Sunday, 9 February 2025

*🔴سیف نیوز اردو*





وہ بری عادتیں جو انسانی صحت کو ’بری طرح‘ متاثر کرتی ہیںبری عادات دائمی بیماریوں، ذہنی تناؤ اور کمزور مدافعتی نظام پیدا کر کے ہماری صحت کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہیں۔
یہ عادات سوزش، آکسیڈیٹیو تناؤ اور ہارمونل عدم توازن کو بڑھاتی ہیں جس سے جسم بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ ان عادات کو پہچاننا اور ان کو صحت طرز زندگی سے تبدیل کرنا جسمانی اور ذہنی تندرستی کو بہتر بنا سکتا ہے۔
کھانا چھوڑ دینا یا رات کو دیر سے کھانا
کھانا چھوڑنا یا کھانے میں تاخیر کرنا بلڈ شوگر کی سطح کو خراب کر سکتا ہے، میٹابولزم کو سست کر سکتا ہے اور جنک فوڈ کھانے کی خواہش کو بڑھا سکتا ہے۔ کھانے کے بے قاعدگی بھی ہاضمے میں خلل ڈالتی ہے اور ایسڈ ریفلکس اور گیسٹرک مسائل کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
ضرورت سے زیادہ سکرین ٹائم
سکرین پر بہت زیادہ وقت گزارنا آنکھوں پر دباؤ اور خراب نیند کا باعث بن سکتا ہے۔ سکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی آپ کے میلاٹونن کی پیداوار میں مداخلت کر سکتی ہے جس کی وجہ سے آپ کے لیے سونا مشکل ہو جاتا ہے۔
اچھی طرح سے نہ سونا
اچھی نیند نا ہونا کم نیند دونوں ہی مدافعتی نظام کو کمزور کرنے، آپ کے تناؤ کے ہارمونز کو بڑھانے اور موٹاپے، دل کی بیماری اور دماغی صحت کے مسائل کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ سونے کے وقت کا مستقل شیڈول رکھنا نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
منفی سوچ
منفی سوچ جیسے خود تنقیدی تناؤ کی سطح کو بڑھا سکتی ہے اور پریشانی اور افسردگی کا باعث بن سکتی ہے۔ جسم کورٹیسول خارج کرکے منفی خیالات کا جواب دیتا ہے جو مزید سوزش اور دائمی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ مثبت سوچ مشق کریں اور اگر ضرورت ہو تو معالج سے رابطہ کریں۔
ہائیڈریشن کی کمی
مناسب مقدار میں پانی نہ پینا پانی کی کمی کا باعث بنتا ہے جو پھر سر درد، تھکاوٹ اور خراب ہاضمے کا باعث بنتا ہے۔ پانی کی کمی آپ کے گردوں کے کام اور جلد کی صحت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ آپ کو روزانہ کم از کم 8 گلاس پانی پینے اور ہائیڈریٹنگ فوڈز استعمال کرنے چاہییں۔
تمباکو نوشی اور شراب نوشی
تمباکو نوشی اور الکحل کا زیادہ استعمال آپ کے اہم اعضا کو نقصان پہنچا سکتا ہے، آپ کے مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتا ہے اور کینسر، جگر کی بیماری اور دل کے مسائل کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ نکوٹین اور الکحل تناؤ اور اضطراب کو بڑھا کر آپ کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔
جنک فوڈ
پروسیسڈ فوڈز، شوگر ڈرنکس اور فاسٹ فوڈ کا زیادہ مقدار میں استعمال سوزش کو بڑھاتا ہے اور بلڈ شوگر کی سطح کو بڑھاتا ہے۔ یہ موٹاپا، ذیابیطس اور دل کی بیماری میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان غذاؤں میں ضروری غذائی اجزا کی شدید کمی ہوتی ہے اور یہ صحت کے دیگر مسائل کا باعث بنتے ہیں۔
ورزش کو نظر انداز کرنا
روزانہ ورزش اچھی صحت کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے۔ غیر متحرک طرز زندگی پٹھوں کو کمزور کرتا ہے، میٹابولزم کو سست کرتا ہے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ ورزش کی کمی وزن میں اضافے اور دماغی صحت کی خرابی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
یہ عادات پہلے تو بے ضرر لگتی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کر سکتی ہیں۔ ان عادات کو ذہن میں رکھنا اور صحت مند متبادل کا انتخاب کرنے کی شعوری کوشش کرنا آپ کی صحت کو ٹریک پر رکھنے میں مدد کرے گا۔



کوبرا سانپ کھانے کے شوقین، دانت صاف نہ کرنے کی عادت اور عوام سے خوفزدہ رہنے والے آمروں کی عجیب و غریب داستانیںآمروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ہی لوگوں سے خوف کا شکار رہتے ہیں ہیں۔ ایک اور بات جو ان کے بارے میں درست ہے وہ یہ ہے کہ ہر آمر کی ایک ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے، یعنی ایک وقت کے بعد اس کا زوال یقینی ہوتا ہے۔

دنیا میں چین کے ماؤ، پاکستان کے ضیاء الحق، عراق کے صدام حسین، لیبیا کے کرنل قذافی، یوگنڈا کے ایدی امین جیسے کئی آمر گزرے ہیں۔

حال ہی میں کئی ممالک میں انڈیا کے سفیر رہنے والے راجیو ڈوگرا کی ایک کتاب ’آٹوکریٹس: کرزما، پاور اینڈ دئیر لائیوز‘ منظر عام پر آئی ہے۔

اس کتاب میں انھوں نے دنیا کے آمروں کی ذہنیت، کام کرنے کے انداز اور زندگی کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔

ڈوگرہ کا کہنا ہے کہ جب وہ رومانیہ میں انڈیا کے سفیر کے طور پر تعینات ہوئے تو انھوں نے محسوس کیا کہ نکولائی سیوسکو کی موت کے ایک دہائی بعد بھی لوگ ان کے سائے سے خوفزدہ تھے۔

راجیو ڈوگرہ لکھتے ہیں کہ نکولائی کی موت کے باوجود بھی ’لوگ پیچھے مڑ کر دیکھتے کہ کہیں کوئی اُن کا پیچھا تو نہیں کر رہا۔‘

’پارک میں گھومتے ہوئے لوگ ہمیشہ اس بات پر نظر رکھتے کہ کہیں کوئی بینچ پر بیٹھا فرد چہرے کے سامنے اخبار رکھ کر اُن کی سرگرمیوں پر نظر تو نہیں رکھ رہا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی اخبار پڑھ رہا ہو تو وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کہیں وہ اخبار میں ایک چھوٹا سا سوراخ کر کے اُنھیں چُھپ کر دیکھ تو نہیں رہا۔‘
ڈکٹیٹر مخالفت برداشت نہیں کرتے
ڈوگرہ لکھتے ہیں کہ رومانیہ کے مشہور فلم اور تھیٹر اداکار آئن کرامیترو نے آمریت کے دور کو کچھ یوں بیان کیا تھا کہ ’ہم پر ہر وقت نظر رکھی جاتی تھی۔ ہمارے ہر عمل کو حکومت کنٹرول کرتی تھی۔‘

’انتظامیہ فیصلہ کرتی تھی کہ ہمیں کس سے ملنا چاہیے اور کس سے نہیں، ہمیں کس سے اور کتنی دیر تک بات کرنی چاہیے، آپ کو کیا کھانا چاہیے اور کتنا کھانا چاہیے اور یہاں تک کہ آپ کو کیا خریدنا چاہیے اور کیا نہیں۔ انتظامیہ یہ فیصلہ بھی کرتی تھی کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے آپ کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا نہیں۔‘
آمریت کے بیج بچپن سے بوئے جاتے ہیں
کہا جاتا ہے کہ ایک آمر کا بچپن یا ابتدائی زندگی مستقبل میں اس کے ظلم کی ذمہ دار ہوتی ہے۔

لیون آریڈی اور ایڈم جیمز اپنے مضمون ’بینیٹو مسولینی کے بارے میں 13 حقائق‘ میں لکھتے ہیں کہ ’مسولینی بچپن سے ہی تُند مزاج شخصیت کے مالک تھے۔ اُن کے مزاج میں بہتری لانے کے لیے اُن کے والدین نے انھیں ایک سخت کیتھولک بورڈنگ سکول میں داخل کروایا۔ تاہم ایسا کرنے میں سکول انتظامیہ بھی ناکام رہی۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’10 سال کی عمر میں انھیں ایک ساتھی طالب علم پر قلم میں چھپے چاقو سے حملہ کرنے پر نکال دیا گیا تھا۔ جب وہ 20 سال کے تھے تو انھوں نے اپنی ایک گرل فرینڈ سمیت کئی دوسرے لوگوں پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔‘
سٹالن بھی جوانی میں باغی طبعیت کے مالک تھے۔ انھوں نے کئی دکانوں کو آگ لگائی۔

یہاں تک کہ انھوں نے پارٹی کے لیے پیسے بٹورنے کے لیے لوگوں کو اغوا بھی کیا۔ بعد میں انھوں نے اپنا نام سٹالن رکھا، جس کا مطلب ہے ’لوہے کا بنا ہوا‘ ہے۔

لیکن اس کے برعکس شمالی کوریا کے آمر کم جونگ ان کا بچپن شان و شوکت اور عیش و عشرت میں گزرا۔ اردلیوں کی ایک پوری فوج بچپن میں ان کی دیکھ بھال کرتی تھی۔

ان کے پاس یورپ کے کسی کھلونے کی دکان سے بھی زیادہ کھلونے تھے۔ ان کی تفریح ​​کے لیے اُن کے گھر کے باغ میں بندر اور ریچھ پنجروں میں موجود تھے۔

اتنے لاڈ پیار کے باوجود کِم اب بھی دوسرے آمروں کی طرح خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

اقتدار میں رہنے کی چالیں
جب اقتدار کسی آمر کے ہاتھ میں آجاتا ہے تو اس کی پہلی ترجیح اسے ہر قیمت پر محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔

راجیو ڈوگرہ لکھتے ہیں کہ ’اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آمر کے رویے کا اندازہ نہ لگایا جا سکے۔ اقتدار میں رہنے کے لیے انھیں میڈیا پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہوتا ہے۔‘

’وہ ہمہ گیر ہونا چاہتے ہیں اور خدا کی طرح طاقتور، آپ پر نظر رکھنے والے اور اگر کوئی ان کے خلاف کھڑا ہونے کی کوشش بھی کرے تو اسے فوراً دبا دیا جائے۔‘

دنیا کے تقریباً تمام آمر پروپیگنڈے کے ماہر ہوتے ہیں۔

سیو پروڈو نیو سٹیٹس مین کے 20 ستمبر 2019 کے شمارے میں مضمون ’دی گریٹ پرفارمرز: ہاؤ امیج اینڈ تھیٹر گیو ڈیکٹیٹرز دئیر پاور‘ میں لکھا ہے کہ ’مسولینی جانتے تھے کہ اُن کی جہاز اُڑانے کی تربیت لینے کے دوران لی گئی تصویر لوگوں میں بہت مقبول ہوگی، اُن پر لکھے جانے والے اداریوں سے بھی زیادہ۔‘

1925 میں اپنی پہلی ریڈیو نشریات کے بعد انھوں نے سکولوں میں چار ہزار ریڈیو سیٹ مفت تقسیم کیے۔ کل آٹھ لاکھ ریڈیو سیٹ تقسیم کیے گئے اور انھیں سننے کے لیے چوراہوں پر لاؤڈ سپیکر تک لگوائے گئے۔

سیو پروڈو لکھتے ہیں کہ ’ان کی تصویر صابن پر بھی تھی تاکہ لوگ اسے اپنے باتھ روم میں بھی دیکھ سکیں۔ ان کے دفتر کی لائٹس رات کو بھی روشن رکھی جاتی تھیں تاکہ ملک کو لگے کہ وہ رات گئے تک کام کر رہے ہیں۔‘

کھانے کی عجیب عادتیں
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہٹلر جیسے ڈکٹیٹر صرف سبزیاں ہی کھاتے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ہٹلر کی خوراک صرف سوپ اور آلو تھی۔

کم جونگ اِل کو شارک اور کتے کے گوشت کا سوپ پینے کا شوق تھا۔

ڈیمک باربرا اپنے مضمون ’دی وے تو انڈرسٹینڈ کم جونگ اِل واز تھرو ہز سٹمک‘ میں 14 جولائی 2017 کے روزنامہ ڈیلی بیسٹ کے شمارے میں لکھتی ہیں کہ ’کِم کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اُن کے پاس خواتین کی ایک ٹیم تھی۔‘

’اس ٹیم کا کام یہ ہوا کرتا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کے کھانے میں چاول کا ہر دانہ سائز، شکل اور رنگت میں یکساں یعنی ایک جیسا ہو۔‘

کمبوڈیا کے مشہور آمر پول پوٹ کو کوبرا کا گوشت بہت پسند تھا۔ پول پوٹ کے باورچی نے ڈوگرہ کو بتایا کہ ’پہلے میں نے کوبرا کو مارا، اس کا سر کاٹ کر درخت پر لٹکا دیا تاکہ اس کا زہر نکل جائے۔‘

’پھر میں نے کوبرا کا خون ایک کپ میں اکٹھا کیا اور اسے سفید شراب کے ساتھ پیش کیا۔ پھر میں نے کوبرا کو باریک ٹکڑوں میں کاٹا۔ پھر میں نے اسے لیمن گراس اور ادرک کے ساتھ ایک گھنٹے تک پانی میں ابال کر پول پوٹ کو پیش کیا۔‘

مسولینی کا پسندیدہ کھانا کچے لہسن اور زیتون کے تیل سے بنایا جانے والا سلاد تھا۔ انھیں اس بات کا یقین تھا کہ یہ اُن کے دل کے لیے اچھا ہے۔

ڈوگرہ لکھتے ہیں کہ ’اس کی وجہ سے ان کے منھ میں ہمیشہ لہسن کی بو آتی تھی، اس لیے کھانے کے بعد ان کی بیوی دوسرے کمرے میں چلی جاتی تھیں۔‘

فوڈ ٹیسٹر ہٹلر کا کھانا چکھتا تھا
یوگنڈا کے صدر ایدی امین کے دور میں یہ افواہیں پھیلی تھیں کہ وہ اپنے مخالفین کو مار کر ان کا گوشت کھاتے تھے۔

انیتا شوروچز اپنے مضمون ’ڈکٹیٹرز کی عجیب کھانے کی عادات‘ میں لکھتی ہیں کہ ’جب ایک بار ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ انسانی گوشت کھاتے ہیں، تو انھوں نے جواب دیا مجھے انسانی گوشت پسند نہیں، کیونکہ یہ بہت نمکین ہوتا ہے۔‘

ایدی امین دن میں 40 سنترے کھاتے تھے۔

ہٹلر کے لیے جو کھانا تیار کیا جاتا تھا اسے پہلے ایک فوڈ ٹیسٹر چکھتا تھا۔

مارگٹ وولف، جو ان کے کھانے کے ذائقہ چکھنے والوں میں سے ایک تھیں، نے ’ڈینور پوسٹ‘ کے 27 اپریل 2013 کے شمارے میں لکھا ’ہٹلر کا کھانا مزیدار تھا۔ اُن کے کھانے میں بہترین سبزیاں استعمال کی جاتی تھیں۔‘

’انھیں ہمیشہ پاستا یا چاول کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا، لیکن زہر آلود ہونے کا خوف ہمیشہ رہتا تھا اس لیے ہم کبھی بھی کھانے سے لطف اندوز نہیں ہوسکے۔ ہر دن ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ ہماری زندگی کا آخری دن ہونے والا ہے۔‘
ماؤ نے کبھی دانت صاف نہیں کیے
دنیا بھر کے آمر اپنی عجیب و غریب حرکات اور عادات کی وجہ سے مشہور رہے ہیں۔ چین کے ماؤ زے تنگ نے زندگی بھر دانت برش نہیں کیے۔

ماؤ کے ڈاکٹر زیسوئی لی اپنی کتاب ’پرائیویٹ لائف آف چئیرمین ماؤ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ماؤ دانت صاف کرنے کے بجائے سبز چائے سے غرارے کرتے تھے، زندگی کے آخر تک ان کے تمام دانت سبز ہو چکے تھے اور ان کے مسوڑھے بھی پیپ سے بھر گئے تھے۔‘

ایک بار جب ان کے ڈاکٹر نے انھیں اپنے دانت صاف کرنے کا مشورہ دیا تو اُن کا جواب تھا ’شیر کبھی دانت نہیں برش کرتا، پھر بھی اس کے دانت اتنے تیز کیوں ہیں؟‘

جنرل نی ون نے برما پر 26 سال یعنی 1988 تک حکومت کی۔ جوئے، گالف اور خواتین کے شوقین جنرل ون کو بہت جلد غصہ آجاتا تھا۔

راجیو ڈوگرہ لکھتے ہیں کہ ’ایک بار ایک نجومی نے ان سے کہا تھا کہ 9 کا نمبر ان کے لیے بہت اچھا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے اپنے ملک میں چل رہے تمام 100 کے نوٹ واپس لینے کا حکم دیا اور ان کی جگہ 90 کا نوٹ جاری کر دیا۔‘

’نتیجہ یہ ہوا کہ برما کی معیشت تباہ ہو گئی اور لوگ اپنی زندگی بھر کی بچت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔‘

البانیہ کے ڈکٹیٹر کا ہم شکل
البانیہ کے اینور ہوکشا (Enver Hoxha) 1944 سے 1985 تک اقتدار میں رہے۔

وہ ہر وقت ڈرتے رہتے تھے کہ اُن کے ملک پر حملہ ہونے والا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے انھوں نے ملک بھر میں 75 ہزار بنکر بنوائے۔

انھوں نے بینک نوٹوں پر اپنا چہرہ چھاپنے سے انکار کر دیا۔ انھیں ڈر تھا کہ کہیں نوٹوں پر چھپی اُن کی تصویر پر کوئی جادو نہ کر دے۔

بلیندی فاوزوئی اپنی کتاب ’اینور ہوکشا: دی آرن فرسٹ آف البانیہ‘ میں لکھا کہ ’وہ قتل ہونے سے اتنا خوفزدہ تھے کہ انھوں نے اپنے لیے ایک ہم شکل بھی رکھا ہوا تھا۔ اس کام کے لیے ایک شخص کو ایک دیہات سے اُٹھایا گیا اور متعدد بار اُن کی پلاسٹک سرجری کی گئی اور انھیں اینور جیسا بنایا گیا تھا۔‘

’ان کے ہم شکل کو اُن ہی کی طرح چلنا سکھایا گیا۔ اور پھر اُن کے اُسی ہم شکل نے کئی کارخانوں کا افتتاح کیا اور تقریریں بھی کیں۔‘

ترکمانستان اور ہیٹی کے آمروں کا جنون
اسی طرح ترکمانستان کے ڈکٹیٹر سپرمورات نیازوف نے اپنے غریب ملک کے دارالحکومت میں خود کا 50 فٹ اونچا سونے سے بنا مجسمہ لگوایا۔

انھوں نے ایک کتاب ’روحنامہ‘ بھی لکھی۔ انھوں نے حکم دیا کہ ڈرائیونگ لائسنس صرف اس شخص کو دیا جائے جنھیں اُن کی یہ کتاب پوری طرح یاد ہو۔

انھوں نے عوامی اجتماعات اور ٹیلی ویژن پر موسیقی پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔

ہیٹی کے آمر فرانکوئس ڈوولیئر اتنے توہم پرست تھے کہ انھوں نے اپنے ملک میں تمام کالے کتوں کو مارنے کا حکم دیا۔

ایدی امین اور انور ہوکسا کی بربریت
راجیو ڈوگرہ لکھتے ہیں کہ ’70 کی دہائی میں یوگنڈا کے سفاک رہنما ایدی امین نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کے سر کاٹ کر اپنے فریزر میں رکھتے تھے۔‘

’اپنے آٹھ سالہ دورِ حکومت میں انھوں نے 80 ہزار لوگوں کو قتل کیا۔ ہلاک ہونے والوں میں بینکرز، دانشور، صحافی، کابینہ کے وزرا اور ایک سابق وزیر اعظم شامل تھے۔‘

اسی طرح البانیہ کے ڈکٹیٹر اینور ہوکشا Enver Hoxha نے بھی اپنے مخالفین کو نہیں بخشا۔

بلیندی فوزوئی لکھتے ہیں کہ ’انھوں نے دانشوروں کو اس حد تک قتل کیا کہ ان کی موت کے وقت تک پولٹ بیورو میں کوئی بھی ایسا نہیں بچا تھا جس نے ہائی سکول سے زیادہ تعلیم حاصل کی ہو۔‘

البانیہ میں شہریوں پر حکومتی کنٹرول کی حالت ایسی تھی کہ وہ اپنے بچوں کے نام اپنی مرضی کے مطابق نہیں رکھ سکتے تھے۔

صدام حسین کا فائرنگ سکواڈ
اسی طرح سنہ 1979 میں اقتدار میں آنے کے سات دن بعد عراقی صدر صدام حسین نے 22 جولائی کو سوشلسٹ پارٹی کے رہنماؤں کا اجلاس بلایا تھا۔

ان کی ہدایت پر اس ملاقات کی ویڈیو بنائی گئی۔ وہاں صدام حسین نے اعلان کیا کہ وہاں موجود پارٹی کے 66 رہنما غدار پائے گئے ہیں۔

کون کوگلین اپنی کتاب ’صدام دی سیکریٹ لائف‘ میں لکھتے ہیں کہ ’جیسے ہی لیڈر کا نام پکارا جاتا، گارڈز اس کی سیٹ کے پیچھے سے آتے اور اسے ہال سے باہر لے جاتے۔ آخر میں جو لوگ رہ گئے، وہ گھبرا گئے۔‘

’انھوں نے کھڑے ہو کر صدام حسین سے اپنی وفاداری کا اظہار کیا۔ 22 افراد کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے گولی مار دی گئی۔ اب پورا ملک صدام حسین کا تھا۔ وہ پورے ملک میں اپنا خوف پھیلانے میں کامیاب ہو چُکے تھے۔‘





بارہ وفات اور ہماری عقیدت

اسلام کی تاریخ میںایک بڑا اہم جلسہ ہوا تھا جس میںحضور اقدس ؐ نے عرفات کے میدان میں اُوٹنی پر سوار ہو کرآخری اور مشہور و معروف خطبہ دیا جو تاریخ اسلام میں ’’حجۃ الوداع‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔یہ خطبہ اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔یہیں پر وحی نازل ہوئی اور اللہ تعالی نے فرمایا ’آج ہم نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے مذہب اسلام کا انتخاب کیا‘۔ (سورہ مائدہ ۔۳)
یہ آخری وحی تھی اس کے بعد اللہ تعالی کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا، نہ اب کوئی پیغمبر آئے گا،کیونکہ اسلام اب مکمل ہو چکا ہے اور اسی لیے اسی خطبہ کے دوران حضور اقدسؐ نے ارشاد فرمایا ’’مذہب میں غلو اور مبالغہ سے بچو کیونکہ تم سے پہلے کی قومیں اسی سے برباد ہوئیں‘‘۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ’تمہارے دین کو مکمل کر دیا‘ رسول اقدس ؐ کا ارشاد ہوتا ہے کہ ’مذہب کی کسی بات کو بڑھا چڑھا کر مت بتاؤ ورنہ بربادی لازم ہے‘۔اس کے بعد بھی رسول اقدسؐ نے ارشاد فرمایا ’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑتا ہوں،اگر تم نے ان کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے وہ چیزیں ہیں کتاب اﷲاور میری سنّت‘‘۔اللہ اور رسول کے احکامات کے باوجود نادان مسلمان جان بوجھ کر اپنے کوتباہی کے راستے پر کو گھسیٹ رہا ہے۔
ہم جو کام بھی کریں وہ اللہ و رسولؐ کے احکامات کے دائرے میں ہو،اس دائرے سے باہر نکلے کہ ہم دین سے ہٹ گئے۔ ہمارے لیے جو احکامات ہیں انہی کی پابندی ہی ہماری عبادت ہے۔اگر حکم ہے نماز پڑھنے کا تو نماز پڑھنا عبادت ہے،سفر میں چار رکعت کی جگہ پر صرف دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم ہے تو چار رکعت نماز پڑھنا گناہ ہوگا۔اس سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ اور رسولؐ کے احکاما ت کی پاسداری اور پابندی ہی ہماری شریعت ہے۔
حضور اقدسؐ اسی خطبہ میں ایک جگہ اور ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’اگر کٹی ہوئی ناک کا کوئی حبشی بھی تمہارا امیر ہو اور وہ تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت و فرما ںبرداری کرو‘‘۔
ہم کو اپنے پیچھے لے چلنے والے تو بہت مل جائیں گے اور اس طرح کا لوگ شوق بھی رکھتے ہیں لیکن یہ گارنٹی نہیں ہو سکتی کہ وہ خدا کی کتاب کے مطابق لے چل رہے ہیں یا نہیں۔ایسی صورت میں کتاب کی شد بُد مجھے بھی ہونی چاہئے ورنہ وہ ہمیں کسی بھی اندھیرے کنویں میں ڈھکیل سکتے ہیں۔رسول ؐ کے احکامات کی پاسداری میں ہمارا ہر کام رسولؐ کی سنت کے مطابق اگر ہے توکوئی بھی آسانی سے کہہ سکتا ہے کہ اس کے دِل میں رسول ؐ کے لیے بڑی محبت ہے۔ شریعت کے بنیادی احکام کے ساتھ اگر ہم نے رسولؐ کی سیرت سے عفو ودرگزر، صبر و برداشت، تحمل، بردباری، اور حسن سلوک لے رکھا ہے تو ہم سو فیصد کامیاب ہیں۔
 لگوائے تھے۔لیکن حقوق العباد کے تحت یہ سوال ضرور ہو گا کہ تمہارے محلہ کا فلاں لڑکا گلّی ڈنڈ کھیل کر آوارہ نکل گیا ، اس کی تعلیم کے لیے کیا انتظامات کیے اور تم اپنے گھر والوں اور اپنے اعزااقربا کی تعلیم کے لیے کس حد تک بیدار رہے تو میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ ہماری اسلامی ثقافت کو بگاڑا جا رہا ہے، بڑی ہوشیاری کے ساتھ غیرشرعی چیزوں کو نورانی بنا کرشریعت کا درجہ دیا جا رہا ہے۔
بدعت:

اسلام کی تاریخ میںایک بڑا اہم جلسہ ہوا تھا جس میںحضور اقدس ؐ نے عرفات کے میدان میں اُوٹنی پر سوار ہو کرآخری اور مشہور و معروف خطبہ دیا جو تاریخ اسلام میں ’’حجۃ الوداع‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔یہ خطبہ اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔یہیں پر وحی نازل ہوئی اور اللہ تعالی نے فرمایا ’آج ہم نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے مذہب اسلام کا انتخاب کیا‘۔ (سورہ مائدہ ۔۳)
یہ آخری وحی تھی اس کے بعد اللہ تعالی کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا، نہ اب کوئی پیغمبر آئے گا،کیونکہ اسلام اب مکمل ہو چکا ہے اور اسی لیے اسی خطبہ کے دوران حضور اقدسؐ نے ارشاد فرمایا ’’مذہب میں غلو اور مبالغہ سے بچو کیونکہ تم سے پہلے کی قومیں اسی سے برباد ہوئیں‘‘۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ’تمہارے دین کو مکمل کر دیا‘ رسول اقدس ؐ کا ارشاد ہوتا ہے کہ ’مذہب کی کسی بات کو بڑھا چڑھا کر مت بتاؤ ورنہ بربادی لازم ہے‘۔اس کے بعد بھی رسول اقدسؐ نے ارشاد فرمایا ’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑتا ہوں،اگر تم نے ان کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے وہ چیزیں ہیں کتاب اﷲاور میری سنّت‘‘۔اللہ اور رسول کے احکامات کے باوجود نادان مسلمان جان بوجھ کر اپنے کوتباہی کے راستے پر کو گھسیٹ رہا ہے۔
ہم جو کام بھی کریں وہ اللہ و رسولؐ کے احکامات کے دائرے میں ہو،اس دائرے سے باہر نکلے کہ ہم دین سے ہٹ گئے۔ ہمارے لیے جو احکامات ہیں انہی کی پابندی ہی ہماری عبادت ہے۔اگر حکم ہے نماز پڑھنے کا تو نماز پڑھنا عبادت ہے،سفر میں چار رکعت کی جگہ پر صرف دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم ہے تو چار رکعت نماز پڑھنا گناہ ہوگا۔اس سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ اور رسولؐ کے احکاما ت کی پاسداری اور پابندی ہی ہماری شریعت ہے۔
حضور اقدسؐ اسی خطبہ میں ایک جگہ اور ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’اگر کٹی ہوئی ناک کا کوئی حبشی بھی تمہارا امیر ہو اور وہ تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت و فرما ںبرداری کرو‘‘۔
ہم کو اپنے پیچھے لے چلنے والے تو بہت مل جائیں گے اور اس طرح کا لوگ شوق بھی رکھتے ہیں لیکن یہ گارنٹی نہیں ہو سکتی کہ وہ خدا کی کتاب کے مطابق لے چل رہے ہیں یا نہیں۔ایسی صورت میں کتاب کی شد بُد مجھے بھی ہونی چاہئے ورنہ وہ ہمیں کسی بھی اندھیرے کنویں میں ڈھکیل سکتے ہیں۔رسول ؐ کے احکامات کی پاسداری میں ہمارا ہر کام رسولؐ کی سنت کے مطابق اگر ہے توکوئی بھی آسانی سے کہہ سکتا ہے کہ اس کے دِل میں رسول ؐ کے لیے بڑی محبت ہے۔ شریعت کے بنیادی احکام کے ساتھ اگر ہم نے رسولؐ کی سیرت سے عفو ودرگزر، صبر و برداشت، تحمل، بردباری، اور حسن سلوک لے رکھا ہے تو ہم سو فیصد کامیاب ہیں۔
ربیع الاول کے مہینہ میں حضور اقدسؐ کی پیدائش ہوئی اسی لیے یہ مہینہ بڑی برکتوں والا ہے۔ اس برکت والے مہینہ میں بے برکتی کے کام کیوں کیے جائیں؟ ہمیں ہر ایسے کام سے اجتناب کرنا ہے جس کے ذریعہ دیگر مذاہب سے مشابہت ہوتی ہو۔
ابھی کچھ دِن پہلے ایک خبر اخبار میں شائع ہوئی کہ’’کسی جگہ کے امام صاحب نے یہ اعلان کیا کہ ’جلوس محمدی میں ڈی۔جے۔نہیں بجایا جائگا۔‘‘
پھر کیا تھا کہ عاشق جلوس کوجلال آگیااور فیصلہ کر دیا کہ اس امام کو قتل کردونگا جو ڈی۔جے۔پر پابندی لگائے گا۔بہر حال ایمان کے جوش میں بکواس کرنے والے نوجوان کے خلاف ایف۔آئی۔آر۔ہوئی اور گرفتار ہوا۔
جاہل طبقہ کا موقف ہوتا ہے کہ غیروں کو مرعوب کرنے کے لیے دھوم دھام سے جلوس نکالنا ضروری ہے۔یہ خلاف شرع ہے۔غیروں کو محض مرعوب کرنے کے لیے خلاف شرع کام جائز نہیں۔مسلمانوںکو چاہئے کہ وہ سنت اور شریعت کے مطابق زندگی گزاریں۔اپنے اخلاق و کردار کو بہتر سے بہتر بنائیں۔معاشرے پر اصل میں کردار کا ہی اثر پڑتا ہے۔
۱۲؍ربیع الاول حضورؐ کی تاریخ ولادت ہونا مشہور ہے ورنہ مؤرخین اور علمائے کرام کا قول یہ ہے کہ آپؐ کی پیدائش۸؍ یا ۹؍ ربیع الاول کو ہوئی ہے اور ۱۲؍ربیع الاول کو آپ ؐ کی وفات ہوئی ہے اور کہا بھی جاتا ہے ’’بارہ وفات‘‘ اس لیے وفات کے موقعے پر جشن کا ماحول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
جشن بھی ایسا ویسا نہیں،شہروں و قصبوں میں جلوس کے استقبال کے لیے بڑے بڑے گیٹ بنائے جاتے ہیں،راستے سجائے جاتے ہیں،روشنی کی جاتی ہے، لنگر لگتا ہے ، سبیلیںسجتی ہیں۔ غیروں کو صرف مرعوب کرنے کے لیے مقامی طور پر لاکھوں روپیہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے جس کی نہ کوئی اصل ہے اور نہ اجر۔ اور روپیہ مفت میں لُٹا وہ الگ۔
یہ پیسہ ہمیں اُس جگہ پر لگانا چاہئے جہاںہم کو اجر ملے،ہمیں اُن غریب بچیوں کو تلاش کرنا ہوگا جن کے سروں پر چادر نہیں ہے، جن کی شادی غربت کی وجہ سے نہیں ہو پا رہی ہے، کسی کھانستی ہوئی ماں یا ہانپتے ہوئے باپ کا علاج کرا دیں، کسی کے گھر میں چولہا جلانے کا بندوبست کر دیں، کسی گھر میں روشنی پہنچا دیں، ایسا کر کے دیکھیںآپ کوذہنی اور دماغی سکون ملے گا۔اس طرح کی کام رسولؐ کی محبت میں شمار کیا گائے گا۔جلوس کے ساتھ چلنا، نمازیں قضا کرنا اور رسولؐ کی محبت کا دعویٰ کرنااپنے کو گمراہ کرنا ہی ہے۔
ہم سے یہ سوال نہیں کیاجائے گا کہ جشن ولادت کے موقعہ پرکتنی ڈیگیں پکوائی تھیں؟روشنی کے لیے کتنے ہیلوجن لگوائے تھے، جلوس کے استقبال کے لیے کتنے گیٹ بنوائے تھے،آواز کے لیے کتنے لاؤڈ اسپیکر لگوائے تھے۔لیکن حقوق العباد کے تحت یہ سوال ضرور ہو گا کہ تمہارے محلہ کا فلاں لڑکا گلّی ڈنڈ کھیل کر آوارہ نکل گیا ، اس کی تعلیم کے لیے کیا انتظامات کیے اور تم اپنے گھر والوں اور اپنے اعزااقربا کی تعلیم کے لیے کس حد تک بیدار رہے تو میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ ہماری اسلامی ثقافت کو بگاڑا جا رہا ہے، بڑی ہوشیاری کے ساتھ غیرشرعی چیزوں کو نورانی بنا کرشریعت کا درجہ دیا جا رہا ہے۔
بدعت:
حضور اقدسؐ کا ارشاد ہے کہ ’’ جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات پیدا کی وہ (اللہ کے یہاں) مردود ہے (بخاری و مسلم)‘‘۔یہ ایک مستند حدیث ہے جسے ہم سب نے بارہا سنا ہوگا اور پڑھا بھی ہوگا لیکن ہم اپنی ناسمجھی میں یا ضد میں بدعت کو ہی شریعت کا درجہ دے رکھا ہے جو ہماری تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔کچھ لوگ بڑی معصومیت سے کہہ دیتے ہیں کہ ’’ہم وہ کر رہے ہیں جو ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں‘‘۔ہمارے مرحوم باپ دادا ہمارے لیے بہت ہی محترم ہیں، اسی لیے ہمیںان کی مغفرت کی دعا کرتے رہنا چاہئے۔یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ شریعت ہمارے باپ دادا کی کرنی اور کتھنی نہیں ہے۔شریعت ،اللہ تعالی اور رسولؐ کے احکامات کو کہتے ہیں۔ہم جو کر رہے ہیں اُسے شریعت کے روسے پرکھنا پڑے گا۔اُسے اللہ کے احکامات اور رسول ؐ کی سنّت کے مطابق کرنا پڑے گا۔اگرہم شک و شبہات میں مبتلا ہیں تو ہمیںکسی مستند عالم سے رجوع کرکے اپنی اصلاح اور توبہ کر لینی چاہئے ۔بہت سے لوگ جو عالم کی طرح نظر آتے ہیں، ان کو پہچانیں اور ان سے بچیں۔یہ کاروباری لوگ اپنی دوکانوں کے لیے آپ جیسے معصوم لوگوں کو اپنا گاہک بناتے ہیں۔اسی طرح کے عالموں کے لیے کہا گیا ہے کہ دوزخ انہیں کے کندوں سے دہکائی جائے گی۔
اسلام کی شان:

مسلم ہیں ہم تو خلق کریمانہ چاہئے
اسلام ترا سب کو نظر آنا چاہئے
(مقصدؔ الٰہ آبادی)


اللہ کے فضل و کرم سے ہم مسلمان ہیں توہم اس کو اپنے تک ہی محدود نہ رکھیں۔ہمیں اپنے رکھ رکھاؤ سے، اپنے برتاؤ سے،اپنے معاملات سے، اپنی نشست و برخاست سے،اپنی بول چال سے اسلام کی پبلی سٹی کرتے رہناچاہئے ۔کچھ متعصب لوگوں کو چھوڑ دیںتو ہمارے ہندو بھائی بڑے نرم مزاج کے ہوتے ہیں، بڑی محبت والے ہوتے ہیں، ہم انہیں لوگوں کے بیچ میں رہتے ہیں،ہم اسلام کی تبلیغ کر سکتے ہیںوہ اس طرح کہ ہم مسلمان ہیںاس لیے ہم جھوٹ نہیں بولتے،ہم دوکانداری کرتے ہیں لیکن کم نہیں تولتے،ہمارا تیل اور دودھ کا کاروبار ہے، ہم ملاوٹ نہیں کرتے، ہم کسی سے وعدہ کرتے ہیں تو اُس پر قائم رہتے ہیں۔ ہم پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں،ہم حسب استطاعت ضرورتمند، مسکین اور محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، غریبی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہیں کرتے، زنا کاری اور بیحیائی برا راستہ ہے، اس سے بچتے ہیں، کسی کی دل آزاری نہیں کرتے ، کسی جان کو قتل نہیں کرتے، یتیم کے مال کے قریب نہیں جاتے۔ اس طرح سے ہم اللہ اور اُس کے رسولؐ دونوں کو خوش رکھ سکتے ہیں۔ جلوس محمدیؐ جسکی شریعت میں کوئی جگہ نہی ہے، وہ ایک بدعت ہے اس میں چل کر اپنے جسم کو تھکانا گناہ بے لذّت ہے، فرض نمازوں کی ادائیگی میںرکاوٹ پیدا کرتا ہے اور اکثر جماعتیں چھوٹ بھی جاتی ہیںجو شعار اسلام کے خلاف ہے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...