ٹرمپ فلسطینیوں کو غزہ سے جبری بیدخل کرکے کن 3 ممالک میں بھیجیں گے؛ نام سامنے آگئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے لیے 3 ممکنہ ممالک کا انتخاب کیا ہے۔

جے پور (یو این آئی) راجستھان کانگریس کے سابق صدر اور سینئر لیڈر سچن پائلٹ نے گزشتہ ایک سال میں ریاستی حکومت کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام میں غصہ ہے اور ایوان کے اندر ہم حکومت سے جواب طلب کریں گے۔

واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتیوں کو ڈی پورٹ کرنا شروع کر دیا۔

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ پر قبضے اور وہاں سے فلسطینیوں کو جبری طور پر بیدخل کرنے کے اپنے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور آبائی سرزمین سے زبردستی نکال کر مراکش، صومالی لینڈ اور پنٹ لینڈ بھیجنا چاہتے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ صرف روایتی بیان نہیں بلکہ پہلے سے تیار کردہ منصوبہ ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ فلسطینی عارضی طور پر غزہ سے نکل جائیں تاکہ غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کا کام کیا جا سکے۔
دوسری جانب خود امریکی سیاست دانوں کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پالیسی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے اور اسے نسلی بنیادوں پر کیا گیا امتیازی سلوک قرار دیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے بھی ٹرمپ کے اس اقدام کو فلسیطینیوں کی نسل کشی کے مترادف قرار دیا ہے۔
راجستھان حکومت کے فیصلوں سے عوام ناراض: سچن پائلٹ
مسٹر سچن پائلٹ نے جمعرات کے روز اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے ایک سال مکمل کر لیا ہے۔ اس دوران حکومت کی طرف سے کئے گئے فیصلوں سے عوام میں غصہ ہے۔ ریاستی حکومت نے ان اضلاع کو ختم کر دیا ہے جو پچھلی بار بنائے گئے تھے۔ اس کی وجہ سے بھی عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایوان کے اندر ان تمام معاملات پر حکومت سے جواب طلب کریں گے۔ ہم عوام کے مسائل کو بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے۔
مسٹر سچن پائلٹ نے کہا کہ یہ حکومت پوری طرح سے الجھن میں ہے۔ ریاستی حکومت کے وزیر کا کہنا ہے کہ وہ بھرتی کو منسوخ کر دیں گے۔ حکومت کہتی ہے کہ اسے منسوخ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کے اندر ڈیڈ لاک کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔ اس حوالے سے واضح پالیسی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اتنے مہینے ہوچکے ہیں اس کو التوا میں رکھا ہوا ہے۔ سب انسپکٹرز کی بھرتی ہو یا کوئی اور امتحان، اس میں بے یقینی اور عدم فیصلہ کی کیفیت عوام میں کنفیوژن پیدا کرتی ہے۔مسٹر سچن پائلٹ نے کہا کہ ریاستی حکومت میں اختیار کے متعدد مراکز بنائے گئے ہیں۔ وزیر کچھ کہتے ہیں، حکومت کچھ کہتی ہے اور اس بیچ عوام پھنسے ہوئے ہیں۔ ریاستی حکومت اپنی پالیسی واضح کرے۔
امریکا سے غیرقانونی مقیم 104 بھارتی ہتھکڑیاں لگا کر ڈی پورٹ
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا میں غیرقانونی مقیم 104 بھارتی شہریوں کوہتھکڑیاں لگر کر ڈی پورٹ کردیا گیا۔ امریکی فوجی طیارہ غیرقانونی مقیم بھارتی شہریوں کولیکر امرتسر پہنچ گیا۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک بدر ہونے والے 104 بھارتی شہریوں کا تعلق پنجاب، گجرات اور مہاراشٹر سے ہے۔
رپورٹس کے مطابق غیرقانونی تارکین وطن کی بھارت منتقلی کی پرواز سب سے طویل ترین تھی۔
ملک بدرکیے جانے والے تمام بھارتی شہریوں کی مکمل تصدیق کی گئی ہے، رپورٹس کے مطابق امریکا میں تقریباً 7 لاکھ 25 ہزار بھارتی تارکین وطن غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں، جو غیر قانونی تارکین وطن کی تیسری بڑی تعداد ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے، اس وقت بھارت سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کا عمل جاری ہے۔
امریکا میں غیر دستاویزی تارکین وطن کی تعداد تقریباً 11 ملین (ایک کروڑ دس لاکھ) ہے، ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ جب وہ دوبارہ منتخب ہوں گے تو امریکی تاریخ میں ملک بدری کا سب سے بڑا آپریشن شروع کریں گے۔
ٹرمپ کا غزہ میں امریکی فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں، وائٹ ہاؤس
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں غیر قانونی ہندوستانی تارکین وطن کی مزید کھیپوں کی واپسی کی توقع ہے۔