دہلی میں پانچ بجے تک 57.70 فیصد ووٹنگ
نئی دہلی (یو این آئی) دہلی اسمبلی انتخابات 2025 کے پرامن ووٹنگ کے درمیان، اوسطاً 57.70 فیصد رائے دہندگان نے 17.00 بجے تک اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا مجموعی طور پر قومی راجدھانی میں صبح سے ہی پرامن طریقے سے ووٹنگ جاری ہے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر، مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری، بی جے پی دہلی یونٹ کے صدر وریندر سچدیوا، وزیر اعلیٰ آتشی اور ان کے پیشرو اروند کیجریوال نے آج ای وی ایم کا بٹن دباکر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ۔ کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی اپنا ووٹ ڈالا۔ الیکشن کمشنر ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو، آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی، دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر وجے دیو اور دہلی پولیس کمشنر سنجے اروڑہ نے بھی اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کیا۔
امریکہ کے مختلف شہروں میں امدادی ادارے یو ایس ایڈ کی بندش اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ احکامات بشمول امیگریشن، ٹرانسجینڈر کے حقوق اور فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے خلاف مظاہرے ہوئے۔
ممبئی5 فروری (یو این آئی ) شیوسینا اور بی جے پی کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ دریں اثنا شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے دعوی کیا ہے کہ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی ایکناتھ شندے وزیر اعلی نہ بنائے جانے کے صدمے سے ابتک باہر نہیں آ پا رہے ہیں۔ سنجے راوت نے دعویٰ کیا کہ یہ بات انہیں خود شندے سینا کے ایک ایم ایل اے نے بتائی تھی۔

ووٹنگ کے دوران، کالکاجی اسمبلی حلقہ کے ماڑی پور میں ایک پولنگ بوتھ پر وی وی پی اے ٹی میں خرابی کی وجہ سے ووٹنگ کا عمل تقریباً 15 منٹ تک روک دیا گیا۔ کالکاجی اسمبلی سیٹ سے کانگریس کی امیدوار الکا لامبا نے اس پولنگ بوتھ پر اپنا ووٹ ڈالا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سیلم پور میں مسلم خواتین پر برقعہ پہن کر جعلی ووٹ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔ اس معاملے پر بی جے پی کارکنوں نے ہنگامہ کیا۔ اس کے علاوہ کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ہے۔
دہلی پولیس نے عام آدمی پارٹی (آپ) کے ممبر اسمبلی اور اوکھلا اسمبلی حلقے سے امیدوار امانت اللہ خان کے خلاف جامعہ نگر پولیس اسٹیشن میں ماڈل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا ہے۔الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق شام 17.00 بجے تک ضلع کے لحاظ سے سب سے زیادہ شمال مشرقی دہلی میں 63.83 فیصد ووٹنگ ہوئی، جب کہ جنوبی دہلی میں 53.77 فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالا۔
امریکی ریاستوں میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور یو ایس ایڈ کی بندش کے خلاف مظاہرے
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق فلاڈیلفیا، کیلیفورنیا، مشیگن، ٹیکساس، وسکانسن، انڈیانا سمیت دیگر ریاستوں میں بھی مظاہرین نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ریلی نکالی
مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر امیر ترین شخص ایلون مسک اور ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے تیار کردہ سیاسی تجاویز پر مشتمل ’پراجیکٹ 2025‘ کی مخالفت میں الفاظ درج تھے۔
پروجیکٹ 2025 دراصل وفاقی حکومت کو نئی شکل دینے اور دائیں بازو کی پالیسیوں کے حق میں ایگزیکٹو کے اختیارات پر سے کسی قسم کے چیکس ہٹانے کا ایک سیاسی اقدام ہے۔
دارالحکومت واشنگٹن میں، ڈیموکریٹک قانون سازوں اور سینکڑوں دیگر افراد نے کیپیٹل ہل کے باہر امریکی امدادی ادارے یو ایس ایڈ کو بند کرنے کے احکامات کے خلاف احتجاج کیا۔
مظاہرے میں شامل ڈیموکریٹ رکن کانگریس سارہ جیکبز نے کہا یو ایس ایڈ کو بند کے کے اقدامات کے حوالے سے کہا ’یہ غیر قانونی ہے اور یہ بغاوت ہے۔‘
احتجاجی ریلی سے خطاب میں ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وان ہالن نے صدر ٹرمپ، ان کے حمایتی ایلون مسک اور یو ایس ایڈ کی بندش کے خلاف اقدامات پر تنقید کی۔
کیپیٹل ہل کے باہر مظاہرین نے صدر ٹرمپ کو جیل میں ڈالنے کے حوالے سے ’اس کو لاک کرو‘ کے نعرے لگائے۔
ریاست اوہائیو میں مظاہرے میں شامل خاتون مارگریٹ ولمت نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’گزشتہ دو ہفتوں میں جمہوریت کے حوالے سے ہونے والی تبدیلیوں پر میں شدید غصے میں ہوں لیکن یہ سب دراصل بہت پہلے سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ میں اس کے خلاف مزاحمت میں اپنا حصہ ڈالنے آئی ہوں۔‘
امریکی ریاستوں میں ہونے والے مظاہرے سوشل میڈیا پر چلنے والی تحریک کے نتیجے میں منعقد ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر مزاحمت کی ترغیب دینے اور 50501 کے نام سے ہیش ٹیگز کے تحت تحریک چلائی گئی تھی جس میں امریکی شہریوں کو تمام 50 ریاستوں میں ایک ہی دن میں 50 مظاہرے کرنے کا کہا گیا تھا۔
مختلف ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ’فاشزم کو مسترد کریں‘ اور ’ہماری جمہوریت کا دفاع‘ کے پیغامات کے ساتھ شہریوں کو صدر ٹرمپ کے احکامات کے خلاف مزاحمت کرنے کا کہا گیا ہے۔
ریاست مشیگن کے دارالحکومت لینسنگ میں سینکڑوں افراد انتہائی سردی میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے سڑکوں پر نکلے۔
مظاہرے میں شامل کیٹی میگلیٹی نامی خاتون نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک کو محکمہ خزانہ کے ڈیٹا تک ملنے والی رسائی انتہائی تشویشناک ہے، ’اگر ہم نے یہ سب نہیں روکا اور کانگریس کو ایکشن لینے پر مجبور نہیں کیا تو یہ جمہوریت پر حملہ ہوگا۔‘
اکثر مظاہرین نے ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی اور اس کے سربراہ ایلون مسک کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
مظاہرین نے ایلون مسک کو شہریوں کے ذاتی ڈیٹا اور سوشل سکیورٹی سے متعلق معلومات تک دی گئی رسائی پر تنقید کی۔
کانگریس اراکین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی کی حکومت کے ادائیگیوں کے نظام میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے اور کہا ہے کہ اس سے سکیورٹی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی منصب سنبھالتے ساتھ ہی تجارت، امیگریشن، ماحولیاتی تبدیلیوں اور دیگر معاملات پر صدارتی حکمنامے جاری کیے جن کے خلاف اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے بھرپور آواز اٹھائی ہے اور اس کے ساتھ ہی مظاہروں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مینیسوٹا شہر میں بھی ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے احتجاجی ریلی میں شرکت کی۔ مظاہرے میں شامل 28 سالہ ہیلی پارٹن کا کہنا تھا کہ وہ اس خوف کے باعث باہر نکلی ہیں کہ ’اگر ہم سب نے کچھ نہ کیا تو ہمارے ملک کے ساتھ کیا ہو گا۔‘
صدر ٹرمپ کے احکامات کے بعد یو ایس ایڈ کے زیادہ تر اخراجات کو منجمد کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے اور ادارے کے واشنگٹن میں ہیڈ کوارٹر سے زیادہ تر اہلکاروں کو ملازمت سے ہٹا دیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت ہزاروں کی تعداد کے عملے اور ان کے اہل خانہ کی اچانک منتقلی کا انتظام اور اس کی ادائیگی کیسے کرے گی۔
شندے کو وزیر اعلی نہ بنائے جانےکااب بھی صدمہ: راوت
انہوں نے دریافت کیا کہ وزیراعلی دیویندر فڑنویس وزیراعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ ورشا کیوں نہیں جا رہے ہیں؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ورشا کو منہدم کرکے وہاں نیا بنگلہ بنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔سنجے راوت نے کہا کہ پچھلے 2.5 سالوں کے دوران اس وقت کے وزیراعلی شندے اور فڑنویس کے درمیان اختلافات دو سمتوں میں تھے۔ اب فڑنویس اس کا بدلہ لے رہے ہیں۔ ایم ایل اے نے کہا کہ شندے دل شکستہ ہو چکے ہیں۔
سنجے راوت نے مزید کہا کہ ایم ایل اے نے انہیں بتایا کہ امت شاہ نے وعدہ کیا تھا کہ 2024 کے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے بعد شندے دوبارہ وزیر اعلیٰ بنیں گے اور ان سے انتخابات میں پیسہ خرچ کرنے کو کہا تھا لیکن نتائج کے بعد امت شاہ نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا۔راوت نے کہا کہ ایم ایل اے نے انہیں بتایا کہ شندے کو یقین ہے کہ ان کے اور ان کے لوگوں کے فون ٹیپ کیے جا رہے ہیں اور انہیں شبہ ہے کہ دہلی کی تفتیشی ایجنسیاں ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
سنجے راوت نے شیو سینا (یو بی ٹی) کے ترجمان سامنا میں اپنے ہفتہ وار کالم روک ٹھوک میں اس کا انکشاف کیا۔ راوت نے کہا کہ مہاراشٹر میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو بھاری اکثریت ملنے کے باوجود، ریاست آگے بڑھتی نظر نہیں آ رہی ہے، جس کی وجہ سی ایم فڑنویس اور ڈی سی ایم شندے کے درمیان دراڑ ہے۔ فڑنویس کا ماننا ہے کہ شندے ابھی تک وزیر اعلیٰ نہ بنائے جانے کے صدمے سے ٹھیک نہیں ہوئے ہیں اور ایک بار پھر وزیر اعلیٰ بننے کے لیے بے چین ہیں۔
شیو سینا کے ترجمان راوت نے کہا کہ شیو سینا کے ایم ایل اے شندے نے ان سے فلائٹ میں ملاقات کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ امیت شاہ نے شندے سے کہا تھا کہ ہم آپ کی قیادت میں الیکشن لڑیں گے اور 2024 کے بعد آپ دوبارہ وزیر اعلیٰ بنیں گے، فکر نہ کریں۔ شاہ نے یہ وعدہ کیا تھا اور شندے سے انتخابات پر خرچ کرنے کو کہا تھا۔ شندے نے انتخابات میں بہت پیسہ لگایا، لیکن شاہ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور شندے کو لگتا ہے کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔
راوت نے شندے کے شیوسینا ایم ایل اے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا۔ اس ایم ایل اے کی طرف سے دی گئی معلومات اہم ہیں۔گزشتہ سال نومبر میں شندے کے قریبی شیو سینا لیڈر نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا تھا کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ اگر مہایوتی نے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو شندے ریاست کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ لیڈر نے کہا تھا کہ لوک سبھا انتخابات میں مہایوتی کی شکست کے بعد اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی تیار کرنے کے لئے کئی میٹنگیں کی گئیں۔ ان میٹنگوں میں یہ طے کیا گیا تھا کہ بی جے پی زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر مقابلہ کرے گی، اس کے بعد شیو سینا اور این سی پی، لیکن لیڈر نے کہا تھا کہ چاہے مہایوتی کے حلقے کتنی ہی سیٹیں جیتیں، اگر مہایوتی کو واضح اکثریت مل جاتی ہے، تو شندے ہی وزیر اعلیٰ رہیں گے۔