Thursday, 6 February 2025

گھریلو اور سادہ مشروبات جو پُرسکون نیند کے لیے مفید ہو سکتے ہیں





گھریلو اور سادہ مشروبات جو پُرسکون نیند کے لیے مفید ہو سکتے 
اچھی اور پرسکون نیند مجموعی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ جسم کو ٹھیک اور تندرست رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق گہری نیند مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے، دماغی صلاحیتوں کو بہتر بناتی ہے اور ہارمونز کے توازن کو برقرار رکھتی ہے۔
خراب نیند وزن بڑھنے، تناؤ کی سطح میں اضافے، کمزور مدافعتی نظام اور یہاں تک کہ دل کی بیماری اور ذیابیطس جیسی دائمی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
کچھ گھریلو مشروبات قدرتی طور پر نیند میں مدد دے سکتے ہیں کیونکہ یہ جسم کو سکون پہنچاتے ہیں، تناؤ کو کم کرتے ہیں اور میلاٹونن اور سیروٹونن جیسے نیند لانے والے نیوروٹرانسمیٹرز کی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں۔
آئیے آپ کو کچھ ایسے مشروبات کے بارے میں بتاتے ہیں جن کے استعمال سے آپ کو گہری اور پرسکون نیند آسکتی ہے۔
جائفل ملا گرم دودھ
گرم دودھ میں ٹرپٹوفین نامی امینو ایسڈ پایا جاتا ہے جو سیروٹونن اور میلاٹونن کی پیداوار بڑھا کر جسم کو سکون فراہم کرتا ہے۔
اس میں تھوڑی سی جائفل شامل کرنے سے اس کا خواب آور اثر مزید بڑھ جاتا ہے۔ جائفل میں مائرسٹیسن موجود ہوتا ہے جو ہلکی پرسکون خصوصیات رکھتا ہے۔
سونے سے آدھا گھنٹے پہلے ایک کپ گرم دودھ میں تھوڑی سی جائفل ملا کر پینے سے نیند آنے میں مدد مل سکتی ہے۔
گُل بابونہ کی چائے
گُل بابونہ کی چائے نیند کے لیے سب سے مشہور جڑی بوٹیوں والی چائے میں سے ایک ہے۔
اس میں ایپیجینن نامی اینٹی آکسیڈنٹ پایا جاتا ہے، جو دماغ کے مخصوص ریسیپٹرز سے جُڑ کر سکون فراہم کرتا ہے اور بے چینی کو کم کرتا ہے۔
سونے سے ایک گھنٹہ قبل ایک کپ گل بابونہ کی چائے پینا آپ کو پرسکون ہونے اور تیزی سے نیند لانے میں مدد دے سکتا ہے۔
کھٹی چیری کا جوس
کھٹی چیری قدرتی طور پر میلاٹونن فراہم کرتی ہے جو نیند کو منظم کرنے والا ہارمون ہے۔
شام کے وقت چینی کے بغیر کھٹی چیری کا جوس پینے سے نیند کے دورانیے اور معیار میں بہتری آسکتی ہے جس کی وجہ سے یہ بے خوابی کے لیے ایک بہترین قدرتی علاج ثابت ہو سکتا ہے۔
کیلے کا شیک
کیلے میگنیشیم اور پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں، یہ پٹھوں کو آرام دینے اور رات کے وقت ہونے والے کھچاؤ کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
کیلے کو گرم دودھ اور بادام کے ساتھ بلینڈ کریں، اس میں تھوڑی سی دار چینی شامل کریں اور اس طرح سے اچھی نیند کے لیے شیک تیار کیا جا سکتا ہے۔
کیلے میں موجود ٹرپٹوفین بھی میلاٹونن کی پیداوار کو بڑھانے میں معاون ہوتا ہے۔
بادام اور شہد ملا دودھ
بادام کا دودھ ایک بہترین نباتاتی متبادل ہے جس میں میگنیشیم موجود ہوتا ہے، میگنیشیم ایسا مرکب ہے جس کے استعمال کی وجہ سے نیند میں مدد ملتی ہے۔
اس میں ایک چمچ شہد شامل کرنے سے تھوڑی مقدار میں گلوکوز فراہم ہوتا ہے جو تناؤ کے ہارمُونز کو کم کرنے اور دماغ کو نیند لانے والے کیمیکلز پیدا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
ہلدی والا دودھ
ہلدی میں کرکومن پایا جاتا ہے جو سوزش کم کرنے اور جسم کو سکون پہنچانے والی خصوصیات رکھتا ہے۔ یہ تناؤ کو کم کرنے اور نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
گرم دودھ میں ہلدی، کالی مرچ اور شہد ملا کر ’گولڈن ملک‘ بنایا جاتا ہے جو ایک آرام دہ مشروب ہے اور سکون فراہم کرکے بہتر نیند میں مدد دیتا ہے۔



سقوط غرناطہ: جب مسلمان حکمران نے ’جنت کی کنجیاں‘ مسیحی بادشاہوں کے حوالے کیں
دو جنوری 1492 کو بوعبدل نے غرناطہ کیتھولک بادشاہوں کے حوالے کر دیا جو ڈریسن کے مطابق ،سپین کے کارڈینل فرانسسکو سیسنیروس اور ریشمی لباس پہنے درباریوں اور رئیسوں، جن میں سیاح کرسٹوفر کولمبس بھی تھے، کے ہمراہ غرناطہ پہنچے تھے۔

شاندار لباس پہنے کئی گھڑسواروں کے ہمراہ، شہر کی چابیاں حوالے کرتے ہوئے بوعبدل نے نئے حکمرانوں کے ہاتھ چومے اور کہا کہ ’یہ جنت کی چابیاں ہیں۔‘

بوعبدل کون تھے اور ایسا کرنے پر کیوں مجبور ہوئے؟

ابو عبد اللہ محمد سنہ 1459 میں سپین کے الحمرا محل میں پیدا ہوئے تو نجومی نے پیش گوئی کی کہ وہ بڑے ہو کر مسلم غرناطہ کے حکمران بنیں گے، لیکن آخری۔

آٹھویں صدی کی ابتدا سے اگلے 300 سال تک سپین میں علم و ایجاد کو فروغ دیتی اموی خلافت رہی، پھر 40 سال تک سپین چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا رہا۔

مراکش سے آنے والے مرابطون نے انھیں متحد کر کے 1086 سے1147 تک چلایا۔ ان کے بعد موحدون نے شمالی افریقہ اورسپین کے بڑے حصے پر حکومت قائم کی۔

تیرھویں صدی میں عرب کے بنو خزرج قبیلے کے نصر خاندان کے محمد اول نے جب غرناطہ سنبھالا تب تک مسلم سپین کا رقبہ کافی سمٹ چکا تھا۔

نصریوں نے مراکش کے مرینوں کے ساتھ اتحاد بھی قائم کیا۔ ان کے دور میں غرناطہ اسلامی ثقافت کا مرکز رہا جس میں علم، دست کاری اورسرامکس کو فروغ ملا۔ 14ویں صدی میں نصری اپنے فن تعمیر کے لیے مشہورتھے۔ الحمرا اسماعیل اول اور محمد پنجم کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔

سوا دو سو سال سے حکومت کرتے اسی خاندان کے سلطان ابوالحسن علی کے ہاں، تاریخ میں بوعبدل کہلاتے، ابوعبداللہ کی پیدائش ہوئی تھی۔

خاندانی جھگڑے اور سوتن کا حسد
ایلزبتھ ڈریسن اپنی کتاب ’دی مورز لاسٹ سٹینڈ‘ میں بتاتی ہیں کہ ابوالحسن علی، جنھیں مولائے حسن بھی کہا جاتا تھا، کے دور میں غرناطہ کو اندرونی اور بیرونی دباؤ اور سیاسی خلفشار کا سامنا تھا۔

ریکونکوِسٹا کے نام سے جانے جاتے تقریباً آٹھ صدیوں پر محیط مہمات کے ایک سلسلے میں پندرہویں صدی کے اواخر میں تیزی آ گئی۔ ان مہمات سے مسیحی سلطنتوں کا مقصد مسلمانوں کے زیرِاثر آیبیرین علاقوں پر دوبارہ حکومت کرنا تھا، جنھیں اجتماعی طور پر الاندلس کہا جاتا تھا۔

سنہ 1469 میں آراغون کے بادشاہ فرڈینینڈ دوم کی قشتالہ کی حکمران ازابیلا اول سے شادی ایسے اتحاد کا باعث بنی جس کا مقصد اس مسلم سلطنت کو فتح کرنا تھا جہاں نصری غرناطہ کے تخت کے لیے آپس میں لڑ رہے تھے۔

اس خانہ جنگی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے قشتالی مضبوط نصری قلعوں پر قبضہ کرتے رہے۔

ڈریسن لکھتی ہیں کہ ’نصری سلطان کا یہ علاقہ ایک عظیم مسلم سلطنت کا آخری ہسپانوی گڑھ تھا جو کبھی (فرانس اور سپین کی سرحد پر پھیلے اور جزیرہ نما آئبیریا کو باقی یورپ سے الگ کرتے پہاڑی سلسلے) پیرینی اور اس سے بھی آگے تک پھیلی ہوئی تھی اور اس میں بارسلونا اور پامپلونا جیسے شمالی ہسپانوی شہر بھی شامل تھے۔‘

سٹینلے لین پُول ’دی مُورز ان سپین‘ میں لکھتے ہیں کہ مولائے حسن کا دور خاندانی جھگڑوں سے عبارت تھا اور سلطنت کے زوال کی سمت اشارہ کررہا تھا۔

’داخلی تنازعات اور مخالفین کی بڑھتی طاقت‘
سنہ 1482 میں بوعبدل نے اپنی والدہ عائشہ الحُرہ کے اکسانے پر اپنے والد ابو الحسن علی کے خلاف بغاوت کر دی۔ تب وہ لوشہ کے میدان میں فرڈینینڈ کی فوجوں سے لڑ رہے تھے۔

تاریخ دان ایل پی ہاروے، اپنی کتاب ’اسلامی سپین 1250 سے 1500 تک‘ میں لکھتے ہیں کہ اپنے بیٹے کو اقتدار میں لانے کی خواہش کے پیچھے وجہ عائشہ کی مولائے حسن کی دوسری بیوی زورایا (ثریا) کے ساتھ دشمنی تھی۔

لین پول کے مطابق ثریا اسلام قبول کرنے سے پہلے مسیحی غلام ازابیل ڈا سولِس تھیں جنھوں نے ان کے شوہر کا دل جیت لیا تھا۔

’ثریا سے ان کے حسد کی کوئی حد نہیں تھی۔ وہ انھیں نہ صرف اپنی حیثیت بلکہ اپنے بیٹے کے تخت پر حق کے لیے بھی خطرہ جانتیں۔‘

ہاروے نے لکھا ہے کہ ’عائشہ کو اپنے بیٹے کے اقتدار میں مولائے حسن اور زورایا (ثریا) کے خلاف اپنے انتقام کا امکان نظر آیا۔‘

ڈریسن لکھتی ہیں کہ عائشہ کے حسد نے خاندانی جھگڑوں میں ایک اہم کردار ادا کیا جو بالآخر نصریوں کے زوال کا باعث بنے۔ ’بیٹے کی وراثت کی حفاظت کی خواہش کے تحت ان کے اقدامات نے پہلے ہی سے کمزور سلطنت کو مزید غیر مستحکم کردیا۔‘

بیٹے کی باپ سے بغاوت
ایک بااثر خاندان کی حمایت سے بو عبدل نے الحمرا محل پر قبضہ کر لیا اور خود کو غرناطہ کا سلطان قرار دے دیا۔

ڈریسن لکھتی ہیں کہ بوعبدل جب نصری خاندان کے 23 ویں سلطان کے طور پر تخت پر بیٹھے تو وہ 20 سال کے ایک ناپختہ نوجوان تھے جو بمشکل الحمرا محل سے نکلے ہوں گے اور انھیں اپنے غیر فعال خاندان سے باہر کی دنیا کا کوئی تجربہ بھی نہیں تھا ۔

تاہم مولائے حسن نے جلد ہی دارالحکومت پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ دو سال بعد ان کے بھائی الزغل نےانھیں تخت سے ہٹا دیا ۔ایک ہی سال میں بو عبدل پھر سے غرناطہ کے حکمران تھے۔

اپنی کتاب ’مورِش (مسلم) سپین‘ میں مورخ رچرڈ فلیچر لکھتے ہیں، ’نصری بادشاہت ایک منقسم گھر کی عکاس تھی، جس میں حریف دھڑے قبضے کے لیے کوشاں تھے، جس کی وجہ سے بڑھتی مسیحی قوتوں کے خلاف مزاحمت کی اس کی صلاحیت کمزور ہو گئی تھی۔‘

قید اور قرطبہ کا معاہدہ
بوعبدل کی سنہ 1483 میں قشتالہ کے خلاف پہلی فوجی مہم ناکام ہوئی اور وہ پکڑے گئے۔ کیتھولک حکمرانوں، ملکہ ازابیلا اور بادشاہ فرڈینینڈ، نے انھیں ’قرطبہ معاہدہ‘ کے تحت رہا کر دیا۔

اس معاہدے کی رُو سے بوعبدل کو اپنے چچا الزغل کے خلاف ان کی حمایت کے بدلے میں اپنے کچھ علاقے قشتالہ کو دینا تھے۔ مورخ ہیو کینیڈی ’مسلم سپین اور پرتگال: الاندلس کی سیاسی تاریخ‘ میں قرطبہ کے معاہدہ کو ’ایک فاسٹین سودا‘ قراردیتے ہیں۔

یہ اس شیطانی سودے کی جانب اشارہ ہے جس میں واپسی مشکل ہوتی ہے لیکن اس کی جسمانی، روحانی اور نفسیاتی قیمت چکانا لازم۔

کینیڈی کہتے ہیں کہ ’بوعبدل نے رہائی کے لیے اپنے خون اور زمین سے بے وفائی کی، جس سے نصری مزاحمت کومزید نقصان پہنچا۔‘

رہائی کے بعد، بوعبدل کو نصری سلطنت کے مغربی حصے پر حکومت دے دی گئی، جب کہ ان کے چچا الزغل نے مشرقی علاقے کا کنٹرول برقرار رکھا۔ قرطبہ کے معاہدے کے مطابق، بوعبدل نے مؤثر طریقے سے اپنی زمینوں کی خودمختاری فرڈینینڈ اور ازابیلا کو سونپ دی۔

الزغل کی ثابت قدم مزاحمت کے باوجود ’مسیحی افواج نے رفتہ رفتہ پیش قدمی کی اور بالآخر مشرقی غرناطہ اور المیریا میں ان کے علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ یوں بوعبدل، صرف غرناطہ شہر کے سلطان رہ گئے۔ اب ریکونکوسٹا کی تکمیل ’اگر، نہیں، کب‘ کا سوال رہ گئی تھی۔
جب آخری بار ہتھیار ڈالے گئے
سنہ 1491 کے موسمِ بہار میں مسلمانوں کے لیے غرناطہ حکومت کے خاتمے کا آغاز ہوا۔

قشتالوی افواج کے کئی مہینوں کے محاصرے کے بعد، بوعبدل نے محسوس کیا کہ مزید مزاحمت بیکارہے۔ نومبر میں مذاکرات کے آغاز کے بعد، اسی ماہ کی 25 تاریخ کو معاہدہ غرناطہ پر دستخط ہوئے۔اس معاہدہ کے تحت بوعبدل کا عہدہ برقراررہنا تھا اورمسلمانوں کی مذہبی آزادی کو یقینی بنایا جانا تھا۔

دو جنوری 1492 کو بوعبدل نے غرناطہ کو کیتھولک بادشاہوں کے حوالے کر دیا جو ڈریسن کے مطابق ،سپین کے کارڈینل فرانسسکو سیسنیروس اور ریشمی لباس پہنے درباریوں اور رئیسوں، جن میں سیاح کرسٹوفر کولمبس بھی تھے، کے ہمراہ غرناطہ پہنچے تھے۔

شاندار لباس پہنے کئی گھڑسواروں کے ہمراہ، شہر کی چابیاں حوالے کرتے ہوئے بوعبدل نے نئے حکمرانوں کے ہاتھ چومے اور کہا کہ ’یہ جنت کی چابیاں ہیں۔‘

معاہدے کے مطابق بوعبدل ہاتھ چومنے کی خفت سے بچ سکتے تھے۔

واشنگٹن ارونگ نے ’دی الحمرا‘ میں بیان کیا ہے ’بوعبدل الحمرا پر آخری نظر ڈالنے کے لیے ایک چٹانی اونچائی پر رکے۔ الحمرا کو دیکھ کر ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ ان کی ماں نے ڈانٹا کہ تم عورتوں کی طرح اس کے لیے روتے ہو جس کا مردانگی سے دفاع نہ کر سکے۔‘

یہ قصہ خواہ مفروضہ ہو یا نہ ہو، نقصان اور شکست کے گہرے احساس کا بیان ہے اور بوعبدل کے ایک پہاڑی درے سے الحمرا پرآخری نظر ڈالنے کا یہ منظر بہت سی پینٹنگز کا موضوع بنا۔
بوعبدل جلاوطنی میں
ہتھیار ڈالنے کے بعد، بوعبدل کو ایک چھوٹی سی جاگیر دی گئی تھی لیکن انھوں نے مراکش میں جلاوطنی اختیار کر لی۔

وہ اپنے شاہی ماضی سے بہت دور فیض میں مرینی حکمران کے دربار کا حصہ بن گئے۔

مورخ الزبتھ ڈریسن بوعبدل کے انجام کو یوں بیان کرتی ہیں کہ ’جلاوطن اور بے اختیار، بوعبدل نے اپنے دن گمنامی میں گزارے، کھوئی ہوئی عظمت اور بے تکمیل صلاحیت کی ایک نمایاں علامت کے طورپر۔‘

ایک دور کا خاتمہ اور عدم برداشت کا آغاز
بوعبدل کے رخصت ہونے کا مطلب جزیرہ نما آئبیریا میں تقریباً آٹھ صدیوں پر محیط مسلم حکمرانی کا خاتمہ تھا کہ جس میں ثقافتی اور مذہبی تکثیریت کی ایک بھرپور رنگا رنگی پروان چڑھی تھی۔

مورخ ماریا روزا مینوکل،’دی آرنمنٹ آف دی ورلڈ ‘ میں لکھتی ہیں کہ ’مسلم سپین ایک ایسی سرزمین تھی جہاں مسیحی، یہودی اور مسلم ثقافتوں کے باہمی تعامل نے ایک منفرد اور پائیدار میراث پیدا کی۔ غرناطہ ایسے اکٹھ کا آخری گڑھ تھا۔‘

سقوط غرناطہ سے مذہبی عدم برداشت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

غرناطہ معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیتھولک بادشاہوں نے ایسی پالیسیاں شروع کیں جن کا مقصد مذہبی تنوع کو ختم کرنا تھا۔ مسلمانوں اوریہودیوں کے مذاہب کی زبردستی تبدیلی معمول بن گیا۔

ہنری کامن اپنی کتاب ’دی سپینش انکوئزیشن: اے ہسٹوریکل ریویژن‘ میں لکھتے ہیں کہ سقوط ِغرناطہ دوبارہ مسیحی قبضے کا آخری باب تھا لیکن یہ منظم ظلم و ستم اور جبری انضمام کا آغاز بھی تھا۔

ڈریسن کا کہنا ہے کہ سنہ 711 کے بعد سے تقریباً 800 سالوں تک ، ہسپانوی جزیرہ نما ایسے لوگوں کا مسکن رہا جو آئے تو حملہ آور کے طور پر تھے لیکن انھوں نے ایک ایسی منفرد اور نفیس تہذیب کی تخلیق کی جس نے سپین کو ایک پائیدار ثقافتی ورثہ عطا کیا۔

مسلم فتح سے پیدا ہونے والی زرخیز ثقافتی تخلیقی صلاحیت اور تجدید، بو عبدل کی شکست میں کھو گئی۔

’مسیحیوں، مسلمانوں اور یہودیوں کی بقائے باہمی قرون وسطیٰ کی ہسپانوی زندگی کا ایک اہم حصہ رہا تھا۔ اس کی جگہ سنگین تصادم اور تنازعات نے لے لی جس کے نتیجے میں 1609 میں موریسکو(جبری طورپرمسیحی بنائے گئے مسلمانوں ) کو بھی نکال دیا گیا۔‘

’1492 کے بعد سپین، ایک ایسے معاشرے کی بجائے جہاں تین مختلف مذاہب کے افرادایک ساتھ رہتے تھے، یک مذہبی اور یک زبان معاشرہ بن گیا، ایک ایسی جگہ جہاں فرق کو دبایا اور ختم کیا گیا۔‘

’بوعبدل اور غرناطہ مذہبی عدم برداشت، جنونی طاقت اور ثقافتی جہالت کے خلاف ایک آخری رکاوٹ تھے۔‘






معمولات نبوی ﷺ
محسن انسانیت ﷺ کا معمول مبارک تھا کہ رات گئے بیدارہوتے تھے،وضو فرماتے اور پھر تہجد کی نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے۔آپ ﷺ کی تہجد کی نماز بہت طویل ہوا کرتی تھی۔قیام کی حالت میں بہت لمبی تلاوت فرماتے تھے اور رکوع و سجود بھی بہت طویل ہواکرتے تھے۔کچھ صحابہ کرام نے آپ ﷺ کے ساتھ تہجد کی نماز میں شریک ہونے کی کوشش کی لیکن ان کے لیے ممکن نہ رہا۔ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اتنا طویل قیام فرماتے تھے کہ پاؤں مبارک سوج جاتے اور پنڈلیوں میں ورم آجاتا۔جب سجدہ کرنا مقصود ہوتا تو حجرہ مبارک میں اتنی جگہ نہ ہوتی کہ سجدہ کر سکتے۔ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ سجدہ کرنے کے لیے آپ ﷺ میری ٹانگوں پر اپنا ہاتھ مارتے میں اپنے پاؤں اکٹھے کرتی تو اس جگہ پر آپ ﷺ سجدہ فرماتے تھے۔اس بات سے حجرہ مبارک کی لمبائی چوڑائی کااندازہ کیا جاسکتا ہے جبکہ اونچائی اتنی تھی کہ لمبے قد کاآدمی کھڑاہوجائے تو کھجورکے پتوں سے لیپی ہوئی چھت سے اسکاسرٹکراجائے۔تہجد کی نمازمکمل ہونے پر حضرت بلالؓ کی آذان بلند ہوجاتی،تب آپ ﷺ فجر کی دورکعتیں اداکرتے جنہیں امت فجر کی سنتوں کے نام سے جانتی ہے،پہلی رکعت میں سورۃ کافرون اور دوسری میں سورۃ اخلاص تلاوت فرماتے،یہ مختصررکعتیں ہوتی تھیںاوریہی سورتیں مغرب کی دوسنتوں میں بھی تلاوت فرماے تھے۔ اسکے بعد آپ ﷺ تہجد کی تھکاوٹ کے باعث سستانے کے لیے لیٹ جاتے اور مسلمان بھی اتنی دیر میں مسجد میں جمع ہوچکتے۔تب آپ ﷺ نمازپڑھانے کے لیے مسجد میں تشریف لے جاتے اور فجر کی طویل قرات والے دو فرائض پڑھاتے اور پھر مسلمانوں کی طرف چہرہ انور کر کے بیٹھ جاتے ۔کوئی خواب دیکھاہوتا تومسلمانوں کو سناتے اور اگر مسلمانوں میں سے کسی نے خواب دیکھاہوتا تو سن کر اسکی تعبیر دیتے۔بعض اوقات فجر کے بعد دیگر امور پر بھی گفتگو فرماتے اورانہیں جملہ ہدایات دیتے اس بہانے مسلمانوں کی تعلیم کاانتظام بھی ہوجاتاجبکہ خواتین بھی موجود ہوتی تھیں۔
فجر کے بعد سوناآپ ﷺ کو بے حد ناپسند تھا۔یہ بہت برکت والاوقت ہوتا ہے جسے ذکروفکرمیں گزارناچاہیے۔قرآن مجید نے بھی فجرکے وقت تلاوت کی ترغیب دی ہے۔عشراق اور چاشت کے نوافل بھی آپ ﷺکے معمولات کاحصہ تھے لیکن یہ نوافل بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے تھے۔آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ رات کے نوافل لمبے لمبے اداکرتے اور دن کے نوافل کو بہت مختصر کر کے تو ختم کردیتے۔فجرسے ظہر تک کاوقت زیادہ تر مسجد کے باہر گزارتے تھے جبکہ آپ ﷺکے صحابہ کرام نے اپنی تعداد کے دو حصے کیے ہوتے تھے،ایک حصہ فجر سے ظہر تک آپ ﷺ کے ساتھ رہتا اور دوسرا حصہ کاروبار دنیا میں مشغول ہوتاجبکہ ظہر بعد پہلا حصہ دنیامیںمشغول ہوجاتااور دوسرے حصے کے اصحاب صحبت نبوی ﷺ سے فیض یاب ہوتے تھے۔اس دوران بعض اوقات بازارتشریف لے جاتے اور معاملات کی نگرانی کرتے۔ایک بار ایک دکان کے باہر غلے کے ڈھیر میں آپ نے ہاتھ ڈالا تو وہ باہر سے خشک اور اندر سے گیلا تھا۔آپ ﷺ نے دکاندار سے پوچھایہ کیاہے؟؟اس نے جواب دیا رات کو بارش کی پھنوارکے باعث گندم گیلی ہوگئی۔آپﷺ نے اسکو سخت ناپسندفرمایاکہ اوپراوراندر میں فرق ہے تب آپ ﷺنے فرمایاکہ’’جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔بازرارمیں ایک بار آپ ﷺ کو بہت پرانا شناسا دکھائی دیا،آپﷺ نے فرط محبت میں پیچھے سے اسکی آنکھوں پر ہاتھ دیے،یہ اشارہ تھا کہ مجھے پہچانو!،ابتداََتو اسے اندازہ نہ ہوا لیکن جب پتہ چل گیا تو اس نے اپنی کمر آپ ﷺ کے سینہ مبارک سے خوب خوب مس کی کیونکہ نبی کے جسم سے جو چیزمس ہوجائے اس پر آگ اثر نہیں کرتی۔بعض اوقات خاص طورپر خواتین سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے جبکہ مرد حضرا ت اپنے اپنے کاموںپرگئے ہوتے تھے،ایک بار آپ ایک بندمحلے میں تشریف لے گئے اورزورسے فرمایا کہ ’’السلام علیکم ‘‘کوئی جواب نہ آیا،پھرفرمایاتو بھی جواب نہ آیا،تیسری دفعہ سلام کیاتو بھی کوئی جواب نہ آیا،آپ ﷺ واپس مڑنے لگے تو ہر گھرسے خواتین کی آوازبلندہوئی کہ ’’وعلیکم السلام یا ایھاالنبی‘‘،آپ ﷺ نے پوچھا پہلے کیوں جواب نہ دیاتو عرب کی ذہین عورتوں نے جواب دیا کہ ہم چاہتی تھیں کہ لسان نبویﷺ سے زیادہ زیادہ سلامتیاں ہم تک پہنچیں،کیونکہ پہلی دفعہ جواب دے دیاجاتا توباقی دونوں دفعہ کے دعایہ سلام سے محروم رہ جاتیں۔سوموارکادن عورتوں کے لیے مخصوص تھاجبکہ عمرعزیزکے آخری ایام میں ہفتہ بھرمیں دو دن خواتین کے لیے مخصوص کر لیے گئے تھے۔
بعض اوقات اچھاکھانا کھائے بہت دن گزرجاتے تو آپ ﷺ کسی امیر مسلمان کے تشریف لے جاتے۔اسی طرح ایک دن آپ ایک انصاری صحابی کے باغ میں تشریف لے گئے اور اس سے بے تکلفی سے فرمایا کہ ہمیں کھانا کھلاؤ،اس کے دروازے پر تو گویا دنیاوآخرت کی خوش بختیاں پہنچ گئی تھیں۔اس نے فوراََ ہی کھجور کے کچے پکے پھلوں کی ایک ڈالی بطور سلاد کے خدمت اقدس ﷺمیں پیش کی اور گھروالوں کو روٹیاں پکانے کا کہ کر خود ایک بکری ذبح کرنے میں مشغول ہو گیااور تھوڑی دیر بعدایک تھال میں بھنا ہواگوشت اور ایک رومال میں پکی ہوئی روٹیاں دسترخوان پر چن دی گئیں۔آپﷺ نے کھانا تناول کرنے سے پہلے چار روٹیوں میں کچھ سالن کی بوٹیاں رکھ کر حضرت ابوہریرہ ؓکو دیں کہ جاؤفاطمہؓکو دے آؤ اس نے اتنے دنوں سے کھانا نہیں کھایا۔بعض اوقات آپﷺ دوستوں کے ساتھ شہر سے باہر تشریف لے جاتے اور انکے ساتھ اچھاوقت گزارتے۔ایک بار آپﷺقریب کی جھیل میں گئے اور دودوکی جوڑیاں بناکر تیراکی کی مشق کی اور مقابلے کیے۔آپ ﷺ کے ساتھ جوڑے میں حضرت ابوبکرصدیق ؓشامل تھے۔بعض اوقات جنات کو ملنے کے لیے بھی پہاڑوں پر تشریف لے جاتے تھے اور ایک خاص مقام پر پہنچ کر صحابہ کرام کو آگے آنے سے روک دیتے اور خود آگے بڑھ کر جنات کے قبائل میں تبلیغ فرماتے۔جب سفردرپیش ہوتاتوگھرسے دو نفل پڑھ کر سفر شروع کرتے اورواپسی پرپہلے مسجد میں دو نفل اداکرتے تب گھرمیں وارد ہوتے۔
آپ ﷺ بہت کم بولتے تھے اور مجلس میں کافی کافی دیر تک خاموشی رہتی۔سوال کرنا سخت ناپسند تھا،ایک بار آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’حج فرض ہے‘‘،ایک مسلمان نے سوال داغ دیا کہ کیا ہرسال؟؟اس پر آپ ﷺ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیااور آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔غصہ تحلیل ہونے پر فرمایا مجھ سے سوال کیوں کرتے ہو؟؟اگر میں ہاں کہ دیتاتو پھر۔قرآن مجید نے بھی مسلمانوں کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل نے جس طرح حضرت موسی علیہ السلام سے سوال کیے تھے تم اپنے نبی سے اس طرح سوال نہ کرو۔تاہم کسی اہم سوال کا جواب دیابھی کرتے تھے مثلاََ محفل میںخوشبو پھیل جانے پر مسلمانوں کو اندازہ ہوجاتا تھا کہ جبریل آ گئے ہیں ،ایک بار مسلمانوں نے پوچھا کہ جبریل ہمیشہ اس طرف والی گلی سے کیوںآتے ہیں؟؟تب آپ ﷺ نے فرمایا اس لیے کہ اس گلی میں حضرت حسان بن ثابت ؓکا گھر ہے جو نعت گو شاعر رسولﷺ تھے۔نعت شوق سے سنتے تھے اور نعت گو شاعر کے لیے دعابھی فرماتے تھے۔جب کسی سے خوش ہوتے تھے تو اس کے سامنے محبت کااظہارکرتے تھے اور جب کسی سے ناراض ہوتے تو خاموشی اختیارکرلیتے تھے اور بہت زیادہ ناراضگی ہوتی تو چہرہ انور اس سے پھیر لیتے تھے،ایک صحابی کی داڑھی میں ایک ہی بال تھا آپ ﷺ اسے دیکھتے تھے اور مسکراتے تھے اس صحابی ایک بارنے وضوکے دوران وہ بال توڑ دیا،آپ ﷺ نے دیکھا تو ناراضگی سے چہرہ انور پھیرلیا،اس صحابی نے عرض کی یارسول اﷲ ﷺایک ہی تو بال تھاتو سرزنش فرماتے ہوئے جواب دیا کہ خواہ ایک بال تھا تب بھی میری سنت تو تھی،تم نے اسے بھی توڑ دیا؟؟؟
ظہر سے قبل آپ ﷺ اپنے حجرہ مبارک میں تشریف لے آتے اور تھوڑی دیر کے لیے قیلولہ فرماتے تھے۔آپﷺ کا ارشادمبارک ہے کہ رات کو اٹھنے (تہجدپڑھنے)کے لیے دوپہر کے سونے سے مدد لو۔اس دوران کوئی ملنے گھر پر آجاتا تو طبیعت اقدس پر سخت ناگوار گزرتاتھا،لیکن آپ کااخلاق اتنا بلند تھا کہ آپﷺ نے کبھی اپنی ناگواری کا اظہار نہیں فرمایاتھا،اس پر اﷲ تبارک وتعالی نے سورۃ حجرات میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ نبی ﷺجب اپنے گھر میں استراحت فرمارہے ہوں توانکو آوازیں نہ دیاکرو بلکہ مسجد میں بیٹھ کر انکا انتظار کیاکرو۔قیلولہ کے بعد آپ ﷺ ظہر کے لیے نکلتے اورمسلمانوں کو ظہر کی نماز پڑھاتے تھے،اگرکوئی منتظر ہوتاتو نماز مختصر کر لیتے اورکسی بچے کی رونے کی آواز آجاتی تو بہت جلد نماز ختم کردیاکرتے تھے۔ظہرکے بعد کا وقت زیادہ تر مسجد میں گزارتے تھے ،شایداس کی وجہ نمازوں کے مسلسل اوقات تھے۔اس دوران باہر سے آنے والے مہمانوں سے بھی ملاقات کرتے تھے،بعض اوقات مقدمات کا فیصلہ کرتے تھے اورتحفے و ہدیے بھی قبول فرماتے تھے۔ایک بار ایک مسلمان روزے کی حالت میں بیوی ے پاس جانے کی شکایت لے کرآگیا،فرمایا ساٹھ روے رکھو،عرض کی ایک روزے کاحال سن لیا ساٹھ کیسے رکھ پاؤں گا؟؟؟فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلاؤ،عرض کی استطاعت نہیں ہے۔وہ مسلمان مجلس میں بیٹھ گیاکہ اسی اثنامیں ایک شخص کھجوروں کاٹوکرالایااورخدمت اقدسﷺ میں پیش کردیا،فرمایاوہ مسلمان کہاں ہے جس کاروزہ ٹوٹ گیاتھا؟؟؟جی میں ہوں ،فرمایایہ کھجوریں غریبوں میں تقسیم کردو تمہاراکفارہ اداہوجائے گا۔اس نے عرض کی اے ﷲکے رسولﷺاس شہر مدینہ کے دو پتھروں کے درمیان مجھ سے زیادہ غریب اور کوئی نہیں،اس بے ساختہ جواب پرچہرہ انورخوشی سے اس حد تک کھل اٹھاکہ اصحاب خوش بخت نے دندان مبارکہ کی زیارت بھی کر لی تب فرمایا جاؤخود کھاؤ اپنے گھروالوں کو کھلاؤیہی تمہارے روزے کاکفارہ ہے۔بکھرے بال اور میلے کچیلے کپڑے سخت ناپسند تھے ،کوئی اس حالت میں پیش ہوتا تو براہ راست تنقید کی بجائے دوسروں کی طرف رخ انور کرکے تنبیہ فرماتے تھے،جب کبھی گیسوئے مبارکہ دراز ہوجاتے تو جیب میں ایک کنگھی رکھاکرتے تھے،ایک زمانے میں آپ ﷺ کے پاس ہاتھی دانت کی بنی کنگھی بھی رہی۔فجر کے بعد سونااور عشاء کے بعد محفلیں جمانا بہت ناپسند تھا،راستوں میں بیٹھنے سے بھی آ ُپ ﷺ نے منع فرمایا۔ایک صحابی پرندوں کے بچے اٹھالایا تو آپ نے سخت ناپسند فرمایا اور اسے حکم دیا واپس چھوڑ آو۔سادگی ،فقراور درویشی سے آپﷺ کی زندگی عبارت تھی،ایک بارحضرت عمر بن خطاب آپ ﷺ کے حجرہ مبارک میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کھجور کی بنی فرشی چٹائی پر سونے کے باعث کمراقدس پر چٹائی کے نشان کنداں ہیں اور کمرے میں کل تین مٹی کے برتن رکھے ہیں،حضرت عمر آبدیدہ ہو گئے عرض کی روم و ایران کے بادشاہوں کے لیے ریشم اورمخمل کے بچھونے ہوں اور سرکاردوجہاں کے لیے کھجورکی یہ چٹائی؟؟؟فرمایاعمرکیاتم نہیں چاہتے کہ ان کے لیے صرف دنیاکی نعمتیں ہوں اور ہمارے لیے آخرت کی،لیکن اس حالت میں بھی کمرے کی دیوار سے نو (9)تلواریںلٹکی تھیں۔سخاوت کی عادت مزاج مبارک کا لازمی حصہ تھا،باغات کی آمدن سے مسجد نبوی کا صحن بھرجاتاتھا اور کل مال تقسیم فرمادیتے اور گھرجاکر پوچھتے کچھ کھانے کو ہے؟؟ توجواب میں انکارملتاتھااور بھوکے پیٹ سو جاتے تھے۔ مردوں کے لیے سونا،ریشم اورمخمل سے بھی آپﷺ نے منع فرمایا۔رات عشاء کے بعد جلد سوجانے کے عادی تھے اور سونے سے پہلے قرآن مجید کی کچھ آیات کی تلاوت کر کے سوتے تھے جن میں چاروں قل اور آیت الکرسی کی روایات بہت ملتی ہیں۔اﷲ تعالی ہمیں بھی معمولات نبوی عطا فرمائے ،آمین۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...