

یہ اسی ساحلی علاقے پر 16ویں صدی کی ابتدا میں ہونے والی جنگ تھی کہ جس نے اگلی کئی صدیوں تک عالمی معیشت کا نقشہ بدل کر رکھ دیا تھا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...