27سال بھاجپا نے دہلی میں لہرایا جیت کا پرچم
کا رول دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے کہا ’’عام آدمی پارٹی کو فتح دلانا کانگریس کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ’’اور لڑو آپس میں ‘‘۔بی جے پی کے دہلی ریاستی دفتر میں کارکنوں نےہولی سے پہلے ہی ہولی منانا شروع کر دیا ہے، جب کہ عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے دفاتر میں رہنما اور کارکن غائب رہے۔
اس طرح دہلی اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے طوفان کے سامنے عام آدمی پارٹی ( آپ ) کی 12 سالہ حکمرانی اکھڑ گئی اور مرکزی وزیر کے الفاظ میں عام آدمی پارٹی ( آپ ) کے بڑے میاں چھوٹے میاں (مسٹر اروند کیجریوال اور مسٹر منش سسودیا ) سمیت کئی بڑے لیڈروں کو شکست کا مزی چکھنا پڑا۔ قابل ذکر ہے کہ قومی راجدھانی دہلی میں انتخابی مہم کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے 3 فروری کو ایک ریلی میں آپ کے قومی کنوینر کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ اور کجریوال کے قریبی ساتھی مسٹر سسودیا کو بالترتیب ‘بڑے میاں’ اور ‘چھوٹے میاں’ کہا تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ آپ کے ان دونوں لیڈروں نے دہلی کے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔مسٹر کیجریوال کو نئی دہلی اسمبلی حلقہ میں بی جے پی کے پرویش ورما نے قریبی مقابلے میں شکست دی ۔ مسٹر ورما کو 30088 ووٹ ملے، جب کہ مسٹر کیجریوال کو 25999 ووٹ ملے۔ مسٹر سسودیا اپنی پٹپڑ گنج سیٹ چھوڑ کر جنگ پورہ حلقہ میں چلے گئے جہاں انہیں بی جے پی کے ترویندر سنگھ مارواہ نے 675 ووٹوں سے شکست دی۔ مسٹر مارواہ کو 38859 ووٹ ملے، جب کہ مسٹر سسودیا کو 38184 ووٹ ملے۔دہلی کے وزیر صحت اور آپ کے ترجمان سوربھ بھاردواج اور وزیر ٹرانسپورٹ اور جاٹ لیڈر رگھوویندر شوقین بھی بی جے پی کے طوفان میں اپنی شکست کو نہیں بچا سکے ۔ مسٹر بھاردواج کو گریٹر کیلاش سیٹ سے بی جے پی کی شیکھا رائے نے 3139 ووٹوں سے اور مسٹر شوقین کو بی جے پی کے منوج شوقین نے 25251 ووٹوں سے شکست دی۔وزیر اعلیٰ آتشی کالکاجی سیٹ سے سخت مقابلے میں آپ کا پرچم بلند رکھنے میں کامیاب رہیں اور انہوں نے بی جے پی کے رمیش بدھوڑی کو 3521 ووٹوں سے شکست دی۔ ایک اور وزیر گوپال رائے نے بی جے پی کے انل کمار وششٹ کو 18994 ووٹوں سے شکست دی۔ بلی مارن سے عمران حسین نے بی جے پی کے کمل باگڑی کو 29823 ووٹوں سے اور سلطان پور ماجرہ سے مکیش کمار اہلوت نے بی جے پی کے کرم سنگھ کرما کو 17126 ووٹوں سے شکست دی۔
فلسطینیوں کا حق قائم رہے گا، اسے کوئی چھین نہیں سکتا: سعودی عرب
سعودی عرب نے فلسطین کے مسئلے پر اپنے ٹھوس مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کرتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے آج اتوار کو اعلامیے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین پر رہنے کا حق حاصل ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’فلسطینی بیرون ملک سے آنے والے غیرملکی قابض یا تارکین وطن نہیں ہیں۔‘
وزارت نے کہا ہے کہ ’فلسطینی عوام کا حق ثابت اور ٹھوس رہے گا اور کوئی بھی اسے چھین نہیں سکے گا چاہے اس میں کتنا وقت لگے۔‘
سعودی عرب نے فلسطینیوں کی نقل مکانی سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بیانات کو مسترد کر دیا ہے۔
سعودی عرب نے فلسطینیوں کو جبری طور پر بے گھر کرنے کے حوالے سے نیتن یاہو کے بیانات کی مذمت کرنے والے برادر ممالک کے موقف کو سراہا ہے۔
سعودی عرب نے زور دے کر کہا کہ دو ریاستی حل کے ذریعے بقائے باہمی کے اصول کو قبول کرنے سے ہی پائیدار امن کے حصول کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
دہلی میں کانگریس کی زیرو کی ہیٹ ٹرک، 67 سیٹوں پر ضمانت ضبط - DELHI ELECTIONS RESULTS 2025
نئی دہلی: ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس مسلسل تیسری بار دہلی اسمبلی انتخابات میں ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ انتخابی نتائج آنے سے قبل کانگریس 2025 کے دہلی میں بہتر کارکردگی کا دعویٰ کر رہی تھی، لیکن اس الیکشن میں بھی اسے ایک بھی سیٹ نہیں مل سکی۔ تاہم 2020 میں ہونے والے دہلی اسمبلی انتخابات کے مقابلے اس بار کانگریس کا ووٹ فیصد تقریباً دو فیصد بڑھا ہے۔ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو 4.26 فیصد ووٹ ملے تھے۔ جب کہ اس الیکشن میں کانگریس کو 6.35 فیصد ووٹ ملے۔ کانگریس نہ صرف دہلی میں الیکشن ہار گئی بلکہ وہ مسلسل تیسری بار 'صفر' سیٹوں پر رہ گئی اور صرف تین سیٹوں کو چھوڑ کر باقی سبھی پر اپنی ضمانت بھی نہیں بچا سکی۔
کانگریس ایک سیٹ چھوڑ کر باقی سبھی پر تیسرے یا چوتھے نمبر پر
دہلی کی کستوربا نگر اسمبلی سیٹ پر کانگریس امیدوار ابھیشیک دت دوسرے نمبر پر رہے۔ دہلی کی 70 اسمبلی سیٹوں میں سے، کستوربا نگر اسمبلی کو چھوڑ کر باقی تمام سیٹوں پر کانگریس پارٹی تیسرے یا چوتھے نمبر پر رہی۔ کئی سیٹوں پر کانگریس پارٹی کو آٹھ ہزار سے بھی کم ووٹ ملے۔ کستوربا نگر اسمبلی میں کانگریس امیدوار ابھیشیک دت کو 27019 ووٹ ملے۔ دہلی کے ریاستی کانگریس صدر دیویندر یادو، جو دہلی کے بادلی اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے تھے، تیسرے نمبر پر رہے۔
زیادہ تر سیٹوں پر کانگریس کی ضمانت ضبط
کانگریس پارٹی نے دہلی اسمبلی انتخابات میں تمام 70 اسمبلی سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے جس میں زیادہ تر اسمبلی سیٹوں پر کانگریس کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ صرف تین امیدوار اپنی ضمانت بچانے میں کامیاب ہوئے جس میں دہلی ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو بھی شامل ہیں۔ بادلی سے الیکشن لڑنے والے دیویندر یادو کو کل 41071 ووٹ ملے۔ وہیں کستوربا نگر سے مقابلہ کرنے والے کانگریس امیدوار ابھیشیک دت بھی اپنی ضمانت بچانے میں کامیاب رہے۔ دہلی کی ناگلوئی جاٹ سیٹ سے کانگریس کے امیدوار بھی اپنی ضمانت بچانے میں کامیاب رہے۔ کانگریس امیدوار روہت چودھری ناگلوئی جاٹ اسمبلی سیٹ پر 32,028 ووٹ حاصل کرکے تیسرے نمبر پر رہے۔
کئی بڑے چہروں کی ضمانت ضبط
کانگریس کے کئی بڑے چہروں بشمول سندیپ دکشٹ، جنہوں نے نئی دہلی اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا، کالکاجی سے الکا لامبا، بلی ماران سے ہارون یوسف، سیما پوری سے راجیش للوتھیا جیسے کئی اہم لیڈر اپنی ضمانت بھی نہیں بچا سکے۔
میں شرمناک شکست کا ذمہ دار ہوں'
نئی دہلی سے کانگریس امیدوار سندیپ ڈکشٹ نے ہار کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ "میں کانگریس کی اعلیٰ قیادت کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد ظاہر کیا اور مجھے اس الیکشن میں موقع دیا۔ نئی دہلی کی نشست سے اس شرمناک شکست کے لیے میں اور صرف میں ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں۔ دہلی کے ووٹر تبدیلی چاہتے تھے اور میں اس امید پر پورا نہیں اتر سکا۔ میں دل کی گہرائیوں سے ان تمام کارکنوں اور بہت سے رضاکاروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے دن رات کام کیا۔ بھلے ہی مجھے بہت سے لوگوں کا ووٹ نہیں ملا، مگر الیکشن کے دوران مجھے جو پیار اور احترام ملا، اس کے لیے میں خاص طور پر نئی دہلی کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
وہیں دہلی ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے اپنے رد عمل میں کہا کہ "دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ دہلی کے عوام نے اروند کیجریوال کی جھوٹ اور فریب کی سیاست کو مسترد کر دیا۔ کانگریس پارٹی کے تمام سپاہیوں نے بڑی طاقت سے انصاف کی جنگ لڑی، لیکن نتائج ہمارے حق میں نہیں آئے۔ ہم اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا جائزہ لیں گے اور دہلی کے عوام کی خدمت جاری رکھیں گے، ہم دہلی کے عوام کے ساتھ ہر وقت کھڑے ہوں گے۔"