Wednesday, 5 February 2025

دہلی میں اسمبلی انتخابات کیلئے ووٹنگ



ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ پر امریکی ’قبضے‘ کی تجویز: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟
منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ وہ غزہ پر طویل مدتی قبضے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔

اب تک ہم اس بارے میں کیا جانتے ہیں:

منگل کے روز اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھال کر ’اس پر حقیقی معنوں میں کام‘ کر سکتا ہے جس میں ایسے بموں کو ہٹانا جو پھٹے نہیں ہیں، غزہ کی تعمیر نو اور اس کی معیشت کو دوبارہ متحرک کرنا شامل ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم اس علاقے کو اپنی زمین کی طرح اپنائیں گے، اس کو ترقی یافتہ بنائیں گے، ہزاروں نوکریوں کے مواقع پیدا کریں گے، یہ واقعی بہت شاندار ہوگا۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غزہ کی تباہ شدہ عمارتوں کو گرا کر علاقے کو صاف کیا جائے گا اور ایک بہترین جگہ تعمیر کی جائے گی جہاں ان کے مطابق دنیا بھر کے لوگ بشمول فلسطینی وہاں رہیں گے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی تجویز پر سب کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
امریکی صدر بیان کے بعد سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کا فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے موقف اٹل ہے اور وہ فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کریں گے۔
اقوامِ متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور کا کہنا ہے کہ جو غزہ کے لوگوں کو ’کسی خوشگوار، اچھی جگہ بھیجنا چاہتے ہیں، وہ انھیں اسرائیل میں ان کے اصل گھروں کو واپس جانے دیں۔‘
حماس نے امریکی صدر کے بیان کو ’بے تکا‘ اور ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی تجویز خطے میں دوبارہ آگ بھڑکا سکتی ہے۔‘
مصر اور اردن کے رہنماؤں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک اور تنظیموں کے ایک مشترکہ بیان میں متنبہ کیا گیا تھا کہ ایسے اقدام سے خطے کے استحکام کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
بی بی سی کے نمائندہ برائے سفارتی امور پال ایڈمز اپنے تجزیے میں لکھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی خارجہ پالیسی کو یکسر بدل کر رکھ دیا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ وہ دوبارہ ایسا ہی کچھ کرنے لگے ہیں۔
مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے سینیئر فیلو برائن کٹولس کے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ پر امریکی قبضے کوئی ارادہ نہیں اور اگر ایسا کوئی منصوبہ ہے بھی تو یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس کا آج کے مشرقی وسطی کی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

کویت کے سابق وزیرِ کو 14 سال قیدکی سزا


کویت (یو این آئی) کویت کے سابق وزیر داخلہ اور دفاع شیخ طلال الخالد کو عدالت نے کرپشن کا جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید اور ایک کروڑ دینار جرمانے کی سزا سنائی ہے۔سبق ویب سائٹ کے مطابق کویت کی عدالت نے سابق وزیر داخلہ اور دفاع شیخ طلال الخالد کو کرپشن کے دو مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر یہ سزائیں سنائی ہیں۔کویتی عدالت نے عوامی فنڈز میں کرپشن کے مقدمے میں 7 سال قید اور 95 لاکھ دینار حکومت کے خزانے میں جمع کرانے کی سزا سنائی۔عدالت نے ایک اور مقدمے میں سابق وزیر کو 7 سال قید کی سزا اور پانچ لاکھ دینا حکومتی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق کویتی عدالت نے سابق وزیر سے ساڑھے 9 لاکھ ہزار دینار کی وصولی کا حکم بھی دیا اور ساتھ ہی ایک دوسرے مقدمے میں انہیں 7 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
واضح رہے کہ شیخ طلال الخالد الاحمد الصباح وزارت داخلہ اور اس سے قبل وزارت دفاع کا قلمدان سنبھالے ہوئے تھے۔ دونوں وزارتوں میں کرپشن پر ان کے خلاف وزرا کی خاص عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔سابق وزیر مقدمات کے سلسلے میں تحقیقاتی کمیٹی اور عدالت کے سامنے پیش ہوتے رہے تھے تاہم انہوں نے ان مقدمات میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کیا تھا جب کہ غبن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کو بھی مسترد کر دیا تھا۔



دہلی میں اسمبلی انتخابات کیلئے ووٹنگ

دہلی (یو این آئی) دہلی اسمبلی کی 70 نشستوں کے لیے بدھ کی صبح 7 بجے ووٹنگ شروع ہوگی۔ پولنگ کے عمل کو بحسن وخوبی انجام دینے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور الیکشن کمیشن کا عملہ آج دوپہر سے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ڈیوٹی کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر آر ایلس واز نے منگل کے روز صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی اور انہيں دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے اپنی ووٹر پرچی حوالے کی۔ الیکٹورل آفیسر کے ساتھ نئی دہلی کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر سنی کمار سنگھ اور بوتھ لیول آفیسر سریش گری بھی تھے۔ انہوں نے صدر جمہوریہ کو الیکشن کمیشن کی ووٹر آگاہی اور سہولت کاری کی کوششوں سے آگاہ کیا۔

چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں اور جمہوریت کو مضبوط بنائیں۔ کمیشن نے خاص طور پر پہلی بار ووٹ ڈالنے والے نوجوانوں اور بزرگ شہریوں سے پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچنے کی اپیل کی ہے۔
دہلی میں 70 اسمبلی سیٹوں کے لیے کل صبح ووٹنگ شروع ہوگی اور انتخابی نتائج کا اعلان 8 فروری کو کیا جائے گا۔اس بار دہلی اسمبلی انتخابات میں تمام سیٹوں کے لیے 699 امیدوار میدان میں ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران، بنیادی طور پر تین بڑی پارٹیوں – حکمراں عام آدمی پارٹی (اے اے پی)، اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس پارٹی نے ایک دوسرے کے خلاف شدید حملے کیے۔ دہلی کے ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے عوام سے انتخابی وعدے کرنے کے لیے تینوں پارٹیوں کے درمیان مقابلہ دیکھا گیا۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کل صبح 7 بجے سے قومی راجدھانی کی تمام 70 سیٹوں پر کل 1.56 کروڑ سے زیادہ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان میں 83,76,173 مرد، 72,36,560 خواتین اور 1,267 تیسری صنف کے ووٹرز شامل ہیں۔ اس بار جنس کا تناسب 864 اور ای پی ریشو (الیکٹر ٹو آبادی کا تناسب) 71.86 ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کی شرکت بھی مضبوط ہوگی۔ اس بار نوجوانوں اور بزرگ شہریوں کی اچھی شرکت دیکھی جارہی ہے۔ کل ہونے والی ووٹنگ میں 18-19 سال کی عمر کے 2,39,905 نوجوان ووٹرز پہلی بار ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی جمہوریت کے اس عظیم تہوار میں 85 سال سے زیادہ عمر کے 1,09,368 بزرگ شہری اور 100 سال سے زیادہ عمر کے 783 ووٹر بھی شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ 79,885 معذور ووٹرز اور 12,736 سروس ووٹرز بھی فہرست میں شامل ہیں۔
دہلی (یو این آئی) دہلی اسمبلی کی 70 نشستوں کے لیے بدھ کی صبح 7 بجے ووٹنگ شروع ہوگی۔ پولنگ کے عمل کو بحسن وخوبی انجام دینے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور الیکشن کمیشن کا عملہ آج دوپہر سے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر ڈیوٹی کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر آر ایلس واز نے منگل کے روز صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی اور انہيں دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے اپنی ووٹر پرچی حوالے کی۔ الیکٹورل آفیسر کے ساتھ نئی دہلی کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر سنی کمار سنگھ اور بوتھ لیول آفیسر سریش گری بھی تھے۔ انہوں نے صدر جمہوریہ کو الیکشن کمیشن کی ووٹر آگاہی اور سہولت کاری کی کوششوں سے آگاہ کیا۔

چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں اور جمہوریت کو مضبوط بنائیں۔ کمیشن نے خاص طور پر پہلی بار ووٹ ڈالنے والے نوجوانوں اور بزرگ شہریوں سے پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچنے کی اپیل کی ہے۔
دہلی میں 70 اسمبلی سیٹوں کے لیے کل صبح ووٹنگ شروع ہوگی اور انتخابی نتائج کا اعلان 8 فروری کو کیا جائے گا۔اس بار دہلی اسمبلی انتخابات میں تمام سیٹوں کے لیے 699 امیدوار میدان میں ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران، بنیادی طور پر تین بڑی پارٹیوں – حکمراں عام آدمی پارٹی (اے اے پی)، اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس پارٹی نے ایک دوسرے کے خلاف شدید حملے کیے۔ دہلی کے ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے عوام سے انتخابی وعدے کرنے کے لیے تینوں پارٹیوں کے درمیان مقابلہ دیکھا گیا۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کل صبح 7 بجے سے قومی راجدھانی کی تمام 70 سیٹوں پر کل 1.56 کروڑ سے زیادہ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان میں 83,76,173 مرد، 72,36,560 خواتین اور 1,267 تیسری صنف کے ووٹرز شامل ہیں۔ اس بار جنس کا تناسب 864 اور ای پی ریشو (الیکٹر ٹو آبادی کا تناسب) 71.86 ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کی شرکت بھی مضبوط ہوگی۔ اس بار نوجوانوں اور بزرگ شہریوں کی اچھی شرکت دیکھی جارہی ہے۔ کل ہونے والی ووٹنگ میں 18-19 سال کی عمر کے 2,39,905 نوجوان ووٹرز پہلی بار ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی جمہوریت کے اس عظیم تہوار میں 85 سال سے زیادہ عمر کے 1,09,368 بزرگ شہری اور 100 سال سے زیادہ عمر کے 783 ووٹر بھی شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ 79,885 معذور ووٹرز اور 12,736 سروس ووٹرز بھی فہرست میں شامل ہیں۔

اس بار دہلی میں کل 13,766 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ دہلی میں 2,696 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ کے عمل کو آسانی سے انجام دیا جاسکے۔ انتخابات کے کامیاب انعقاد کے لیے مجموعی طور پر 97,955 اہلکار اور 8,715 رضاکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولنگ کے دن سنٹرل ریزرو پولیس فورس کی 220 کمپنیاں، 19,000 ہوم گارڈ جوان اور 35,626 دہلی پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ پولنگ منصفانہ اور پرامن ماحول میں ہوسکے۔

اسپیشل پولیس کمشنر دیوش چندر سریواستو نے انتخابات سے متعلق تمام سیکورٹی اور دیگر انتظامات کے بارے میں تفصیلی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں انڈین سول ڈیفنس کوڈ کے تحت 340 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ 278 افراد کو عوامی مقامات پر شراب پینے پر ایکسائز ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ دہلی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں 12 لاکھ 58 ہزار روپے کی نقدی ضبط کی گئی اور سات افراد کو غیر قانونی ہتھیار رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس دوران 27 ایف آئی آر درج کرکے 28 افراد کو حراست میں لیا گیا اور 1834 لیٹر شراب ضبط کی گئی۔ اب تک 1 لاکھ 10 ہزار لیٹر سے زیادہ شراب ضبط کی گئی ہے جس کی تخمینہ قیمت 3.75 کروڑ روپے ہے۔

واضح رہے کہ مسز مرمو پہلے اڈیشہ کے میور بھنج کی ووٹر تھیں۔ انہوں نے جمہوری طریقہ کار کے مطابق خطاب کی تبدیلی کے لیے درخواست دی تھی۔ محترمہ مرمو دہلی اسمبلی انتخابات میں نئی ​​دہلی ضلع سے اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے اہل ہیں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...