Tuesday, 4 February 2025

*🛑دیار ادیب ادبی پوسٹ**سیف نیوز اردو**رفیعہ شبنم عابدی سے ایک ملاقات نظم و و آج کی ادبی دنیا پہ ایک نگاہ* *🔴فرحان حنیف وارثی ممبئی اردو نیوز* *افسانہ :- نضال* *🔴عظمت اقبال عامری مالیگاؤں**غزل* *🔴ارشد جمال صارم* *غزل* *🔴سلیم سرفراز کلکتہ**🛑انتخاب و رابطہ ....... .....موت ڈاٹ کام بھارت**🛑اس صفحے پر روزآنہ متفرق ادبی مواد شائع کیے جاتے ہیں۔۔۔۔ آپ بھی اپنی تخلیقات اِس نمبر پر واٹساپ کرسکتے ہیں**9273946747**Saif news*



اتوار 25/ دسمبر /2023 کے روزنامہ "ممبئی اردو نیوز "میں ممبئی کے نوجوان قلمکاروں کی باجی اور معیاری، پختہ اور کہنہ مشق شاعرہ ، ادیبہ اور ممبئی یونیورسٹی کی سابق صدر شعبہ اردو ڈاکٹر رفیعہ شبنم عابدی پر ایک اسٹوری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نثری نظم وہ شاعری ہے جس میں نثر کا فطری آہنگ لازمی ہے: رفیعہ شبنم عابدی 

’شعر کہنا، جسے لوگ بہت آسان سمجھتے ہیں ، دراصل برف کی سِلوں پر برہنہ پشت لیٹنے اور شعلے اُگلتی ہوئی گرم ریت پر ننگے پاؤں چلنے کا اذیّت ناک عمل ہے۔‘

فرحان حنیف وارثی 

ابھی حال ہی میں رفیعہ باجی کی دو تصانیف موصول ہوئیں ۔شعری مجموعہ ’ کوئی سوال رہ گیا‘ اور نثری نظموں کا مجموعہ ’ کیا اب بھی ‘۔ ممبئی کے بیشتر قلمکاروں کے لیے رفیعہ شبنم عابدی ، بڑی بہن کا درجہ رکھتی ہیںاور ان میں خاکسار بھی شامل ہے ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے ، جب رفیعہ باجی روزنامہ ’ اردو ٹائمز‘ میں ہر ہفتے شائع ہونے والا خواتین کا صفحہ ایڈٹ کرتی تھیں ۔اس وقت میں قلم پکڑنا سیکھ رہا تھا اور ٹوٹی پھوٹی نظمیں اور منی کہانیاں لکھنے کی کوشش کرتا تھا ۔رفیعہ باجی نے میری کئی نظمیں اور منی کہانیاں چھاپی تھیں ۔انھوں نے کہیں کہیں قلم بھی لگایا تھا ، اور میری نگارشات کو اور بہتر بنا دیا تھا ۔اب وہ نظمیں اور منی کہانیاں محفوظ نہیں ہیں ۔
انھوں نے ’ کوئی سوال رہ گیا ‘ کےپیش گفتار ’سوال و جواب کے درمیاں ‘ میں لکھا ہے :’شعر کہنا، جسے لوگ بہت آسان سمجھتے ہیں ، دراصل برف کی سِلوں پر برہنہ پشت لیٹنے اور شعلے اُگلتی ہوئی گرم ریت پر ننگے پاؤں چلنے کا اذیّت ناک عمل ہے۔یعنی ساعتِ تخلیقیت کا وہ احساس جس کو کوئی مطلق یامجرّد نام نہیں دیا جاسکتا۔‘اسی گفتار میں ایک جگہ وہ لکھتی ہیں :’کلاسیکی شاعری نے شعر گوئی کی تہذیب سکھائی ۔ترقی پسندی نےمیری نظم گوئی کو تقویت پہنچائی اور جدیدیت نے تمام حدودِ فکرسے آزاد کردیا ۔اب سب کچھ اپنا اپنا سا تھا۔جو چاہو، جیسے چاہو کہہ سکتی ہو، لکھ سکتی ہو۔کوئی بندھے ٹکےاصول تھے ،نہ کوئی مخصوص نظریہ ، نہ کوئی گروہ بندی ، نہ کوئی می لارڈ، نہ کوئی مائی باپ ، نہ ظلِّ الہٰٰی ۔ نہ کوئی ازم ، نہ کوئی شرط اور نہ کوئی غیرضروری چاہی ان چاہی لکشمن ریکھائیں !الفاظ و افکار نےایک کھلی صاف ستھری فضا میں سانس لینا سیکھا۔بس ایک گلوبلائزیشن تھا، ادب کا، فکر کا، متن کا، زبان کا، اسلوب کا، ہیئت کا، پس اس دوران جس صنف میں جی چاہا طبع آزمائی کی ۔‘
رفیعہ باجی ایک خود نوشت ’ لمحہ لمحہ احتساب ‘ قلم بند کر رہی تھیں ،مجھے علم نہیں ہے کہ وہ مکمل ہوپائی یا نہیں ۔عروس البلاد ممبئی میں مقیم مزاح نگار یوسف ناظم صاحب نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے :عورتیںذہین بھی ہوسکتی ہیں، اس کا ثبوت آپ کو رفیعہ شبنم کے ایک مضمون سے ملے گا جو انھوں نےسردار جعفری کی شاعری میں پیکر تراشی سے متعلق لکھاہے ۔وہ چاہتیں تو اسی مضمون پر ڈاکٹریٹ حاصل کرسکتی تھیں لیکن وہ تو لکھنے کے لیے بہانے ڈھونڈتی ہیں۔ادب کے میدان میں چہل قدمی تو بہت لوگ کرتے ہیں لیکن رفیعہ شبنم اس میدان میں تفریح کرنے کے لیے نہیں آئی ہیں ۔ان کا ارادہ گلگشت کا نہیں، با ضابطہ سفر کا ہے اور رخت سفر کے طور پر ہر قسم کا سامان انھوں نے تیار کر رکھا ہے ۔اشعار کا بستر،تنقید کا تکیہ ،ناول کی چادراور افسانوں کی اشیائے خوردونوش ، ان پر مستزاد ڈاکٹریٹ کا ہاٹ کیس۔‘
اردو نظم کی روایت کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا :عام کلیہ یہ ہے کہ ادب میں ہر تخلیق اپنی شکل خود بناتی ہے ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر نئی تبدیلی جو سماجی ،سیاسی یا معاشی سطح پرانقلاب لاتی ہے ، ادبی روایت کو متاثر کرتی ہے۔اردو نظم کی روایت بھی انہی تبدیلیوں کے زیر اثر اپنی شکلیں بدلتی رہتی ہے ۔ایک زمانے تک صنفِ نازک نظم ، نثر ،کے مد مقابل ، غزل کے علاوہ اصناف شاعری مثلاًمثنوی ، مرثیہ ، قصیدہ وغیرہ کے معنوں میں استعمال ہوتی رہی ۔البتہ نظم کا جدید تصوربہ حیثیت صنف ، جس میںتسلسلِ کلام ،موضوع کی وحدانیت، ہیئت کی آزادی،ارتکاز،ایجاز واختصار، تہہ داری اور جامعیت جیسے عوامل شامل ہیں ، انیسویں صدی کی دین ہے،البتہ یہ مانا جاتا ہے کہ نظم گوئی کی روایت کا اصل آغاز ترقی پسند تحریک یعنی 1936سے ہوتا ہے ، پھر حلقہ ٔ ارباب ِ ذوق ہے ۔موجودہ دور میں آزاد اور معریٰ نظم کے ساتھ ساتھ نثری نظم کی تشکیل اس حقیقت کی غماز ہے ۔کسی بھی روایت کی تشکیل کا عمل یوں ہی چلتا رہتا ہے ۔‘
ابھی حال ہی میں رفیعہ باجی کی نثری نظموں کی کتاب ’کیا اب بھی ؟‘شائع ہوئی ہے ۔اس کتاب میں شامل نظمیں ، ان نقادوں ، ادیبوں اور قلمکاروں کو حیرت زدہ کردےگی جو نثری نظموں کے منکر ہیں یا اسے نظم ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔انھوں نے جواب دیا:’بس یوں سمجھ لیجیے کہ نثری نظم ، نثر و نظم کا ایک حسین نقطۂ اِتّصال ہے۔یہ وہ ادبی ہیئت ہے جو مزاجاًشاعری ہوتی ہے ،لیکن نثر کی طرح لکھی اور پڑھی جاتی ہے ۔حالانکہ یہ غنائی تاثرات کے اظہار کا بہترین وسیلہ ہے ۔اس میں شاعر کی مرضی سے خیال اور ادائیگی کے پیشِ نظر نثر کے روایتی قواعد سے انحراف کرتے ہوئے فعل اور فاعل کی تقدیم و تاخیر میں تبدیلی کی جا سکتی ہے ۔‘
وہ بتاتی ہیں :’یہ کسی عروضی آہنگ کے بغیر کیا گیا شعری اظہار کا وہ تجربہ ہے جس کی بنیادی خصوصیت اس کا نثری آہنگ ہے ۔اسے نثر سے اس طرح مختلف کہا جاسکتا ہے کہ کسی نثر میں شعری آہنگ ہو ، یہ ضروری نہیں لیکن نثری نظم وہ شاعری ہے جس میں نثر کا فطری آہنگ لازمی ہے۔ورنہ وہ بھی منی افسانہ ہو جائے گی یا افسانے کاکوئی دل کش پیرا گراف۔یعنی ایک خیال اپنے تسلسل کے ساتھ اس میں بیان ہوتا ہےاور ارتقا و عروج کو پہنچ کر انجام پذیر ہوتا ہے ۔‘
 وہ آگے بتاتی ہیں:’ پروفیسر گوپی چند نارنگ کے اس خیال سے اتفاق کیا جاسکتاہے کہ نثری نظم کے لیے تین چیزیں لازمی ہیں ۔ارتکاز، معنویت اور نثر آفرینی ۔ایک اہم شرط یہ بھی ہوسکتی ہے کہ نثری نظم کا وہی خالق ، شاعر کہلائے گا جوموزونی طبع بھی رکھتا ہواور نثری نظم کے علاوہ اس کی زنبیل ِ تخلیقیت میں نثری نظم کے ساتھ ساتھ پابند شاعری کا ( اوزان و بحوراورعروض کی حدبندیوں کے ساتھ ) قابل قدر سرمایہ موجو دہو۔‘
رفیعہ باجی کی نثری نظم ’آج پھر ‘ ملاحظہ کریں :
’آج پھروہ شاطر جیت گئے /آج پھرمیں پیدل ہو گئی /کیوں کہ /سارے سواراُن کی مُٹھی میں تھے/مُٹھیاں بھر لینے کا فن مجھے نہیں آتا/کھُلی مُٹھیوں سے جیتے جیتے /میری بساط کالی ہوگئی /اور/سارے سواراُن کے ہو گئے 
/آج پھروہ شاطر جیت گئے /آج پھرمیں پیدل ہوگئی ۔‘
رفیعہ باجی کی کتاب ’ علی سردار جعفری :ایک مطالعہ ‘ کے تعلق سے پروفیسر جگن ناتھ آزاد نے لکھا ہے :’ بیٹی رفیعہ شبنم !آپ کا گراں قدر تحفہ ’ علی سردار جعفری :ایک مطالعہ ‘ کی صورت میں ملا۔میں آپ کی نثرنگاری سے دلی طور پرمتاثر ہوا ہوں ۔پہلے میں صرف آپ کی شاعری کا معترف تھا ، اب نثر نگاری کا بھی معترف ہو گیاہوں ۔نظم میں وزن کو برقرار رکھنا اتنا مشکل نہیں جتنا نثر میںوزن کو برقرار رکھنا۔‘
                       ہے موم وہ پتھرتو پگھل کیوں نہیں جاتا 
                          پیکر میںکسی پھول کے ڈھل کیوں نہیں جاتا 
                       دل ہے ، کوئی بھیگا ہوا کاغذ تو نہیں ہے
                        مٹھی میں ہے شعلے کی تو جل کیوں نہیں جاتا  
معروف نقاد ، شاعر اور صحافی فضیل جعفری لکھتے ہیں :’رفیعہ شبنم عابدی بنیادی طور پرجدید اردو شاعری کی اس روایت سے تعلق رکھتی ہیں جس کا قیام اور استحکام میں کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض وغیرہ نے خاصا اہم کردار اد اکیاہے ۔مطلب یہ ہے کہ ان کا بے چین شاعرانہ تخیل ، مذہب ، خلاقِ روایت اور سیاسی و سماجی اقدار وغیرہ سے بخوبی آگاہ ہے ۔لیکن بحیثیت مجموعی ان کی شاعری کا موضوع خود ان کی ذات اور شخصیت ہے ۔انھوں نے اپنے بیش تر اشعار میں اپنے اندر کی عورت کو سمجھنے ، پرکھنے اور فنکارانہ سطح پرپیش کرنے کی کوشش کی ہے۔‘ رفیعہ باجی کے بقول :’ جب کوئی گورّیا اپنے نغموں سے دلوں کو مسحور کرتی ہے تو شکست خوردہ ، انا پرست عقابوں کو یہ سچ برداشت کیوں نہیں ہوتا؟میری خواہش ہے کہ میری شاعری انہی احساسات کے تناظر میں پڑھی جائے تاکہ اس کی صحیح ، منصفانہ تفہیم کی جا سکے۔‘
_________
عالمی اردو فکشن فورم ۔ افسانہ نشست 2024
افسانہ :45
عظمت اقبال ۔ مالیگاؤں ۔ مہاراشٹر ۔انڈیا

                                     نضال 
     “ الام”
 اس کی چیخ اس کے وجود کی طرح وب کر رہ گئی۔ 
وہ کمر تک درگور تھا۔ داہنا ہاتھ کسی پتھر تلے دبا ہوا۔ اپنے بائیں ہاتھ سے دبے ہاتھ کو کھینچ کر نکالنے کی کوشش کی ۔ 
“اللہ و اکبر” 
 اس کی آواز میں کرب ہے۔ اسے یاد آیا ماں کہا کرتی تھی درد بھری صدا ء ساتوں آسمان کو چیر اللہ تک پہنچتی ہے۔ 
میں کہاں ہوں؟ 
ماں ، بابا اور فاطمہ کہاں ہے؟ 
گھپ اندھیرے میں اس نے پلکوں کو کئی بار کھولا بند کیا۔ کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا ۔ 
وہ کس مصیبت کا شکار ہو گیا ہے؟ 
اسے اپنی ٹیچر یاد آئی ۔ روزانہ صبح اسکول میں دعا پڑھایا کرتیں۔ وہ اپنے جسم میں بچی کچی توانائی صرف کر دعا پڑھنے لگا۔
مصیبت میں کسے پکا را جائے؟
اللہ اللہ اللہ
مصیبت میں کون کام آئے؟
اللہ اللہ اللہ
طوفاں میں کسے پکارا جائے؟
اللہ اللہ اللہ
طوفاں سے کشتی کون بچائے؟
اللہ اللہ اللہ
زخمی ،لاچار ، کمزور الفاظ کو اندھیرا اپنے میں سمو لے رہا تھا۔
زخمی کپکپاتے لبوں سے نحیف آواز میں وہ اپنے مسیحا کو پکارنے لگا ۔
“یا اللہ یااللہ ”
“اللہ و اکبر اللہ واکبر ”
ہاتھ سے چہرے پر لگی مٹی ہٹانے کی کوشش کی۔ اس کے چہرے پر مٹی کی پرت جم گئی ہے-زخم سے رستا خون مٹی کو اپنے میں جذب کر چکا ہے ۔ اس کے جسم کا نصف حصہ ملبے میں دبا ہوا ہے ۔ اور بقیہ حصہ بری طرح زخمی ۔ لیکن اسے درد کا احساس نہیں ہو رہا ۔ شاید درد اپنی حد سے گزر چکا ہو۔ 
کچھ ہی دیر پہلے اسے ہوش آیا ۔ اندھیرے میں اسے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ کچھ شناسا چہرے ، اپنی ماں ، باپ اور فاطمہ سلسلے وار اس کے معصوم ذہن سے منعکس ہو کر اس کے سامنے فلمی منظر کی طرح گزرتے جا رہے ہیں۔ ماں اکثر کہا کرتی نیک لوگوں کو دوسری دنیا میں جنت ملتی ہے ۔ اور جنت میں تمام خواہشات و تمنائیں پلک جھپکتے ہی پوری ہو جایا کرتی ہیں۔ اس نے ماں سے کہا تھا جب وہ جنت میں جائے گا تو اپنے لئے کمپیوٹر گیم ، ڈھیر سارے چاکلیٹ اور مٹھائیاں طلب کرے گا۔ ساتھ ہی وہ پرندوں کی طرح آسمان میں پرواز کرے گا۔اسے یاد آیا ایک بار اسے مکتب میں قبر کے عذاب کے بارے میں بتایا گیا تھا ۔ قبر، جہاں انسان کی روح آسمان میں پرواز کر جانے کے بعد اس کے مردہ جسم کو دفن کر دیا جاتا ہے۔ جب اس کے دادا کا مردہ جسم اسپتال سے گھر لایا گیا اور پھر جبالہ شہر کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ وہ اپنے باپ کی انگلی تھامے تدفین کے پورے عمل کو دیکھتا رہا۔ 
یکلخت اس کے ذہن میں خیال آیا جس نے اس کے زخمی ادھ مرے وجود کو جھنجھوڑ دیا۔ 
“کیا میں بھی قبر میں دفن کردیا گیا ہوں؟ 
مگر میری موت کب ہوئی؟  
میں تو بیمار بھی نہیں ہوا ؟ 
اور نہ ہی بوڑھا ؟”
چند روز پہلے ہی اس کی چھٹی سالگرہ تھی جس میں پڑوس کے بچوں کو بلا کر ماں نے لذیذ الخبیزہ سے سب بچوں کی ضیافت کی تھی۔ 
اس نے اپنے ذہن پر مزید زور دیا ۔ وہ اس حالت میں کیونکر ہے؟ 
اسے یاد آیا پچھلے ایک یا دو روز قبل وہ اسکول نہیں گیاتھا ۔ ابا نے بتایا کچھ دنوں کے لئے اسکول کی چھٹی رہیگی ۔ ابا بھی کام پر نہیں گئے۔ گھر پر بیٹھے خبریں دیکھتے رہے۔ ماں بھی کچن میں کھانا بناتے وقت اور دوسرے کام کرتے ہوئے بار بار ٹی وی کا سامنے آبیٹھتی ۔ دونوں پتہ نہیں کس بات کو لے کر بڑے پریشان نظر آر ہے تھے۔ اپنے شہر جبالہ کو چھوڑ کسی دوسرے شہر میں جانے کی بات بھی چل رہی تھی۔ دونوں میں سے کوئی ایک اس کی مخالفت کر رہا تھا۔ فاطمہ کے ساتھ کھیلتے ہوئے کبھی کبھی اماں ابا کی باتوں پر اس کا دھیان چلا جاتا تھا۔ اور پھر ایک رات زور زور کے دھماکوں کی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ پہلے دو تین دھماکوں کی آواز کہیں دور سنائی دی اور پھر کہیں قریب دھماکہ ہوا وہ بستر سے اٹھ بیٹھا ۔ دھماکوں کی آواز نے اسے سماعت سے محروم کردیا ۔ بس اسے اتنا یاد ہے کہ اس کی ماں فاطمہ کو گود میں اٹھائے کمرے کے دروازے پر کھڑی ہاتھوں سے اسے اپنے طرف دوڑ کر آنے کا اشارہ کر رہی تھی۔ 
اور پھر اچانک اس کی سماعت واپس لوٹی ۔ اس نے ایک بار پھر شدید دھماکے کی آواز سنی اور پھر ۔۔۔ اس کے آگے کیا ہوا؟ اسے کچھ یاد نہیں۔ 
تو کیا وہ مر چکا ہے؟
اور اسے قبر میں دفنایا جا چکا ہے؟
  ماں نے بتایا تھا نیک لوگ قبر کی کھڑکی سے جنت کا نظارہ کرینگے ۔ اور پھر قیامت کے بعد جنت ان کا ٹھکانہ ہوگی۔  
مگر یہاں تو کچھ بھی نہیں۔ بس گھپ اندھیرا ۔ تو کیا میرا شمار عاصی بندوں میں ہوگا؟ مگر میں نے تو کبھی جھوٹ نہیں بولا؟ اماں ،ابا اور اپنے ٹیچر کی بھی سب بات مانی۔ نماز پڑھنے کے لئے ابا کے ساتھ مسجد بھی جایا کرتا تھا ۔ جب اسے جہنم اور قبر کے عذاب کا علم ہوا اسی وقت اس نے اپنے گناہوں سے توبہ کر لی تھی۔ 
ایک مرتبہ ریفریجریٹر سے سیب کا جوس نکالنے کی کوشش میں جوس کا گلاس گر پڑا ۔
ماں نے ڈانٹتے ہوئے پوچھا تھا۔ 
“ نضال ! بتاؤ جوس کیسے گر پڑا؟”
 اور اس نے فاطمہ کی جانب انگلی سے اشارہ کردیا تھا۔ امی سے فاطمہ کو بہت ڈانٹ پڑی ۔ 
اور دوسرا گناہ اس سے اس وقت ہوا جب گھر کے برآمدے میں کھیلتے ہوئے پڑوسی کی بلی کو اس نے پتھر اچھال کر مارا تھا- 
کیا اللہ نے اس کی توبہ قبول نہیں کی تھی؟ 
“الام” 
اس بار درد بھری چیخ سرگوشی میں سمٹ گئی۔ اس کا گلا اور زبان خشک ہو چکےتھے۔ جہنم کا خوف اس پر حاوی ہونے لگا۔ اب کسی بھی وقت اس پر عذاب آنا شروع ہوجائگا۔ وہ گنہگار بندوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ کا عذاب نازل ہو رہا ہوگا۔ سب چیخ رہے ہونگے ۔ اللہ سے پناہ مانگ رہے ہونگے۔ امام صاحب نے بتایا تھا کہ اللہ کے گنہگار بندوں کو اس وقت تک عذاب سے گزرنا ہوگا جب تک وہ اپنے گناہوں کا حساب نہیں دے دیتے۔اس اندھیری قبر میں اسے بچھؤں کے زہریلے ڈنک سہنے ہونگے - کسی بھی وقت زہریلے سانپ آکر اس پر ٹوٹ پڑینگے یا پھر بڑا سا اژدھا آکر اس کے جسم سے لپٹ جائے گا-
اس کی سانسیں بے ترتیب ہوگئیں ۔ آنکھیں بند ہوتی گئیں اور وہ دوبارہ بے ہوش ہو گیا۔
          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     روتے چیختے اور آہ و زاری کرتے مرد ، عورتیں و بچوں کی آواز یں اس کے کانوں میں پڑیں۔ اس نے آہیستہ سے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی ۔ وہ سرخ ، گیلے اور گرم فرش پر پڑا ہوا تھا۔ادھ کھلی آنکھوں سے اس نے دیکھا اس کے دائیں بائیں کئی انسانی جسم کچھ تڑپتے، کچھ درد سے چیختے ، کچھ کراہتے اور کچھ بے جان پڑے تھے۔ 
اس کی دائیں جانب ایک بچہ جس کا بایاں ہاتھ نہیں تھا۔ بس کاندھے کے پاس گوشت کا لتھڑا نظر آرہا تھا۔ بائیں جانب اس کے ابا سےمشابہہ ایک شخص بے حس پڑا ہواتھا۔جس کے سر کے پچھلے حصے سے خون بہہ کر فرش پر پھیلتا جا رہا تھا۔ اس شخص کی آنکھیں کھلی ہوئیں تھیں ۔ مگر پلکیں جھپکنا بند ہوگئیں تھیں۔  
اس نے کچھ لوگوں کو ادھر سے ادھر بھاگتے بھی دیکھا ۔ اسے عجب قسم کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ عجب سی بدبو پھیلی ہوئی تھی۔اس کی آنکھوں میں سرخی چھانے لگی۔ پورا منظر سرخ ہوگیا۔  
اسے یقین ہو گیا ۔ اس کے لئے فیصلہ ہو چکا ہے۔ اسے جہنم رسید کردیا گیا ہے۔ 
وہ پوری شدت سے چیخا 
اللہ و اکبر اللہ واکبر ، اللہ یغفرلی۔”
نرس اس کی جانب دوڑی ۔ اس کے رخسار اور پھر گردن پر ہاتھ رکھ کر نبض ٹٹولی۔ 
نضال اپنے سفر پر نکل چکا تھا۔

(نضال :اسم مذکر ۔ معنی :جنت کے گھوڑے پر سوار ہونے والا)
از قلم : عظمت اقبال۔
_________
انصاف کی آواز لگانے نہیں دیتی 
کیا ضد ہے جو زنجیر ہلانے نہیں دیتی 

کیا شب ہے جو پھیلاتی نہیں وصل کی بانہیں 
کیا شام ہے جو زلف کو شانے نہیں دیتی 

کچھ ایسی ہی مشکل ہے زمیں عشق و وفا کی 
آسان قوافی بھی نبھانے نہیں دیتی 

اجمال ہی ہاتھ آیا ہے اس شوخ بدن کا 
عجلت ہمیں تفصیل میں جانے نہیں دیتی 

وہ ٹھہرا ہوا اشک ہوں رخسارِ جہاں پر  
دھرتی جسے دامن میں سمانے نہیں دیتی 

رہنے بھی نہیں دیتی سلامت ہمیں دنیا 
دیوارِ عناصر بھی گرانے نہیں دیتی 

ممکن ہے یہی دل کے ملانے کا سبب ہو 
یہ رت جو ہمیں ہاتھ ملانے نہیں دیتی 

ارشد جمال صارم
________
غزل (غیرمطبوعہ)

کیا پوچھتے ہو مجھ سے، کہا نا خراب ہے
دنیا مرے گماں سے زیادہ خراب ہے

ہر آدمی کے ظاہروباطن میں ہے تضاد
اچھا لگے جو جتنا وہ اتنا خراب ہے

سوچا تھا تیرے شہر میں رک جاؤں گا مگر
ہر شخص کا یہاں تو رویّہ خراب ہے

آسانیِ مسافتِ دل پر ابھی نہ جا
میں جانتا ہوں آگے یہ رستہ خراب ہے

رطب اللساں وہ اپنی سخاوت پہ تھا مگر
پیاسا تو کہہ رہا تھا کہ دریا خراب ہے

سب آئینے کا نقص بتانے لگے مگر 
مانا نہیں کسی نے کہ چہرہ خراب ہے

تشنہ لبوں پہ بند جو کرتا ہے آبِ زیست
اک فرد ہی نہیں وہ قبیلہ خراب ہے

جھانکیں کبھی تو اپنے گریبان میں سلیم
کب تک کہیں گے ہم کہ زمانہ خراب ہے

*🛑سیف نیوز اُردو*

وہ تین غذائیں جو خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھ کہ آپ کو صحت مند بنا سکتی ہیں صحیح اور متوازن غذا مجموعی صحت پ...