وقف ترمیمی بل خلاف آئین، تباہی کا بل ہے، مولانا کلب جواد نقوی
لکھنؤ: مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے مرکزی حکومت کے ذریعہ پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے وقف ترمیمی بل کی مذمت کی ہے۔ نیز اسے وقف ترمیمی بل نہیں بلکہ وقف خاتمہ بل قرار دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس بل کے 14 سیکشن مکمل طور پر وقف مخالف ہیں اور حکومت اس کا استعمال وقف املاک پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت وقف پر قبضہ کرنے کی سازش کر رہی ہے جسے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا۔
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اربوں ڈالر کے نئے دفاعی سودوں اور انڈیا کو امریکی پیٹرول، گیس اور امریکی جوہری ری ایکٹروں کی فروخت کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
سوشل میڈیا کمپنی میٹا کی زیرِ ملکیت مقبول میسیجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ کے مطابق دو درجن ممالک میں تقریباً 90 صارفین کو مبینہ طور پر اسپائی ویئر کا استعمال کرتے ہوئے ہیکرز نے نشانہ بنایا۔
مولانا کلب جواد نقوی نے جمعہ کی نماز کے بعد آصفی مسجد میں نامہ نگاروں سے کہا کہ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) نے راجیہ سبھا میں بل کو جس انداز میں پیش کیا وہ غیر آئینی اور غیر جمہوری تھا۔ انہوں نے کمیٹی کے چیئرمین جگدمبیکا پال پر الزام لگایا کہ وہ متاثرہ فریقوں کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر متعلقہ افراد کی رائے کو اہمیت دے رہے ہیں۔
مولانا نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت شفافیت چاہتی ہے تو صرف مسلمانوں سے ہی وقف املاک کے دستاویزات کیوں مانگے جارہے ہیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہندوستان میں صرف مسلمانوں کا وقف ہے؟ مندروں کو اس عمل میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری زمین پر ہزاروں مندر بنے ہوئے ہیں، کئی مندر وقف املاک پر بھی بنائے گئے ہیں، تو کیا حکومت ان سے بھی دستاویزات مانگے گی؟
مولانا نے کہا کہ کئی سرکاری عمارتیں وقف اراضی پر بنی ہوئی ہیں، جن کے دستاویزات بھی دستیاب ہیں، تو وہ عمارتیں مسلمانوں کو کب واپس کی جائیں گی؟ سوال اٹھایا گیا کہ اگر حکومت واقعی ملک اور عوام کی بھلائی چاہتی ہے تو صرف مسلمانوں کی وقف املاک پر قبضہ کرنے سے ملک کیسے ترقی کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ دیگر مذاہب کے وقف بھی اربوں روپے کی جائیداد کے مالک ہیں لیکن انہیں اس بل کے دائرے میں کیوں نہیں لایا جا رہا؟ مندروں میں موجود سونے اور چاندی کی بے تحاشہ مقدار کو بھی ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
مولانا نے کہا کہ وہ اس بل کو ہر گز قبول نہیں کریں گے اور جلد ہی اس کے خلاف ایک منظم تحریک شروع کی جائے گی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بل کو روکنے کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہو کر ووٹ دینا ہوگا۔ انہوں نے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو سے اس بل کی مخالفت کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بہار اور آندھرا پردیش کی حکومتیں اس بل کی مخالفت کرتی ہیں تو اسے پارلیمنٹ میں پاس ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
مولانا نے کہا کہ اب اپوزیشن صرف واک آؤٹ کرنے سے باز نہیں آئے گی۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ووٹنگ میں جوش و خروش سے حصہ لیں اور بل کو روکیں۔ اس کے ساتھ مولانا کلب جواد نے اتر پردیش کے اقلیتی وزیر کے اس بیان کی بھی مذمت کی، جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ وقف ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو قبروں کی زمین 5-5 لاکھ روپے میں بیچ رہے ہیں۔
اس الزام کو سفید جھوٹ قرار دیتے ہوئے مولانا نے چیلنج کیا کہ اگر وزیر الزام ثابت نہ کر سکے تو انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو میں اپنے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کو تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ صرف عہدے اور ذاتی مفاد کے لیے اس بل کی حمایت کر رہے ہیں اور وہ برادری کے غدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متروکہ وقف املاک امام زمانہ عج کی ملکیت ہیں اور ان پر قبضے کی سازش کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے، امریکی تیل کی خریداری اور جوابی ٹیرف کا خطرہ: انڈيا نے امریکہ میں کیا کھویا اور کیا پایا؟
اس منصوبے کے مطابق امریکہ انڈیا سے ہونے والے تجارتی خسارے کو بھی ختم کرے گا اور دونوں ملکوں نے باہمی تجارت کو آئندہ پانچ برس میں 500 ارب ڈالر تک پہنچانے کا اعلان بھی کیا۔
یہ بات اہم ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدرات کے ایک مہینے کے اندر ہی نریندر مودی کو امریکہ آنے کی دعوت دی اور ان سے مذاکرات کیے۔
ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت میں مودی ان سے ملاقات کرنے والے چوتھے سربراہ حکومت ہیں۔ مودی کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا، جب صدر ٹرمپ نے انڈیا سمیت کئی ملکوں کے خلاف جوابی محصولات لگانے کا اعلان کیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ مشترکہ کانفرنس میں بھی کہا کہ ’انڈیا نے امریکی مصنوعات پر بہت ڈیوٹی لگا رکھی ہے، جس کے سبب انڈیا میں کاروبار کرنا بہت مشکل ہے۔ اگر یہ ڈیوٹی کم کر کے امریکہ کے برابر نہیں لائی گئی تو جوابی ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔‘
صدر ٹرمپ سے ملاقات اور مذاکرات کے بعد وزیر اعظم مودی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا ’وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات بہت شاندار رہی۔ ہماری بات چیت سے انڈیا امریکہ دوستی کو نیا دور شروع ہو گا۔‘
واشنگٹن میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ انڈیا باہمی تجارت میں ہونے والے خسارے میں امریکی مصنوعات کی خریداری سے توازن لائے گا۔
مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ امریکہ انڈیا کو خام تیل اور گیس سپلائی کرنے والا بڑا ملک بننا چاہتا ہے۔
یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ممالک دفاعی تعاون کو اور مؤثر بنانے کے لیے دفاعی اشتراک کے فریم ورک کو نئی شکل دے کر اسے مزید دس برس کے لیے آگے بڑھائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور انڈیا اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں جس میں جدید ترین سٹیلتھ جنگی جہاز ایف 35 کی سپلائی بھی شامل ہو گی۔
’ایف 35 کی خریداری ابھی شروع نہیں ہوئی، ابھی اسے صرف پیشکش یا تجویز کہہ سکتے ہیں‘
دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی نے ٹرمپ مودی ملاقات کے بعد دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بہت عرصے سے انڈیا کو اپنے دفاعی سامان فروخت کرنے کی کوشش کر ریا تھا، جس میں جنگی طیارے، ٹرانسپورٹ طیارے اور سرویلنس جہاز شامل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ انڈین فضائیہ نے سنہ 2019 سے 114 جنگی طیاروں کا ٹینڈر جاری کر رکھا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کنٹریکٹ کے مطابق 16 طیارے مکمل تیار حالت میں آنے ہیں اور باقی 98 طیارے انڈیا میں لائسنس کے تحت بننے اور اسمبل کیے جانے ہیں۔
’ابھی یہ واضح نہیں کہ جس دفاعی معاہدے کی بات ہوئی یہ وہی پرانا کنٹریکٹ ہے یا وزیر اعطم مودی نے کسی نئے معاہدے کی بات کی۔‘
راہل بیدی نے مزید بتایا کہ ’ایف 35 انتہائی جدید نوعیت کا جنگی طیارہ ہے اور ابھی تک اس کے بارے میں بات چیت نہیں ہوئی تھی۔
’114 جنگی طیارے لینے کا جو منصوبہ تھا اس کی مالیت 25 سے 30 ارب ڈالر کی تھی۔ ایف 35 بہت مہنگا جنگی طیارہ ہے۔ اگر یہ بھی معاہدے میں شامل کیا گیا تو اس کی مالیت اس سے تجاوز کر جائے گی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’جنگی طیاروں کے علاوہ ملٹری ٹرانسپورٹ طیارہ سی 130 جے اور بحریہ کے لیے سرویلینس طیارہ پی 8 آئی خریدنے کی بات چیت بھی چل رہی ہے۔ اس کے علاوہ انفینٹری کمبیٹ ویکل ’سٹرائیکر‘ کی خریداری کی بھی بات چیت چل رہی ہے۔‘
راہل کا کہنا ہے کہ انڈیا کے پاس سات طرح کے جنگی طیارے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے لیے الگ الگ سروس سینٹر اور مرمت کے کارخانے وغیرہ کا انتطام کرنا پڑتا ہے۔
’کچھ عرصے پہلے تک فضائیہ کے اعلی افسران امریکی جنگی طیارے خریدنے کے حق میں نہیں تھے۔ انڈیا کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے ٹرمپ مودی ملاقات کے بعد ایک نیوز بریفنگ میں ایف 35 کی خریداری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنگی طیارے خریدنے کا ایک طویل عمل ہوتا ہے۔‘
راہل بیدی کے خیال میں انڈیا کے ذریعے اس جدید طیارے کی خریداری کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا اور اس لیے اس مرحلے میں ہم اسے صرف ایک پیشکش اور تجویز کہہ سکتے ہیں۔
’انڈیا دباؤ میں آ گیا اور یہ دورہ امریکہ کے حق میں رہا‘
انڈیا میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سرکاری سطح پر اسے ایک بہت کار آمد اور مفید دورہ قرار دیا گیا تاہم بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار نیانیما باسو کہتی ہیں کہ یہ دورہ انڈیا سے زیادہ امریکہ کے حق میں رہا۔
’امریکہ نے دفاعی ساز وسامان کی فروخت کے معاملے پر بہت زیادہ توجہ دی۔ انڈیا میں جنگی جہازوں کی خریداری کا عمل بہت لمبا ہوتا ہے۔ انڈین فضائیہ کی ایسی بہت سی تجاویز پہلے سے برسوں سے پھنسی ہوئی ہیں۔ ان حالات میں امریکہ کا یہ کہنا کہ وہ ایف 35 دینے والے ہیں۔ میرے خیال میں انڈیا دباؤ میں آ گیا۔ ہم نے وزیر اعظم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ دفاع کو سینٹر پوائنٹ پر رکھنا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک ڈیفینس کوآپریشن فریم ورک کو دس سال کے لیے بڑھا رہے ہیں۔ اس کے تحت بہت ساری دفاعی فروخت ہونے والی ہے۔‘
نیانیما کہتی ہیں کہ جہاں تک امریکہ سے تیل اور گیس خریدنے کی بات ہے تو امریکہ چاہتا ہے کہ انڈیا روس سے تیل خریدنا بند کر دے۔
انھوں نے کہا کہ ’روس اس وقت انڈیا کو تیل سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس لیے روس سے خریداری فوراً بند کرنا ممکن نہیں ہو گا لیکن مشترکہ اعلامیے میں واضح طور پر یہ کہا گیا کہ امریکہ انڈیا کو تیل سپلائی کرنے والا بڑا سپلائر بننا چاہتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ کا تیل روس اور کئی دوسرے ملکوں سے مہنگا ہے۔‘
نیانیما کہتی ہیں کہ یہ بات بھی اہم ہے کہ ٹرمپ سکیورٹی کے سوال پر چین کو چیلنج نہیں کرنا چاہتے کیونکہ بین اقوامی امور میں چین کا اہم کردار ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’چین کے صدر شی جن پنگ ایک سمبھدار رہنما ہیں۔ چین کے ساتھ انڈیا کا سرحدی تنازعہ ابھی حل نہیں ہوا۔ انڈیا کو چین کو بھی پارٹنر بنا کر چلنا ہے اور اس سے کاروبار بھی دوبارہ شروع ہو چکا۔‘
’دیکھنا ہو گا انڈیا کس طرح تعلقات میں توازن پیدا کرتا ہے‘
تجزیہ کار نیانیما کہتی ہیں کہ امریکہ اور انڈیا سٹریٹیجک پارٹنرز ہیں اس لیے یہ توقع تو تھی ہی کہ دونوں ممالک کے درمیان بہت سے شعبوں میں معاہدے اور معاہدے ہوں گے تاہم ان کے خیال میں انڈین حکومت مودی کے اس دورے کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرے گی لیکن آئندہ چار برس انڈیا اور امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے بہت دلچسپ ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کے لیے آئندہ چار پانچ برس تک خارجہ پالیسی میں یہ چیلنج رہے گا کہ ایک طرف وہ چین اور روس کے ساتھ کس طرح نبھاتا ہے اور دوسری جانب وہ امریکہ کے ساتھ کیسے ڈیل کرتا ہے۔ یہ آئندہ برسوں میں انڈیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج رہے گا۔‘
نیانیما کہتی ہیں کہ آئندہ چند ماہ میں کواڈ سربراہی اجلاس ہونے والا ہے جس کے لیے صدر ٹرمپ انڈیا آئیں گے اور وہ اجلاس چین سے تعلقات میں تلخی کا ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ایک طرف چین اور روس ہیں اور دوسری جانب امریکہ اور اب اس میں اسرائیل کا پہلو شامل ہو گیا ہے۔ انڈیا ان کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ انڈیا کس طرح ان سے تعلقات میں توازن پیدا کر پاتا ہے۔‘
’یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وزیر اعطم نریندر مودی نے غیر قانونی تارکین وطن کے سوال پر صدر ٹرمپ کی مکمل حمایت کی اور کہا کہ ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر آنے والے تارکین وطن کو ان کے ملک واپس بھیج دے۔‘
یاد رہے کہ امریکہ سے 104 غیرقانونی انڈین تارکین وطن کو لے کر ایک امریکی فوجی طیارہ فروری کے پہلے ہفتے میں انڈیا پہنچا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار میں امریکہ میں مقیم انڈین افراد کی یہ پہلی ملک بدری ہے۔
واٹس ایپ صارفین خبردار: کسی لنک پر کلک کیے بغیر بھی فون ہیک ہو سکتا ہے
ان صارفین میں صحافی اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی شامل ہیں جنہیں ہیکنگ کیلیے سافٹ ویئر تیار کرنے والی اسرائیلی کمپنی ’پیراگون سلوشنر‘ کی زیرِ ملکیت ہیکنگ ٹول سے نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے اپنی پسند کی ایپ تیار کریں، وہ بھی منٹوں میں۔۔۔
واٹس ایپ نے تصدیق کی کہ متاثرہ صارفین کی ڈیوائسز میں مداخلت کی گئی۔ حکام نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ تقریباً 90 صارفین کو ہیک کرنے کی کوشش کا پتا چلا۔
زیرو کلک ہیک کیا ہے؟
پیراگون کا اسپائی ویئر ’زیرو کلک ہیک‘ کا استعمال کرتا ہے، یعنی صارفین کو ہیک کرنے کیلیے کسی نقصان دہ لنک پر کلک کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ماہرین کہتے ہیں زیرو کلک ہیک ہیکرز کو بغیر کسی رکاوٹ کے ہدف کی ڈیوائس تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہیکنگ کی یہ شکل اسپائی ویئر کے بڑھتے ہوئے خطرات کو نمایاں کرتی ہے کہ کس طرح صارفین کو بغیر کسی کارروائی کے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
روئٹرز کے مطابق واٹس ایپ حکام نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ خاص طور پر کس کو نشانہ بنایا گیا لیکن کہا کہ نشانہ بننے والے دو درجن سے زیادہ ممالک میں مقیم ہیں۔