Thursday, 6 February 2025

*🛑دیار ادیب ادبی پوسٹ**سیف نیوز اردو**یہ شہر اور، شہر کی یہ مسلم بستیاں* *🔴سعید حمید ممبئی اردو ٹائمز* *افسانہ :- آس* *🔴نور الدین نور سر**ادبی محفل* *⚫بالاشتراک :زندہ دلان مالیگاؤں* *غزل* *🔴فیضان رضا مالیگاؤں**🛑انتخاب و رابطہ ....... احمد نعیم .....موت ڈاٹ کام بھارت**🛑اس صفحے پر روزآنہ متفرق ادبی مواد شائع کیے جاتے ہیں۔۔۔۔ آپ بھی اپنی تخلیقات اِس نمبر پر واٹساپ کرسکتے ہیں**9273946747**Saif news*



یہ شہر ، اور شہر کی یہ مسلم بستیاں 

تکلف برطرف : سعید حمید 

ممبئی شہر اس ملک کی معاشی راجدھانی ہے ۔
ملک بھر کی تمام ریاستوں سے شہری اس شہر کی طرف کھنچے کھنچے چلے آتے ہیں ۔ 
جب ممبئی شہر کا نام بامبے تھا ، 
اور یہ سات جزیروں کا شہر کہلایا جاتا تھا ، 
تب سے آج تک یہ شہر پورے ملک سے لوگوں کو اپنی جانب کھینچتا چلا آرہا ہے ۔
اس شہر میں کشش ہے ؛
وہ یہ کہ یہاں ہر کسی کو روزگار مل سکتا ہے ، اور سر چھپانے کیلئے جگہ مل سکتی ہے ۔
ممبئی شہر میں ہر دور میں پھلنے پھولنے والی جھونپڑ پٹیوں نے یہاں آنے والے غریب 
عوام کی رہائش کا مسئلہ حل کیا ہے ۔
اسلئے ، ممبئی شہر ایک طرح سے جھوپڑا بستیوں کا شہر بن گیا ۔
ممبئی کے دروازے یوں تو ہر کسی کیلئے کھلے ہیںلیکن یہاں ایک چھت حاصل کرلینا 
کوئی آسان کام نہیں ہے ، بڑھتی آبادی کے ساتھ ساتھ اس شہر میں زمین جائداد کے دام بھی 
بڑھتے رہے ہیں ، لیکن شہر کو بھی مزدوروں اور محنت کش عوام کی ضرورت ہے ، 
جن کی بڑی تعداد غریب ہو اکرتی ہے ، 
اسلئے غریبوںکو سرچھپانے کیلئے جھوپڑ پٹیوں میں جگہ ملتی ہے ۔
ممبئی کی آبادی جس تیز رفتار سے بڑھتی رہی ہے ، اسی طرح یہاں جھوپڑا بستیاں بھی 
بڑھتی اور پھیلتی رہی ہیں ، کہ آج ممبئی شہر کو سلم سٹی ،
یا جھونپڑا بستیوں کا شہر کہا جا سکتا ہے کہ یہاں 55-60 % آبادی جھونپڑا بستیوں میں 
گذر بسر کرتی ہے ۔
ایک زمانہ میںدھاراوی اس شہر کی سب سے بڑی جھونپڑا بستی تھی ،
جس کے ڈیولپمنٹ کے کئی منصوبے بنے اور آج اڈانی گروپ نے اس علاقے کے 
ری ڈیولپمنٹ کا ٹھیکہ حاصل کرلیا ہے ۔
لیکن دھاراوی کو کچھ نئی بستیوں نے پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔
شہر میں نئی اور بڑی جھونپڑا بستیاں وجود میں آئی ہیں ۔
شہر کی یہ جھوپڑا بستیاں ہی اقلیتی طبقات کی بڑی بستیاں ہیں ، یعنی مسلم اور بدھسٹ ، 
شہر کی جھونپڑ پٹیوں میں ان دونوں بڑے اقلیتی طبقات ، یعنی مسلم اور بدھسٹ 
سے متعلق افراد گزر بسر کرتے ہیں ۔
اس حقیقت سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ بھارت کے اس سب سے امیر شہر میںبھی 
القتی طبقات کے افراد جانوروں سے بدتر حالات میں زندگی بسر کرنے پرمجبور ہیں۔
جی ہاں !! جھونپڑا بستیوں میں جو لوگ رہتے ہیں ، 
وہ مجبوری میں ہی رہتے ہیں ، کیونکہ وہ اس مہنگے شہر میں زیادہ کرایہ دینے کی حیثیت نہیںرکھتے ۔
ان شہری غریبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ، 
کیونکہ اس شہر میں بڑی بڑی جھونپڑا بستیاں وہی ہیں ، جو مسلم اکثریتی آبادی 
کے طور پر پہچانی جاتی ہیں ۔
اقلیتی کمیشن کی معرفت ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائینسز نے ایک سروے کیا تھا ۔
جن اقلیتی علاقوں کا سروے کیا گیا وہ درج ذیل تھے : 
(۱) جری مری ، کرلا (۲) مانخورد (۳) مالونی (۴) گونڈی 
(۵) اورلیم ، ملاڈ (۶) مدنپورہ  
ان بستیوں کے سروے میں کہا گیا کہ ایک زمانے میں دھاروی کو ایشیا اور شہر کا سب سے
بڑا سلم ایریا ( جھونپڑا بستی علاقہ ) کہا جاتا تھا ، لیکن ان متذکرہ اقلیتی بستیوں 
میں سے تین علاقے ( بستیاں ) ایسے ہیں جنہوں نے سلم یا جھونپڑا بستی ہونے کے معاملہ 
میں دھاراوی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔
 ممبئی میں دو بڑے جھونپڑا بستیوں کے پٹے (BELT )عالم وجود میں آئے ہیں ۔
(۱) مانخورد سے گونڈی ، چمبور مغرب میں ۔
(۲) کرلا ۔ گھاٹکوپر بیلٹ ۔

سروے میں دیونار ڈمپنگ گروأنڈ سے لگ کر بسنے والی بستی گونڈی کو شہر کا سب سے 
غریب تریں علاقہ بتایا گیا اور کہا گیا کہ اس علاقے میں ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس 
شہر بھر میں سب سے کم تر ہے ۔
اس علاقے میں کم خوراکی، یا خراب غذائیت (MAL NUTRITION ) کی شرح
اور اس سے ہونے والی بیماریوں اور اموات کی شرح بھی شہر بھر میں سب سے زیادہ ہے ۔
یہ بھی مسلم اکثریتی آبادی ہے ، یہاں کے باشندوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔
شہر بھر کا کچرا اس بستی کے پڑوس میں ڈمپ کیا جاتا ہے ۔
اور اس مسلم اکثریتی بستی کو شہر کا کوڑا دان بنا دیا گیا ہے ۔
یہاں کی فضا ء میں میڈیکل ویسٹ (MEDICAL - WASTE )  
کو جلا کر زہر گھولا جا رہا ہے ، یا کہ پورے علاقہ کو گیس چمبر میں تبدیل کیا جا رہا ہے ۔
غریب مسلمانوں کی اکثریت یہاں گذر بسر کیلئے مجبور ہے ، 
کیونکہ دیگر علاقوں کی بہ نسبت یہاں مکانات ، دوکانوں کی قیمتیں یا کرائے بھی 
بہت کم ہیں ۔
 اس سروے میں کرلا ، کا ذکر کیا گیا ، 
اس علاقے میں بھی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے ، شہر میں ہیومن ڈیولپمنٹ 
انڈیکس میں کرلا ، جری مری ، کا۲۳ واں درجہ بتایا جاتا ہے ۔اور یہ علاقہ انتہائی گنجان 
آبادی والا علاقہ ہے ۔
یہاں مسلمان اور بدھسٹ ، یہ دو اہم طبقات ہیں ، جن کی بڑی بڑی بستیاں یہاں موجود ہیں ۔
مہاراشٹر حکومت سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بدھسٹوں کو بھی اقلیتی درجہ دیا ہے ،
اس لحاظ سے کرلا ، اقلیتوں کی اکثریت والا علاقہ کہا جا سکتا ہے ۔
یہاں کے سروے میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ کرلا کو بی ایم سی ریکارڈ میں 
ایسا علاقہ بتایا گیا ہے جہاں پانی کی چوری کے کیس شہر میں سب سے زیادہ ہوئے ہیں ۔
اس علاقہ کے مکینوں کو پبلک ٹوائیلیٹ کی سہولیات میسر ہیں ، 
اسلئے کھلے عام رفع حاجت کے واقعات یہاں نہیں ہیں ، البتہ یہاں کی پبلک ٹوائیلیٹ 

میں پانی کی قلت ، یا بجلی نہیں ہونے کی شکایات کی جاتی ہیں ۔
اس علاقہ میں کوڑا کچرا ، اور صاف صفائی کے فقدان کے بڑے مسائل ہیں ، یہ بات سروے 
میں سامنے آئی ہے ، شکایات یہ ہے کہ کوڑا ، کچرا اور صاف صفائی کے انتظامات 
اس علاقے میں ناکافی ہیں ۔ 
اس سروے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ممبئی جیسے عالمی درجہ کے شہر میں بھی سلم بستیوں 
یا مسلم بستیوں میں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں ، اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے 
کہ شہر کے بڑے سلم ایریا ز میں آباد مسلمانوں کی اکثریت 
اس شہر میں دوسرے درجہ کے شہریوں کی طرح زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔
سچر کمیٹی رپورٹ ، مشرا کمیشن رپورٹ ، اقلیتی کمیشن رپورٹ ، ڈاکٹر محمود الرحمان کمیشن رپورٹ ،
بس کمیٹیاں اور کمیشن ہی ہیں ، جن کی رپورٹس میں یہاں کی بستیوں اور ان کے مصائب کا ذکر
خوب ہوتا ہے ، لیکن ان کے حالات جوں کے توں رہتے ہیں ،
ان میں کوئی تبدیلی نہیں نظرآتی ہے ، ایسا کیوں ؟
__________
افسانہ *آس* 
قلمکار :- نورالدین نور (مالیگاؤں ، مہاراشٹر ،انڈیا) 

آپ آگۓ! کیسا رہا جی آپکا انٹرویو ؟؟ جیسے ہی حسن گھر میں داخل ہوا اسکی رفیقہ حیات نمرا نے سوال کیا - تھکا ماندہ حسن اپنی وفا شعار بیوی کے لبوں پر رقص کرتی مسکراہٹ میں کھو گیا - کچھ توقف کے بعد پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ، ہممم اچھا ہی رہا، انہوں نے کہا ہے کہ وہ رابطہ کریں گے - ابھی اور بھی امیدوار انٹرویو کیلئے باقی ہیں - کہتے ہوئے وہ پاس رکھی نیم خستہ حال کرسی پر ڈھیر ہوگیا‫ - آنکھیں موند کر اپنی اکھڑی سانسیں درست کرنے لگا - بچّے اسکول سے نہیں آۓ ابھی ؟ اس نے پوچھا ، وقت ہو چلا ہے آتے ہی ہوں گے کہتے ہوئے نمرا نے اسے شربت کا گلاس تھما دیا - اس نے مسکراتی ہوئی نگاہوں سے اپنی بیوی کی ستائش کی اور شربت پینے لگا - شربت کے ہر ایک گھونٹ کے ساتھ تلخ غموں کو یکے بعد دیگرے نگلتا رہا - نمرا باورچی خانے میں مصروف ہوگئی اور وہ تصورات کی وادی میں کھو گیا‫ - صبح کے انٹرویو کی یادوں نے شربت کے ذائقہ میں تلخی گھول دی تھی - شربت ختم کرکے اس نے گلاس میز پر رکھا اور چند ساعتوں میں ہی وہ کرسی پر بیٹھے ہوئے ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا - 
   حسن معاشی طور پر ایک نچلے درمیانی طبقے کا فرد تھا - شریف النفس تھا ، عمر تقریباً 36 سال ، آنکھوں پر عینک جازب نظر لگتی تھی - متانت و سنجیدگی ہمہ وقت چہرے سے جھلکتی تھی - متناسب و پرکشش داڑھی جسمیں سیاہ و سفید بالوں کا سنگم ، کانوں کے اطراف ہلکی سی چاندنی اور جھکے ہوئے شانے اسکی بڑھتی عمر کی چغلی کھاتے تھے - یوں وہ اپنی عمر سے زیادہ کا دکھائی دیتا تھا - اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشے سے معلم تھا - گزشتہ 9 برسوں سے مختلف نجی اسکولوں میں خدمات انجام دیتا چلا آرہا تھا - محلے کے معتبر افراد میں اسکا شمار ہوتا تھا - معاملات کے حل کا وہ ایک ایسا دریا تھا جس سے لوگ خوب فیض اٹھاتے تھے - 
          بچوں کی اسکول سے واپسی اور سلام کی آواز پر خوابیدہ حسن بیدار ہوا- بچے ہی اسکی کل دولت تھے - بیٹی شمائلہ ہفتم جماعت میں تھی اور بیٹا انذر جماعت چہارم میں تھا - دونوں بچے سرکاری اسکول میں زیرتعلیم تھے - اس نے بیدار ہوتے ہی برجوش انداز میں بچوں کے سلام کا جواب دیا - انھیں گلے دے لگا کر دعائیں دیں - وہ جب بھی اپنے بچوں کے معصوم چمکتے دمکتے چہروں کو دیکھتا تو یکسر اپنے سارے غم بھول جاتا تھا - سورج شفق کی لالی کو سپرد آسماں کر کے مغرب کی سنگلاخ پہاڑیوں میں غائب ہو چکا تھا - کچھ دیر بعد موذن صاحب کی صداۓ اللہ اکبر سے سماں گونج اٹھا - وہ فوراً اپنا حلیہ درست کرکے انذر کو اپنے ہمراہ لیۓ تیز قدموں سے مسجد کی جانب روانہ ہوا- فرض نماز کے بعد وہ طویل دعا میں مصروف رہا ، اسکی نیم روشن آنکھیں نمناک تھیں - دعا ختم کرکے ایک یقین کے ساتھ سنت نماز ادا کرنے کیلئے کھڑا ہوگیا - اچانک ہی وہ غش کھا کر کٹی پتنگ کی مانند لہرا کر گر پڑا - بغل میں ہی محلے کے دستگیر چاچا کا جواں سال بیٹا فارق تسبیح میں مشغول تھا - حسن فارق کے شانوں پر ہی گرا تھا اسی وجہ سے اسے زیادہ چوٹ نہ آئی - فارق نے اسے سنبھال کر لٹا دیا اور اسکے بدن کو جنبش دیتے ہوئے تشویش بھرے لہجے میں پکارا ، کیا ہوا حسن بھائی ؟وہ تو حواس سے بیگانہ ہوا جارہا تھا اسے فارق کی آواز دور سے آتی ہوئی معلوم ہوئی - تھوڑی دیر میں وہ مکمل بے ہوش ہوچکا تھا - گرنے کی آواز اور فارق کی پکار سن دوسرے مصلیان بھی جمع ہوگئے - دستگیر چاچا بھی نماز سے فارغ ہوچکے تھے فوراً جائے وقوعہ پر پہنچے - چند افراد اٹھا کر اسے مسجد سے باہر لے آۓ اور آٹو رکشا کے ذریعے قریب کے اسپتال لیجایا گیا - تھوڑے علاج و معالجے کے بعداسے ہوش آیا - خود کو اجنبی جگہ پاکر ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا - دستگیر چاچا نے فوراً تھام لیا اور دوبارہ لٹادیا - نرمی سے کہا لیٹے رہو بیٹا ، اب کیسا لگ رہا ہے تمھیں ؟ اس نے چاچا کے سوال کو نظر انداز کر کے پوچھا ، میں یہاں کیسے آپہنچا ؟میں تو مسجد.... اور انذر کہاں ہے ؟ دستگیر چاچا اور فارق نے واقعہ بتایا - کچھ دیر رک کر دستگیر چاچا نے پوچھا ، کیا بات ہے حسن ابھی تو کچھ خاص عمر بھی نہیں اور تمھیں یوں غش آنے لگے ؟ اسکے کے چہرے پر کئی رنگ آکر گزر گۓ - ہونٹ کپکپا کر رہ گئے-مگر الفاظ ندارد ہاں آنکھوں نے بہت کچھ کہہ دیا - دو باریک سی نہریں آنکھوں سے نکل کر رخساروں کے نشیب وفراز سے گزرتی ہوئی قمیص کے کالر میں جذب ہو گئیں - چاچا نے مزید کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا - وہ کچھ سوچنے لگے پھراسکی کی جانب متوجہ ہوۓ تو اسکی آنکھوں میں التجا اور چہرے پر کئی سوالات نظر آۓ - چاچا نے کہا کوئی کی خاص بات نہیں ہے بیٹا ڈاکٹر نے کہا ہے تمھیں آرام کرنے کی ضرورت ہے - نرس نے ڈاکٹر کے آنے کی اطلاع دی - دستگیر چاچا دیر تک ڈاکٹر کی کیبن میں مصروف رہے - باہر نکلے تو پیشانی پر گہری تشویش کے آثار تھے- یہی سوال بار بار ذہن میں اٹھتا کہ آخر نروس بریک ڈاون کیوں ہوا ؟حسن کو کیا صدمہ ہوا ہے ؟؟؟
اسی ادھیڑ بن میں حسن کو ڈسچارج کرواکر گھر لے آۓ تھے - حالانکہ فارق نے اطلاع دے دی تھی کہ حسن بالکل ٹھیک ہے مگر جب تک وہ گھر نہیں پہنچا وہ بے قرار رہی - چند گھنٹے اسے صدیوں کی مانند لگے - رات گہری ہوتی جارہی تھی - چاند اپنے پورے شباب پر تھا - اپنے شوہر کو دیکھتے ہی نمرا کا چہرا دودھیا چاندنی میں چاند سے بھی زیادہ روشن ہو گیا - حسن کو گھر میں پہنچا کر دستگیر چاچا نے اسے زیادہ سے زیادہ آرام کرنے اور سخت غم و غصہ سے بچنے کا مشورہ دیا - اور اپنے گھر روانہ ہوگئے - 

رات خیریت سے گزری - دواؤں کے زیراثر وہ دیر تک سوتا رہا - دن چڑھے بیدار ہوا تو بچے اسکول جاچکے تھے - ناشتہ کے بعد نمرا نے اسکے آگے اخبار رکھ دیا اور ایک اشتہار کی جانب مسکراتے ہوئے اشارہ کیا - 
جلی حروف میں لکھا تھا 
*فوری ضرورت استاذ*

سن رائز ہائی اسکول میں ایک قابل اور تجربہ کار استاز کی ضرورت ہے - امیدوار کا انگریزی زبان و ادب اور گرامر سکھانے میں ماہر ہونا لازمی ہے 
مکمل سرکاری اسامی*

*نوٹ :- قابلیت اور تجربہ کو ترجیع دی جائے گی*

اشتہار پڑھتے ہی اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا - وہ تصورات کے لامتناہی سمندر کی گہرائی میں غرق ہوگیا - گزشتہ روز امداد قوم ہائی اسکول کے انٹرویو کی ایک فلم اسکے تصورات میں چلنے لگی - اپنے چہیتے اساتذہ کو انٹرویو لینے والی ٹیم میں دیکھ کر وہ کتنا خوش ہوا تھا - انہوں نے ہمیشہ ایمانداری اور جفاکشی کا درس سکھایا تھا - مگر - انٹرویو کے وقت دستاویزات کی فائل ایک جانب رکھ کر بس ایک ہی سوال پوچھا تھا - آپ کتنا دے سکتے ہیں؟ وہ تو سکتے کی حالت میں استاذ محترم کو بس دیکھتا رہ گیا تھا - اسے خاموش دیکھ کر ان میں سے ایک نے کہا ، دیکھۓ حسن سر آپ اگر دس لاکھ دے سکتے ہیں تو ٹھیک ہے- آپکی قابلیت کو دیکھ کر چئرمین صاحب راضی ہوگئے ورنہ کئی امیدوار اس سے زیادہ پر بھی تیار ہیں -وہ ابتداء سے ہی خاموش تھا - بنا کچھ کہے اپنی دستاویزات کی فائل اٹھائی اور ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح بوجھل قدموں آفس سے نکل آیا تھا اور گھر آتے ہی دستاویزات کی فائل کوڑے دان میں پھنک دی تھی - وہ تصورات میں کھویا ہوا تھا اچانک زور سے بولنے لگا ، نہیں سر ، میں نہیں دے سکتا ، کہاں میری ماہانہ دس ہزار تنخواہ اور کہاں دس لاکھ، ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا - اسکے ہذیانی قہقہے بلند ہوۓ - اچانک بالکل خاموش ہوگیا پھر بولا ، سر یہ آپ کہہ رہے ہیں - آپ تو- نہیں - مگر کیسے - ہاں ہاں آج کل تو سبھی کے ہاتھ میز کے نیچے دراز ہوتے ہیں بیچارے معزز افراد علی الاعلان تو کہہ نہیں سکتے - قابلیت ، ایمانداری ، جفاکشی سب کتابی باتیں ہو کر رہ گئی ہیں-اسکی تیز آواز سن کر نمرا دوڑتی ہوئی آئی ، کئی آوازیں دیں لیکن وہ اب بھی ہذیانی کیفیت میں ہی تھا - مسلسل کہے جارہا تھا بس اب اور نہیں - بہت ہو چکا اب اور کوئی انٹرویو نہیں دینا- بالکل بھی نہیں- نمرا کا گبھراہٹ کے مارے برا حال تھا اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ کیا کرے - اس نے حسن شانوں کو پکڑ کر زور جھنجھوڑ دیا اور چنیخ پڑی حسن ....- حسن ہذیانی کیفیت سے نکل آیا - سراسیمہ نمرا سامنے کھڑی کانپ رہی تھی - لپک کر اسے بانہوں میں بھر لیا ، کچھ دیر دونوں ایکدوسرے کے شانوں کو بھگوتے رہے اور پھر نارمل ہوگۓ - نمرا باورچی خانے میں چلی گئی - تب ہی بچے اسکول سے لوٹ آۓ - انھیں دیکھ کر حسن کی بانچھیں کھل اٹھیں - بچوں کو گلے سے لگایا اور سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خوب پیار کرتا رہا - کچھ دیر گہری سوچ میں گم رہا پھر آہستہ سے اٹھا اور کوڑے دان کی جانب چل پڑا
_______

ادبی محفل 

گیارہ فروری بروز منگل شب ٹھیک بعد نماز عشاء اسکس ہال قدوائی روڈ مالیگاؤں

بیادگار۔۔۔۔۔ مرحوم ہارون بی اے صاحب

صاحبان اعزاز ۔۔۔۔۔جناب رمضان فیمس صاحب٫ جناب سلیم شہزاد صاحب ٫جناب ڈاکٹر اشفاق انجم صاحب٫ جناب خیال انصاری صاحب٫ جناب نجمی ابن جاوید صاحب٫ جناب ظہیر قدسی صاحب٫ جناب سراج دلار صاحب" جناب مختار یوسفی صاحب٫

صدارت.... جناب غلام مصطفی اثر صدیقی صاحب

مہمانان خصوصی ۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر سعید احمد فیضی صاحب٫ پروفیسر عبدالمجید صدیقی صاحب ٫ جناب ڈاکٹر سعید احمد فارانی صاحب ٫جناب ابھئے نول رائے شاہ ٫ جناب محمد یونس عیسی صاحب ٫ جناب شیداء میرٹھی صاحب ٫ جناب جمیل احمد کرانتی صاحب ٫ الحاج عبدالعزیز مقادم صاحب ٫جناب مولانا نعیم الظفر ملی صاحب٫ جناب مولانا مسعود اشرف صاحب ٫ جناب مولانا مدثر حسین ازہری صاحب ٫ الحاج یوسف نیشنل صاحب ، ایڈوکیٹ عبدالعظیم خان صاحب ٫ وہ جملہ ادبی تنظیموں کے اراکین وہ فنکاران شہر  

زیر اہتمام ... اسکس لائبریری ٹرسٹ

با اشتراک ۔۔۔۔۔ زندہ دلان مالیگاؤں ٫مالیگاؤں آرٹس اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن ٫ سیف نیوز اردو ٫

قرآت ۔۔۔۔۔ جناب قاری زبیر احمد عثمانی صاحب

نظامت ۔۔۔۔جناب رضوان ربانی صاحب

حمد ۔۔۔ جناب صدیقی اکبر صاحب

نعت۔۔۔۔۔ پاک جناب محمد رضا سر صاحب

کچھ ہارون بی اے صاحب سے متعلق ۔۔۔۔۔۔۔۔ جناب مختار جلیل صاحب

 غزل ۔۔۔۔۔جناب شہرروز خاور صاحب

انشائیہ ۔۔۔۔جناب مومن اصف صاحب

افسانہ ۔۔۔۔ جناب شب انصاری صاحب

ادبی مقالہ۔۔۔۔ جناب آصف فیضی صاحب

ہزل منصور اکبر سیف نیوز

رسم شکریہ جناب عثمان غنی اسکس صاحب

باذوق سامعین سے شرکت کی پرخلوص گذارش
_______
نعت

الفاظ نئے، بات کی ترکیب نئی سوچ
مانگ اُن کا کرم نعت کی ترکیب نئی سوچ

یہ راہِ غزل تو نہیں مدحت کی ڈگر ہے
او شاعرا ! اثبات کی ترکیب نئی سوچ

صیاد سے مہلت لے قفس چھوڑ کے آجا
ہرنی سی مناجات کی ترکیب نئی سوچ

لا واقعہ ذہنوں میں خبیب ابنِ عدی کا
چڑھ دار پہ خیرات کی ترکیب نئی سوچ

گریہ تو بہت کر لیا پڑھ اُن پہ درود اب
کچھ اُن سے ملاقات کی ترکیب نئی سوچ

قرآں کی تلاوت کا دیا دل میں جلا کر
شعروں میں کچھ آیات کی ترکیب نئی سوچ

مانگ اُن کے وسیلے سے خدا دیگا برابر
تبدیلئِ حالات کی ترکیب نئی سوچ

یہ اشک تو دے گا ہی ہر اک غم سے خلاصی
اب آنکھوں کے برسات کی ترکیب نئی سوچ

یہ دور ہے جدّت کا مگر قبلِ ثنا تُو
فیضان عنایات کی ترکیب نئی سوچ

🖋️فیضان رضا مالیگاؤں

_____

*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...