لیموں والا پانی پینے سے جسم کو ملنے والے 10 فوائد کون سے ہیں؟
لیموں والا پانی پینے سے جہاں ہم ترو تازہ محسوس کرتے ہیں وہیں ہماری صحت کو اس سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
لیموں والا پانی گرم، ٹھنڈا یا رُوم ٹیمپریچر پر پیا جا سکتا ہے جو کے وٹامن سی، اینٹی آکسیڈٹنس، پوٹاشیئم اور میگنیشیئم جیسے منرل سے بھرپور ہوتا ہے۔
این ڈی ٹی وی نے لیموں پانی سے ہمارے جسم کو ملنے والے فوائد کی تفصیل بتائی ہے جو کے مندرجہ ذیل ہیں۔
پانی کی کمی پوری ہوتی ہے
لیموں والا پانی پینے والے افراد سادہ پانی اور دیگر مشروبات بھی خوب پیتے ہیں جس سے جسم میں پانی کی کمی نہیں ہوتی۔ جسم میں پانی کی پوری مقدار ہونے سے درجہ حرارت بہتر رہتا ہے، جوڑوں میں لچک پیدا ہوتی ہے اور خلیے اچھی طرح کام کرتے ہیں۔
وٹامن سی سے بھرپور
لیموں والا پانی وٹامن سی کا شاندار ذریعہ ہے جس سے قوت مدافعت بہتر ہوتی ہے۔ باقاعدگی سے لیموں والا پانی پینے سے انفیکشن نہیں ہوتے، زخم جلدی بھرتے ہیں اور جلد بہتر ہوتی ہے۔
ہاضمہ بہتر ہوتا ہے
لیموں والا پانی پینے سے ہاضمے والے انزائم اچھی طرح کام کرتے ہیں جس سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔ اس سے گیس، بدہضمی اور قبض کے مسائل دور ہو جاتے ہیں۔
وزن کم ہوتا ہے
لیموں والے پانی میں کیلوریز کم ہوتی ہیں جس سے وزن کم ہوتا ہے۔ لیموں میں موجود پیکٹن فائبر سے بھوک نہیں لگتی جس سے غیر ضروری کھانا کھانے سے چھٹکارا ملتا ہے۔
جلد بہتر ہوتی ہے
لیموں والے پانی میں اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو وقت سے پہلے بڑھاپے اور جلد کے خراب ہونے سے بچاؤ دیتے ہیں۔ اس سے کولیجن پیدا ہوتا ہے جس جلد نرم اور خوبصورت ہوتی ہے۔
زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں
لیموں والے پانی سے جگر جسم سے زہریلے اور غیر ضروری مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس عمل سے جسم میں توانائی کے لیول بڑھتے ہیں اور صحت بہتر ہوتی ہے۔
پی ایچ لیول کا توازن برقرار رہتا ہے
لیموں میں جہاں ایسڈ پایا جاتا ہے وہیں الکلی کے اثر کی وجہ سے جسم میں پی ایچ لیول کا توازن برقرار رہتا ہے۔ پی ایچ لیول کے توازن سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے، سوزش ختم ہوتی ہے اور صحت مجموعی طور پر بہتر ہوتی ہے۔
میٹابولزم بڑھتا ہے
دن بھر لیموں والا پانی پینے سے میٹابولزم بڑھتا ہے۔ اس سے جسم میں موجود کیلوریز بہتر انداز سے جلتی ہیں جس سے وزن کم ہوتا ہے۔
دل کی صحت بہتر ہوتی ہے
لیموں میں پوٹاشیئم پایا جاتا ہے جس سے بلڈ پریشر برقرار رہتا ہے اور دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔ اس میں موجود وٹامن سی سے آکسیڈیٹیو سٹریس کم ہوتا ہے جس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ پیدا نہیں ہوتا۔
گردے کی پتھری نہیں ہوتی
لیموں میں سِٹریٹ جیسا قدرتی کمپاؤنڈ پایا جاتا ہے جو کے گردوں میں کیلشیئم کی پیداوار کو کم کرتا ہے جس سے گردے کی پتھری نہیں ہوتی۔ باقاعدگی سے لیموں پانی پینے سے گردے کی تکلیف دہ پتھری پیدا نہیں ہوتی۔
آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریں، ڈال کر بانہوں میں باہیں پیار کی باتیں کریں
حیدرآباد (نیوز ڈیسک): بہار کے سمستی پور سے تعلق رکھنے والے کہنہ مشق شاعر قیصر صدیقی کی متعدد غزلیں مشہور ہوئیں لیکن ان کی یہ غزل 'آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریں' عوام کے دل و دماغ ایسی نقش ہوئی کہ آج تک بھلائی نہ جا سکی۔ ویسے تو قیصر صدیقی نے شعر و سخن کی مختلف اصناف میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا لیکن وہ اپنی غزلوں کے لیے زیادہ مشہور ہوئے۔ طویل عمر پانے والے قیصر صدیقی تقریباً سات دہائیوں تک محفلوں کی رونق بنے رہے۔ چار ستمبر 2018ء کو انہوں نے اس دنیائے فانی کو الوداع کہا۔
آؤ ہم تم عشق کے اظہار کی باتیں کریں
ڈال کر بانہوں میں باہیں پیار کی باتیں کریں
پھول کی باتیں کریں گلزار کی باتیں کریں
پیار کی باتیں کریں بس پیار کی باتیں کریں
بات ہم دونوں کو یہ تو سوچنی ہی چاہیے
پیار کے موسم میں کیوں تکرار کی باتیں کریں
اس سے اچھی بات کوئی اور ہو سکتی نہیں
یار کا افسانہ چھیڑیں یار کی باتیں کریں
کاش بچپن لوٹ آئے اور ہم سب بیٹھ کر
کچی مٹی کے در و دیوار کی باتیں کریں
شکریہ بازاریت کی روشنی کا شکریہ
گاؤں کی پگڈنڈیاں بازار کی باتیں کریں
کعبہ و کاشی کے قصے ہو چکے اب بس کرو
آؤ قیصرؔ نقش پائے یار کی باتیں کریں
اسکولوں میں بچوں کو ’’اسٹرابیری کوئیک‘‘ نشہ دیا جارہا ہے؟ حقیقت کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر گلابی گولیوں کے ساتھ ایک چھوٹے پیکٹ کی تصویر اس پیغام کے ساتھ گردش کررہی ہے کہ ’’اپنے بچوں کو اسٹرابیری کوئیک نامی کینڈی سے بچائیں‘‘۔
کچھ عرصے سے وائرل ہونے والی اس پوسٹ پر اب باقاعدہ سرکاری سطح پر بھی والدین کو خبردار کیا جارہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے اسٹرابیری کوئیک نامی کینڈی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری افسران کا کہنا ہے کہ ’’اسٹرابیری کوئیک‘‘ میٹھے زہر کا نیا روپ ہے۔ ’’اسٹرابیری کوئیک‘‘ جان لیوا زہر ہے۔ کرسٹل میتھ کو کینڈی بناکر بچوں میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو کسی بھی مشکوک کینڈی لینے سے روکیں۔
کچھ اسی طرح کے پیغام اس وائرل پوسٹ کے ساتھ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم بشمول فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ گروپ میں بھی چلائے جارہے ہیں جس کے بعد شہریوں میں تشویش پیدا ہورہی ہے۔
ایکسپریس نیوز کی فیکٹ چیک ٹیم نے اسٹرابیری کوئیک میتھ کی ان وائرل پوسٹوں اور والدین کی تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بارے میں تحقیقات کرتے ہوئے ان نشہ آور گولیوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
فیکٹ چیک کے دوران علم ہوا کہ ’’اسٹرابیری کوئیک میتھ‘‘ سے متعلقہ یہ دعویٰ 2007 سے چلتا ہوا ایک مستقل ’’دھوکا‘‘ ہے، جس کی معتبر ذرائع کی جانب سے کوئی دلیل نہیں ملی۔ ایکسپریس نیوز نے یہ دعویٰ غلط پایا ہے۔
ہمارے حقائق کی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں میں ’’اسٹرابیری کوئیک‘‘ کی تقسیم کی خبر ایک دھوکا ہے، جو سب سے پہلے عالمی طور پر 2007 میں بھیجی گئی ای میلز کے ذریعے وائرل ہوا تھا۔ اور امریکی حکام نے اسے مسترد کردیا تھا۔ اس دھوکا دہی کے حالیہ احیاء کے بعد، ہندوستان میں اروناچل پردیش پولیس کے ساتھ ساتھ نائجیریا کے حکام نے بھی اسے ایک بار پھر غیر مصدقہ افواہ کے طور پر مسترد کردیا ہے۔
وائرل پوسٹ
واضح رہے کہ چھوٹے گلابی ٹیڈی بیئرز کی تصویر ایک جھوٹے کیپشن کے ساتھ وائرل ہوئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے، ’’اسکول میں نئی دوا: والدین کو اس کے بارے میں جاننا چاہیے! یہ ایک نئی دوا ہے جسے ’’اسٹرابیری کوئیک‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘‘
عالمی طور پر مختلف ممالک کے حکام نے اس دعوے کو دھوکا قرار دیا ہے۔ ہم نے انٹرنیٹ پر مطلوبہ الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے اس پیغام کو چیک کیا اور ہمیں دنیا بھر کے میڈیا کے حوالے سے ایسی حالیہ رپورٹس ملیں جس میں اسے دھوکا دہی کے طور پر مسترد کیا گیا تھا۔
جمہوریہ افریقہ کی طرف سے لکھے گئے حقائق کی جانچ پڑتال میں نیشنل ڈرگ لاء انفورسمنٹ ایجنسی کے ترجمان جونا اچیما کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’’ہمارے پاس اسٹرابیری کرسٹل میتھ یا ’’اسٹرابیری کوئیک‘‘ کی کسی قسم کی کینڈی کے طور پر بچوں کو دیے جانے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔‘‘
مزید برآں، حال ہی میں دی پرنٹ کے ذریعے شائع ہونے والی ایک سنڈیکیٹڈ رپورٹ نے اروناچل پردیش پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک ایڈوائزری کا حوالہ دیا، جس میں اسکول کے بچوں کو ’’نشہ آور دوا اسٹرابیری میتھ‘‘ یا ’’اسٹرابیری کوئیک‘‘ تقسیم کیے جانے کے وائرل دعووں کو رد کیا گیا۔
جمہوریہ افریقہ کی فیکٹ چیک اور سنگھ کی ایڈوائزری دونوں ہی ’’اسٹرابیری کوئیک‘‘ کو ایک دھوکا اور افواہ قرار دیتے ہیں جو 2007 میں ریاست ہائے متحدہ میں شروع ہوئی تھی، اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ اس سے پہلے امریکی حکام نے اسے رد کردیا ہے۔ یہ دھوکا 2007 میں پہلی بار ’’اسٹرابیری کوئیک‘‘ کے نام سے شروع ہوا تھا، جسے اس دور میں ای میلز کے ذریعے پھیلایا گیا تھا۔
اس وقت بھی اسی طرح کا دعویٰ کیا گیا تھا کہ میتھمفیٹامائن کو بچوں کےلیے مزید دلکش بنانے کے لیے اسے ذائقہ دار اور رنگین بنایا گیا ہے۔ یہ دھوکا ابتدائی طور پر فارورڈ کی گئی ای میلز میں ظاہر ہوا، اور آخرکار یہ امریکا میں میڈیا رپورٹس تک پہنچا۔ نوئیدا ڈپارٹمنٹ آف پبلک سیفٹی کی جانب سے نوجوانوں کو متوجہ کرنے کےلیے استعمال کیے جانے والے ذائقہ دار میتھ کے بارے میں آگاہی پھیلانے کےلیے ایک بلیٹن جاری کرنے کے بعد اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔
اس کے بعد، امریکا میں قائم فیکٹ چیکنگ آؤٹ لیٹ Snopes نے DEA اور وائٹ ہاؤس آفس آف نیشنل ڈرگ کنٹرول پالیسی کے جوابات کو اکٹھا کرکے وائرل ہونے والے اس دھوکے کو ختم کردیا گیا، جس میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ ’’اسٹرابیری کوئیک‘‘ کی رپورٹس غیر مصدقہ تھیں۔
Snopes نے DEA کے ترجمان مائیکل سینڈرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’’ہم نے اپنی تمام لیبز سے جانچ پڑتال کی، اور اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ کوئی رجحان یا حقیقی مسئلہ نہیں ہے۔
مطلوبہ الفاظ اور ریورس امیج سرچ کی تلاش کے ایک سلسلے کے بعد، ہم ایک بھی ایسی متعلقہ رپورٹ تلاش کرنے سے قاصر رہے جو اس دعوے کی تصدیق کرسکے کہ اس طرح کی منشیات اسکول کے بچوں کو نشانہ بنانے کےلیے کینڈی کے طور پر تقسیم کی جارہی ہو۔